ہر مرض سے شفاء ضرور ملے گی کینسر ٹی بی ھیپاٹائیٹس شوگر بلڈ پریشر ہر وہ مرض جوسہی ہوکر نہ دےرہا ہو علاج بھی کر وا رہے ہوں مگر کوئی فائیدہ نہ ہوتا ہو بزرگان دین نے اس عمل کو اپنے وظائف میں لکھا ہے کہ جو مرض بھی اللہ نے پیدا کیا اسکی دواء بھی پیدا فرمائی ہے جو یہ عملل کرے گا اللہ تعالی کی مرضی ہوئی تو وہ ایک ماہ میں ضرور شفاء پائے گا بزرگان دین فرماتے ہیں کہ یہ عمل انہوں نے ہزاروں لوگوں کو دیا اور تقریبا ہر انسان کو شفاء مل گئی قرآن میں انسانوں کہ لئے شفاء ہے و ننزل من القران ما ھو شفاء و رحمتہ للمؤمنین یہ عمل قران کی ایک آیت سے ہے وہ آیت ہے الا یعلم من خلق وھو اللطیف الخبیر بس ایک ٹائم بنالیں اور با وضو پہلے تین بار درود ابراھیمی اور یہ آیت بلا تعداد اخلاص و محبت سے پڑھتے جائیں پھر تین بار دورد پڑھیں اب بلا تعداد جتنی آپکی ھمت و طاقت ہو اتنی دیر پڑھیں اپنے مرض سے شفاء کو دل میں رکھئیں اور یہ مریض خود پڑھے لیٹ کر بیٹھکر جیسے آسانی ہو اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَؕ-وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۠ (14) سورہ الملک آیت نمبر 14 محمد عظیم شاہ یوسفی قادری چشتی فریدی صابری اش...
مرگی کے مرض سے شفاء کا دم
یس والقران الحکیم بحق سلم قولا من رب رحیم
جسکو بھی مرگی کا مرض ہو کہ اچانک گر کر بے ہوش ہوجاتا ہو یہ دماغ کے دو کرنٹ ہوتے ہیں جو متوازی چلتے ہیں جب یہ ڈسٹرب ہوتے ہیں بار بار یہ مرض ظاھر ہوتا ہےاور کبھی خاندانی اور کبھی آسیب و آثرات بد روحوں کی خلل کی وجہ سے ہوجاتا ہے یہ دم کرئیں مریض پر کم از کم چالیس دن پھر انتظار کرئیں اگر اس دوران آجائے تو دوبارہ چالیس دن کرئیں انشاء اللہ تیسرے چالیس دن سے پہلے ہی اللہ پاک شفاء عطا فرما دیں گے اگر کوئی بہت مصروف روٹین رکھتا ہو تو ایک بار ہی دن میں کرے دم بھی کرے اور اسی وقت ایک گلاس شیشے کا پانی سے بھر کر ساتھ رکھے اور اس پر بھی دم کرکہ پلادیا کرے اول آخر دورد شفاء گیارہ بار پڑھے . اس عمل میں کچھ صدقہ خیرات مریض کے طرف سے ضرور کرئیں اللہ بیماری اور بلاؤں کا ٹالے گا.یس والقران الحکیم بحق سلم قولا من رب رحیم391بار صبح شام ماتھے پر سیدھے الٹے کان میں پڑھکر دم کرئیںیہ دم سوکھے کمزور بچوں لاغر اور کاکڑی بچوں جنکی ہڈیاں کمزور ہوں خون بدن میں نہ ہو پیلے پڑے ہوں ان سب کو بھی بہت فائدہ کرے گا یہ دم بچوں کے لئے بھی انکی بیماریوں میں کیا جاتا ہے.
محمد عظیم شاہ یوسفی قادری چشتی فریدی صابری اشرفی پاکستان کراچی 1447ھجری شوال المکرم

Comments