Monday, 20 October 2025

اللہ کے ذکر کے فضائل

 


اللہ کا ذکر کرنے کے فضائل

القرآن الکریم
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِیْرًا(41)
ترجمہ: کنزالعرفان  سورہ احزاب 41 آیت
اے ایمان والو! اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو۔
الحدیث
1 حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’کسی شخص کاکوئی عمل ایسانہیں  جو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے زیادہ (اس کے حق میں ) اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دِلانے والاہو۔ لوگوں  نے عرض کی: کیااللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں  جہاد بھی نہیں ؟ ارشادفرمایا: اللہ تعالیٰ کی راہ میں  جہاد بھی ذکر کے مقابلے میں زیادہ نجات کا باعث نہیں  مگر یہ کہ مجاہد اپنی تلوارسے (خدا کے دشمنوں  پر) اس قدر وار کرے کہ تلوار ٹوٹ جائے۔
2 حضرت ابو درداء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’کیا میں  تمہیں  ایسے بہترین اعمال نہ بتادوں  جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت ستھرے اور تمہارے درجے بہت بلند کرنے والے اور تمہارے لیے سونا چاندی خیرات کرنے سے بہتر ہوں  اور تمہارے لیے اس سے بھی بہتر ہو کہ تم دشمن سے جہاد کرکے ان کی گردنیں  مارو اور وہ تمہیں  شہید کریں  ؟صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے عرض کی:جی ہاں ۔ارشاد فرمایا: ’’وہ عمل اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا ہے۔
3 حضرت معاذ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں  کہ ایک آدمی نے حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے دریافت کیا:مجاہدین میں  سے کون اجرو ثواب میں  سب سے بڑھ کرہے ؟ارشادفرمایا’’ان میں  سے جو سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کویادکرنے والا ہے۔اس نے عرض کی :روزہ رکھنے والوں  میں  سے کس کا اجر سب سے زیادہ ہے ؟ارشاد فرمایا’’ان میں  سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت کے ساتھ کرنے والوں  کا۔پھر وہ نماز پڑھنے والوں ،زکوٰۃ دینے والوں ،حج کرنے والوں  اور صدقہ دینے والوں  کے بارے میں  پوچھتے رہے  تو  رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ یہی ارشادفرماتے رہے کہ ان میں سے اللہ تعالیٰ کوزیادہ یادکرنے والے کا اجر سب سے زیادہ ہے۔ تو حضرت ابوبکرصدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضرت عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے کہااے ابوحفص!اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے والے سب بھلائی لے گئے۔ رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ہاں  (وہ بھلائی لے گئے
اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کی40 برکات
  (1)اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا اس کی رضاحاصل کرنے کا ذریعہ ہے ۔(2)اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ کا قرب نصیب ہوتا ہے۔(3)معرفت ِالٰہی کے دروازے کھلتے ہیں ۔(4)ذکر کرنے والے کو اللہ تعالیٰ یاد فرماتا ہے۔ (5)یہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دلاتا ہے۔(6) بندے اور جہنم کے درمیان آڑ ہے۔(7)ذکر کرنے والاقیامت کے دن کی حسرت سے محفوظ ہوجاتا ہے۔(8)یہ خود بھی سعادت مند ہوتا ہے اور ا س کے ساتھ بیٹھنے والا بھی سعادت سے سرفراز ہوتا ہے۔(9)کثرت سے ذکر کرنا بدبختی سے امان ہے۔(10)کثرت سے ذکر کرنے والے بندے کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  افضل اور اَرفع درجہ نصیب ہو گا۔(11)سکینہ نازل ہونے اور رحمت چھا جانے کا سبب ہے۔(12) گناہوں  اور خطاؤں  کو مٹاتا ہے۔(13)اللہ تعالیٰ کے ذکر کی برکت سے بندے کا نفس شیطان سے محفوظ رہتا اور شیطان اس سے دور بھاگتا ہے ۔(14)غیبت،چغلی،جھوٹ اور فحش کلامی سے زبان محفوظ رہتی ہے۔ (15)ذِکرُ اللہ پر مشتمل کلام بندے کے حق میں  مفید ہے۔(16)ذکر دنیا میں  ،قبر میں  اور حشر میں  ذکر کرنے والے کے لئے نور ہو گا۔ (17)یہ دل سے غم اور حزن کو زائل کر دیتا ہے۔(18)دل کے لئے فرحت اور سُرُور کا باعث ہے۔ (19)دل کی حیات کا سبب ہے۔(20)دل اور بدن کو مضبوط کرتا ہے۔ (21)چہرے اور دل کو منور کرتا ہے۔ (22)دل اور روح کی غذا ہے ۔(23)دل کا زنگ دور کرتاہے۔(24)دل کی سختی ختم کردیتا ہے۔(25)بیمار دلوں  کے لئے شفا کا باعث ہے۔(26)ذکر کرنے والا زندہ کی طرح ہے اور نہ کرنے والا مردہ کی طرح ہے۔(27)ذکر آسان اور افضل عبادت ہے۔(28)ذکر کرنے سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر مدد ملتی ہے۔(29)مشکلات آسان ہوتی اور تنگیاں  دور ہوتی ہیں۔(30)فرشتے ذکر کرنے والے کیلئے مغفرت طلب کرتے ہیں ۔(31)ذکر کی مجلسیں  فرشتوں  کی مجلسیں  ہیں ۔
(30)فرشتے ذکر کرنے والے کیلئے مغفرت طلب کرتے ہیں ۔(31)ذکر کی مجلسیں  فرشتوں  کی مجلسیں  ہیں ۔ (32)اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کے سامنے ذکر کرنے والوں  کے ذریعے مباہات فرماتا ہے۔ (33)کثرت سے ذکر کرنے والا منافق نہیں  ہو سکتا۔(34)بندوں  کے دل سے مخلوق کا خوف نکال دیتا ہے۔ (35)ذکر شکر کی بنیاد ہے۔ (36)ذکر کرنارزق ملنے کا سبب ہے۔(37)ذکر میں  مشغول رہنے والا مانگنے والوں  سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی عطا پاتا ہے۔ (38)کثرت سے ذکر کرنا فلاح و کامیابی کا سبب ہے۔(39)ہمیشہ ذکر کرنے والا جنت میں  داخل ہو گا۔ (40)ذکر کے حلقے دنیا میں  جنت کے باغات ہیں ۔
طالب دعا (( پیر محمد عظیم شاہ یوسفی قادری چشتی فریدی صابری اشرفی 1447 ھجری 2025


Saturday, 14 June 2025

مرشد کے آداب مرید کہ لئے



مرشد کے آداب

* سلسلہ عالیہ  قادریہ چشتیہ فریدیہ صابریہ جہانگیریہ میں مرشدکے آداب*:

گر شیخ کھڑے ہوں تو مرید بھی کھڑے ہو جائیں اور ان کے بیٹھنے کے بعد بیٹھیں۔

مرید کو چاہیے شیخ کے سائے پر ہر گز قدم نہ رکھے۔

مرید کو اگرشیخ کی کوئ بات سمجھ نہ آئے تو بدگمانی نہ کرے بلکہ حضرت موسٰی علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کا واقعہ یاد کرے۔

شیخ کی صحبت میں تمام وظائف اور نوافل چھوڑ دے اور انہیں کے بتائے ہوئے اذکار کرے۔

شیخ کی باتیں عام لوگوں کو نہ بتائے۔کیونکہ بعض باتیں عوام کی سمجھ سے بالاتر ہوتی ہیں۔

اپنے احوالِ باطنی شیخ کو بتائے۔

مرشد کی اولاد اور رشتہ داروں سے بھی محبت کرے۔ان کے دشمنوں کو اپنا دشمن سمجھے۔

مرشد کے ساتھ کسی معاملے میں بحث نہ کرے۔

اگر شیخ کے متعلق کوئ وسوسہ آۓ توادب کے دائرے میں رہ کر شیخ سے اپنی اصلاح کروائے اور وسوسہ دور کرے۔

تمام تر خواب شیخ کی خدمت میں عرض کرے۔

شیخ کی سختی اور ڈانٹ سے بدگمان نہ ہو۔

جس طرف شیخ بیٹھے ہوں اس طرف پاؤں نہ پھیلائے۔

بلا اجازت ان کے سامنے کھانا نہ کھائے۔

شیخ کی نشست پر نہ بیٹھے۔

شیخ کےکسی معاملے میں مداخلت نہ کرے۔جب مشورہ طلب کیا جائےتب مشورہ دے۔

جتنی ہو سکے شیخ کی مالی خدمت کرے۔

شیخ کی طرف پیٹھ نہ کرے۔

شیخ کے مصلے پر ہر گز پاؤں نہ رکھے۔

شیخ کے روبرو اور پسِ پشت یکسوئی سے رہے۔

اگر کوئ مرتبہ عطا ہو تو اسے مرشد کی توجہات کا صلہ سمجھے۔

شیخ سے ہر گز خود سبق طلب نہ کرے۔

 شیخ کے ہر حکم کو فوراً بجا لائے۔

اگر کوئ سوال ہو تو الفاظ کا چناؤ احتیاط سے کرے۔

ابوالبرق محمد عظیم شاہ یوسفی 

قادری چشتی فریدی صابری جہانگیری اشرفی(جلال قلندر کراچی


Thursday, 13 February 2025

شعبان کی 15 ویں رات اور وسعت رزق



شب برآت کا رزق کی وسعت کا عمل

شب برآت کی رات کو یہ عمل کرلیں انشاء اللہ روزی رزق میں اللہ تعالی بے پناہ اضافہ عطا فرمائے گا
پہلے پاک صاف جگہ بیٹھ کر با وضو حالت میں اول درود ابراھیمی تین بار پڑھئیں اور پھر بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھے اور سورہ اخلاص پڑھے اور جب اللہ الصمد پڑھے تو اسکو 47 بار دہرائے اور سورت مکمل کرے ہر بار بسم اللہ الرحمن الرحیم کے ساتھ پڑھے 
بس اسی طریقہ سے سورہ اخلاص کو 47 بار پڑھے 
مطلب ہر بار جب اللہ الصمد پڑھے تو اسکو 47 بار دہرائے اور سورہ بھی 47 بار پڑھ لے بس ہر بار اللہ الصمد کو 47 بار دہرانا ہے۔ آخر میں تین بار پھر درود پڑھے 
پھر کوئی بھی چیز اپنے سر سے گھماکر صدقہ کردے کچھ بھی ہو دال چاول آٹا گوشت پیسے رقم جتنی اللہ توفیق دے  وغیرہ

محمد عظیم شاہ یوسفی قادری چشتی فریدی صابری اشرفی 
1446ھجری 2025 عیسوی 14شعبان المکرم

جنات کی ہم نشینی کے نقصانات

  شیخ اکبر نے فتوحات مکیہ میں جنات کی ہم نشینی کے نقصانات  بیان کیے ہیں۔ 1. روحانی مرتبے میں تنزلی جنات کی صحبت اختیار کرنے والا شخص اُن عار...