Thursday, 25 February 2021

AURA OF HUMENBEING



Aura

 برسوں  مادہ پرست سائنسدان انسان کے  باطنی تشخص کا یہ کہہ کر انکار کرتے  رہے  کہ انسان محض مادی جسم ہے  جس میں  کہیں  روح کی ضرورت نہیں اور آج سائنسدان خود انسانی باطن کو دریافت کر بیٹھے  ہیں اور انسان کے  اندر موجود اس پیچیدہ نظام کو دیکھ کر حیران ہیں۔ لہذا

۱۹۳۰ء  کی دہائی میں  روس میں  کر لین (Karlain)نامی الیکٹریشن نے  اتفاقی طور پر ایک ایسا کیمرہ ایجاد کیا جس نے  پہلی دفعہ انسان کے  باطنی وجود  "AURA"  کی تصویر کشی کر لی۔ اس (Karlain Photography) سے  اس لطیف وجود "AURA" کو باقاعدہ طور پر دیکھ لیا گیا۔ یہ مختلف رنگوں  پر مشتمل لہروں  کا ہالہ ایک ہیولے  کی طرح لطیف جسم تھا۔ یہ لطیف جسم بالکل انسان کے  مادی جسم سے  مشابہت رکھتا ہے۔ یہ جسمانی و ذہنی کیفیات کے  مطابق مختلف رنگ و ارتعاش منعکس کرتا ہے۔ یہ  لطیف جسم AURAانسانی جسم سے  چند انچ اوپر مادی جسم سے  متصل ہوتا ہے۔
انسانی جسم کے  تمام تر تقاضے  اسی روشنی کے  جسم میں  پیدا ہوتے  ہیں۔ خون کی طرح ہر انسان کا AURA   بھی مختلف ہوتا ہے۔
 سبٹل باڈیز SUBTLE BODIESAURA
"AURA"کے  اندر مزید سات اجسامSUBTLE BODIES   کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔ ہر سات اجسام کے  مختلف لیول اور سب لیول ہوتے  ہیں۔
چکراز  CHAKRAS         
چکراز  CHAKRAS  وہ پوائنٹس ہیں  جن سے  توانائی ہمارے  جسم میں  داخل اور خارج ہوتی ہے  یہ خلائی سطح  (ETHERIC LEVEL)  پر موجود ہوتے  ہیں۔ جسے  ہم دوہرا جسم بھی کہتے  ہیں  کیونکہ یہ بالکل ہمارے  مادی جسم کی شکل اختیا ر کر لیتے  ہیں۔ چکراز جب صحیح کام کر رہے  ہوں  تو پہیے  کی طرح گھومتے  رہتے  ہیں۔ سات  " 7 "  بنیادی چکراز ہیں  جو کہ جسم کے  اگلے اور پچھلے  حصے  میں  موجود ہوتے  ہیں اور اندر کی طرف مڑ رہے  ہوتے  ہیں۔ اس کے  علاوہ AURA  میں  مزید چکراز ہوتے  ہیں  جو کہ جسم سے  زیادہ فاصلے  پر ہوتے  ہیں۔
AURA  کی دریافت تو آج  ۱۹۳۰ء  میں  ہوئی ہے  لیکن تمام ادوار میں  انسان کے  اس باطنی تشخص کا تذکرہ ہوتا آیا ہے  بلکہ AURA   سے  متعلق ماضی کی معلومات  آج کی جدید تحقیقات کے  مقابلے  میں  زیادہ مستند معلومات ہیں مثلاً
قدیم ادوار میں   یونانی، رومی، ہندو اور عیسائی اقوام میں  ان کی مذہبی شخصیات کی تصاویر اور مجسموں  میں  ان کا ہیولا دکھایا جاتا تھا جسے  انگریزی میں  ہالو HALO اور قدیم یونانی اور لاطینی زبان میں  اوراAURA  اور ایرولا AUREOLA  کہا جاتا تھا۔ اور آج اسی ماضی کی مناسبت سے  ہی نئے  دریافت شدہ لطیف جسم کا نام AURA   رکھا گیا ہے۔  افلاطون کی تحریروں  میں  بھی موت کے  واقعات میں   AURA کا تذکرہ موجود ہے  ارسطو نے  اسے  روح حیوانی کہا جب کہ ہزاروں  سال پہلے  کے  فراعنہ مصر  AURA کو  بع کہتے  تھے۔  تبتی  لاما  ہوا میں  اڑنے اور اپنے   AURA کو جسم سے  الگ کرنے  کی صلاحیت بھی رکھتے  تھے۔ جب کہ مسلمان، یہودیوں، عیسائیوں، ہندوؤں  میں  ایسے  روحانی ماہرین پائے  جاتے  تھے  جو نہ صرف اپنے   AURA کو جسم سے  الگ کر لیتے  تھے  بلکہ اس سے  کام بھی لیتے  تھے  ہوا میں  اڑتے  پلک جھپکتے  میں  ہزاروں  میل کے  فاصلے  طے  کر لیتے اور بہت سے  روحانی کرتب دکھاتے  تھے۔
مسلمانوں  کی تحریروں میں  بھی جا بجا  AURA  کا تذکرہ اور اس کی خصوصیات کا ذکر ملتا ہے۔ یہ تذکرے  آج کی تحقیقات سے  سو فیصد مماثلت رکھتے  ہیں۔ مسلمانوں  نے   AURA  کو دیگر ناموں  سے  پکارا ہے۔ مثلاً  نسمہ، جسم مثالی، روح حیوانی، روح ہوائی، روح یقظہ وغیرہ وغیرہ۔
قدیم چینیوں  میں  بھی  AURA کا تصور پایا جاتا تھا وہ اسے   P.O کہتے  تھے۔ جب کہ یہودیوں  کے  کام میں  اسے Nefesh   کہا گیا ہے۔
اگرچہ  AURA  کا تذکرہ ہزاروں  برس سے  ہو رہا تھا لیکن عرصہ دراز تک مادی سائنسدان انسان کے  باطن کو غیر مرئی اور غیر اہم کہہ کر جھٹلاتے  آ رہے  تھے  پھر کچھ روحانی کرتبوں  سے  متاثر ہو کر کچھ سائنسدان اسے  الیکٹرومیگنیٹک فیلڈ (E.M.F) ہیومن انرجی فیلڈ اور بائیو انرجی کے  نام سے  شناخت کرنے  لگے اور بلآخر سائنسدانوں  نے   ۱۹۳۰ء  میں  اس کی تصویر کشی بھی کر لی۔
آج  AURA  پر تحقیق و تحریر کے  در  وا  ہیں  مغربی ممالک میں  اس پر لیبارٹریز میں  کام ہو رہا ہے  کتابیں  لکھی جا رہی ہیں۔ بلکہ وہ لوگ تو اس  AURA  کو کام میں  لے  کر جاسوسی کا کام بھی لے  رہے  ہیں اور اس کے  ذریعے  مریخ تک جا پہنچے۔  مثلاً
امریکہ کا  CIA کا خفیہ جاسوسی کا ادارہ (Sun Strcak/Stragate)  روحانی صلاحیتوں  کے  مالک جاسوسوں  کو جدید سائنسی طریقوں  سے  روحانی تربیت دے  کر روحانی سراغ رسانی کا کام لیتا ہے۔ اور یہ روحانی تربیت یافتہ افراد روحانی وجود  AURA  کو استعمال میں  لا کر دشمن کے  خفیہ منصوبوں  کا گھر بیٹھے  سراغ لگاتے  ہیں۔ درحقیقت یہ دشمن کے  ہتھیاروں  کو گھر بیٹھے  ناکارہ بناسکتے  ہیں۔ یہ حکمرانوں  کے  دماغوں  کو گھر بیٹھے  کنٹرول کر سکتے  ہیں۔ یہ گھر بیٹھے  اپنے  دشمن کو شکست دے  سکتے  ہیں۔

آج دنیا بھر میں  انسان کے  باطنی رخ پر نہ صرف روحانی بلکہ سائنسی تجربات ہو رہے  ہیں اور سائنسدان ایٹم کی طرح انسان کے  اندر جھانک کر اس وسیع و عریض دنیا کو حیرت سے  دیکھ رہے  ہیں۔ لیکن ابھی سمجھ نہیں  پا رہے۔ اسی وجہ سے  چکراز اور  آواگون   (Reincarnation)میں  مماثلت تلاش کر رہے  ہیں۔ حالانکہ ان دونوں  میں  کوئی مماثلت نہیں۔ جب کہ کچھ لوگ AURA یا لطیف اجسام کو روح یا روح کا حصہ بھی کہتے  ہیں
یہ  AURA  کیا ہے ؟  مادی جسم سے  اس کا کیا اور کیسا ربط ہے ؟  یہ سوالات جوں  کے  توں  حل طلب ہیں۔ جب کہ اس کتاب میں  نئے  نظریات کے  ذریعے  ہم نے  ان تمام سوالوں  کے  تفصیلاً جواب دے  دیئے  ہیں۔ لہذا یہاں  اس
۱۔ AURAکی اصل شناخت قائم کی ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے
۲۔ AURAنفس ہے۔ AURA کا اصل نام نفس ہے۔
جب کہ آج جدید محقق AURA اور نفس پر الگ الگ  حیثیتوں  میں  کام کر رہے  ہیں۔ نفس پر اس کی مفروضہ حیثیت میں  کام ہو رہا ہے  جب کہ AURA پر شناخت کے  بغیر انفرادی تحقیقی کام ہو رہا ہے۔ اور علمی میدان میں  اتنی بڑی بڑی اور واشگاف غلطیاں  کی جا رہی ہیں  جس کی وجہ لا علمی ہے  پختہ تحقیق کی ضرورت ہے  ہر علمی موضوع کو۔ اور اس بات کو سمجھنے  کی کوشش کیجیے  کہ ہر وجود کا اپنا منفرد نام اور منفرد شناخت ہے۔ اور یہ روح یا نفس جیسے  نام مذہبی نام ہیں۔ ماضی میں  ہر قوم نے  ان ناموں  کو اپنی زبان میں  ادا کیا جس کے  نتیجے  میں  روح و نفس و جسم کی ایسی الجھن پیدا ہوئی جو آج تک نہیں  سلجھی اور انسان ایک معمہ بن کر رہ گیا تھا۔
اس کتاب میں  برسوں  کی مسلسل تحقیق و غور و فکر کے  بعد میں  نے  یہ صدیوں  کے  مسائل حل کئے  ہیں   روح و نفس کی انفرادی شناخت قائم کی ہے۔ لہذا اب ان  صدیوں  کی غلطیوں  کو درست فرما لیں اور نوٹ کر لیں کہ
۲۔ AURAنفس ہے۔ AURA کا اصل نام نفس ہے۔
۳۔ لہذا نفس کی دیگر مفروضہ تعریفیں  درست نہیں، نفس کوئی مفروضہ خواہش نہیں  بلکہ ایک لطیف جسم ہے  جسے  آج AURAکا نام دے  دیا گیا ہے۔
۴۔ لہذا یہاں  یہ بھی ثابت ہو گیا کہ AURAروح نہیں  ہے  بلکہ جسم ہے ، نفس کا جسم
۵۔ AURAروشنی کا جسم ہے۔
۶۔ AURAجسمانی حرکت و عمل کا سبب ہے  یہ جسم کا فیول ہے۔
۷۔ AURAاگرچہ جسمانی حر کت و عمل کا سبب ہے اور اس کی غیر موجودگی سے  جسم حر کت و عمل سے  محروم ہو جاتا ہے  لیکن اس کے  با وجود
AURAجسم کی زندگی نہیں  ہے  جیسا کہ عموماً تصور کیا جاتا ہے۔ AURAکی غیر موجودگی سے  جسم موت کا شکار نہیں  ہوتا۔
جسم کی زندگی و موت کا سبب روح ہے۔ جو نفس سے  منفرد شے  ہے
۸۔ AURAانسان کے  وسیع و عریض باطن کا ایک جز ایک جسم ہے۔ لیکن یہ مادی جسم کی طرح باطن کا بنیادی جسم ہے  اگرچہ باطن کے  دیگر اجسام بھی نفس ہیں  AURA نفس کا ایک جسم ہے  لیکن یہی بنیادی نفس بھی ہے۔ یعنی نفس کے  اس جسم کا نام بھی نفس ہی ہے۔ قصہ مختصر
AURA دراصل نفس ہے۔



سورہ قریش کی فضیلت

 


تمہیں سورۂ قریش کا ایک ایسا کمال بتاؤں جوزندگی میں

 تمہیں کہیں نہیں ملا تھا وہ یہ ہےکہ اگر چاہتے ہو کہ ساری کائنات کے خزانے جو زمین کے نیچے دفن ہیں اوروہ اللہ کے علم میں ہیں اور اللہ ہی جانتا ہے تو پھر سورۂ قریش کو اپنی زندگی کا ایسا ساتھی بنائیں جو کبھی جدا نہ ہو۔۔۔ سفر ہو‘ زندگی ہو‘ موت کا آخری وقت ہو‘ کھانا ہو ‘پینا ہو‘ اولاد ہو‘ گھر ہو‘ جھونپڑی ہو‘ محل ہو۔۔۔ 


خاص وقت کا خاص عمل اور نسلیں کامیاب: اگر کوئی شخص سورۂ قریش کو اس وقت پڑھے جس وقت میاں بیوی کے ملنے کا وقت ہوتا ہے یعنی اس سے پہلے جب انسان اپنے لباس سے جدا نہ ہو اور صرف تین بار‘سات بار یا گیارہ بار پڑھ لے اس سے جو بھی اولاد پیدا ہوگی‘ وہ اولاد کبھی ننگی نہیں ہوگی اللہ ان کو 

اچھا لباس دے گا‘کبھی بھوک نہیں ہوگی یعنی ان کو اللہ پاک بہترین کھانے دے گا کبھی خوفزدہ نہ ہوگی نہ غم سے نہ دشمن سے نہ کسی درندے سےنہ کسی جادو سے اور نہ ہی کسی مشکل سے اور ان کو بھوک کا خوف‘ غم کاخوف‘ چھننے کا خوف‘ لٹنے کا خوف‘ مشکلات کا خوف‘ پریشانیوں کا خوف اور مسائل کا خوف ان کو نہیں ہوگا اور زندگی ان کی آسودہ گزرے گی۔رزق ‘برکت لائی اور تنگدستی گئی۔۔


  میرے رزق میں برکت’ میرے مسائل حل مجھے زندگی میں ترقیاں ملیں‘ حالات سنورے‘ زندگی سنوری میں نے غربت تنگدستی سے اپنے آپ کو نکلتے ہوئے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا۔۔۔ میں نہیں نکل سکتا تھا‘ بہت کوشش کی لیکن نہیں نکل سکا اور اب ایسا نکلا کہ آج لوگ مجھے مالدار کہتےہیں۔۔۔ کوئی مجھے تنگدست نہیں کہتا‘ کوئی فقیر نہیں کہتا اور میں اپنی زندگی میں اسی تنگدستی اورفقیری سے نکلا ہوں اور ایسا نکلا ہوں کہ میں آگے سے آگے بڑھا۔۔۔ حالات نے مجھے بہتر سےبہتر بنا دیا۔  کہ سورۂ قریش کو جب چودھویں رات کاچاند ہو اور موسم گرما کا ہواور صحن میں سورہےہوں تو چاند کو دیکھتے ہوئے یہ سورۂ پڑھتے رہیں۔۔۔ پڑھتے رہیں۔۔۔ پڑھتے رہیں۔۔۔ اور اپنی چار مرادوں کو دل میں لے کر پڑھتے رہیں۔۔۔ مراد نمبر ایک: فاقہ ،تنگدستی ،غربت، معاشی مسائل،کاروباری مسائل، روزگار کے مسائل، تنگدستی کے مسائل۔ مراد نمبر دو: خوف کسی انسان سے‘ کسی جانور سے اور کسی جن سے یا لٹنے کا خوف‘ گمراہ ہونے کا خوف‘ فتنوں کا خوف‘ مشکلات کا خوف‘ پریشانیوں کا خوف‘ زندگی کی ناکامیوں کا خوف۔۔۔ تیسری مراد : آپ کو کہیں سے امن چاہیے اور اپنے آپ کو ہر حال میں تنگدست اور بے حال محسوس کرتے ہیں اور آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ زندگی کے اس گوشے میں پہنچے جہاں کوئی آپ کا ساتھی اور مدد گار نہیں اور آپ کو کوئی حاصل کرنے والا اور ساتھ دینا والا نہیں اورآپ سمجھتے ہیں کہ آپ تنہا ہوگئے ہیں۔۔۔ چوتھی مراد: آپ گناہوں کی گمراہی میں اور زندگی کی ذلتوں میںیا پھر بد سے بدتر زندگی میں آپ چلے گئے ہیں اور ولایت چاہتے ہیں‘ فقیری چاہتےہیں‘تعلق چاہتے ہیں‘ نسبت احسان چاہتے ہیں آپ رات کی تنہائیوں میں آنسو چاہتے ہیں۔۔۔ دعا کا لفظ چاہتے ہیں۔۔۔ دعا کا اہتمام چاہتےہیں۔۔۔ دعا کی طاقت چاہتے ہیں اور دعا کی تاثیر چاہتے ہیں بس۔۔۔ میرا گھر‘ میرا تن‘ میرا من بے روشن:سورۂ قریش بلاتعداد چاند کو دیکھتے ہوئے پڑھیں اور بس ایک تصور ضرور کریں کہ مولا چاند کچھ نہیں‘ مخلوق ہے ۔۔۔تو خالق ہے اور تو نے اس چاند میں روشنی ڈالی۔۔۔ مولا !میرا گھربے روشن۔۔۔ میرا تن بےروشن۔۔۔ میرا من بے روشن۔۔۔ میری زندگی میں اندھیرا‘ میری راہوں میں اندھیرا‘ میری آنکھوں میں اندھیرا۔۔۔ میری نسلوں میں اندھیرا۔۔۔ مجھےغربت کا اندھیرا۔۔۔ مجھے تنگدستی کا اندھیرا۔۔۔ مجھے گناہوں کا اندھیرا۔۔۔ مشکلات کا اندھیرا۔۔۔ خوف کا اندھیرا۔۔۔ ذلتوں کا اندھیرا۔۔۔ ظلمتوں کا اندھیرا۔۔۔ ناکامیوں کا اندھیرا۔ میرے اوپر چھا گیا ہے تو جس طرح اپنی تجلی سے چاند کو روشن کرتا ہے اس سورۃ کی برکت سے اپنی تجلی بھیج اور میرا سب کچھ روشن کردے اور مجھے روشنی دے دے ۔ عمل کا طریقہ:ہر چاند کی بارہ، تیرہ اور چودہ کو اگر یہ عمل کرتے رہیں تین دن کریں یا ہر چاند جب بھی روشن ہو دس دن کریں یا کم از کم چودھویں کی چاند کی رات کو کریں اور یہ باتیں کرتے کرتے سوجائیں اور اگر آپ چاند کو نہیں دیکھ پاتے آپ کے پاس وہ ماحول نہیں کہ جس میں چھت یا صحن میسر ہو لیکن چودھویں کا چاند ہے اور تاریخ چودھویں کی ہے تو پھر تصور تصور میں یہ عمل کرتے کرتے لیٹ جائیں چاہےچاند نظر نہ بھی آئے لیکن یہی تصور ہو اور یہی عمل آپ کرتے چلے جائیں۔ اپنی نسلوں میں یہ عمل ضرور سکھانا: اپنی نسلوں میں یہ عمل ضرور سکھانا  کیونکہ آپ تو پاگئے اگر نسلیں نہ پائیں تو پھر آپ بھی پاکر آخر کتنا پائیں گے۔۔۔ نسلیں آپ کی شادو آباد ہوجائیں گی اور اس کو اگر زندگی بھر کا معمول بنالیں تو آپ پر وہ خیروبرکت کی ر اہیں کھلیںگی اور آپ پروہ رحمت کی اور برکت کے راستے کھلیں گے جنہیں آپ نے کبھی سوچا اور پایا نہ ہوگا۔ 


دل کی سیاہی مٹانے کا لاجواب عمل


: اس کاپی میں لکھا تھا دل کے اوپر ایک نقطہ ہوتا ہے جو گناہ سے آتا ہے اور گناہ بڑھتے بڑھتے نقطے بڑھتے چلے جاتےہیں ان نقطوں کو مٹانے کیلئے سورۂ قریش کے اوپر جتنے نقطے ہیں یعنی اس کےلفظوں پر جتنے نقطے ہیں اتنی بار دل کے نقطوں کو مٹانے کیلئے روزانہ کسی بھی وقت سورۂ قریش پڑھیں لیں کہ جتنے نقطےاتنی بار سورۂ قریش‘ آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے دل پر کتنے کالے نقطے ہیں بس سورۂ قریش کے نقطوں کے بقدر جتنے اس پر نقطے ہیں اتنی تعداد میں سورۂ قریش پڑھیں اور پڑھتے چلے جائیں آپ سوچ نہیں سکتے کہ آپ کا دل کتنا زیادہ مالا مال ہوگا‘ صحت مند ہوگا اور برباد دل کیسے آباد ہوگااور آپ کے دل کو کیسے صحت‘ تندرستی‘ راحت‘ رحمت‘ برکت‘ شفاء‘ دل کی بیماریاں دور اور دل کی روحانی بیماریاں خطرناک بالکل ختم ہوجائیں گی

جنات کی ہم نشینی کے نقصانات

  شیخ اکبر نے فتوحات مکیہ میں جنات کی ہم نشینی کے نقصانات  بیان کیے ہیں۔ 1. روحانی مرتبے میں تنزلی جنات کی صحبت اختیار کرنے والا شخص اُن عار...