Skip to main content

Posts

Showing posts from December, 2020

افضل اعمال میں ایک حج مبرور ہے

  افضل اعمال میں ایک حج مبرور ہے قرآن پاک کا ارشاد اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌۚ-فَمَنْ فَرَضَ فِیْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَۙ-وَ لَا جِدَالَ فِی الْحَجِّؕ-وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْهُ اللّٰهُ ﳳ-وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى٘-وَ اتَّقُوْنِ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ(197) البقرہ  حج چند معلوم مہینے ہیں تو جو اِن میں حج کی نیت کرے توحج میں نہ عورتوں کے سامنے صحبت کا تذکرہ ہو اورنہ کوئی گناہ ہو اور نہ کسی سے جھگڑاہو اور تم جو بھلائی کرو اللہ اسے جانتا ہے اورزادِ راہ ساتھ لے لو پس سب سے بہتر زادِ راہ یقیناپرہیزگاری ہے اور اے عقل والو!مجھ سے ڈرتے رہو۔ احادیث بخاری شریف  حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ :    سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ، قِيلَ : ثُمَّ مَاذَا ؟ ، قَا...

چودہ سو سال پرانی مسجد

ہندوستان کی تقریبا 1400 سال پرانی مسجد گجرات کے بھاو نگر کے گاؤں گھوگھا میں اب بھی موجود ہے ، جس کا قبلہ بیت المقدس کی طرف ہے… ابھی اس مسجد کی تعمیر انتہائی خستہ حال حالت میں ہے ، مسجد کے اندر تقریبا 25 افراد ایک ساتھ مل کر نماز پڑھ سکتے ہیں۔ اس مسجد میں 12 ستون ہیں جن پر مسجد کی چھت بنائی گئی ہے ، چھت کے اوپر گنبد اور مسجد کی دیواریں بھی کھدی ہوئی ہیں اور مسجد۔ محراب پر عربی میں 'بسم اللہ` کی نقش نگاری اسی دور کی ہے۔ یہ زمین کے چہرے پر ایک ہی مسجد ہوسکتی ہے ، بیت المقدس کا سامنا کرتے ہوئے ، ساتویں صدی کے اوائل میں ، پہلے عرب تاجر سمندر کے راستے یہاں اترے اور پھر انہوں نے یہ مسجد یہاں بنائی۔ مکہ کا مقام قبلہ رخ یروشلم تھا۔ یہ قدیم مسجد مقامی طور پر جونی مسجد کے نام سے مشہور ہے۔ یہ مسجد ہندوستان کی دیگر تمام مساجد سے ملتی جلتی ہے ، جن کے محرابوں کا رخ مکہ مکرمہ ہے۔ اس قدیم مسجد میں ابھی بھی عربی کا قدیم ترین نوشتہ ہے اور آج یہ مسجد بارواڈا تنجم کی نگرانی میں ہے۔ اسلامی تاریخ کے مطابق ، 610 سے 623 تک ، بیت المقدس کو نماز پڑھائی گئی اور پھر 624 ء سے کعبہ کی طرف ، نماز پڑھنا شروع ہوئی ...

ابلیس کی تاریخ

 ابلیس کی تاریخ ابلیس کی نسل کی ابتدا جس جن سے ہوئی اس کا نام "طارانوس" کہا جاتا ہے اور یہ ابلیس سے 1 لاکھ چوالیس ہزار سال قبل دنیا پر تھا. طارانوس می نسل تیزی سے بڑھی کیونکہ ان کو موت طاری نہیں ہوتی تھی اور نا بیماری تھی البتہ یہ چونکہ آتشیں مخلوق تھی تو سر کشی بدرجہ اتم موجود تھی. اس مخلوق کو پہلی موت پیدائش کے 36000 سال بعد آئی اور اسکی وجہ سرکشی تھی.  بعد میں "چلپانیس" نامی ایک نیک جن کو جنات کی ہدایت کا ذمہ سونپاگیا اور وہ ہی شاہ جنات قرار پائے مگر ان کے بعد "ہاموس" کو یہ زمہ دیا گیا. ہاموس کے دور میں ہی چلیپا اور نبلیث کی پیدائش ہوئی یہ دونوں اپنے وقت کے بے حد بہادر جنات تھے اور ان کی قوم نے چلیپا کو شاشین کا لقب دیا جس کے معنی ہیں شیر کے سر والا ان دونوں جنات کیوجہ سے ساری قوم کہنے لگ گئی کہ ہمیں اس وقت تک کوئی نہیں ہرا سکتا جب تک شاشین اور نبلیث ہمارے درمیان موجود ہیں اور ان ہی دونوں کیوجہ سے یہ جنات آسمان تک رسائی کرنے لگے اور تیسرے آسمان پر جا کر شرارت کر آتے تھے ایسے میں حکم ربی سے فرشتوں نے ان پر حملہ کیا اور عبرتناک شکست دی مگر اس سب میں عزارئ...

Peer Syedi Abdul Wahab Sabiry Jahangiry Contact +923112660110

  Contact +923313926828                +923122989983 whatsapp only  Syedi peer Abdul Wahab Shah Sabiry  faqeer e khuda  Karachi,Pakistan.

سیدی پیر عبد الوھاب شاہ قادری چشتی فریدی صابری جہانگیری دامت برکاتہم عالیہ

    923122989983  Whatsapp only Syedi peer Abdul Wahab Shah Sabiry  faqeer e khuda  Karachi,Pakistan.