سورہ فاتحہ کو بسم اللہ کہ ساتھ پڑھنے کی فضیلت
قرآن پاک میں ایک سورت ہے جسکو ام القرآن بھی کہتے ہیں سورت شفاء کہتے ہیں جو کچھ پورے قرآن میں ہے آسکا پورا خلاصہ اور فیض اس ایک سورہ میں موجود ہے اور پوری سورہ فاتحہ کا فیض بسم اللہ میں اور اسکے با کے نقطے میں ہے نبی پاک علیہ السلام نے فرمایا اللہ تعالی نے اس آیات کو مطب سبع مثانی یعنی سات آیات والی سورت سورہ فاتحہ کو ہر بیماری سے شفاء مفلسی کے لئے دولت اور دوزخ سے پردہ زمین میں دھسنے سورتیں بگڑنے سنگ باری کے عذاب سے بچنے کا ذریعہ بنایا ہے جب تک لوگ اسکی تلاوت پر کاربند رہیں گے .
ہر طرح کی مشکل پریشانی آزمائش امتحان تکلیف سے نجات مل جاتی ہے زمینی آسمانی بلاوں سے حادثات سے حفاظت ہوتی رہتی ہے
یہ سب فیض جب حاصل ہوتا ہے کہ بندے کو اس پر پورا یقین اور اعتقاد ہو
حدیث قدسی میں ہے کہ نبی پاک علیہ السلام نے فرمایا کہ سیدنا جبریل علیہ السلام نے قسم کھاکر کہا کہا کہ حضرت میکائیل نے قسم کھاکر یہ بیان کیا کہ حضرت اسرافیل نے قسم کھاکر کہا کہ اللہ نے فرمایا ایک اسرافیل علیہ السلام میں اپنی عزت و جلال و کرم کی قسم اٹھا تا ہوں کہ جو شخص بھی سورہ فاتحہ کو بسم اللہ کے ساتھ ملاکر ایک بار بھی پڑھ لے تو تم گواہ رہو میں اسکی زبان کو نہیں جلاوں گا اسکو جہنم اور قبر کہ عذاب سے پناہ دونگا اور قیامت کے عذاب سے بچالونگا اس روایت کو علامہ اسمائیل حقی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب روح البیان میں نقل کیا ہے
اور چشتیہ سلسلہ میں اسکی بہت ریاضت کی جاتی ہے اور خواجگان چشت اسکی تعلیم یوں بھی فرماتے ہیں کہ اسکو چالیس بار فجر کی نماز کے فرض اور سنت کہ درمیان پڑھا جائے بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العلمین بسم اللہ کی میم کو الحمد کی لام سے ملاکر پڑھیں گے ہر جاجت بیماری پریشانی مشکل میں بزرگ فرماتے ہیں اگر چالیس روز بلا ناغہ پڑھے تو اللہ اسکو اپنا ولی بنالیتا ہے .


Comments