حضرت سیدنا خضر علیہ السلام سے❤️ ملاقات کا طریقہ ❤️ جسکو یہ خواہش ہو کہ وہ سیدنا ابو العباس بلیا بن ملکان خضر علیہ السلام سے ملاقات کا شرف حاصل کرے بلکہ ان سے استفادہ ہو وہ یہ چند معمولات کی پابندی کرے تو بار بار ملاقات کا شرف اور دینی دنیاوی استفادہ ملے گا ایک تو وہ درود و سلام کی مشہور کتاب دلائل الخیرات کی پابندی کرے ہر روز ایک باب کی تلاوت کرے اور سیدنا خضر علیہ السلام کی بارگاہ میں ھدیہ کرے دوسرے وہ درود خضری کی پابندی کرے صلی اللہ علی حبیبہ محمد و الہ وسلم یہ درود کثرت سے پڑھے اور خواجہ خضر علیہ السلام ک بارگاہ میں ھدیہ کرے اور تیسرے ہر روز بعد ظہر کی نماز کے عصر کی نماز کا وقت شروع ہونے سے پہلے پہلے دو رکعت نماز نفل ادا کرے اور پہلی رکعت میں بعد فاتحہ کہ قران مجید کی آخری دس آیات سے پہلی پانچ تلاوت کرے اور دوسری رکعت میں اسکے بعد والی پانچ مطلب پہلی رکعت میں سورہ الم ترکیف سورہ فیل سے 1. سورۃ الفیل، 2. سورۃ قریش، 3. سورۃ الماعون، 4. سورۃ الکوثر، 5. سورۃ الکافرون،❤️اور دوسری رکعت میں بعد فاتحہ 6۔سورہ نصر 7۔سورہ لھب تبت یدا 8۔سورہ اخلاص 9۔سو...
: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہارے سب سے بہتر اور تمہارے رب کے نزدیک سب سے پاکیزہ اور سب سے بلند درجے والے عمل کی تمہیں خبر نہ دوں؟ وہ عمل تمہارے لیے سونا چاندی خرچ کرنے سے بہتر ہے، وہ عمل تمہارے لیے اس سے بھی بہتر ہے کہ تم ( میدان جنگ میں ) اپنے دشمن سے ٹکراؤ، وہ تمہاری گردنیں کاٹے اور تم ان کی ( یعنی تمہارے جہاد کرنے سے بھی افضل ) “ لوگوں نے کہا: جی ہاں، ( ضرور بتائیے ) آپ نے فرمایا: ”وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے“، معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں: اللہ کے ذکر سے بڑھ کر اللہ کے عذاب سے بچانے والی کوئی اور چیز نہیں ہے
: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو قوم اللہ کو یاد کرتی ہے ( ذکر الٰہی میں رہتی ہے ) اسے فرشتے گھیر لیتے ہیں اور رحمت الٰہی اسے ڈھانپ لیتی ہے، اس پر سکینت ( طمانیت ) نازل ہوتی ہے اور اللہ اس کا ذکر اپنے ہاں فرشتوں میں کرتا ہے“۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے
: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو قوم اللہ کو یاد کرتی ہے ( ذکر الٰہی میں رہتی ہے ) اسے فرشتے گھیر لیتے ہیں اور رحمت الٰہی اسے ڈھانپ لیتی ہے، اس پر سکینت ( طمانیت ) نازل ہوتی ہے اور اللہ اس کا ذکر اپنے ہاں فرشتوں میں کرتا ہے“۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے
Comments