حضرت سید نعیم اشرف اشرفی الجیلانیؒ (المعروف بہ نعیم المشائخ اور غازیِ زماں) خانوادہِ اشرفیہ کی ایک عظیم علمی و روحانی شخصیت تھے۔ آپ کی سوانح حیات کے نمایاں نکات درج ذیل ہیں: * ولادت با سعادت: آپ کی ولادت 19 اپریل 1925ء (مطابق 1343ھ) کو قصبہ جائس، ضلع رائے بریلی (یو پی، انڈیا) میں اپنے نانا علامہ سید محمد نقی اشرف کے ہاں ہوئی۔ * تعلیم و تربیت: آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے گھر اور جائس میں حاصل کی۔ 6 سال کی عمر میں قرآن پاک ناظرہ مکمل کر لیا تھا۔ بعد ازاں، مولانا عبدالمصطفیٰ جائسی اور دیگر جید اساتذہ سے دینی علوم کی تکمیل کی۔ * بیعت و خلافت: آپ نے اپنے نانا حضرت سید شاہ علی نقی اشرف الجیلانی سے بیعت کی اور انہی سے خلافت و اجازت حاصل کی۔ * دینی و ملی خدمات: آپ نے اپنی پوری زندگی تبلیغِ اسلام اور سنتِ نبوی کی اشاعت کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ آپ نے حرمین شریفین کے کئی مبارک سفر کیے۔ آپ کو "غازیِ زماں" کا لقب آپ کی حق گوئی اور باطل کے خلاف ڈٹ جانے کی وجہ سے دیا گیا۔ * تصنیفی خدمات: آپ نے مخدوم اشرف جہانگیر سمنانیؒ کی مشہور کتاب "لطائف اشرفی" پر اہم کام کیا اور دیگر کئی علمی و اص...
Aura
برسوں مادہ پرست سائنسدان انسان کے باطنی تشخص کا یہ کہہ کر انکار کرتے رہے کہ انسان محض مادی جسم ہے جس میں کہیں روح کی ضرورت نہیں اور آج سائنسدان خود انسانی باطن کو دریافت کر بیٹھے ہیں اور انسان کے اندر موجود اس پیچیدہ نظام کو دیکھ کر حیران ہیں۔ لہذا
۱۹۳۰ء کی دہائی میں روس میں کر لین (Karlain)نامی الیکٹریشن نے اتفاقی طور پر ایک ایسا کیمرہ ایجاد کیا جس نے پہلی دفعہ انسان کے باطنی وجود "AURA" کی تصویر کشی کر لی۔ اس (Karlain Photography) سے اس لطیف وجود "AURA" کو باقاعدہ طور پر دیکھ لیا گیا۔ یہ مختلف رنگوں پر مشتمل لہروں کا ہالہ ایک ہیولے کی طرح لطیف جسم تھا۔ یہ لطیف جسم بالکل انسان کے مادی جسم سے مشابہت رکھتا ہے۔ یہ جسمانی و ذہنی کیفیات کے مطابق مختلف رنگ و ارتعاش منعکس کرتا ہے۔ یہ لطیف جسم AURAانسانی جسم سے چند انچ اوپر مادی جسم سے متصل ہوتا ہے۔
انسانی جسم کے تمام تر تقاضے اسی روشنی کے جسم میں پیدا ہوتے ہیں۔ خون کی طرح ہر انسان کا AURA بھی مختلف ہوتا ہے۔
سبٹل باڈیز SUBTLE BODIESAURA
"AURA"کے اندر مزید سات اجسامSUBTLE BODIES کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔ ہر سات اجسام کے مختلف لیول اور سب لیول ہوتے ہیں۔
چکراز CHAKRAS
چکراز CHAKRAS وہ پوائنٹس ہیں جن سے توانائی ہمارے جسم میں داخل اور خارج ہوتی ہے یہ خلائی سطح (ETHERIC LEVEL) پر موجود ہوتے ہیں۔ جسے ہم دوہرا جسم بھی کہتے ہیں کیونکہ یہ بالکل ہمارے مادی جسم کی شکل اختیا ر کر لیتے ہیں۔ چکراز جب صحیح کام کر رہے ہوں تو پہیے کی طرح گھومتے رہتے ہیں۔ سات " 7 " بنیادی چکراز ہیں جو کہ جسم کے اگلے اور پچھلے حصے میں موجود ہوتے ہیں اور اندر کی طرف مڑ رہے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ AURA میں مزید چکراز ہوتے ہیں جو کہ جسم سے زیادہ فاصلے پر ہوتے ہیں۔
AURA کی دریافت تو آج ۱۹۳۰ء میں ہوئی ہے لیکن تمام ادوار میں انسان کے اس باطنی تشخص کا تذکرہ ہوتا آیا ہے بلکہ AURA سے متعلق ماضی کی معلومات آج کی جدید تحقیقات کے مقابلے میں زیادہ مستند معلومات ہیں مثلاً
قدیم ادوار میں یونانی، رومی، ہندو اور عیسائی اقوام میں ان کی مذہبی شخصیات کی تصاویر اور مجسموں میں ان کا ہیولا دکھایا جاتا تھا جسے انگریزی میں ہالو HALO اور قدیم یونانی اور لاطینی زبان میں اوراAURA اور ایرولا AUREOLA کہا جاتا تھا۔ اور آج اسی ماضی کی مناسبت سے ہی نئے دریافت شدہ لطیف جسم کا نام AURA رکھا گیا ہے۔ افلاطون کی تحریروں میں بھی موت کے واقعات میں AURA کا تذکرہ موجود ہے ارسطو نے اسے روح حیوانی کہا جب کہ ہزاروں سال پہلے کے فراعنہ مصر AURA کو بع کہتے تھے۔ تبتی لاما ہوا میں اڑنے اور اپنے AURA کو جسم سے الگ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے تھے۔ جب کہ مسلمان، یہودیوں، عیسائیوں، ہندوؤں میں ایسے روحانی ماہرین پائے جاتے تھے جو نہ صرف اپنے AURA کو جسم سے الگ کر لیتے تھے بلکہ اس سے کام بھی لیتے تھے ہوا میں اڑتے پلک جھپکتے میں ہزاروں میل کے فاصلے طے کر لیتے اور بہت سے روحانی کرتب دکھاتے تھے۔
مسلمانوں کی تحریروں میں بھی جا بجا AURA کا تذکرہ اور اس کی خصوصیات کا ذکر ملتا ہے۔ یہ تذکرے آج کی تحقیقات سے سو فیصد مماثلت رکھتے ہیں۔ مسلمانوں نے AURA کو دیگر ناموں سے پکارا ہے۔ مثلاً نسمہ، جسم مثالی، روح حیوانی، روح ہوائی، روح یقظہ وغیرہ وغیرہ۔
قدیم چینیوں میں بھی AURA کا تصور پایا جاتا تھا وہ اسے P.O کہتے تھے۔ جب کہ یہودیوں کے کام میں اسے Nefesh کہا گیا ہے۔
اگرچہ AURA کا تذکرہ ہزاروں برس سے ہو رہا تھا لیکن عرصہ دراز تک مادی سائنسدان انسان کے باطن کو غیر مرئی اور غیر اہم کہہ کر جھٹلاتے آ رہے تھے پھر کچھ روحانی کرتبوں سے متاثر ہو کر کچھ سائنسدان اسے الیکٹرومیگنیٹک فیلڈ (E.M.F) ہیومن انرجی فیلڈ اور بائیو انرجی کے نام سے شناخت کرنے لگے اور بلآخر سائنسدانوں نے ۱۹۳۰ء میں اس کی تصویر کشی بھی کر لی۔
آج AURA پر تحقیق و تحریر کے در وا ہیں مغربی ممالک میں اس پر لیبارٹریز میں کام ہو رہا ہے کتابیں لکھی جا رہی ہیں۔ بلکہ وہ لوگ تو اس AURA کو کام میں لے کر جاسوسی کا کام بھی لے رہے ہیں اور اس کے ذریعے مریخ تک جا پہنچے۔ مثلاً
امریکہ کا CIA کا خفیہ جاسوسی کا ادارہ (Sun Strcak/Stragate) روحانی صلاحیتوں کے مالک جاسوسوں کو جدید سائنسی طریقوں سے روحانی تربیت دے کر روحانی سراغ رسانی کا کام لیتا ہے۔ اور یہ روحانی تربیت یافتہ افراد روحانی وجود AURA کو استعمال میں لا کر دشمن کے خفیہ منصوبوں کا گھر بیٹھے سراغ لگاتے ہیں۔ درحقیقت یہ دشمن کے ہتھیاروں کو گھر بیٹھے ناکارہ بناسکتے ہیں۔ یہ حکمرانوں کے دماغوں کو گھر بیٹھے کنٹرول کر سکتے ہیں۔ یہ گھر بیٹھے اپنے دشمن کو شکست دے سکتے ہیں۔
آج دنیا بھر میں انسان کے باطنی رخ پر نہ صرف روحانی بلکہ سائنسی تجربات ہو رہے ہیں اور سائنسدان ایٹم کی طرح انسان کے اندر جھانک کر اس وسیع و عریض دنیا کو حیرت سے دیکھ رہے ہیں۔ لیکن ابھی سمجھ نہیں پا رہے۔ اسی وجہ سے چکراز اور آواگون (Reincarnation)میں مماثلت تلاش کر رہے ہیں۔ حالانکہ ان دونوں میں کوئی مماثلت نہیں۔ جب کہ کچھ لوگ AURA یا لطیف اجسام کو روح یا روح کا حصہ بھی کہتے ہیں
یہ AURA کیا ہے ؟ مادی جسم سے اس کا کیا اور کیسا ربط ہے ؟ یہ سوالات جوں کے توں حل طلب ہیں۔ جب کہ اس کتاب میں نئے نظریات کے ذریعے ہم نے ان تمام سوالوں کے تفصیلاً جواب دے دیئے ہیں۔ لہذا یہاں اس
۱۔ AURAکی اصل شناخت قائم کی ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے
۲۔ AURAنفس ہے۔ AURA کا اصل نام نفس ہے۔
جب کہ آج جدید محقق AURA اور نفس پر الگ الگ حیثیتوں میں کام کر رہے ہیں۔ نفس پر اس کی مفروضہ حیثیت میں کام ہو رہا ہے جب کہ AURA پر شناخت کے بغیر انفرادی تحقیقی کام ہو رہا ہے۔ اور علمی میدان میں اتنی بڑی بڑی اور واشگاف غلطیاں کی جا رہی ہیں جس کی وجہ لا علمی ہے پختہ تحقیق کی ضرورت ہے ہر علمی موضوع کو۔ اور اس بات کو سمجھنے کی کوشش کیجیے کہ ہر وجود کا اپنا منفرد نام اور منفرد شناخت ہے۔ اور یہ روح یا نفس جیسے نام مذہبی نام ہیں۔ ماضی میں ہر قوم نے ان ناموں کو اپنی زبان میں ادا کیا جس کے نتیجے میں روح و نفس و جسم کی ایسی الجھن پیدا ہوئی جو آج تک نہیں سلجھی اور انسان ایک معمہ بن کر رہ گیا تھا۔
اس کتاب میں برسوں کی مسلسل تحقیق و غور و فکر کے بعد میں نے یہ صدیوں کے مسائل حل کئے ہیں روح و نفس کی انفرادی شناخت قائم کی ہے۔ لہذا اب ان صدیوں کی غلطیوں کو درست فرما لیں اور نوٹ کر لیں کہ
۲۔ AURAنفس ہے۔ AURA کا اصل نام نفس ہے۔
۳۔ لہذا نفس کی دیگر مفروضہ تعریفیں درست نہیں، نفس کوئی مفروضہ خواہش نہیں بلکہ ایک لطیف جسم ہے جسے آج AURAکا نام دے دیا گیا ہے۔
۴۔ لہذا یہاں یہ بھی ثابت ہو گیا کہ AURAروح نہیں ہے بلکہ جسم ہے ، نفس کا جسم
۵۔ AURAروشنی کا جسم ہے۔
۶۔ AURAجسمانی حرکت و عمل کا سبب ہے یہ جسم کا فیول ہے۔
۷۔ AURAاگرچہ جسمانی حر کت و عمل کا سبب ہے اور اس کی غیر موجودگی سے جسم حر کت و عمل سے محروم ہو جاتا ہے لیکن اس کے با وجود
AURAجسم کی زندگی نہیں ہے جیسا کہ عموماً تصور کیا جاتا ہے۔ AURAکی غیر موجودگی سے جسم موت کا شکار نہیں ہوتا۔
جسم کی زندگی و موت کا سبب روح ہے۔ جو نفس سے منفرد شے ہے
۸۔ AURAانسان کے وسیع و عریض باطن کا ایک جز ایک جسم ہے۔ لیکن یہ مادی جسم کی طرح باطن کا بنیادی جسم ہے اگرچہ باطن کے دیگر اجسام بھی نفس ہیں AURA نفس کا ایک جسم ہے لیکن یہی بنیادی نفس بھی ہے۔ یعنی نفس کے اس جسم کا نام بھی نفس ہی ہے۔ قصہ مختصر
AURA دراصل نفس ہے۔

Comments