قتل فقیر قتل عاشق خدا ذی القعد ۳۰۹ ھجری حسین بن منصور الحلاج رحمتہ اللہ علیہ
اُقْتُلُوْنِیْ یَا ثِقَاتِیْ اِنَّ فِیْ قَتْلِیْ حَیَاتِیْ
"اے میرے قابلِ اعتماد دوستو! مجھے قتل کر دو، کیونکہ میرے قتل ہو جانے میں ہی میری (حقیقی) زندگی پوشیدہ ہے۔
ظاہری آنکھ سے دیکھنے والے کے لیے یہ جملہ ایک دیوانگی یا خودکشی کی خواہش نظر آتا ہے، لیکن صوفیانہ رموز اور تصوف کی زبان میں اس کے اندر گہرے فلسفیانہ اور روحانی معنی چھپے ہوئے ہیں
تصوف میں دو طرح کی موت ہوتی ہے؛ ایک "موتِ اصغر" (جسم کا مر جانا) اور دوسری "موتِ اکبر" (نفس اور خواہشات کا مر جانا)۔ منصور حلاج یہاں فرما رہے ہیں کہ جب تک میرا یہ مادی جسم اور میرا "نفس" (انا/خودی) زندہ ہے، میں خدا سے دور ہوں۔ جب تم مجھے قتل کر دو گے، تو میرا نفس مٹ جائے گا اور میری روح اپنے اصل مرکز (اللہ کی ذات) میں فنا ہو کر ہمیشہ کے لیے امر (زندہ) ہو جائے گی۔
ابو المغیث الحسین بن منصور حلاج تاریخِ تصوف کے سب سے زیادہ زیرِ بحث اور پُر اسرار صوفی بزرگ ہیں۔ وہ 24 ذی القعدہ 309 ہجری (بمطابق 26 مارچ 922ء) کو عباسی خلیفہ المقتدر باللہ کے دور میں بغداد میں مصلوب کیے گئے
پیدائش اور نام: آپ 858ء (244 ہجری) میں فارس (موجودہ ایران) کے ایک قصبے "طور" میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد منصور پیشے کے لحاظ سے روئی دھنکنے (دھنیا) کا کام کرتے تھے، اسی مناسبت سے آپ کو حلاج کہا گیا۔
تعلیم و تربیت: آپ نے محض 12 سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کر لیا تھا۔ تصوف کی ابتدائی تعلیم واسط اور تستر میں شیخ سہل بن عبداللہ التستری سے حاصل کی۔ بعد ازاں بغداد آکر تصوف کے امام حضرت جنید بغدادی اور عمرو بن عثمان مکی کے حلقہِ درس میں شامل ہوئے۔
سیاحت: آپ نے مکہ مکرمہ کے تین پیدل حج کیے۔ اس کے علاوہ معرفتِ الٰہی کی تبلیغ کے لیے ہندوستان (گجرات و سندھ)، خراسان اور وسطی ایشیا کے طویل سفر کیے
اور یہ سندھ والوں کی خوش نصیبی ہے کہ ایک اللہ کا اتنا بڑا عاشق ھماری سر زمین پر تشریف لایا تھا
منصور حلاج کو بغداد میں ایک طویل مقدمے اور تقریباً 9 سال قید میں رکھنے کے بعد نہایت عبرتناک طریقے سے قتل کیا گیا۔ ان کی موت کے پیچھے بنیادی طور پر دو بڑی وجوہات تھیں
حلاج صوفیانہ حالت میں "انا الحق" (یعنی: میں حق/خدا ہوں) کا نعرہ لگایا کرتے تھے۔
علماء کا موقف: ظاہری شریعت کے علمائے کرام (جیسے قاضی ابو عمر) نے اسے صریح کفر، الحاد اور خدائی کا دعویٰ قرار دیا۔ ان کا ماننا تھا کہ حلاج "حلول اور اتحاد" (خدا کا انسان میں سما جانا) کے قائل ہو چکے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے حلاج کے قتل کا فتویٰ جاری کیا۔
صوفیاء کا موقف: صوفیاء کی ایک بڑی جماعت (بشمول داتا گنج بخش علی ہجویری اور بعد کے بزرگوں) کا ماننا ہے کہ حلاج کا یہ نعرہ تکبر کا نہیں بلکہ "فنا فی اللہ" (عشقِ الٰہی میں اپنی خودی کو مٹا دینے) کی مغلوب الحال حالت کا نتیجہ تھا، جہاں بولنے والا وہ خود نہیں بلکہ خدا کی ذات تھی
مذہبی فتوے کے علاوہ اس وقت کے عباسی وزراء (خصوصاً حامد بن عباس) حلاج کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خوفزدہ تھے۔
حلاج کے مریدین اور چاہنے والوں کی تعداد بغداد کے شاہی محل تک پہنچ چکی تھی۔ حکومت کو ڈر تھا کہ حلاج کی یہ تحریک عباسی خلافت کے خلاف بغاوت یا کسی بڑے سیاسی فتنے (جیسے قرامطہ تحریک) کا سبب نہ بن جائے۔ اسی لیے سیاسی فتنہ دبانے کے لیے ان کا قتل ناگزیر سمجھا گیا
مقدمے کے فیصلے کے بعد، 24 ذی القعدہ کو بغداد کے چوک پر منصور حلاج کو پہلے کوڑے مارے گئے، ان کے ہاتھ پاؤں کاٹے گئے، پھر انہیں سولی پر لٹکایا گیا اور آخر میں ان کا سر قلم کر کے جسدِ خاکی کو آگ لگا کر راکھ دریائے دجلہ میں بہا دی گئی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس کٹھن ترین سزا کے دوران بھی منصور حلاج نہایت پرسکون رہے اور اپنے قاتلوں کے حق میں مغفرت کی دعا کرتے رہے۔ یہ تو ایک عاشق ہی جانتا ہے کہ جو ثقاتی دوست احباب اسکو اسکو محبوب سے ملانے کہ لئے قتل کررہے ہیں تو انکو دعا ہی دی جائے گی نہ کہ بد دعا جبکہ احباب اپنے تئی اس عاشق کو شریعت کی نافرمانی کی سزاء دے رہے ہیں انکو معلوم نہیں ہورہا وہ تو عاش کو جزاء دے رہے ہیں .
مگر مگر مسلمانوں سنو*****-----
یہ کون سی اسلامی سزا تھی جو اس دور کی عباسی حکومت نے سیدنا منصور حلاج رحمتہ اللہ علیہ کو دی تھی کیا اسلام میں اس طرح سرے عام کسی مرتد کے بھی ہاتھ پاوں کاٹنے اور جلانے کی اجازت ہے کیا کسی انسان کا مثلہ کرنے کی اجازت ہے اس وقت کے علماء اس بات پر بھی خاموش رہے انا الحق سب کو نظر آگیا مگر بعد میں جو شدید شریعت کی خلاف ورزیاں ہوئی اسکو سب علماء بھی اپنی جان کو حکومت سے بچانے کہ لئے دبا گئے جبکہ سب جانتے تھے کہ یہ حکومتی انتقامی اقدامات ہیں اور ظالم عباسی حکومت یہ بتانا چاہتی ہے کہ جو ھمارے قد کے برابر آنے کی کوشش کرے گا چاہے وہ اللہ والا ہو یا دنیاوی اسکا یہی حالا کیا جائے گا. آفسوس کہ اس عالم میں اس بے دردی سے اللہ کے اتنے بڑے ولی با کرامت بزرگ کو اس امت نے تخت دار پر چڑھا دیا اور اسکے جسد کی خوب بے عزتی کی گئی . اور اس اللہ والے عاشق کو دیکھو دعائیں دیتا دیتا سولی چڑھ گیا یقین مانو سیدی منصور حلاج اس قدر طاقت ور ولی اللہ تھے ایسے باکرامت تھے کہ انکے قتل کا ارادہ کرنے والے خود نیست و نابود ہوجاتے مگر یہاں بھی وہ عاشقین خدا کو فنا فی اللہ اور یار پر فداء ہونے کی تعلیم دے گئے
جنید بغدادی علیہ الرحمہ فرمایا کرتے تھے کہ اے لڑکے تو کیا لکڑی لال کرے گا تو منصور حلاج فرماتے جی کرونگا.
سید الطائفہ حضرت جنید بغدادی، منصور حلاج کے استاد اور مرشد تھے۔ حلاج کے اندر کی بے چینی اور جذب کی کیفیت کو دیکھ کر حضرت جنید بغدادی انہیں ہمیشہ خاموشی اور شریعت کے ظاہر پر قائم رہنے کی تلقین کرتے تھے۔ تاریخ کی کتابوں میں ان کے درمیان دو مکالمے بہت مشہور ہیں
ایک بار منصور حلاج نے حضرت جنید بغدادی کے دروازے پر دستک دی。 اندر سے حضرت جنید بغدادی نے پوچھا: "کون ہے؟" منصور حلاج نے جواب دیا: "اَنَا الْحَقْ" (میں ہی حق ہوں)。 حضرت جنید بغدادی نے گہرا سانس لیا اور فرمایا: "اے منصور! اللہ کے رازوں کی حفاظت کرو اور اسے ان لوگوں کے سامنے ظاہر نہ کرو جو اسے سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے。 وہ وقت دور نہیں جب تم لکڑی کے ایک ٹکڑے (سولی) کو آگ لگاؤ گے۔" منصور حلاج نے جواب دیا: "جس دن میں سولی پر چڑھوں گا، آپ بھی اہلِ ظاہر (علماء) کا لباس پہن کر اس فتویٰ پر دستخط کر رہے ہوں گے۔" (اور تاریخ گواہ ہے کہ ایسا ہی ہوا)۔
جب منصور حلاج کا جذب حد سے بڑھ گیا اور وہ مصلحتِ وقت کو چھوڑ کر سرِ عام صوفیانہ راز اگلنے لگے، تو حضرت جنید بغدادی نے انہیں بلا کر سختی سے فرمایا: "اے حسین! تم نے تصوف میں ایسا رخنہ ڈالا ہے کہ تمہارا انجام مجھے سولی کے تختے پر نظر آ رہا ہے، تمہارا خون اس سولی کو رنگین کرے گا۔
منصور حلاج محض نعرے لگانے والے صوفی نہیں تھے، بلکہ وہ علمِ معرفت پر گہری دسترس رکھتے تھے۔ ان کے چند چیدہ چیدہ اقوال درج ذیل ہیں
محبتِ الٰہی پر: "محبت خدا کی اصل حقیقت ہے، محبت ہی تمام چیزوں کی جڑ ہے، اور یہی دنیا و آسمان کے وجود کا سبب ہے۔"
معرفتِ الٰہی پر: "عارف کی پہچان یہ ہے کہ اس کا دل دنیا اور آخرت دونوں کی لالچ سے خالی ہوتا ہے (وہ صرف ذاتِ الٰہی کا طالب ہوتا ہے)۔"
خودی اور نور پر: "اپنے اندر چھپی روشنی (نورِ ایمانی) کو تلاش کرو، کسی اور کی روشنی قرض لینا انسان ہونے کی شان کے خلاف ہے۔"
اخلاق پر: "سب سے بڑا اخلاق یہ ہے کہ تم مخلوق کی طرف سے ملنے والی تکلیفوں اور جفا پر صبر کرو اور اللہ کو پہچانو۔"
فنا فی اللہ کا انکا ایک مشہور شعر
"میں وہی ہوں جس سے میں محبت کرتا ہوں، اور جس سے میں محبت کرتا ہوں وہ میں ہی ہے۔ ہم ایک ہی جسم میں رہنے والی دو روحیں ہیں۔"
منصور حلاج کے بارے میں تاریخِ اسلام کے علماء، فقہاء اور صوفیاء کے درمیان ہمیشہ سے دو واضح اور متضاد آراء رہی ہیں:
الف) علمائے ظاہر اور معاصر فقہاء کا فتویٰ (واجب القتل)
عہدِ عباسی کے ظاہری علماء (جیسے قاضی ابو عمر) نے حلاج کے اقوال کو شریعت کے بنیادی اصولوں کے خلاف پایا۔ ان کا فتویٰ درج ذیل نکات پر تھا:
کفر و الحاد: "انا الحق" کا نعرہ صریح کفر ہے کیونکہ یہ خالق اور مخلوق کے فرق کو مٹا دیتا ہے (حلول کا عقیدہ)۔
شریعت کا تحفظ: اگر ایسے بیانات کی کھلے عام اجازت دی گئی، تو عوام کا عقیدہ برباد ہو جائے گا اور شریعت کا ظاہر معطل ہو جائے گا
حضرت جنید بغدادی کا دستخط: جب خلیفہ مقتدر باللہ نے حلاج کی سولی کے لیے حضرت جنید بغدادی کے دستخط مانگے، تو آپ نے علمائے ظاہر کا قبا (لباس) پہنا اور فتویٰ پر لکھا: "ہم ظاہر کے اعتبار سے منصور کو سولی دینے کا فتویٰ دیتے ہیں، کیونکہ شریعت کا حکم ظاہر پر ہے، باطن کا حال اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
داتا گنج بخش علی ہجویریؒ (صاحبِ کشف المحجوب): آپ لکھتے ہیں کہ منصور حلاج "سر مستانِ بادۂ وحدت" (اللہ کی محبت کے نشے میں چور) اور قوی الحال صوفی تھے۔ وہ کافر نہیں تھے، بلکہ مغلوب الحال تھے (جن پر ایسی کیفیت طاری ہو گئی تھی جس میں عقل کام نہیں کرتی)۔
اکابرینِ دیوبند ( اشرف علی تھانویؒ اور مفتی رشید احمد گنگوہیؒ): فتاویٰ رشیدیہ میں لکھا ہے کہ "منصور ولی اللہ تھے، لیکن وہ مغلوب الحال اور جذب کی وجہ سے معذور تھے۔ ان پر کفر کا فتویٰ دینا بے جا ہے، البتہ اس وقت فتنہ دبانے کے لیے انہیں قتل کرنا حکومت کی سیاسی ضرورت تھا۔
علامہ محمد اقبال اور سید سلیمان ندوی: علامہ اقبال نے حلاج کو "صدیقِ خودی" اور حق کا علمبردار کہا ہے۔ سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں: "حلاج مذہبی گنہگار سے زیادہ ایک پولیٹیکل مجرم (سیاسی قیدی) تھا، اس کی بے گناہی کا خون علمائے حق کے قلم پر نہیں بلکہ عباسی سلاطین کی تلوار پر ہے۔
اس امت نے جب نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نا بخشاء اور بظاھر کلمہ اور نماز پڑھنے والوں نے کربلاء کے میدان میں شہید کردیا شبیہ رسول سید نا امام علی اکبر رضی اللہ عنہ کا احترام نہ کیا تو پھر یہ تو ایک اللہ کے ولی اور عاشق خدا تھے جنہوں نے اسکی محبت و عشق کی مستی میں ذلیل مخلوق کے ہاتھوں جان دے دی مزے کی بات کہ امام حسین پر بھی معاذ اللہ علماء کی طرف سے کفر کے فتوی لگے تھے پھر خود سمجھ لو کہ وہ کون سے درباری علماء ہوتے ہیں جو جس بادشاہوں کہ حکم پر فتوی دیتے ہیں
کیا پیاری بات ہے کہ علم والا ظاھری علم کتنا ہی پڑھ لے صاحب کرامت صاحب فیض روحانی ولی اللہ کامل نہیں بننتا مگر ایک اللہ کا ولی صوفی حق عالم راز باطن و طریقت صاحب کرامت صاحب فیض صاحب مسند ارشاد بھی ہوتا ہے علم الدنی بھی حاصل ہوتا ہے .
از قلم محمد عظیم شاہ یوسفی قادری چشتی فریدی صابری اشرفی ذیقعد1447 ھجری 2026






