مرگی کے مرض سے شفاء کا دم یس والقران الحکیم بحق سلم قولا من رب رحیم جسکو بھی مرگی کا مرض ہو کہ اچانک گر کر بے ہوش ہوجاتا ہو یہ دماغ کے دو کرنٹ ہوتے ہیں جو متوازی چلتے ہیں جب یہ ڈسٹرب ہوتے ہیں بار بار یہ مرض ظاھر ہوتا ہے اور کبھی خاندانی اور کبھی آسیب و آثرات بد روحوں کی خلل کی وجہ سے ہوجاتا ہے یہ دم کرئیں مریض پر کم از کم چالیس دن پھر انتظار کرئیں اگر اس دوران آجائے تو دوبارہ چالیس دن کرئیں انشاء اللہ تیسرے چالیس دن سے پہلے ہی اللہ پاک شفاء عطا فرما دیں گے اگر کوئی بہت مصروف روٹین رکھتا ہو تو ایک بار ہی دن میں کرے دم بھی کرے اور اسی وقت ایک گلاس شیشے کا پانی سے بھر کر ساتھ رکھے اور اس پر بھی دم کرکہ پلادیا کرے اول آخر دورد شفاء گیارہ بار پڑھے . اس عمل میں کچھ صدقہ خیرات مریض کے طرف سے ضرور کرئیں اللہ بیماری اور بلاؤں کا ٹالے گا. یس والقران الحکیم بحق سلم قولا من رب رحیم 391بار صبح شام ماتھے پر سیدھے الٹے کان میں پڑھکر دم کرئیں یہ دم سوکھے کمزور بچوں لاغر اور کاکڑی بچوں جنکی ہڈیاں کمزور ہوں خون بدن میں نہ ہو پیلے پڑے ہوں ان سب کو بھی بہت فائدہ کرے گا یہ دم بچوں کے لئے بھی انکی بیم...
مرگی کے مرض سے شفاء کا دم
یس والقران الحکیم بحق سلم قولا من رب رحیم
جسکو بھی مرگی کا مرض ہو کہ اچانک گر کر بے ہوش ہوجاتا ہو یہ دماغ کے دو کرنٹ ہوتے ہیں جو متوازی چلتے ہیں جب یہ ڈسٹرب ہوتے ہیں بار بار یہ مرض ظاھر ہوتا ہےاور کبھی خاندانی اور کبھی آسیب و آثرات بد روحوں کی خلل کی وجہ سے ہوجاتا ہے یہ دم کرئیں مریض پر کم از کم چالیس دن پھر انتظار کرئیں اگر اس دوران آجائے تو دوبارہ چالیس دن کرئیں انشاء اللہ تیسرے چالیس دن سے پہلے ہی اللہ پاک شفاء عطا فرما دیں گے اگر کوئی بہت مصروف روٹین رکھتا ہو تو ایک بار ہی دن میں کرے دم بھی کرے اور اسی وقت ایک گلاس شیشے کا پانی سے بھر کر ساتھ رکھے اور اس پر بھی دم کرکہ پلادیا کرے اول آخر دورد شفاء گیارہ بار پڑھے . اس عمل میں کچھ صدقہ خیرات مریض کے طرف سے ضرور کرئیں اللہ بیماری اور بلاؤں کا ٹالے گا.یس والقران الحکیم بحق سلم قولا من رب رحیم391بار صبح شام ماتھے پر سیدھے الٹے کان میں پڑھکر دم کرئیںیہ دم سوکھے کمزور بچوں لاغر اور کاکڑی بچوں جنکی ہڈیاں کمزور ہوں خون بدن میں نہ ہو پیلے پڑے ہوں ان سب کو بھی بہت فائدہ کرے گا یہ دم بچوں کے لئے بھی انکی بیماریوں میں کیا جاتا ہے.
محمد عظیم شاہ یوسفی قادری چشتی فریدی صابری اشرفی پاکستان کراچی 1447ھجری شوال المکرم

Comments