شیخ اکبر نے فتوحات مکیہ میں جنات کی ہم نشینی کے نقصانات بیان کیے ہیں۔
1. روحانی مرتبے میں تنزلی
جنات کی صحبت اختیار کرنے والا شخص اُن عارفین کے مقابلے میں پست درجے پر ہوتا ہے جو ملکوتی یا الٰہی مشاہدات میں غرق ہوتے ہیں، کیونکہ جنات کی طبیعت میں
بشری کمزوریاں اور لایعنی مشاغل موجود ہوتے ہیں۔
2. خیر سے محرومی اور لایعنی مشاغل
جنات کی صحبت میں خیر کی امید بہت کم ہوتی ہے۔ ان کی ہم نشینی فضول باتوں اور ایسے کاموں میں وقت ضائع کرنے کا سبب بنتی ہے جن کا کوئی دینی یا روحانی فائدہ نہیں ہوتا۔
3. فطرتِ ناری اور فکری اضطراب
جنات کی اصل آگ ہے، اور آگ کی فطرت مسلسل حرکت اور اضطراب ہے۔ یہی بے چینی ان کے ہم نشین میں منتقل ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں انسان سنجیدگی کھو دیتا ہے اور فضول گوئی اس پر غالب آ جاتی ہے۔
4. انسانوں سے بڑا فتنہ
جنات کی صحبت عام انسانوں کی صحبت سے کہیں زیادہ فتنہ انگیز ہوتی ہے۔ وہ انسان کو ایسے راستوں پر ڈال دیتے ہیں جو بظاہر روحانی لگتے ہیں مگر حقیقت میں گمراہی ہوتے ہیں۔
5. عیوب کی ٹوہ اور پردہ دری
جنات انسانوں کے باطنی عیوب اور نجی معاملات کو بے نقاب کرتے ہیں۔ ایک صاحبِ عقل کے لیے دوسروں کے عیوب سے آگاہی روحانی زہر ہے، جبکہ جنات اسی پردہ دری کو اپنا مشغلہ بناتے ہیں۔
6. تکبر اور خود پسندی کا بیج
جنات کی فطرت اپنے ہم نشین کے دل میں دوسروں، بلکہ اللہ کے نیک بندوں کے خلاف بھی بڑائی اور غرور پیدا کر دیتی ہے۔ انسان خود کو دوسروں سے ممتاز اور برتر سمجھنے لگتا ہے۔
7. مکرِ خفی اور لاشعوری زوال
سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان “مکرِ خفی” کا شکار ہو جاتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ وہ روحانی طور پر ترقی کر رہا ہے اور اسے غیر معمولی رسائی حاصل ہو رہی ہے، حالانکہ حقیقت میں وہ اللہ کی ناپسندیدگی کا شکار ہو کر اپنی اصل روحانی پونجی گنوا رہا ہوتا ہے۔
8. معرفتِ الٰہی سے بیگانگی
جنات معرفتِ الٰہی کے باب میں جاہل ترین مخلوق قرار دیے گئے ہیں۔ ان کے پاس ذاتِ حق کا حقیقی علم نہیں ہوتا، اس لیے ان کا ہم نشین بھی معرفتِ الٰہی کے ذائقے سے محروم رہتا ہے۔
9. جھوٹی کرامت کا دھوکہ
جنات ملأِ اعلیٰ سے چوری چھپے سنی سنائی باتیں — جو اکثر ناقص یا غلط ہوتی ہیں — بیان کر کے سادہ لوح انسان کو یہ یقین دلا دیتے ہیں کہ یہ اس کی “کرامت” ہے، یوں وہ خود فریبی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
10. مذموم علوم کا حصول
جنات کی طرف سے ملنے والا علم زیادہ سے زیادہ جڑی بوٹیوں، پتھروں اور حروف و اسما کی تاثیر (علمِ سیمیا) تک محدود ہوتا ہے۔ شریعت نے ایسے علوم کی مذمت فرمائی ہے کیونکہ یہ انسان کو مسبب الاسباب یعنی اللہ کے بجائے اسباب میں الجھا دیتے ہیں۔
11. باطنی چاشنی کا فقدان
اگر جنات کا ہم نشین سچا بھی ہو، تب بھی اس کے پاس علمِ الٰہی کے دقیق مسائل کی تفہیم اور معرفت کی وہ خاص “چاشنی” نہیں ہوتی جو حقیقی اہلِ اللہ کا اخاصہ ہے۔
#محمد عظیم شاہ یوسفی قادری چشتی فریدی صابری صابری اشرفی 1447 ھجری 2026
#روحانی_مرتبے_میں_تنزلی #خیر_سے_محرومی #لایعنی_مشاغل #فطرت_ناری #فکری_اضطراب #جنات_کا_فتنہ #پردہ_دری #عیوب_کی_ٹوہ #تکبر #خود_پسندی #مکر_خفی #لاشعوری_زوال #معرفت_الٰہی #جھوٹی_کرامت #خود_فریبی #مذموم_علوم #علم_سیمیا #اسباب_پرستی #باطنی_چاشنی #اہل_اللہ #روحانی_گمراہی #جنات_کی_صحبت #روحانی_نقصانات #فتوحات_مکیہ #شیخ_اکبر #تصوف #معرفت #روحانیت
Web link of sillsila Shareef
https://sabirjahangirqalandar.blogspot.com/?m=1
Whatsapp Channel Link
https://whatsapp.com/channel/0029Vb7g3UA6xCSIoFiR9V45
Face book profile link Azeem Shah Sabiry
https://www.facebook.com/share/17SAvzD3HN/
Face book group link join Now مخلوقات کا دوست
https://www.facebook.com/share/g/17iBra5EXR/
Face book page link
https://www.facebook.com/share/1EXZsRsTY7/

No comments:
Post a Comment