Friday, 15 May 2026

جنات کی ہم نشینی کے نقصانات

 


شیخ اکبر نے فتوحات مکیہ میں جنات کی ہم نشینی کے نقصانات  بیان کیے ہیں۔


1. روحانی مرتبے میں تنزلی

جنات کی صحبت اختیار کرنے والا شخص اُن عارفین کے مقابلے میں پست درجے پر ہوتا ہے جو ملکوتی یا الٰہی مشاہدات میں غرق ہوتے ہیں، کیونکہ جنات کی طبیعت میں 
بشری کمزوریاں اور لایعنی مشاغل موجود ہوتے ہیں۔

2. خیر سے محرومی اور لایعنی مشاغل

جنات کی صحبت میں خیر کی امید بہت کم ہوتی ہے۔ ان کی ہم نشینی فضول باتوں اور ایسے کاموں میں وقت ضائع کرنے کا سبب بنتی ہے جن کا کوئی دینی یا روحانی فائدہ نہیں ہوتا۔

3. فطرتِ ناری اور فکری اضطراب

جنات کی اصل آگ ہے، اور آگ کی فطرت مسلسل حرکت اور اضطراب ہے۔ یہی بے چینی ان کے ہم نشین میں منتقل ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں انسان سنجیدگی کھو دیتا ہے اور فضول گوئی اس پر غالب آ جاتی ہے۔

4. انسانوں سے بڑا فتنہ

جنات کی صحبت عام انسانوں کی صحبت سے کہیں زیادہ فتنہ انگیز ہوتی ہے۔ وہ انسان کو ایسے راستوں پر ڈال دیتے ہیں جو بظاہر روحانی لگتے ہیں مگر حقیقت میں گمراہی ہوتے ہیں۔

5. عیوب کی ٹوہ اور پردہ دری
جنات انسانوں کے باطنی عیوب اور نجی معاملات کو بے نقاب کرتے ہیں۔ ایک صاحبِ عقل کے لیے دوسروں کے عیوب سے آگاہی روحانی زہر ہے، جبکہ جنات اسی پردہ دری کو اپنا مشغلہ بناتے ہیں۔

6. تکبر اور خود پسندی کا بیج

جنات کی فطرت اپنے ہم نشین کے دل میں دوسروں، بلکہ اللہ کے نیک بندوں کے خلاف بھی بڑائی اور غرور پیدا کر دیتی ہے۔ انسان خود کو دوسروں سے ممتاز اور برتر سمجھنے لگتا ہے۔

7. مکرِ خفی اور لاشعوری زوال

سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان “مکرِ خفی” کا شکار ہو جاتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ وہ روحانی طور پر ترقی کر رہا ہے اور اسے غیر معمولی رسائی حاصل ہو رہی ہے، حالانکہ حقیقت میں وہ اللہ کی ناپسندیدگی کا شکار ہو کر اپنی اصل روحانی پونجی گنوا رہا ہوتا ہے۔

8. معرفتِ الٰہی سے بیگانگی

جنات معرفتِ الٰہی کے باب میں جاہل ترین مخلوق قرار دیے گئے ہیں۔ ان کے پاس ذاتِ حق کا حقیقی علم نہیں ہوتا، اس لیے ان کا ہم نشین بھی معرفتِ الٰہی کے ذائقے سے محروم رہتا ہے۔

9. جھوٹی کرامت کا دھوکہ

جنات ملأِ اعلیٰ سے چوری چھپے سنی سنائی باتیں — جو اکثر ناقص یا غلط ہوتی ہیں — بیان کر کے سادہ لوح انسان کو یہ یقین دلا دیتے ہیں کہ یہ اس کی “کرامت” ہے، یوں وہ خود فریبی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

10. مذموم علوم کا حصول
جنات کی طرف سے ملنے والا علم زیادہ سے زیادہ جڑی بوٹیوں، پتھروں اور حروف و اسما کی تاثیر (علمِ سیمیا) تک محدود ہوتا ہے۔ شریعت نے ایسے علوم کی مذمت فرمائی ہے کیونکہ یہ انسان کو مسبب الاسباب یعنی اللہ کے بجائے اسباب میں الجھا دیتے ہیں۔

11. باطنی چاشنی کا فقدان

اگر جنات کا ہم نشین سچا بھی ہو، تب بھی اس کے پاس علمِ الٰہی کے دقیق مسائل کی تفہیم اور معرفت کی وہ خاص “چاشنی” نہیں ہوتی جو حقیقی اہلِ اللہ کا اخاصہ ہے۔

#محمد عظیم شاہ یوسفی قادری چشتی فریدی صابری صابری اشرفی 1447 ھجری 2026 
#روحانی_مرتبے_میں_تنزلی #خیر_سے_محرومی #لایعنی_مشاغل #فطرت_ناری #فکری_اضطراب #جنات_کا_فتنہ #پردہ_دری #عیوب_کی_ٹوہ #تکبر #خود_پسندی #مکر_خفی #لاشعوری_زوال #معرفت_الٰہی #جھوٹی_کرامت #خود_فریبی #مذموم_علوم #علم_سیمیا #اسباب_پرستی #باطنی_چاشنی #اہل_اللہ #روحانی_گمراہی #جنات_کی_صحبت #روحانی_نقصانات #فتوحات_مکیہ #شیخ_اکبر #تصوف #معرفت #روحانیت
Web link of sillsila Shareef
https://sabirjahangirqalandar.blogspot.com/?m=1

Whatsapp Channel Link
https://whatsapp.com/channel/0029Vb7g3UA6xCSIoFiR9V45
 
Face book profile link Azeem Shah Sabiry
https://www.facebook.com/share/17SAvzD3HN/

Face book group link join Now مخلوقات کا دوست
https://www.facebook.com/share/g/17iBra5EXR/

Face book page link
https://www.facebook.com/share/1EXZsRsTY7/

Wednesday, 13 May 2026

قتل فقیر عاشق خدا ۳۰۹ ھجری ذیقعدہ

 


قتل فقیر  قتل عاشق خدا   ذی القعد ۳۰۹ ھجری حسین بن منصور الحلاج رحمتہ اللہ علیہ 

اُقْتُلُوْنِیْ یَا ثِقَاتِیْ       اِنَّ فِیْ قَتْلِیْ حَیَاتِیْ

"اے میرے قابلِ اعتماد دوستو! مجھے قتل کر دو، کیونکہ میرے قتل ہو جانے میں ہی میری (حقیقی) زندگی پوشیدہ ہے۔
ظاہری آنکھ سے دیکھنے والے کے لیے یہ جملہ ایک دیوانگی یا خودکشی کی خواہش نظر آتا ہے، لیکن صوفیانہ رموز اور تصوف کی زبان میں اس کے اندر گہرے فلسفیانہ اور روحانی معنی چھپے ہوئے ہیں

تصوف میں دو طرح کی موت ہوتی ہے؛ ایک "موتِ اصغر" (جسم کا مر جانا) اور دوسری "موتِ اکبر" (نفس اور خواہشات کا مر جانا)۔ منصور حلاج یہاں فرما رہے ہیں کہ جب تک میرا یہ مادی جسم اور میرا "نفس" (انا/خودی) زندہ ہے، میں خدا سے دور ہوں۔ جب تم مجھے قتل کر دو گے، تو میرا نفس مٹ جائے گا اور میری روح اپنے اصل مرکز (اللہ کی ذات) میں فنا ہو کر ہمیشہ کے لیے امر (زندہ) ہو جائے گی۔

ابو المغیث الحسین بن منصور حلاج تاریخِ تصوف کے سب سے زیادہ زیرِ بحث اور پُر اسرار صوفی بزرگ ہیں۔ وہ 24 ذی القعدہ 309 ہجری (بمطابق 26 مارچ 922ء) کو عباسی خلیفہ المقتدر باللہ کے دور میں بغداد میں مصلوب کیے گئے
پیدائش اور نام: آپ 858ء (244 ہجری) میں فارس (موجودہ ایران) کے ایک قصبے "طور" میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد منصور پیشے کے لحاظ سے روئی دھنکنے (دھنیا) کا کام کرتے تھے، اسی مناسبت سے آپ کو حلاج کہا گیا۔

تعلیم و تربیت: آپ نے محض 12 سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کر لیا تھا۔ تصوف کی ابتدائی تعلیم واسط اور تستر میں شیخ سہل بن عبداللہ التستری سے حاصل کی۔ بعد ازاں بغداد آکر تصوف کے امام حضرت جنید بغدادی اور عمرو بن عثمان مکی کے حلقہِ درس میں شامل ہوئے۔

سیاحت: آپ نے مکہ مکرمہ کے تین پیدل حج کیے۔ اس کے علاوہ معرفتِ الٰہی کی تبلیغ کے لیے ہندوستان (گجرات و سندھ)، خراسان اور وسطی ایشیا کے طویل سفر کیے
اور یہ سندھ والوں کی خوش نصیبی ہے کہ ایک اللہ کا اتنا بڑا عاشق ھماری سر زمین پر تشریف لایا تھا

منصور حلاج کو بغداد میں ایک طویل مقدمے اور تقریباً 9 سال قید میں رکھنے کے بعد نہایت عبرتناک طریقے سے قتل کیا گیا۔ ان کی موت کے پیچھے بنیادی طور پر دو بڑی وجوہات تھیں
حلاج صوفیانہ حالت میں "انا الحق" (یعنی: میں حق/خدا ہوں) کا نعرہ لگایا کرتے تھے۔

علماء کا موقف: ظاہری شریعت کے علمائے کرام (جیسے قاضی ابو عمر) نے اسے صریح کفر، الحاد اور خدائی کا دعویٰ قرار دیا۔ ان کا ماننا تھا کہ حلاج "حلول اور اتحاد" (خدا کا انسان میں سما جانا) کے قائل ہو چکے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے حلاج کے قتل کا فتویٰ جاری کیا۔

صوفیاء کا موقف: صوفیاء کی ایک بڑی جماعت (بشمول داتا گنج بخش علی ہجویری اور بعد کے بزرگوں) کا ماننا ہے کہ حلاج کا یہ نعرہ تکبر کا نہیں بلکہ "فنا فی اللہ" (عشقِ الٰہی میں اپنی خودی کو مٹا دینے) کی مغلوب الحال حالت کا نتیجہ تھا، جہاں بولنے والا وہ خود نہیں بلکہ خدا کی ذات تھی

مذہبی فتوے کے علاوہ اس وقت کے عباسی وزراء (خصوصاً حامد بن عباس) حلاج کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خوفزدہ تھے۔

حلاج کے مریدین اور چاہنے والوں کی تعداد بغداد کے شاہی محل تک پہنچ چکی تھی۔ حکومت کو ڈر تھا کہ حلاج کی یہ تحریک عباسی خلافت کے خلاف بغاوت یا کسی بڑے سیاسی فتنے (جیسے قرامطہ تحریک) کا سبب نہ بن جائے۔ اسی لیے سیاسی فتنہ دبانے کے لیے ان کا قتل ناگزیر سمجھا گیا

مقدمے کے فیصلے کے بعد، 24 ذی القعدہ کو بغداد کے چوک پر منصور حلاج کو پہلے کوڑے مارے گئے، ان کے ہاتھ پاؤں کاٹے گئے، پھر انہیں سولی پر لٹکایا گیا اور آخر میں ان کا سر قلم کر کے جسدِ خاکی کو آگ لگا کر راکھ دریائے دجلہ میں بہا دی گئی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس کٹھن ترین سزا کے دوران بھی منصور حلاج نہایت پرسکون رہے اور اپنے قاتلوں کے حق میں مغفرت کی دعا کرتے رہے۔ یہ تو ایک عاشق ہی جانتا ہے کہ جو ثقاتی دوست احباب اسکو اسکو محبوب سے ملانے کہ لئے قتل کررہے ہیں تو انکو دعا ہی دی جائے گی نہ کہ بد دعا جبکہ احباب اپنے تئی اس عاشق کو شریعت کی نافرمانی کی سزاء دے رہے ہیں انکو معلوم نہیں ہورہا وہ تو عاش کو جزاء دے رہے ہیں .

مگر مگر مسلمانوں سنو*****-----
یہ کون سی اسلامی سزا تھی جو اس دور کی عباسی حکومت نے سیدنا منصور حلاج رحمتہ اللہ علیہ کو دی تھی کیا اسلام میں اس طرح سرے عام کسی مرتد کے بھی ہاتھ پاوں کاٹنے اور جلانے کی اجازت ہے کیا کسی انسان کا مثلہ کرنے کی اجازت ہے اس وقت کے علماء اس بات پر بھی خاموش رہے انا الحق سب کو نظر آگیا مگر بعد میں جو شدید شریعت کی خلاف ورزیاں ہوئی اسکو سب علماء بھی اپنی جان کو حکومت سے بچانے کہ لئے دبا گئے جبکہ سب جانتے تھے کہ یہ حکومتی انتقامی اقدامات ہیں اور ظالم عباسی حکومت یہ بتانا چاہتی ہے کہ جو ھمارے قد کے برابر آنے کی کوشش کرے گا چاہے وہ اللہ والا ہو یا دنیاوی اسکا یہی حالا کیا جائے گا. آفسوس کہ اس عالم میں اس بے دردی سے اللہ کے اتنے بڑے ولی با کرامت بزرگ کو اس امت نے تخت دار پر چڑھا دیا اور اسکے جسد کی خوب بے عزتی کی گئی . اور اس اللہ والے عاشق کو دیکھو دعائیں دیتا دیتا سولی چڑھ گیا یقین مانو سیدی منصور حلاج اس قدر طاقت ور ولی اللہ تھے ایسے باکرامت  تھے کہ انکے قتل کا ارادہ کرنے والے خود نیست و نابود ہوجاتے مگر یہاں بھی وہ عاشقین خدا کو فنا فی اللہ اور یار پر فداء ہونے کی تعلیم دے گئے
جنید بغدادی علیہ الرحمہ فرمایا کرتے تھے کہ اے لڑکے تو کیا لکڑی لال کرے گا تو منصور حلاج فرماتے جی کرونگا.

سید الطائفہ حضرت جنید بغدادی، منصور حلاج کے استاد اور مرشد تھے۔ حلاج کے اندر کی بے چینی اور جذب کی کیفیت کو دیکھ کر حضرت جنید بغدادی انہیں ہمیشہ خاموشی اور شریعت کے ظاہر پر قائم رہنے کی تلقین کرتے تھے۔ تاریخ کی کتابوں میں ان کے درمیان دو مکالمے بہت مشہور ہیں
ایک بار منصور حلاج نے حضرت جنید بغدادی کے دروازے پر دستک دی。 اندر سے حضرت جنید بغدادی نے پوچھا: "کون ہے؟" منصور حلاج نے جواب دیا: "اَنَا الْحَقْ" (میں ہی حق ہوں)。 حضرت جنید بغدادی نے گہرا سانس لیا اور فرمایا: "اے منصور! اللہ کے رازوں کی حفاظت کرو اور اسے ان لوگوں کے سامنے ظاہر نہ کرو جو اسے سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے。 وہ وقت دور نہیں جب تم لکڑی کے ایک ٹکڑے (سولی) کو آگ لگاؤ گے۔" منصور حلاج نے جواب دیا: "جس دن میں سولی پر چڑھوں گا، آپ بھی اہلِ ظاہر (علماء) کا لباس پہن کر اس فتویٰ پر دستخط کر رہے ہوں گے۔" (اور تاریخ گواہ ہے کہ ایسا ہی ہوا)۔

جب منصور حلاج کا جذب حد سے بڑھ گیا اور وہ مصلحتِ وقت کو چھوڑ کر سرِ عام صوفیانہ راز اگلنے لگے، تو حضرت جنید بغدادی نے انہیں بلا کر سختی سے فرمایا: "اے حسین! تم نے تصوف میں ایسا رخنہ ڈالا ہے کہ تمہارا انجام مجھے سولی کے تختے پر نظر آ رہا ہے، تمہارا خون اس سولی کو رنگین کرے گا۔
منصور حلاج محض نعرے لگانے والے صوفی نہیں تھے، بلکہ وہ علمِ معرفت پر گہری دسترس رکھتے تھے۔ ان کے چند چیدہ چیدہ اقوال درج ذیل ہیں

محبتِ الٰہی پر: "محبت خدا کی اصل حقیقت ہے، محبت ہی تمام چیزوں کی جڑ ہے، اور یہی دنیا و آسمان کے وجود کا سبب ہے۔"


معرفتِ الٰہی پر: "عارف کی پہچان یہ ہے کہ اس کا دل دنیا اور آخرت دونوں کی لالچ سے خالی ہوتا ہے (وہ صرف ذاتِ الٰہی کا طالب ہوتا ہے)۔"


خودی اور نور پر: "اپنے اندر چھپی روشنی (نورِ ایمانی) کو تلاش کرو، کسی اور کی روشنی قرض لینا انسان ہونے کی شان کے خلاف ہے۔"


اخلاق پر: "سب سے بڑا اخلاق یہ ہے کہ تم مخلوق کی طرف سے ملنے والی تکلیفوں اور جفا پر صبر کرو اور اللہ کو پہچانو۔"


فنا فی اللہ کا انکا ایک مشہور شعر

"میں وہی ہوں جس سے میں محبت کرتا ہوں، اور جس سے میں محبت کرتا ہوں وہ میں ہی ہے۔ ہم ایک ہی جسم میں رہنے والی دو روحیں ہیں۔"

منصور حلاج کے بارے میں تاریخِ اسلام کے علماء، فقہاء اور صوفیاء کے درمیان ہمیشہ سے دو واضح اور متضاد آراء رہی ہیں:

الف) علمائے ظاہر اور معاصر فقہاء کا فتویٰ (واجب القتل)
عہدِ عباسی کے ظاہری علماء (جیسے قاضی ابو عمر) نے حلاج کے اقوال کو شریعت کے بنیادی اصولوں کے خلاف پایا۔ ان کا فتویٰ درج ذیل نکات پر تھا:

کفر و الحاد: "انا الحق" کا نعرہ صریح کفر ہے کیونکہ یہ خالق اور مخلوق کے فرق کو مٹا دیتا ہے (حلول کا عقیدہ)۔

شریعت کا تحفظ: اگر ایسے بیانات کی کھلے عام اجازت دی گئی، تو عوام کا عقیدہ برباد ہو جائے گا اور شریعت کا ظاہر معطل ہو جائے گا

حضرت جنید بغدادی کا دستخط: جب خلیفہ مقتدر باللہ نے حلاج کی سولی کے لیے حضرت جنید بغدادی کے دستخط مانگے، تو آپ نے علمائے ظاہر کا قبا (لباس) پہنا اور فتویٰ پر لکھا: "ہم ظاہر کے اعتبار سے منصور کو سولی دینے کا فتویٰ دیتے ہیں، کیونکہ شریعت کا حکم ظاہر پر ہے، باطن کا حال اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔


داتا گنج بخش علی ہجویریؒ (صاحبِ کشف المحجوب): آپ لکھتے ہیں کہ منصور حلاج "سر مستانِ بادۂ وحدت" (اللہ کی محبت کے نشے میں چور) اور قوی الحال صوفی تھے۔ وہ کافر نہیں تھے، بلکہ مغلوب الحال تھے (جن پر ایسی کیفیت طاری ہو گئی تھی جس میں عقل کام نہیں کرتی)۔
اکابرینِ دیوبند ( اشرف علی تھانویؒ اور مفتی رشید احمد گنگوہیؒ): فتاویٰ رشیدیہ میں لکھا ہے کہ "منصور ولی اللہ تھے، لیکن وہ مغلوب الحال اور جذب کی وجہ سے معذور تھے۔ ان پر کفر کا فتویٰ دینا بے جا ہے، البتہ اس وقت فتنہ دبانے کے لیے انہیں قتل کرنا حکومت کی سیاسی ضرورت تھا۔
علامہ محمد اقبال اور سید سلیمان ندوی: علامہ اقبال نے حلاج کو "صدیقِ خودی" اور حق کا علمبردار کہا ہے۔ سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں: "حلاج مذہبی گنہگار سے زیادہ ایک پولیٹیکل مجرم (سیاسی قیدی) تھا، اس کی بے گناہی کا خون علمائے حق کے قلم پر نہیں بلکہ عباسی سلاطین کی تلوار پر ہے۔

اس امت نے جب نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نا بخشاء اور بظاھر کلمہ اور نماز پڑھنے والوں نے کربلاء کے میدان میں شہید کردیا شبیہ رسول سید نا امام علی اکبر رضی اللہ عنہ کا احترام نہ کیا تو پھر یہ تو ایک اللہ کے ولی اور عاشق خدا تھے جنہوں نے اسکی محبت و عشق کی مستی میں ذلیل مخلوق کے ہاتھوں جان دے دی مزے کی بات کہ امام حسین پر بھی معاذ اللہ علماء کی طرف سے کفر کے فتوی لگے تھے پھر خود سمجھ لو کہ وہ کون سے درباری علماء ہوتے ہیں جو جس بادشاہوں کہ حکم پر فتوی دیتے ہیں
کیا پیاری بات ہے کہ علم والا ظاھری علم کتنا ہی پڑھ لے صاحب کرامت صاحب فیض روحانی ولی اللہ کامل نہیں بننتا مگر ایک اللہ کا ولی صوفی حق عالم راز باطن و طریقت صاحب کرامت صاحب فیض صاحب مسند ارشاد بھی ہوتا ہے علم الدنی بھی حاصل ہوتا ہے .

از قلم محمد عظیم شاہ یوسفی قادری چشتی فریدی صابری اشرفی  ذیقعد1447 ھجری 2026 


رزق کی مبارک تسبیح


سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ 
الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہٖ اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ

رزق کی مبارک تسبیح
فجر کی نماز کی سنت اور فرض کے درمیان صرف 100 بار پڑھے رزق اور دنیا آپکے پیچھے بھاگ بھاگ کر خود آئے گا بار ہا کی مجرب ہے اور یہ تسبیح خود ھمارے پیارے آقا علیہ السلام نے اپنے ایک پیارے صحابی رضی اللہ عنہ کو تعلیم کی تھی.
#رزق_کی_دعا #اسلامی_وظائف #سبحان_اللہ #فجر_کی_نماز #برکت_کی_دعا #رزق_میں_اضافہ #اسلامی_ویڈیو #دعا #استغفار #PakistanZindabad #IslamicReminders #RizqKiDua #UrduWazaif #ShortsPakistan #FacebookReels #DailyDua #IslamicStatus
 
Whatsapp Channel Link
https://whatsapp.com/channel/0029Vb7g3UA6xCSIoFiR9V45
 
Face book profile link Azeem Shah Sabiry
https://www.facebook.com/share/17SAvzD3HN/

Face book group link join Now مخلوقات کا دوست
https://www.facebook.com/share/g/17iBra5EXR/

Face book page link
https://www.facebook.com/share/1EXZsRsTY7/







Thursday, 7 May 2026

حضرت سید مولانا نعیم اشرف اشرفی الجیلانی رحمتہ اللہ علیہ



حضرت سید مولانا نعیم اشرف اشرفی الجیلانی رحمتہ اللہ علیہ

حضرت سید نعیم اشرف اشرفی الجیلانیؒ (المعروف بہ نعیم المشائخ اور غازیِ زماں) خانوادہِ اشرفیہ کی ایک عظیم علمی و روحانی شخصیت تھے۔ آپ کی سوانح حیات کے نمایاں نکات درج ذیل ہیں:
* ولادت با سعادت: آپ کی ولادت 19 اپریل 1925ء (مطابق 1343ھ) کو قصبہ جائس، ضلع رائے بریلی (یو پی، انڈیا) میں اپنے نانا علامہ سید محمد نقی اشرف کے ہاں ہوئی۔
* تعلیم و تربیت: آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے گھر اور جائس میں حاصل کی۔ 6 سال کی عمر میں قرآن پاک ناظرہ مکمل کر لیا تھا۔ بعد ازاں، مولانا عبدالمصطفیٰ جائسی اور دیگر جید اساتذہ سے دینی علوم کی تکمیل کی۔
* بیعت و خلافت: آپ نے اپنے نانا حضرت سید شاہ علی نقی اشرف الجیلانی سے بیعت کی اور انہی سے خلافت و اجازت حاصل کی۔

* دینی و ملی خدمات: آپ نے اپنی پوری زندگی تبلیغِ اسلام اور سنتِ نبوی کی اشاعت کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ آپ نے حرمین شریفین کے کئی مبارک سفر کیے۔ آپ کو "غازیِ زماں" کا لقب آپ کی حق گوئی اور باطل کے خلاف ڈٹ جانے کی وجہ سے دیا گیا۔
* تصنیفی خدمات: آپ نے مخدوم اشرف جہانگیر سمنانیؒ کی مشہور کتاب "لطائف اشرفی" پر اہم کام کیا اور دیگر کئی علمی و اصلاحی موضوعات پر تحریریں چھوڑیں۔
* سلسلہ طریقت: آپ سلسلہ عالیہ چشتیہ اشرفیہ کے عظیم پیشوا تھے اور لاکھوں مریدین و معتقدین کے روحانی رہبر تھے۔
* اولاد و جانشین: آپ کے چھ صاحبزادے اور ایک صاحبزادی ہیں۔ آپ کے بڑے صاحبزادے اور جانشین سید کلیم اشرف اشرفی ہیں، جو آپ کی درگاہ کے سجادہ نشین ہیں۔
* وصال: آپ کا وصال 6 شعبان المعظم 1433ھ (بمطابق 28 جون 2012ء) کو ہوا۔ آپ کی عمر تقریباً 88 برس تھی۔
* مزارِ اقدس: آپ کا مزارِ مبارک خانقاہ مخدوم اشرف، جائس شریف (رائے بریلی، انڈیا) میں مرجعِ خلائق ہے۔ 
 
آپ کا وصال6 شعبان المعظم 1433ھ، بمطابق 28,جون 2012ء کو ہوا، آپ کے جانشین اور صاحب زادے سید کلیم اشرف اشرفی نے آپ کا جنازہ پڑ ھایا، آپ کا مزار خانقاہ مخدوم اشرف جائس میں مر جع خلائق ہے
Web link 
https://sabirjahangirqalandar.blogspot.com/?m=1
Whatsapp Channel Link
https://whatsapp.com/channel/0029Vb7g3UA6xCSIoFiR9V45

زندہ ہے میرا نبی زندہ ہے علیہ السلام

سرکار مدینہ نبی پاک علیہ السلام کے موئے مبارک 

 


تو زندہ ہے واللہ تو زندہ ہے واللہ

میری چشم عالم سے چھپ جانے والے

چودہ سو سینتالیس سال گزر گئے   ھجری سالوں کو ھمارے پیارے آقا علیہ السلام نے گیارہ 11 ھجری میں پردہ فرمایا وصال فرمایا اللہ کی قدرت ہے سرکار مدینہ علیہ السلام کا بال بال مبارکہ جسم سے جداء ہونے کہ باوجود بھی زندہ اور حیات ہے دیکھو مسلمانوں کیسے اس موئے مبارک سے مزید بال مبارکہ کی شاخیں نکل رہی ہیں کہ میرے نبی کا رواں رواں حیات ہے جب بال مبارک کی یہ شان ہے تو حیات النبی علیہ السلام کا کیا عالم ہوگا ماشاء اللہ.ھمارے آقا علیہ السلام آج بھی اپنے ہر امتی پر نظر کرم فرماتے ہیں انکو انکی رنگ نسل قبیلے اور آباو اجداد کے ساتھ نام با نام جانتے ہیں اور جو غلامان مصطفے عاشقان سرکار مدینہ آپکی ذات مبارکہ پر درود و سلام پیش کرتے ہیں آپ انکا درود سلام خود سماعت فرماتے ہیں سبحان اللہ 

جو مردہ کہے تم کو مردہ ہے واللہ

تو زندہ ہے واللہ تو زندہ ہے واللہ میری چشم عالم سے س چھپ جانے والے

محمد عظیم شاہ یوسفی قادری چشتی فریدی صابری اشرفی 1447ھجری 2026


Whatsapp Channel Link

https://whatsapp.com/channel/0029Vb7g3UA6xCSIoFiR9V45

https://www.facebook.com/share/g/1H3XxpMgqn/




Tuesday, 5 May 2026

افضل اعمال میں ایک حج مبرور ہے

 

افضل اعمال میں ایک حج مبرور ہے

قرآن پاک کا ارشاد

اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌۚ-فَمَنْ فَرَضَ فِیْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَۙ-وَ لَا جِدَالَ فِی الْحَجِّؕ-وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْهُ اللّٰهُ ﳳ-وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى٘-وَ اتَّقُوْنِ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ(197) البقرہ 

حج چند معلوم مہینے ہیں تو جو اِن میں حج کی نیت کرے توحج میں نہ عورتوں کے سامنے صحبت کا تذکرہ ہو اورنہ کوئی گناہ ہو اور نہ کسی سے جھگڑاہو اور تم جو بھلائی کرو اللہ اسے جانتا ہے اورزادِ راہ ساتھ لے لو پس سب سے بہتر زادِ راہ یقیناپرہیزگاری ہے اور اے عقل والو!مجھ سے ڈرتے رہو۔

احادیث بخاری شریف 

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ :    سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ، قِيلَ : ثُمَّ مَاذَا ؟ ، قَالَ : جِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، قِيلَ : ثُمَّ مَاذَا ؟ ، قَالَ : حَجٌّ مَبْرُورٌ    .

نبی کریم ﷺ سے کسی نے پوچھا کہ کون سا کام بہتر ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا ۔ پوچھا گیا کہ پھر اس کے بعد ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ۔ پھر پوچھا گیا کہ پھر اس کے بعد ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ حج مبرور ۔ صحی بخاری حدیث نمبر 1519

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، أَخْبَرَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّهَا قَالَتْ :    يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَرَى الْجِهَادَ أَفْضَلَ الْعَمَلِ ، أَفَلَا نُجَاهِدُ ؟ ، قَالَ : لَا ، لَكِنَّ أَفْضَلَ الْجِهَادِ حَجٌّ مَبْرُورٌ    .

انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ ! ہم دیکھتے ہیں کہ جہاد سب نیک کاموں سے بڑھ کر ہے ۔ پھر ہم بھی کیوں نہ جہاد کریں ؟ آں حضور ﷺ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ سب سے افضل جہاد حج ہے جو مبرور ہو ۔ صحی بخاری شریف حدیث نمبر 1520

حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا سَيَّارٌ أَبُو الْحَكَمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ :    مَنْ حَجَّ لِلَّهِ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ    .

آپ نے فرمایا جس شخص نے اللہ کے لیے اس شان کے ساتھ حج کیا کہ نہ کوئی فحش بات ہوئی اور نہ کوئی گناہ تو وہ اس دن کی طرح واپس ہو گا جیسے اس کی ماں نے اسے جنا تھا ۔

صحی بخاری شریف حدیث نمبر 1521


محمد عظیم شاہ یوسفی قادری چشتی فریدی صابری اشرفی 1447 ھجری 2026

Web link 

https://sabirjahangirqalandar.blogspot.com/?m=1

Whatsapp Channel Link

https://whatsapp.com/channel/0029Vb7g3UA6xCSIoFiR9V45

Thursday, 23 April 2026

ہر مرض سے شفاء ضرور ملے گی


ہر مرض سے شفاء ضرور ملے گی

 کینسر ٹی بی ھیپاٹائیٹس شوگر بلڈ پریشر 

ہر وہ مرض جوسہی ہوکر نہ دےرہا ہو علاج بھی کر وا رہے ہوں مگر کوئی فائیدہ نہ ہوتا ہو بزرگان دین نے اس عمل کو  اپنے وظائف میں لکھا ہے کہ جو مرض بھی اللہ نے پیدا کیا اسکی دواء بھی پیدا فرمائی ہے جو یہ عملل کرے گا اللہ تعالی کی مرضی ہوئی تو وہ ایک ماہ میں ضرور شفاء پائے گا بزرگان دین فرماتے ہیں کہ یہ عمل انہوں نے ہزاروں لوگوں کو دیا اور تقریبا ہر انسان کو شفاء مل گئی قرآن میں انسانوں کہ لئے شفاء ہے و ننزل من القران ما ھو شفاء و رحمتہ للمؤمنین یہ عمل قران کی ایک آیت سے ہے وہ آیت ہے الا یعلم من خلق وھو اللطیف الخبیر بس ایک ٹائم بنالیں اور با وضو پہلے تین بار درود ابراھیمی اور یہ آیت بلا تعداد اخلاص و محبت سے پڑھتے جائیں پھر تین بار دورد پڑھیں اب بلا تعداد جتنی آپکی ھمت و طاقت ہو اتنی دیر پڑھیں اپنے مرض سے شفاء کو دل میں رکھئیں اور یہ مریض خود پڑھے لیٹ کر بیٹھکر جیسے آسانی ہو 

اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَؕ-وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۠ (14) سورہ الملک

آیت نمبر 14

محمد عظیم شاہ یوسفی قادری چشتی فریدی صابری اشرفی 1447ھجری 2026 








Saturday, 11 April 2026

گھر اچھے داموں میں فروخت ہو

 


گھر اچھے داموں میں فروخت ہو

جسکو اپنا کوئی دکان یا مکان اچھے داموں فروخت کرنی ہو اور سہی قیمت نہ ملتی ہو وہ سورہ یوسف کی آیت نمبر80کو گیارہ بار اول آخر تین بار درود ابراھیمی کے ساتھ اسی مکان اور دکان میں بیٹھکر پڑھا کرے بہت جلد اچھے داموں سودہ ہوگا

فَلَمَّا اسْتَایْــٴَـسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِیًّاؕ-قَالَ كَبِیْرُهُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنَّ اَبَاكُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَیْكُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَ مِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُّمْ فِیْ یُوْسُفَۚ-فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتّٰى یَاْذَنَ لِیْۤ اَبِیْۤ اَوْ یَحْكُمَ اللّٰهُ لِیْۚ-وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ(80)









مرگی کے مرض سے شفاء کا دم

 


مرگی کے مرض سے شفاء کا دم

یس والقران الحکیم بحق سلم قولا من رب رحیم

جسکو بھی مرگی کا مرض ہو کہ اچانک گر کر بے ہوش ہوجاتا ہو یہ دماغ کے دو کرنٹ ہوتے ہیں جو متوازی چلتے ہیں جب یہ ڈسٹرب ہوتے ہیں بار بار یہ مرض ظاھر ہوتا ہے
اور کبھی خاندانی اور کبھی آسیب و آثرات بد روحوں کی خلل کی وجہ سے ہوجاتا ہے یہ دم کرئیں مریض پر کم از کم چالیس دن پھر انتظار کرئیں اگر اس دوران آجائے تو دوبارہ چالیس دن کرئیں انشاء اللہ تیسرے چالیس دن سے پہلے ہی اللہ پاک شفاء عطا فرما دیں گے اگر کوئی بہت مصروف روٹین رکھتا ہو تو ایک بار ہی دن میں کرے دم بھی کرے اور اسی وقت ایک گلاس شیشے کا پانی سے بھر کر ساتھ رکھے اور اس پر بھی دم کرکہ پلادیا کرے اول آخر دورد شفاء گیارہ بار پڑھے . اس عمل میں کچھ صدقہ خیرات مریض کے طرف سے ضرور کرئیں اللہ بیماری اور بلاؤں کا ٹالے گا.
یس والقران الحکیم بحق سلم قولا من رب رحیم
391بار صبح شام ماتھے پر سیدھے الٹے کان میں پڑھکر دم کرئیں
یہ دم سوکھے کمزور بچوں لاغر اور کاکڑی بچوں جنکی ہڈیاں کمزور ہوں خون بدن میں نہ ہو پیلے پڑے ہوں ان سب کو بھی بہت فائدہ کرے گا یہ دم بچوں کے لئے بھی انکی بیماریوں میں کیا جاتا ہے.

محمد عظیم شاہ یوسفی قادری چشتی فریدی صابری اشرفی پاکستان کراچی 1447ھجری شوال المکرم 

Sunday, 5 April 2026

شجرہ سلسلہ عالیہ چشتیہ فریدیہ صابریہ

 



سلسلہ عالیہ چشتیہ فریدیہ صابریہ

  حضرت محمد مصطفی 
حضرت علی ابن ابی طالب (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) *حضرت خواجہ حسن بصری (رحمتہ اللہ علیہ)
 حضرت خواجہ عبدالواحد بن زید (رحمتہ اللہ علیہ)
حضرت خواجہ فضیل بن عیاض (رحمتہ اللہ علیہ)
حضرت سلطان ابراہیم بن ادہم بلخی (رحمتہ اللہ علیہ)
حضرت خواجہ سدید الدین حذیفہ المرعشی (رحمتہ اللہ علیہ)
حضرت خواجہ امین الدین ابی ہبیرہ البصری (رحمتہ اللہ علیہ)
حضرت خواجہ ممشاد علو دینوری (رحمتہ اللہ علیہ)
 حضرت خواجہ ابو اسحاق شامی چشتی (رحمتہ اللہ علیہ)
حضرت خواجہ ابو احمد ابدال چشتی (رحمتہ اللہ علیہ)
حضرت ابو محمد بن احمد زاہد چشتی (رحمتہ اللہ علیہ)
 حضرت خواجہ ناصر الدین ابو یوسف چشتی سرمدی (رحمتہ اللہ علیہ)
 حضرت خواجہ قطب الدین مودود چشتی (رحمتہ اللہ علیہ)
حضرت خواجہ مخدوم حاجی شریف زندنی (رحمتہ اللہ علیہ)
 حضرت خواجہ عثمان ہارونی (رحمتہ اللہ علیہ)
حضرت خواجہ معین الحق والدین حسن سنجری اجمیری چشتی غریب نواز (رحمتہ اللہ علیہ)
حضرت خواجہ قطب الحق والدین بختیار اوشی کاکی (رحمتہ اللہ علیہ)
حضرت خواجہ فرید الحق والدین مسعود العالمین گنج شکر (رحمتہ اللہ علیہ)
 حضرت مخدوم علاؤ الدین علی احمد صابر کلیری (رحمتہ اللہ علیہ)
حضرت شمس الدین ترک پانی پتی (رحمتہ اللہ علیہ)
حضرت خواجہ جلال الدین کبیر الاولیاء ثالث قلندر(رحمتہ اللہ علیہ)
حضرت خواجہ شاہ نور الحق احمد عبد الحق ردولوی (رحمتہ اللہ علیہ)
حضرت خواجہ شاہ محمد عارف ردولوی(رحمتہ اللہ علیہ)
 حضرت خواجہ شاہ محمد بن عارف (رحمتہ اللہ علیہ)
حضرت خواجہ شاہ عبد القدوس گنگوہی دستگیر بیکساں مجدد صابری (رحمتہ اللہ علیہ)
حضرت خواجہ شاہ جلال الدین تھانیسری صابری (رحمتہ اللہ علیہ)
حضرت نظام الدین بلخی صابری (رحمتہ اللہ علیہ)
 حضرت شیخ ابو سعید گنگوہی صابری (رحمتہ اللہ علیہ)
حضرت خواجہ محب اللہ الہ آبادی صابری (رحمتہ اللہ علیہ)
 حضرت خواجہ شاہ محمد فیاض صابری (رحمتہ اللہ علیہ)
 حضرت خواجہ شاہ محمد حامد المکی صابری(رحمتہ اللہ علیہ)
حضرت خواجہ شاہ عضد الدین صابری (رحمتہ اللہ علیہ)
 حضرت خواجہ شاہ عبد الہادی امروہی (رحمتہ اللہ علیہ)
حضرت خواجہ شاہ عبد الباری امروہی (رحمتہ اللہ علیہ)
 حضرت خواجہ شاہ عبد الرحیم شہید الولایتی صابری (رحمتہ اللہ علیہ)
حضرت خواجہ میاں جئوشاہ نور محمد جھنجھانوی صابری (رحمتہ اللہ علیہ)
حضرت خواجہ سید برکت علی شاہ صابری (رحمتہ اللہ علیہ)
 حضرت خواجہ سید کریم شاہ صابری (رحمتہ اللہ علیہ)
حضرت خواجہ غریب شاہ چشت صابری (رحمتہ اللہ علیہ)
 حضرت خواجہ سید محمد جہانگیر شاہ چشتی فریدی صابری قلندر کمبل پوش اجمیری (رحمتہ اللہ علیہ)
حضرت خواجہ سید غلام حسین شاہ صابری (حسنی حسینی) برقی جہانگیری قلندر کمبل پوش
حضرت خواجہ سید مقصود علی شاہ صابری جہانگیری قلندر کمبل پوش بورے میاں
حضرت خواجہ سید عبد الوہاب شاہ چشتی فریدی صابری جہانگیری قلندر کمبل پوش فقیر اللہ
حضرت خواجہ محمد عظیم شاہ یوسفی قادری چشتی فریدی صابری جہانگیری قلندر کمبل پوش (جلالِ قلندر) (باحیات)

محمد عظیم شاہ یوسفی قادری چشتی فریدی صابری اشرفی جہانگیری قلندر  عرف(جلالِ قلندر)




Whats´App Channel


  

https://whatsapp.com/channel/0029Vb7g3UA6xCSIoFiR9V45

اس لنک کو کاپی کرئیں اور واٹس ایپ کے چینل کے سرچ بار میں پیسٹ کرکہ انٹر کرئیں اور چینل کو فالو کرئیں جزاک اللہ

 ا 

Wednesday, 1 April 2026

درود مفتاح الجنتہ (جنت کی چابی)

 



درود مفتاح الجنتہ
یہ درود شریف سیدنا قطب الکبیر بدر الاساتذہ شیخ محمد البکری رحمتہ اللہ علیہ سے منسوب ہے آپ وہ ہستی اور بزرگ ہیں کہ جنکو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی کچہری محفل میں نبی پاک علیہ السلام کے حکم پر سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عمامی باندھا تھا اور ایک بار ظاھری طور پر محمد البکری رحمتہ اللہ علیہ کی ملاقات ریاض الجنہ مدینہ میں نبی پاک علیہ السلام سے ہوئی تھی آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جو مسلمان زندگی میں ایک بار بھی محبت سے یہ درود پڑھ لے اور پھر اگر قیامت میں اسکو دوزخ میں لے جانے کا حکم ہو تو وہ قیامت کے دن اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہونے کی اجازت مانگے اور وہاں مجھے طلب کرواکر میرا گریبان پکڑ لے کیونکہ جو مسلمان یہ درود پڑھ لیتا ہے وہ جہنم میں کبھی بھی نہیں جا سکتا.ایک بار آپکا ایک مرید جنگی حالات میں کہی غائب ہوگیا آپ کہ چاہنے والوں نے اس کے بارے میں پوچھا آپ مراقب ہوئے اور فرمایا کہ وہ زندہ ہے آجائے گا میں نے اسکو تمام جنتوں میں تلاش کیا وہ وہاں نہیں ہے کسی نے کہا کہ آپ نے دوزخ میں نہیں دیکھا تو آپ نے فرمایا میرا ہر مرید یہ درود پڑھتا ہے میرا کوئی مرید جہنم میں جاہی نہیں سکتا پھر چند دن بعد واقعی وہ مرید واپس گھر آگیا زندہ سلامت سیدی شیخ احمد بن زین دھلان مکی شافعی یہ حرم کعبہ کے امام رہے ہیں انہوں نے لکھا ہے کہ. سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی پیران پیر رحمتہ اللہ علیہ بھی اس درود مفتاح الجنتہ یعنی جنت کی چابی کے بہت مصبوط عامل تھے بہت سے عارفین نے اس درود شریف کے اسرار اور رموز بیان فرمائے اور یہ دلوں سے حجاب ظلمانی کو دور کردیتا ہے اور بہت بڑا نور کا خزانہ حاصل ہوتا ہے عارفین فرماتے ہیں اللہ تعالی عزوجل ہی اس کی راز نیاز کو بہتر جانتا ہے یہ درود مبتدی متوسط اور منتہی تینوں سالکین کہ لئے اپنے اندر راز و نیاز اور نور کے سمندر رکھتا ہے ہر ایک اپنا حصہ اس درود سے حاصل کرسکتا ہے پیران پیر کا اسکو ورد کرنا ہی اسکی عظمت اور شان کے لئے کافی ہے اور یہ درود آپ  کہ ورد میں رہا کرتا تھا.کم کھانا جسم کی سلامتی ہے گناھوں کو ترک کرنا روح کی سلامتی دورد شریف پڑھنا ایمان وقلب و روح و جسم کی سلامتی اور عروج امن کی ضمانت ہے اس درود شریف کو عام کرئیں تاکہ ہر مسلمان اس کے ورد کی برکت سے اللہ کی رحمت اور جنت کا حقدار بن سکے .
محمد عظیم شاہ یوسفی قادری چشتی فریدی صابری 
          ھجری1447   شوال المکرم 2026 مارچ 31

Tuesday, 24 March 2026

اللہ الصمد سے ہر دعا قبول ہوگی


اللہ الصمد سے ہر دعا قبول ہوگی

جسکو کوئی حاجت ہو کوئی مراد ہو کسی پریشانی میں گرفتار ہو کسی طرح کا مرض ہو جو جان نہ چھوڑتا ہو کسی پر قرض ہو اسکو ادا کرنے کہ اسباب نہ ہو جو لڑکے لڑکیاں ایجوکیشن کررہے ہوں اور پڑھائی میں کامیابی اور امتحانات میں اچھے نمبروں سے پاس ہونا چارہے ہوں میاں بیوی میں لڑئی جھگڑا ہو شوہر یا بیوی تنگ کرتی اور غصہ کرتی ہو  بچے نافرمانی کرتے ہوں کسی کو روزی میں تنگی ہو کسی نے جادو ٹونا کردیا ہو دشمن تنگ کرتے ہو لوگ بد عملیات کرتے ہوں دشمن ہر وقت نقصان پہچانے کی کوشش کرتے ہوں عرض کوئی بھی مسئلہ درپیش ہو روحانیت کا طالب ہو قرب رب عزوجل چاہتا ہو وہ اس طرح عمل کرنے کا معمول بنائے انشاء اللہ سورہ اخلاص کے اس اسماء اللہ الصمد کی طاقت سے کامیاب ہوگا عمل اس طرح کرنا ہے بعد نماز مغرب یا بعد نماز عشاء اور دشمنوں کے لیے بعد نماز ظہر اور روزی رزق مال دولت کہ لئے خصوصا بعد نماز فجر کیا کرے ورنہ کبھی بھی کرسکتا ہے یہ اوقات خصوصی ہیں جو بیان ہوئے ہیں با وضو حالت میں اولا ایک بار درود شریف پڑھے گیارہ بار اللہ الصمد پڑھے پھر ایک بار درود پڑھکر اپنی شہادت کی انگلی پر دم کرے اور جائے نماز کے گرد. اس انگلی سے ایک پورا گول دائرہ بنائے اور دائرے کے اندر ہی بیٹھکر گیارہ بار درود پھر تین سو تیرہ 313 بار پوری توجہ سے اللہ الصمد گن کر پڑھے اتنی آواز سے کہ کانوں کو آواز آتی رہے پھر گیارہ بار درود شریف پڑھے اور دعا کرے اور دائرے سے باہر آجائے اور جائے نماز اٹھا للے یہ عمل پورا ہوگیا اسی طرح ہر روز عمل جاری رکھے تا حصول کامیابی بہت جلد کامیاب ہوگا.

اسکا ایک بڑا خاص وقت بھی ہے وہ جمعہ کی نماز سے پہلے کا جلدی جمعہ کی نماز کی تیاری کرے اور گھر پر ہی دو رکعت نماز نفل حاجت کے ادا کرے اور اس میں دونوں رکعتوں میں سورہ اخلاص گیارہ گیارہ بار پڑھے اور پھر پورا عمل اسی طرح پہلے دائرہ بناکر کرے دعا مانگے اور پھر نماز جمعہ کو روانہ ہوجائے اور ہر جمعہ یہی عمل جاری رکھے بہت جلد مراد پوری ہوگی اور مشکلات اور پریشانیاں ختم ہو جائیں گی.اجازت عام ہے اللہ تعالی سب مسلمانوں کو اس عمل میں کامیاب کرے.آمین یا رب رحمن رحیم کریم .

محمد عظیم شاہ یوسفی قادری چشتی فریدی صابری 1447 ھجری 2026   مارچ 23  

 

Wednesday, 18 March 2026

سورہ فاتحہ کو بسم اللہ کہ ساتھ پڑھنے کی فضیلت

 



سورہ فاتحہ کو بسم اللہ کہ ساتھ پڑھنے کی فضیلت

قرآن پاک میں ایک سورت ہے جسکو ام القرآن بھی کہتے ہیں سورت شفاء کہتے ہیں جو کچھ پورے قرآن میں ہے آسکا پورا خلاصہ اور فیض اس ایک سورہ میں موجود ہے اور پوری سورہ فاتحہ کا فیض بسم اللہ میں اور اسکے با کے نقطے میں ہے نبی پاک علیہ السلام نے فرمایا اللہ تعالی نے اس آیات کو مطب سبع مثانی یعنی سات آیات والی سورت سورہ فاتحہ کو ہر بیماری سے شفاء مفلسی کے لئے دولت اور دوزخ سے پردہ زمین میں دھسنے سورتیں بگڑنے سنگ باری کے عذاب سے بچنے کا ذریعہ بنایا ہے جب تک لوگ اسکی تلاوت پر کاربند رہیں گے .

ہر طرح کی مشکل پریشانی آزمائش امتحان تکلیف سے نجات مل جاتی ہے زمینی آسمانی بلاوں سے حادثات سے حفاظت ہوتی رہتی ہے 

یہ سب فیض جب حاصل ہوتا ہے کہ بندے کو اس پر پورا یقین اور اعتقاد ہو 

حدیث قدسی میں ہے کہ نبی پاک علیہ السلام نے فرمایا کہ سیدنا جبریل علیہ السلام نے قسم کھاکر کہا کہا کہ حضرت میکائیل نے قسم کھاکر یہ بیان کیا کہ حضرت اسرافیل نے قسم کھاکر کہا کہ اللہ نے فرمایا ایک اسرافیل علیہ السلام میں اپنی عزت و جلال و کرم کی قسم اٹھا تا ہوں کہ جو شخص بھی سورہ فاتحہ کو بسم اللہ کے ساتھ ملاکر ایک بار بھی پڑھ لے تو تم گواہ رہو میں اسکی زبان کو نہیں جلاوں گا اسکو جہنم اور قبر کہ عذاب سے پناہ دونگا اور قیامت کے عذاب سے بچالونگا اس روایت کو علامہ اسمائیل حقی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب روح البیان میں نقل کیا ہے 

اور چشتیہ سلسلہ میں اسکی بہت ریاضت کی جاتی ہے اور خواجگان چشت اسکی تعلیم یوں بھی فرماتے ہیں کہ اسکو چالیس بار فجر کی نماز کے فرض اور سنت کہ درمیان پڑھا جائے بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العلمین بسم اللہ کی میم کو الحمد کی لام سے ملاکر پڑھیں گے ہر جاجت بیماری پریشانی مشکل میں بزرگ فرماتے ہیں اگر چالیس روز بلا ناغہ پڑھے تو اللہ اسکو اپنا ولی بنالیتا ہے .

Tuesday, 17 March 2026

فیضان مخدوم سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی کچھوچھوی رحمتہ اللہ علیہ


 
فیضان مخدوم سلطان  سید اشرف جہانگیر سمنانی کچھوچھوی  رحمتہ اللہ علیہ رحمتہ اللہ علیہ

کسی بھی قسم کا خوف دھشت ڈر ہو جنات سے دشمن سے کہ کسی گھر میں جنات بد روحوں  کا وجود ہو آپ وہاں چلے گئے ہوں کسی کے اندر جسم میں داخل ہوگیا ہو یا جادوگر اور عاملین کہ بھیجے گئے جنات بار بار آ کر تنگ کرتے ہوں بربادی کرتے ہوں معاملات خراب کرتے ہوں 

یا سید اشرف جہانگیر دس من ناتواں گیر
 سرورا شاہا کریمہ دستگیرا اشرفا
حرمت روح پیمبر یک نظر کن سوئے ما
اے اشرف زماں  زمانے  مدد  نما
درہاۓبستہ راز  کلید  کرم  کشاء
اشرف نہنگ دریا دریا بسینہ دارد
دشمن ھمیشہ پر غم با ذکر تو دوست دارد 
 مائیم در جہاں کہ مشکل کشاء توئی 
 من بیکس فقیرم  حاجت  روا توئی

شیخ محقق شیخ عبد الحق دہلوی اخبار الاخیار میں فرماتے ہیں جنوں کو بھگانے کہ لئے سیدنا اشرف جہانگیر سمنانی رحمتہ اللہ علیہ کا نام ہی کافی ہے آپکی شخصیت ہی ایسی تھی اور یہ آپکی زندہ کرامت سات آٹھ سو سال بعد آج بھی ہے جب اپکا نام لیا جائے تو جنات وہاں سے دوڑ جاتے پیں بھاگ جاتے ہیں

ان اشعار و جو کافی معروف و مشہور ہیں اکثر خاندان اشرفیہ کے بزرگان اسکی اجازت عنایت فرماتے ہیں سید محمد اشرف جیلانی فردوس کالونی کراچی نے بھی اسکی اجازت دی ہے اور جب لوگوں نے بروقت اس اشعار کے ذریعہ نام مخدوم پکارا تو وہ لوگ جنات کہ شر سے محفوظ ہوگئے.

ان اشعار کو یاد کر لیں اور جب بھی کسی جناتی شر میں گرفتار ہوجائیں فورا بلند آواز سے ان اشعار کو پڑھنا شروع کرئیں جنات اور خبیث ارواح کی مجال نہ ہوگی کہ وہ اس جگہ ٹہر سکے گی اور اگر سخت گیری کرے گی تو فیض و جلال اسم مخدم سے جلا دی جائے گی یہ ایک مکمل وظیفہ ہے اس سے جنات کو جلایا بھگایا جا سکتا ہے اگر کسی پر جنات سوار ہوں اور عامل ان اشعار کا ورد کرے وہ جنات حاضری بھرئیں گے اور معافی مانگ کر جائیں گے . بس پورا یقین کہ ساتھ اجازت سے پڑھے تو کرم بالائے کرم ہوگا. بطفیل نگاہ فیضان سید مخدوم نعیم اشرف اشرفی الجیلانی انڈیا جائس شریف .

محمد عظیم شاہ یوسفی قادری چشتی فریدی صابری اشرفی. 1447  ھجری رمضان ۲۸          2026

Saturday, 14 March 2026

امیر ترین کاروباری بن جانے کا راز


 
امیر ترین کاروباری بن جانے کا راز

 حضرت سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے تجارت کے صرف تین اصول تھے یہ صحابہ کرام میں سب سے زیادہ امیر ترین تھے دولت کے حوالے سے وہ اتنے امیر تھے کہ انکی وفات کے بعد انکے سونے کو کلہاڑیوں سے کاٹا گیا اور کاٹنے والوں کی انگلیاں تک زخمی ہوگئی وہ اصول کیا تھے اگر آج بھی ان پر کوئی عمل کرے گا وہ کاروبار میں کامیاب اور مال میں امیر ترین ہوجائے گا

 ھمیشہ پیسوں کا لین دین کیش پر کرو فورا کیش پیمنٹ  مال دو اور اسی وقت پیسے وصول کرو کبھی نہ ادھار میں مال خریدو نہ ادھار میں مال بیچو.

 تھوڑا سا بھی منافع ملے فورا مال کو فروخت کردو زیادہ منافع کی لالچ میں مال کو کبھی نہ روک کر اپنے پاس رکھو. اسکو بولتے ہیں کے منافع کی لالچ میں مال کو ہولڈ کرکہ کبھی نہ رکھو.

 اپنے کاروباری مال اسباب کے عیب  چھپا کر کبھی نہ بیچو  جیسا ہےاسی طرععح بتاکر فروخت کرو.

محمد عظیم شاہ یوسفی قادری چشتی فریدی صابری

    رمضان 1447 ھجری   

Thursday, 12 March 2026

لڑکے کی پیدائش کی خواھش پوری ہو

 

جس کو لڑکے کی پیدائش کی خواھش ہو 
وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَضْلًا كَبِیْرًا(47) 

 سورہ احزاب آیت نمبر 47 

حمل ہونے کے بعد اورایک دوماہ کے اندر اندر  بھی یہ عمل شروع کرسکتی ہے اس طرح کرے یہ آیت قران سے دیکھ لے اور سہی تلفظ اور مخارج کے ساتھ پڑھے سورہ احزاب آیت نمبر سینتالیس47

اس آیت مبارکہ کو اول آخر تین بار درود ناریہ کے ساتھ درود ناریہ عام طور پر درود کی کتابوں میں مشہور ہے اس آیت کو47 مرتبہ سات عدد لونگ پر دم کرئیں اس لونگ کے ساتھ اسکا دانہ بھی لگا ہوا ہو اچھی بڑی بڑی لونگ لیں ہر ایک لونگ پر یہ آیت 47 بار دم کرئیں عمل اس طرح شروع کرنا ہے کہ سب سے پہلے رات کو بعد نماز عشاء با وضو حالت میں قبلہ رو ہوکرجائے نماز پچھاکر دو رکعت نماز نفل حاجت پڑھے ہر رکعت میں بعد الحمد شریف کے سورہ کوثر پندرہ بار پڑھے پھر اس عمل کی قبولیت کی دعا کرے کہ یا اللہ یہ جو میں عمل کر رہی ہوں اسکی برکت سے مجھے اولاد نرینہ یعنی نیک لڑکا عطا فرما پھر یہ عمل کرئیں اور اس لونگ کو ہر رات ایک عدد دودھ میں جوش دیکر وہ دودھ نیم گرم کرکہ پی لیں وہ لونگ بھی چباکر کھالیں سات دن پورے ہونے پر جب سات لونگ ختم ہوجائیں  اسی رات دوبارہ سات لونگ پر دوبارہ وہ عمل تیار کرلیں پھر بالکل اسی طرح جس طرح پہلے عمل تیار کیا تھا نماز نفل اور دم کے سات اور اگلے سات دن پھر استعمال کرئیں اور پھر اگلے ساتویں رات کو پھر تیار کرلیں اور اگلے سات دن پھر استعمال کرئیں یہ کل اکیس دنوں کا عمل پورا ہوجائے گا . مطلب ہر روز ایک لونگ رات کو ایک کپ دودھ کے ساتھ ابال کر پینی ہے اور اکیس دن مکمل کرنے ہیں اور یہ عمل عورت کرے گی حمل ہونے کے بعد انشاء اللہ اللہ کے کرم سے نبی پاک اور پنچتن پاک کے صدقے علیھم السلام نیک سیرت لڑکا اللہ تعالی عطا فرمائے گا اور اس کے ساتھ ایک اور عمل بھی کرلے مرد جب اسکی بیوی کا حمل ہوجائے تو اپنا سیدھا ہاتھ بیوی کے پیٹ پر رکھ کر کہے کہ یا اللہ اس حمل سے ہونے والے لڑکے کا نام میں نے محمد رکھا تو قبول فرمالے انشاء اللہ اللہ اپنے فضل سے اولاد نرینہ عطا فرمائے گا آمین یا رب رحیم کریم.

پیر محمد عظیم شاہ یوسفی قادری چشتی فریدی صابری اجازت کے لئے 923122989983+ صرف  Whatsaap

Per sms kar kay ejazat len call nai karni

Wednesday, 28 January 2026

حضرت سیدنا خضر علیہ ازلسلام سے ملاقات کا طریقہ❤️


حضرت سیدنا خضر علیہ   السلام سے❤️
 ملاقات کا طریقہ❤️

جسکو یہ خواہش ہو کہ وہ سیدنا ابو العباس بلیا بن ملکان خضر علیہ السلام سے ملاقات کا شرف حاصل کرے بلکہ ان سے استفادہ ہو وہ یہ چند معمولات کی پابندی کرے تو بار بار ملاقات کا شرف اور دینی دنیاوی استفادہ ملے گا 
ایک تو وہ درود و سلام کی مشہور کتاب دلائل الخیرات کی پابندی کرے ہر روز ایک باب کی تلاوت کرے اور سیدنا خضر  علیہ السلام کی بارگاہ میں ھدیہ کرے دوسرے وہ درود خضری کی پابندی کرے صلی اللہ علی حبیبہ محمد و الہ وسلم یہ درود کثرت سے پڑھے اور خواجہ خضر علیہ السلام ک بارگاہ میں ھدیہ کرے اور تیسرے ہر روز بعد ظہر کی نماز کے عصر کی نماز کا وقت شروع ہونے سے پہلے پہلے دو رکعت نماز نفل ادا کرے اور پہلی رکعت میں بعد فاتحہ کہ قران مجید کی آخری دس آیات سے پہلی پانچ تلاوت کرے اور دوسری رکعت میں اسکے بعد والی پانچ مطلب پہلی رکعت میں سورہ الم ترکیف سورہ فیل سے  1. سورۃ الفیل، 2. سورۃ قریش، 3. سورۃ الماعون، 4. سورۃ الکوثر، 5. سورۃ الکافرون،❤️اور دوسری رکعت میں بعد فاتحہ 6۔سورہ نصر 7۔سورہ لھب تبت یدا 8۔سورہ اخلاص 9۔سورہ فلق م10۔سورہ ناس تلاوت کرے پھر سلام پھیر کر اسکا ثواب خواجہ خضر علیہ السلام کی بارگاہ میں ھدیہ کرے اور ملاقات اور فیض کی دعا کرے اور چھوتا سبوح قدوس رب ملائۃ والروح کو کم از چالیس بار ضرور ورد کرے
انشاء اللہ جو ان اعمال و وظآئف کا معمول بنائے گا ضرور سیدنا خضر علیہ السلام کرم فرمائیں گے ملاقات بھی فرمایا کرئیں کے اور فیض اور امداد بھی فرمائیں گے۔

1447ھجری شعبان  

محمد عظیم شاہ یوسفی قادری چشتی فریدی صابری کراچ پاکستان ۔رات 3 بجے

جنات کی ہم نشینی کے نقصانات

  شیخ اکبر نے فتوحات مکیہ میں جنات کی ہم نشینی کے نقصانات  بیان کیے ہیں۔ 1. روحانی مرتبے میں تنزلی جنات کی صحبت اختیار کرنے والا شخص اُن عار...