افضل اعمال میں ایک حج مبرور ہے قرآن پاک کا ارشاد اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌۚ-فَمَنْ فَرَضَ فِیْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَۙ-وَ لَا جِدَالَ فِی الْحَجِّؕ-وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْهُ اللّٰهُ ﳳ-وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى٘-وَ اتَّقُوْنِ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ(197) البقرہ حج چند معلوم مہینے ہیں تو جو اِن میں حج کی نیت کرے توحج میں نہ عورتوں کے سامنے صحبت کا تذکرہ ہو اورنہ کوئی گناہ ہو اور نہ کسی سے جھگڑاہو اور تم جو بھلائی کرو اللہ اسے جانتا ہے اورزادِ راہ ساتھ لے لو پس سب سے بہتر زادِ راہ یقیناپرہیزگاری ہے اور اے عقل والو!مجھ سے ڈرتے رہو۔ احادیث بخاری شریف حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ، قِيلَ : ثُمَّ مَاذَا ؟ ، قَا...
الحق الحق اللہ الحق سلوک کی حقیقت فناء ذات حق سلوک میں اصل فناء ہے ذات حق میں جو فنا ء ہوگیا وہی کامل ہے ولی کامل فقیر کامل ہے قلندر حق ہے _وہ کامل کہاں جو ہوا میں اڑ جاٸے یا اگلے زمانے کی خبر دے یا تیرے راز تجھ پر اشکار کردے جنکو مرنا نہیں آتا وہ تو مرجاتے ہیں اور جنکو مرنا آتا ہے وہ کبھی نہیں مرتے _ انسان کو دیدار حق صرف دوبار ہی ہوتا ہے جب اسکی انا( نفس) (میں) فناء ہوجاتی ہے اور جب وہ خود(جسم انسانی) (آگ ہوا مٹی پانی) پورے کا پورا فناء اور خاک ہوجاتا ہے اور پھر جب وہ خود پورا فناء ہوجاتا ہے تو وہ بقاء...