Skip to main content

Posts

درود مفتاح الجنتہ (جنت کی چابی)

  درود مفتاح الجنتہ یہ درود شریف سیدنا قطب الکبیر بدر الاساتذہ شیخ محمد البکری رحمتہ اللہ علیہ سے منسوب ہے آپ وہ ہستی اور بزرگ ہیں کہ جنکو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی کچہری محفل میں نبی پاک علیہ السلام کے حکم پر سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عمامی باندھا تھا اور ایک بار ظاھری طور پر محمد البکری رحمتہ اللہ علیہ کی ملاقات ریاض الجنہ مدینہ میں نبی پاک علیہ السلام سے ہوئی تھی آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جو مسلمان زندگی میں ایک بار بھی محبت سے یہ درود پڑھ لے اور پھر اگر قیامت میں اسکو دوزخ میں لے جانے کا حکم ہو تو وہ قیامت کے دن اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہونے کی اجازت مانگے اور وہاں مجھے طلب کرواکر میرا گریبان پکڑ لے کیونکہ جو مسلمان یہ درود پڑھ لیتا ہے وہ جہنم میں کبھی بھی نہیں جا سکتا.ایک بار آپکا ایک مرید جنگی حالات میں کہی غائب ہوگیا آپ کہ چاہنے والوں نے اس کے بارے میں پوچھا آپ مراقب ہوئے اور فرمایا کہ وہ زندہ ہے آجائے گا میں نے اسکو تمام جنتوں میں تلاش کیا وہ وہاں نہیں ہے کسی نے کہا کہ آپ نے دوزخ میں نہیں دیکھا تو آپ نے فرمایا میرا ہر مرید یہ درود پڑھتا ہے میرا کوئی ...
Recent posts

اللہ الصمد سے ہر دعا قبول ہوگی

اللہ الصمد سے ہر دعا قبول ہوگی جسکو کوئی حاجت ہو کوئی مراد ہو کسی پریشانی میں گرفتار ہو کسی طرح کا مرض ہو جو جان نہ چھوڑتا ہو کسی پر قرض ہو اسکو ادا کرنے کہ اسباب نہ ہو جو لڑکے لڑکیاں ایجوکیشن کررہے ہوں اور پڑھائی میں کامیابی اور امتحانات میں اچھے نمبروں سے پاس ہونا چارہے ہوں میاں بیوی میں لڑئی جھگڑا ہو شوہر یا بیوی تنگ کرتی اور غصہ کرتی ہو  بچے نافرمانی کرتے ہوں کسی کو روزی میں تنگی ہو کسی نے جادو ٹونا کردیا ہو دشمن تنگ کرتے ہو لوگ بد عملیات کرتے ہوں دشمن ہر وقت نقصان پہچانے کی کوشش کرتے ہوں عرض کوئی بھی مسئلہ درپیش ہو روحانیت کا طالب ہو قرب رب عزوجل چاہتا ہو وہ اس طرح عمل کرنے کا معمول بنائے انشاء اللہ سورہ اخلاص کے اس اسماء اللہ الصمد کی طاقت سے کامیاب ہوگا عمل اس طرح کرنا ہے بعد نماز مغرب یا بعد نماز عشاء اور دشمنوں کے لیے بعد نماز ظہر اور روزی رزق مال دولت کہ لئے خصوصا بعد نماز فجر کیا کرے ورنہ کبھی بھی کرسکتا ہے یہ اوقات خصوصی ہیں جو بیان ہوئے ہیں با وضو حالت میں اولا ایک بار درود شریف پڑھے گیارہ بار اللہ الصمد پڑھے پھر ایک بار درود پڑھکر اپنی شہادت کی انگلی پر دم کرے اور جائ...

سورہ فاتحہ کو بسم اللہ کہ ساتھ پڑھنے کی فضیلت

  سورہ فاتحہ کو بسم اللہ کہ ساتھ پڑھنے کی فضیلت قرآن پاک میں ایک سورت ہے جسکو ام القرآن بھی کہتے ہیں سورت شفاء کہتے ہیں جو کچھ پورے قرآن میں ہے آسکا پورا خلاصہ اور فیض اس ایک سورہ میں موجود ہے اور پوری سورہ فاتحہ کا فیض بسم اللہ میں اور اسکے با کے نقطے میں ہے نبی پاک علیہ السلام نے فرمایا اللہ تعالی نے اس آیات کو مطب سبع مثانی یعنی سات آیات والی سورت سورہ فاتحہ کو ہر بیماری سے شفاء مفلسی کے لئے دولت اور دوزخ سے پردہ زمین میں دھسنے سورتیں بگڑنے سنگ باری کے عذاب سے بچنے کا ذریعہ بنایا ہے جب تک لوگ اسکی تلاوت پر کاربند رہیں گے . ہر طرح کی مشکل پریشانی آزمائش امتحان تکلیف سے نجات مل جاتی ہے زمینی آسمانی بلاوں سے حادثات سے حفاظت ہوتی رہتی ہے  یہ سب فیض جب حاصل ہوتا ہے کہ بندے کو اس پر پورا یقین اور اعتقاد ہو  حدیث قدسی میں ہے کہ نبی پاک علیہ السلام نے فرمایا کہ سیدنا جبریل علیہ السلام نے قسم کھاکر کہا کہا کہ حضرت میکائیل نے قسم کھاکر یہ بیان کیا کہ حضرت اسرافیل نے قسم کھاکر کہا کہ اللہ نے فرمایا ایک اسرافیل علیہ السلام میں اپنی عزت و جلال و کرم کی قسم اٹھا تا ہوں کہ جو شخص بھی...

فیضان مخدوم سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی کچھوچھوی رحمتہ اللہ علیہ رحمتہ اللہ علیہ

  فیضان مخدوم سلطان  سید اشرف جہانگیر سمنانی کچھوچھوی  رحمتہ اللہ علیہ رحمتہ اللہ علیہ کسی بھی قسم کا خوف دھشت ڈر ہو جنات سے دشمن سے کہ کسی گھر میں جنات بد روحوں  کا وجود ہو آپ وہاں چلے گئے ہوں کسی کے اندر جسم میں داخل ہوگیا ہو یا جادوگر اور عاملین کہ بھیجے گئے جنات بار بار آ کر تنگ کرتے ہوں بربادی کرتے ہوں معاملات خراب کرتے ہوں  یا سید اشرف جہانگیر دس من ناتواں گیر  سرورا شاہا کریمہ دستگیرا اشرفا حرمت روح پیمبر یک نظر کن سوئے ما اے اشرف زماں  زمانے  مدد  نما درہاۓبستہ راز  کلید  کرم  کشاء اشرف نہنگ دریا دریا بسینہ دارد دشمن ھمیشہ پر غم با ذکر تو دوست دارد    مائیم در جہاں کہ مشکل کشاء توئی    من بیکس فقیرم  حاجت  روا توئی شیخ محقق شیخ عبد الحق دہلوی اخبار الاخیار میں فرماتے ہیں جنوں کو بھگانے کہ لئے سیدنا اشرف جہانگیر سمنانی رحمتہ اللہ علیہ کا نام ہی کافی ہے آپکی شخصیت ہی ایسی تھی اور یہ آپکی زندہ کرامت سات آٹھ سو سال بعد آج بھی ہے جب اپکا نام لیا جائے تو جنات وہاں سے دوڑ جاتے پیں بھاگ جاتے ہیں ا...

امیر ترین کاروباری بن جانے کا راز

  امیر ترین کاروباری بن جانے کا راز   حضرت سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے تجارت کے صرف تین اصول تھے یہ صحابہ کرام میں سب سے زیادہ امیر ترین تھے دولت کے حوالے سے وہ اتنے امیر تھے کہ انکی وفات کے بعد انکے سونے کو کلہاڑیوں سے کاٹا گیا اور کاٹنے والوں کی انگلیاں تک زخمی ہوگئی وہ اصول کیا تھے اگر آج بھی ان پر کوئی عمل کرے گا وہ کاروبار میں کامیاب اور مال میں امیر ترین ہوجائے گا  ھمیشہ پیسوں کا لین دین کیش پر کرو فورا کیش پیمنٹ  مال دو اور اسی وقت پیسے وصول کرو کبھی نہ ادھار میں مال خریدو نہ ادھار میں مال بیچو.  تھوڑا سا بھی منافع ملے فورا مال کو فروخت کردو زیادہ منافع کی لالچ میں مال کو کبھی نہ روک کر اپنے پاس رکھو. اسکو بولتے ہیں کے منافع کی لالچ میں مال کو ہولڈ کرکہ کبھی نہ رکھو.  اپنے کاروباری مال اسباب کے عیب  چھپا کر کبھی نہ بیچو  جیسا ہےاسی طرععح بتاکر فروخت کرو. محمد عظیم شاہ یوسفی قادری چشتی فریدی صابری     رمضان 1447 ھجری