Wednesday, 30 December 2020

چودہ سو سال پرانی مسجد

ہندوستان کی تقریبا 1400 سال پرانی مسجد گجرات کے بھاو نگر کے گاؤں گھوگھا میں اب بھی موجود ہے ، جس کا قبلہ بیت المقدس کی طرف ہے…

ابھی اس مسجد کی تعمیر انتہائی خستہ حال حالت میں ہے ، مسجد کے اندر تقریبا 25 افراد ایک ساتھ مل کر نماز پڑھ سکتے ہیں۔ اس مسجد میں 12 ستون ہیں جن پر مسجد کی چھت بنائی گئی ہے ، چھت کے اوپر گنبد اور مسجد کی دیواریں بھی کھدی ہوئی ہیں اور مسجد۔ محراب پر عربی میں 'بسم اللہ` کی نقش نگاری اسی دور کی ہے۔

یہ زمین کے چہرے پر ایک ہی مسجد ہوسکتی ہے ، بیت المقدس کا سامنا کرتے ہوئے ، ساتویں صدی کے اوائل میں ، پہلے عرب تاجر سمندر کے راستے یہاں اترے اور پھر انہوں نے یہ مسجد یہاں بنائی۔ مکہ کا مقام قبلہ رخ یروشلم تھا۔ یہ قدیم مسجد مقامی طور پر جونی مسجد کے نام سے مشہور ہے۔


یہ مسجد ہندوستان کی دیگر تمام مساجد سے ملتی جلتی ہے ، جن کے محرابوں کا رخ مکہ مکرمہ ہے۔ اس قدیم مسجد میں ابھی بھی عربی کا قدیم ترین نوشتہ ہے اور آج یہ مسجد بارواڈا تنجم کی نگرانی میں ہے۔

اسلامی تاریخ کے مطابق ، 610 سے 623 تک ، بیت المقدس کو نماز پڑھائی گئی اور پھر 624 ء سے کعبہ کی طرف ، نماز پڑھنا شروع ہوئی ، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مسجد 1400 سال کے قریب تعمیر ہوئی تھی۔


حیرت کی بات یہ ہے کہ جب کسی نے 'کعبہ' کی طرف رجوع کرنے سے پہلے نماز نہیں پڑھی ، تب یہ مسجد ہندوستان میں بنی تھی ، تب مسلمان شمال کے سامنے نماز پڑھتے تھے ، یہ 1397 سال پہلے کی بات ہے۔

یہ بات واضح ہے کہ یہ مسجد 622 میں بنائی گئی تھی جب اللہ کے  رسول زندہ تھے اور مسلمان ان کا پہلا کعبہ بیت المقدس کی طرف تھا قبول کرتے تھے ،


بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ 610 سے 623 تک رہا ، یعنی 13 سال ، مسلمانوں نے شمال کا رخ کیا اور نماز پڑھی۔

اس مسجد کی تاریخ واضح کرتی ہے کہ ہندوستان کو ہندوستان کے شہریوں نے اسلام قبول کیا تھا کیونکہ اسلام محبت اور بھائی چارے کی مدد سے ہندوستان میں داخل ہوا تھا۔

 

ابلیس کی تاریخ


 ابلیس کی تاریخ

ابلیس کی نسل کی ابتدا جس جن سے ہوئی اس کا نام "طارانوس" کہا جاتا ہے اور یہ ابلیس سے 1 لاکھ چوالیس ہزار سال قبل دنیا پر تھا. طارانوس می نسل تیزی سے بڑھی کیونکہ ان کو موت طاری نہیں ہوتی تھی اور نا بیماری تھی البتہ یہ چونکہ آتشیں مخلوق تھی تو سر کشی بدرجہ اتم موجود تھی.

اس مخلوق کو پہلی موت پیدائش کے 36000 سال بعد آئی اور اسکی وجہ سرکشی تھی. 

بعد میں "چلپانیس" نامی ایک نیک جن کو جنات کی ہدایت کا ذمہ سونپاگیا اور وہ ہی شاہ جنات قرار پائے مگر ان کے بعد "ہاموس" کو یہ زمہ دیا گیا.

ہاموس کے دور میں ہی چلیپا اور نبلیث کی پیدائش ہوئی یہ دونوں اپنے وقت کے بے حد بہادر جنات تھے اور ان کی قوم نے چلیپا کو شاشین کا لقب دیا جس کے معنی ہیں شیر کے سر والا

ان دونوں جنات کیوجہ سے ساری قوم کہنے لگ گئی کہ ہمیں اس وقت تک کوئی نہیں ہرا سکتا جب تک شاشین اور نبلیث ہمارے درمیان موجود ہیں اور ان ہی دونوں کیوجہ سے یہ جنات آسمان تک رسائی کرنے لگے اور تیسرے آسمان پر جا کر شرارت کر آتے تھے ایسے میں حکم ربی سے فرشتوں نے ان پر حملہ کیا اور عبرتناک شکست دی مگر اس سب میں عزارئیل موجودہ ابلیس یا شیطان نے دیکھا تو سجدے میں گر گیا. شیطان شروع سے ہی ایک نڈر اور ذہین بچہ تھا اس میں باپ کی بہادری اور ماں کی مکاری کوٹ کوٹ کے بھری ہوئی تھی. اس نے ملائکہ کے ساتھ جا کر توبہ کا اعلان کیا اور فرشتوں سے علم سیکھنے لگا 

پہلے آسمان پر عابد پھر دوسرے پر زاہد تیسرے پر بلال چوتھے پر والی پانچویں پر تقی اور چھٹے پر کبازان کے نام سے مشہور ہوا اور یہ وہ وقت تھا کہ یہ فرشتوں کو سکھاتا تھا.ساتوں آسمان پہ ابلیس بقع نور میں رہا، ہفت افلاک کے سب ملائکہ کا معلم قرار دے دیا گیا۔ یہاں پہنچ کے اس نے اپنی عاجزی،ریاضت کی انتہا کر دی۔ کم و بیش چودہ ہزار{14000} اس نے عرش کا طواف کیا۔یہاں اس نے فرشتوں ےا استاد/سردار ”عزازیل” کے نام سے شہرت پائی۔ کم و بیش تیس ہزار {30000} سال یہ مقربین کا استاد رہا ہے۔ ابلیس کے درس و وعظ کی معیاد کم و بیش بیس ہزار{20000} سال ہے۔ فرشتوں کے ساتھ قیام کی مدت کم و بیش اسی ہزار{80000} سال ہے۔


ابلیس جنت میں : حکم ہوا کہ داروغئہِ جنت "رضوان” کی معاونت کرو اور اہلِ جنت کو اپنے علم و فضل سے بہرہ ور کرو، یوں ابلیس کو جنت میں داخلے کا پروانہ مل گیا، جنت میں بھی اس نے اپنے علم و فضل کے دریا بہائے، دراغئہِ جنت”رضوان” کو بھی اپنے علم سے سیراب کیا۔ بعض روایات کے مطابق ابلیس چالیس ہزار سال40000} تک یہ فرض{خزانچی} انجام دیتا رہا اور اس مقام پر ابلیس نے بادشاہت کے خواب دیکھنے شروع کیے

کئی اہل علم مانتے ہیں کہ اس نے 5 مصاحبین اپنی قوم میں بھیجے کہ میری اطاعت میں آ جاو مگر اس قوم نے انکو قتل کر دیا اور یہ سب اس نے اللہ کو بتا کر اجازت لیکر کیا قوم کی سرکشی کو مسلنے کے بعد ابلیس کے پاس ہفت اقلیم ہفت افلاک جنت و دوذخ سب کا اختیار تھا اور اس نے چپے چپے پر سجدہ کیا مگر اس نے اب خود کو بادشاہ بنانے اور رب بن جانے کے خواب دیکھنا شروع کیے اور کئی ملائکہ سے بات بھی کی مگر ان کے انکار کیوجہ سے چپ ہوگیا اور نظام چلتا گیا. مگر اس سب سے اللہ بے خبر نا تھا اور آدم کی تخلیق ہوئی. آدم کی تخلیق پہ جز بہ جز ہوتے ابلیس کو جب یہ معلوم ہوا کہ یہ اللہ کا نائب ہے تو اس نے واویلا کیا اور عبادت اور اطاعت کا طنز کیا کہ مجھ جتنی عبادت کس نے کی اور سجدے سے انکار کر دیا.یہ جذبہ حسد تھا کہ میری جگہ آدم خاک کو کیوں ملی یہ جذبہ غرور تھا کہ میں اعلی ہوں 

اور اس ایک سجدے کے انکار کی بات نہیں تھی بات سرکشی کی تھی شرک کی تھی ابلیس نے اپنے دل میں خود کو رب مان لیا تھا 

اور ایسے وہ تا قیامت آدم کو بھٹکانے کیلیے آزاد ہوا کیونکہ اسنے یہ مانگا اور سچے دل سے مانگا. اور ایسے ابلیس رسوا ہوا. 

ایک سجدہ جے تو گراں سمجھتا ہے 

ہزار سجدوں سے دیتا ہے بندے کو نجات.

حوالہ: شیطان کی سوانح عمری از ظفراللہ نیازی 

منقول

Friday, 25 December 2020

محفل سماع


Syed Khawaja Peer Gulam Hussain Shah Sabiry Jahangiry Qalandar kambal pardada peer ki mehfil ki purani video posh 





 

Thursday, 24 December 2020

Friday, 5 June 2020

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اگر کوئی چیز موت سے شفا دے سکتی تو وہ سنا تھی-




کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے سبب دنیا بھر میں لیبارٹریاں اس کے پھیلاؤ کو روکنے اور اس کے علاج کو دریافت کرنے کی مشقت میں مصروف نظر آتی ہیں مگر تادم تحریر اس بات کی امید نظر نہیں آرہی ہے کہ اس وبائی مرض کو کوئی مجرب علاج دریافت ہو سکے ۔ تاہم مختلف حلقوں کی جانب سے اس بیماری کے علاج کے لیے مختلف ٹوٹکے سامنے آتے جا رہے ہیں ان میں سے ایک ٹوٹکا سنا مکی کا قہوہ بھی ہے جس کے بارے میں بہت سارے لوگ بہت یقین سے اس بات کا دعویٰ کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں کہ سنا مکی کا قہوہ کرونا کے مرض کا ایک بہترین علاج ہے-لیکن جب تک ڈبلیو ایچ او کسی قدرتی علاج پر حتمی رائے نہ دے ہمیں خود سے اسے قابلِ علاج نہیں سمجھنا چاہیے- بہرحال ہم سنا مکی کے یہاں دیگر فوائد پیش کیے دیتے ہیں-

سنا مکی کیا ہے؟
سنا مکی ایک خودرو پودا ہے جس کے پتوں کا رنگ زردی مائل سبز جبکہ پھولوں کا رنگ پیلا ہوتا ہے- اس کی تاثیر گرم اور خشک ہوتی ہے اور اس کے تعارف کے حوالے سے حکما ابن ماجہ کے حوالے سے ایک حدیث بیان کرتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اگر کوئی چیز موت سے شفا دے سکتی تو وہ سنا تھی-
 

اسی حدیث کو بنیاد بناتے ہوئے طب یونانی سے منسلک لوگ اس وقت سنا مکی کے پتوں کے قہوے کے استعمال کو کرونا وائرس کے مریضوں کے لیے مفید قرار دیتے ہیں ۔ طب یونانی سے منسلک لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ سنا مکی ہر قسم کے زہر کا تریاق بھی ہے اور اس کے علاوہ جن بیماریوں کا علاج بھی ان کی سمجھ سے باہر ہوتا ہے ان میں بھی سنا مکی کا استعمال مفید ثابت ہو سکتا ہے-

سنا مکی کے قہوے کی تیاری کا طریقہ کار
ایک لیٹر پانی میں تین چمچے سنا مکی کے پتے ابال لیں یہاں تک کہ برتن میں صرف تین کپ پانی بچ جائے یہ ذائقے کے اعتبار سے کڑوا ہوتا ہے اس لیے اس میں ذائقے کے لیے شہد ، چینی یا گڑ کو مٹھاس کے لیے حسب ذائقہ ڈالا جا سکتا ہے- اگر کرونا کا ابتدائی مرحلہ ہے تو روزانہ اس کا ایک کپ پی لیں اور اگر کرونا کے اثرات زیادہ ہوں تو دو کپ بھی پیے جا سکتے ہیں- اس کے نتیجے میں جلاب آئيں گے پانی کی کمی کو دور کرنے کے لیۓ جلاب آنے کے بعد وافر مقدار میں پانی کا استعمال کریں-
 

سنا مکی کے طبی فوائد
سنا مکی کئی بیماریوں کے علاج کے لیے انتہائی مفید ثابت ہو سکتا ہے
1: جسم سے زہریلے مادوں کو خارج کرتا ہے
2: جوڑوں کے درد کے لیے مفید ہوتا ہے
3: قبض کو توڑتا ہے
4: امراض قلب میں مفید ہے اور مقوی قلب ہے
5: گلے کے ورم کو ختم کرتا ہے

Saturday, 23 May 2020

گھر سے باہر جاتے وقت پڑھھو




‏‏‏‏ بِسْمِ اللَّهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص گھر سے نکلتے وقت: «بسم الله توكلت على الله لا حول ولا قوة إلا بالله» ”میں نے اللہ کے نام سے شروع کیا، میں نے اللہ پر بھروسہ کیا اور گناہوں سے بچنے اور کسی نیکی کے بجا لانے کی قدرت و قوت نہیں ہے سوائے سہارے اللہ کے“ کہے، اس سے کہا جائے گا: تمہاری کفایت کر دی گئی، اور تم  ( دشمن کے شر سے )  بچا لیے گئے، اور شیطان تم سے دور ہو گیا۔
اس دعا کا بار بار یہ تجربہ اس فقیر کو ہوا کہ جب بھی گھر سے باہر جاتے ہوئے اس کو پڑھا ت بڑے بڑے حادثات سے اللہ تعالی نے اس دعا کی برکت سے بچالیا جب کبھی سواری پر گیا یہ دعا گر سے نکلتے وقت پڑھ لی کبھی کوئی حادثہ سواری پر پیش نہیں آیا
کیونکہ جب اسکو پڑھ لیتا ہے کوئی وہ جب تک گھر نہیں واپس آجاتا اللہ اسکی حفاظت فرماتا رہتا ہے کیونکہ وہ اللہ پر بھروسہ کرکہ نکلا تھا اور اللہ پر جو بھروسہ کرتا ہے اللہ تعالی اسکو مایوس نہیں کرتا ہے.



ہر نقصان دہ چیز سے حفاظت

میں نے عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا کوئی شخص نہیں ہے جو ہر روز صبح و شام کو «بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الأرض ولا في السماء وهو السميع العليم» “ ”میں اس اللہ کے نام کے ذریعہ سے پناہ مانگتا ہوں جس کے نام کی برکت سے زمین و آسمان کی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی، اور وہ سننے والا جاننے والا ہے“، تین بار پڑھے اور اسے کوئی چیز نقصان پہنچا دے۔ ابان کو ایک جانب فالج کا اثر تھا،  ( حدیث سن کر )  حدیث سننے والا شخص ان کی طرف دیکھنے لگا، ابان نے ان سے کہا: میاں کیا دیکھ رہے ہو؟ حدیث بالکل ویسی ہی ہے جیسی میں نے تم سے بیان کی ہے۔ لیکن بات یہ ہے کہ جس دن مجھ پر فالج کا اثر ہوا اس دن میں نے یہ دعا نہیں پڑھی تھی، اور نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے مجھ پر اپنی تقدیر کا فیصلہ جاری کر دیا۔

ذکراللہ کی فضیلت




ذکراللہ کی فضیلت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہارے
 سب سے بہتر اور تمہارے رب کے نزدیک سب سے پاکیزہ اور سب سے بلند درجے والے عمل کی تمہیں خبر نہ دوں؟ وہ عمل تمہارے لیے سونا چاندی خرچ کرنے سے بہتر ہے، وہ عمل تمہارے لیے اس سے بھی بہتر ہے کہ تم  ( میدان جنگ میں )  اپنے دشمن سے ٹکراؤ، وہ تمہاری گردنیں کاٹے اور تم ان کی  ( یعنی تمہارے جہاد کرنے سے بھی افضل ) “ لوگوں نے کہا: جی ہاں،  ( ضرور بتائیے )  آپ نے فرمایا: ”وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے“، معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں: اللہ کے ذکر سے بڑھ کر اللہ کے عذاب سے بچانے والی کوئی اور چیز نہیں ہے
: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو قوم اللہ کو یاد کرتی ہے  ( ذکر الٰہی میں رہتی ہے )  اسے فرشتے گھیر لیتے ہیں اور رحمت الٰہی اسے ڈھانپ لیتی ہے، اس پر سکینت  ( طمانیت )  نازل ہوتی ہے اور اللہ اس کا ذکر اپنے ہاں فرشتوں میں کرتا ہے“۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے

ذکر کی فضیلت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: قیامت کے دن اللہ کے نزدیک درجہ کے لحاظ سے کون سے بندے سب سے افضل اور سب سے اونچے مرتبہ والے ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ”کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والی عورتیں“۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ کی راہ میں لڑائی لڑنے والے  ( غازی )  سے بھی بڑھ کر؟ آپ نے فرمایا: ” ( ہاں )  اگرچہ اس نے اپنی تلوار سے کفار و مشرکین کو مارا ہو، اور اتنی شدید جنگ لڑی ہو کہ اس کی تلوار ٹوٹ گئی ہو، اور وہ خود خون سے رنگ گیا ہو، تب بھی اللہ کا ذکر کرنے والے اس سے درجے میں بڑھے ہوئے ہوں گے“۔

Wednesday, 8 April 2020

شعبان بعد مغرب کے نوافل


جادو سے حفاظت اور جہنم کی آگ سے نجات

جادو سے حفاظت اور جہنم کی آگ سے نجات

اس شب بیری کے درخت کے سات پتوں کو پانی میں جوش دے کر نہانے سے تمام جادو ٹونے اور برے اثرات سے محفوظ رہے گا۔ امن و امان اور جان و مال کی حفاظت کے لئے سورۃ البقرہ کے آخری رکوع کی آیات (امن الرسول) سے لے کر (علی القوم الکفرین) تک پڑھنا نہایت ہی باعث  برکت اور مستحن ہے۔ جو کوئی پندرھویں شعبان کو روزہ رکھے گا دوزخ کی آگ اس کو نہ چھوئے گی۔

نوافل شعبان

 نوافل شب شعبان المعظم

پیارے نبیؐ کا فرمان  ہے جو شخص آج کی شب 12 رکعات نماز نفل (دو، دو یا چار چار کر کے ) پڑھے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو بارہ ہزار شہیدوں کا ثواب عطاء فرمائے گا۔ بارہ سال کی عبادت کا ثواب لکھتا ہے اور گناہوں سے اس طرح پاک ہو جاتا ہے جیسا کہ آج ہی اس نے جنم لیا ہو۔ اور 80 دن تک اس کے گناہ نہیں لکھے جاتے۔ مزید ارشاد گرامی ہے کہ جو شعبان کی پہلی رات اور آخری جمعرات کو روزہ رکھے گا تو اللہ تعالی اپنے فضل و کرم سے اس کو جنت میں جگہ عطاء فرمائے گا۔ خاتون جنت حضرت فاطمہ  ؓ فرماتی ہیں کہ جو شخص 8 رکعات نماز نفل (آٹھ رکعات اکٹھے ایک سلام کے ساتھ) ادا کرے اور اس کا ثواب مجھے پہنچائے تو میں اس وقت تک جنت میں قدم نہ رکھوں گی جب تک اس شخص کی بخشش نہ کروالونگی۔ نفل پڑھنے کا طریقہ کچھ اس طرح ہے کہ سورۃ فاتحہ (الحمداللہ) پڑھنے کے بعد گیارہ مرتبہ سورۃ اخلاص (قل ہواللہ) پڑھے ہر دو رکعات کے بعد اتحیات میں بیٹھے اور پوری اتحیات پڑھے اور سلام پھیرے بغیر کھڑا ہو جائے۔ اس ترتیب کے ساتھ آٹھ رکعات نماز نفل مکمل کر کے سلام پھیرے اور اس کا ثواب حضرت فاطمہؓ کو بخش دے۔

حیدر کرار حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ جو شخص 14 رکعات نماز نفل (دو دو یا چار چار کر کے کسی سورۃ کی قید نہیں) پڑھے اور یہ نوافل ادا کرنے کے بعد سورۃ فاتحہ 14 مرتبہ سورۃ اخلاص 14 مرتبہ سورۃ الناس 14 مرتبہ ایک مرتبہ آیت الکرسی اور ایک مرتبہ آیت ( لقد جاء کم رسول من انفسکم) پڑھے تو اللہ تعالی اس نماز کے پڑھنے والے کے نامہ اعمال میں 20 سال کے مقبول روزوں اور 20 سال کے مقبول حج کا ثواب لکھا جاتا ہے۔

خواجہ حسن بصریؒ سے روایت ہے کہ جو شخص 100 رکعات نماز نفل (دو دو یا چار چار کر کے) پڑھے ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورۃ اخلاص 10 مرتبہ پڑھے تو اللہ تعالی اس بندے کی طرف 70 مرتبہ نگاہ کرم فرمائے گا۔ ہر نگاہ کے بدلے اس کی 70 حاجتیں پوری فرمائے گا۔

Saturday, 28 March 2020

Peer Syedi Abdul Wahab Qadri Chishty Faridy Sabiry Jahangiry


دونوں عالم کے خزانے یا خدایا بخش دے
تواز پئے عبدالوھاب فقیر خدا کے واسطے


+92 311 2398940 whatsapp

Thursday, 26 March 2020

کلو نجی کا قہوہ اور ہر بیماری سے شفا۶


آسمانوں کی تسخیر اور انسان

اے انسان جو آسمانوں کو تسخیر کرنا چاہتا ہے سن
بھائ انسان کو صرف جاننے اور سمجھنے کے لئے اور رب کی قدرت سمجھنے اور اس کے وجود اور سلطا نی کو جاننے کے لئے پیدا کیا گیا ہے یہاں رہنے کے لئے نہیں بنایا گیاانسان کو سب سے پہلے جنت میں بسایا گیا تھا اور وہاں سے دنیا کے سیارے پر اتارا گیا اور دوبارہ اسکو جنت میں بسایا جائے گا جو پوری طرح موافق ہے انسان کے رہنے کے لئے تو انسان کا دوسرا گھر وہی ہوگا جو اسکا پہلا گھر تھا یعنی جنت جو بہت وسیع ہے اور یہاں انکو بسایا جائے گا جو تمام سیاروں اور اس رب کے ہر نشان کو جان کراسکے اگے اپنا سر تسلیم خم کرئیں گے اور اس واحد ذات کی عبادت کرئیں گے جس نے یہ تمام سیاروں ستاروں اور کہکشاؤں کی دنیا تخلیق فرمائی ہے کن فرماکر  اور جو انسان یہ تحقیق اور مال خرچ کر کے بھی اسکو تسلیم نہ کرے اس کے لئے ایک جگہ بنائی گئی ہے اسکو دوزخ اور جہنم کہتے ہیں  اور اگر انسان براق جیسی کوئی مخلوق حاصل کر پائے اور  ٹائم اور اسپیس کو ختم کر پائے تو ہی وہ ان دور دراز مقامات کا مشاھدہ کر سکتا ہے اسمانی وسعتوں کو سمجھنے اور فتح کرنے کے لئے انسان کو واقع معراج پر تحقیق کرنی ضروری جب ہی وہ اس میں کامیابی حاصل کر پائے گا ان ناقص اسپیس راکٹوں کے بس کی بات نہیں ہے کے وہ علوی دنیا کی انتہاؤں کو انسان کو سر کروا سکئیں  اسمانی دنیا روحانی دنیا ہے اس کی طرف انسان جب ہی  بڑھ سکتا ہے جب خود ہی روحانی عروج حاصل کرے روحانی اسمانی دنیا کی تسخیر انسان روحانی زندگی کے عروج سے ہی حاصل کرے گا مثلا حضرت عیسی علیہ السلام کا اسمانوں کی طرف اٹھایا جانا کس قدر آسانی سے ایک نبی اسمانوں کی طرف پرواز کرگئے اور ھمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسمانوں کی سیر کر کے واپس ایک رات میں تشریف لے آۓ اسی طرح جب انسان روحانی قرانی تحقیق کرتا جائے گا آسمانوں پر اسانی سے پہنچ جائے گا اور سات اسمان ہیں جو ان تمام سیاروں ستاروں سے بھی بہت بلندی پر ہیں اور سونے چاندی یاقوت زبرجد تانبے لوہے موتی کے ہیں اور سات جنتیں اور سدرة المنتہی اور لا مکاں  اور تجلیات خدا اور رب کی ذات اور جس کے دیدار کا وعدہ مقام جنت میں پورا ہوگا ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
محمد عظیم شاہ یوسفی

Tuesday, 24 March 2020

تین چیزیں ہر روز لازم کرئیں کرونا سے حفاظت کے لئے


ہر روز تین وقت صبح دوپہر شام گرم پانی پی لیا کر یں ہر روزگرم پانی سے غسل کریں اور اپنے آپ کو گرم ماحول میں رکھئیں اور الٹی کروٹ پر زیادہ سویا کریں اس سے جسم اور پھیپھڑے گرم رہے گے

تسبیح حضرت فاطمہ زہرہ سلام اللہ علیھا

ہر شخص کو ان دنوں میں صبح دوپہر شام میں کئ کئی دفعہ یہ تسبیح کر نی چاہیئے

کرونا وائرس کا زبردست علاج



ایک بڑے برتن میں پانی لیں اور اس پانی کوسمندری  نمک
سے کافی زیادہ نمیکین کرلیں جس طرح سمندر کا پانی
بہت نمکین ہوتا ہے اب اس پانی پر آیت الکرسی گیارہ بار دم کرلیں اور جن کو ہائی بلڈپریشر نہ ہوتا ہو وہ ٹھوڑا پی لیں اور جنکو ہوتا ہے وہ نہ پئے اب اس کو گرم کرئیں اور پھر چھولے سے اتار کر احتیات سے ایک جگہ رکھ کر اور اپنے منہ پر کوئی کریم مثلا پیٹرولیم جیلی لگا لیں تاکے منہ اور چہرے کی جلد نہ جلے اور اب اپنے اوپر کوئی تولیہ ڈال کر دس سے پندرہ منٹ تک بھاپ لیں اپنے منہ اور ناک سے نمک والی گرم بھاپ کو اندر اپنے پھیپھڑوں میں داخل کرئیں انشا۶ اللہ یہ بیماری آپ کو نہیں ہو گی اور اگر یہ وائرس داخل ہو گیا ہے تو سات دن سے پہلے ہی ہلاک ہو جائے گا اور کرونا کا مریض بھی کرے جلد شفا۶ پا جائے گا نبی و ال  نبی علیھم السلام اصحاب کرام رضی اللہ عنھم کے صدقے آمین
محمد عظیم شاہ یوسفی 

Corona Viras ka ilaaj


Sunday, 22 March 2020

کروناوائرس کی دعائںں اور ھدایات


السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! پیارے حبیب شفیع المذنبین عالم علوم اوّلین و آخرین علیہ وعلی آلہ الصلوۃ والتسلیمات کے فضل و کرم کے ساتھ رب سے خیر طلب کریں اور خیر کی امید بھی رکھیں. بالکل بھی گھبرانے کی ضرورت نہیں موت کا ایک وقت معین ہے، ہمیں اس موت سے کیا ڈر جو حبیب کے دیدار کے ایک اور ان دیکھے نظارے تک لے جاتی ہو.
سادات کرام کو ھدیہ، غرباء کو صدقات اور محلے داروں کا حق سمجھ کر سب کے ساتھ سخاوت کیجئے.
اپنے بچوں کے ساتھ ساتھ اپنے رشتے داروں کے غیر ذمہ دار اور بے احتیاط بچوں کی بھی فکر کریں.
لیموں کاٹ کر اس میں گرم پانی شامل کریں اور ہر گھنٹے بعد سب کو پلائیں بچوں سمیت.
بچوں کی ڈائٹ / خوراک میں روزانہ کیلے اور مالٹے لازم کیجئے. یا پھر سوہانجنا کے پتوں کا قہوہ سب پئیں. قوت مدافعت میں اضافہ کے لیے بہت مجرب ہے.
بعض ماہرین نے ادرک کا قہوہ لیمن ڈال کر پینا بھی بہتر قرار دیا ہے.
لوکل سنیٹائزر بنانے کے لیے
نیم کے پتے خوب پکا کر رکھیں،
یا پھر پھٹکڑی گرم پانی میں ڈال کر بھی جراثیم کش پانی تیار کیا جا سکتا ہے،
یا پھر بورک ایسڈ پانی میں شامل کر کے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے.
اور اسپرٹ اور آفٹر شیو بھی الکہل ہی ہے ایک چمچ سپرٹ چار چمچ پانی میں شامل کر کے بھی سنیٹائزر تیار کیا جا سکتا ہے.
سب سے بہترین جراثیم کش دوا صاف سوکھی مٹی ہے، ہاتھوں پر مٹی مل کر دھویا جا سکتا ہے،
اگر کچھ بھی میسر نہ ہو تو کم از کم گرم پانی میں نمک ڈال کر ناک اور گلہ صاف کیا جا سکتا ہے.

کرونا وائرس کے خاتمہ کے لئے
*گرم پانی کی بھاپ سر پر تولیہ ڈال کر لمبے سانسوں کے ساتھ لیں اگر پانی میں ویکس ڈال لی جائے تو بہت ہی بہتر ہے*
گرم پانی کی بھاپ کرونا کو ختم کر دیتی ہے نیز پھیپھڑوں میں موجود وائرس کو بھی ختم کرے گی اور سانس لینے میں ممد اور معاون ثابت ہو گی.
حکومتی احکامات کے مطابق اجتماعات سے اجتناب لازم ہے. ٹاول ٹشو (عام ٹشو پیپر سے ذرہ بڑا ) یا صاف رومال کے ساتھ ربڑ بینڈ سٹیپل کر کے ماسک تیار کیا سکتا ہے. باہر جانے سے قبل ماسک کا استعمال کریں. روزانہ باہر سے آتے ہی کپڑے تبدیل کریں. مکمل طور پر باوضو رہیں. ہر نماز نئے وضو کے ساتھ ادا کریں.
اور سب سے بڑھ کر
قرآن پاک کا دل سورہ یاسین شریف کی آیت مبارکہ
سلام قولا من الرب الرحیم
131 مرتبہ روزانہ صبح،
ایک تسبیح
یا حَفِیْظُ یا رَقِیْبُ
اور
بِسْمِ اللہِ الَّذِیْ لَا یَضُرُّ مَعَ اسْمِہٖ شَیْ ءٌ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآ ءِ وَ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ۔
(صحیح ابن ماجہ: 332/2)
تین مرتبہ،
ناد علی شریف ایک مرتبہ
اور
لی خسمۃ اطفی بہا حرالوباء الحاطمہ
المصفی و المرتضٰی وابنا ھما والفاطمہ
پانچ مرتبہ ورد کریں. اور
پیارے حبیب شفیع المذنبین رحمۃ العالمین عالم علوم اوّلین و آخرین احمد مجتبٰی حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کے مطابق کہ کسی کو مصیبت میں مبتلا دیکھو تو یہ دعا پڑھو اللہ پاک آپ کو محفوظ رکھے گا،

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ عَافَانِیْ مِمَّا ابْتَلَاکَ بِہٖ وَفَضَّلَنِیْ عَلٰی کَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقَ تَفْضِیْلًا  ؕ
(جامع ترمذی ،کتاب الدعوات باب ما یقول اذا رای مبتلی، الحدیث ۳۴۴۲)
اور یہ دوسری  دعا اپنے اور پورے خاندان پر دم کیجئے!

 " اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ أَذْهِبْ البَأْسَ، وَاشْفِ فَأَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا"
رواه الترمذي
نیز اپنے گھروں میں روزانہ مغرب کے بعد کم از کم تین لوگ بیٹھ کر سورہ یسین شریف تین تین بار پڑھیں، درود شریف کی کثرت کیجئے. سب امت کے لئے خیر و برکت اور امن و امان کی دعا کیجئے.
معاملات میں کمی بالکل بھی نہ چھوڑئیے، زمین جائیداد اور دوسرے کا مال فوری ادا کر دیجئے کیونکہ حرام مال بیماریوں کو دعوت دیتا ہے...
معاشرے کا ایک ذمہ دار اور احساس مند شہری ہونے کا ثبوت دیجئے مریضوں کی امداد، خاندان اور محلے داروں کے لنگر اور دوائیوں کی فکر کیجئے.
اللہ پاک سب کو اپنی امان میں رکھے. آمین ثم آمین یا رب العالمین و بجاہِ نبی الروف الرحیم.

میرے پیارے مسلمان بھائیو اور بہنو!
 موجودہ حالات کے تناظر میں آج اپنے ضمیر سے یہ چند سوالات ضرور کیجئے!
دعائیں فارورڈ کرنے سے فائدہ بالکل بھی نہیں البتہ پڑھنے سے ممکن ہے! کیا ہم نے جتنی دعائیں فارورڈ کیں یہ پڑھی بھی ہیں؟

1: اس عالمی وباء کے مقابلہ میں ہر ایک پاکستانی نے اپنے طور پر کیا تیاری کی ہے؟

2: صفائی اور احتیاط کے جو ضروری اوامر بتائے جا رہے ہیں کیا آپ نے اپنا لئے؟

3: بخار، زکام، پھیپھڑوں کی تقویت اور قوت مدافعت کو بڑھانے کے لئے کیا پیشگی اقدامات کئے گئے؟

4: محلے داروں اور غرباء کی خدمت اور لنگر کے لئے کیا ترتیب بنائی گئی؟

5: طبی معائنہ کی فیس فی الحال ہزاروں میں ہے کیا اتنی رقم موجود ہے کہ گھر کے ہر فرد کا معائنہ اور ضروری ادویات حاصل کی جا سکیں؟

سب سے اہم یہ کہ مخیر حضرات کو اپنے رشتہ داروں محلے داروں کی بھی فکر ہے یا نہیں؟

اگر اس سوال نامے کے اکثر جوابات منفی ہیں
اور آپ کو اب بھی اللہ یاد نہیں آ رہا، موت سر پر منڈلاتی دکھائی نہیں دے رہی، معاشرے کق ایک ذمہ دار شہری بننے اور اپنا کردار ادا کرنے کی سوچ نہیں تو سمجھ لیجئے آپ بے حس اور معاشرے کے ایک بے کار، بے فیض شخص ہیں.
غریب اور نادار لوگ اس آخری جملے سے مبراء ہیں.
احقر العباد
محمد عظیم شاہ یوسفی

زحال مسکین مکن تغافل ورائے نیناں بنائے بتیاں

گفتم کہ روشن از قمر گفتم کہ رخسارمنست

Tuesday, 17 March 2020

حضرات اولیا۶ کرام رحمتہ اللہ علیھم

حضرات اولیا۶ کرام بہت سادے قران و سنت کے پابند اور

اللہ کے ذکر فکر میں رہنے والے درود و سلام کی کثرت کرنے والے نمازی روزہ دار ریاضت و مجاہدات کرنے والے کم سونے کم کھانے کم گفتگو  کرنے والے نا محرم سے دور رہنے والےعلم و عرفان والے اللہ پر روزی کا بھروسہ رکھنے والے پاک صاف خشبو دار مخلوق پر نہیں خالق کی مدد پر اعتماد کرنے والے مخلوق خدا کی مدد کرنے والے سب خدا کی مخلوق کے دوست اللہ کی ذات میں فنا۶ ہونے والے تو حید خدا کے علم بردار اسکی ذات و صفات کے مظھر صاحب کرامت صاحب استقامت ہوتے ہیں اور جن کو دیکھ کر خدا یاد آجاتا ہے انکے قرب سے دل روشن ہو جاتے ہیں اور انکے قرب سے انسان خود بھی نیک اور پاکیزہ صفات کا حامل ہو جاتا ہے اور جن میں یہ نہ ہو اسکو دیکھ کر شیطان یاد آجاتا ہے اور اللہ کے ولیوں کو صرف اللہ ہی جانتا ہے دوسرا صرف گمان کرتا ہے اسکی خوبیاں دیکھ کر بہت نیک انسان بھی ضرروی نہیں کے ولی اللہ ہو اللہ کے ولی خاص ہوتے ہیں جنکی خبر صرف انکو اور انکے خدا کو ہوتی

کرونا وائرس سے حفاظت


Sunday, 15 March 2020

Thursday, 5 March 2020

تو رسول پاک علیہ السلام کی ال ہے یا خواجہ

کرو کرپہ یا خواجہ غریب نواز رحمة اللہ علیہ

چلتا ہے صابر کا سکہ سارے ہندوستان

دھوم مچی ہے صابر کے آگن میں

یا صابر پیا۶ نظر کرم سرکار رحمةاللہ علیہ

یا صابر حق صابر

اصحاب کھف کے ناموں کی برکت

اسما۶ اصحاب کھف رحمتہ اللہ علیھم کو پرنٹ کرکے گھر کی باہر کی طرف پلاسٹک کوٹنگ کر کے لگادیں انشا۶ اللہ انکے ناموں کی برکت سے کوئی وبا۶ بلا۶  شر دینے والی چیز نقصان نہ دے سکے گی اللہ کے حکم اور قدرت سے 

جنات کی ہم نشینی کے نقصانات

  شیخ اکبر نے فتوحات مکیہ میں جنات کی ہم نشینی کے نقصانات  بیان کیے ہیں۔ 1. روحانی مرتبے میں تنزلی جنات کی صحبت اختیار کرنے والا شخص اُن عار...