Monday, 18 December 2023

سورہ الکھف آیت نمبر 46


سورہ الکھف آیت نمبر 46

اَلْمَالُ وَ الْبَنُوْنَ زِیْنَةُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاۚ-وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ اَمَلًا(46)

ترجمہ: کنزالعرفان

مال اور بیٹے دنیا کی زندگی کی رونق ہیں اور باقی رہنے والی اچھی باتیں تیرے رب کے نزدیک ثواب کے اعتبار سے زیادہ بہتر اور امید کے اعتبار سے زیادہ اچھی ہیں

تفسیر القران

 دنیا کے مال و اَسباب کے بارے میں  فرمایا کہ مال اور بیٹے دنیا کی زندگی کی رونق ہیں  کہ ان کے ذریعے دنیا میں  آدمی فخر کرتا ہے اور انہیں  دنیا کی سہولیات و لذّات حاصل کرنے کا ذریعہ بناتا ہے حالانکہ انہی چیزوں  کو آخرت کا زاد ِ راہ تیار کرنے کا ذریعہ بھی بنایا جاسکتا ہے۔ حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا کہ مال و اولاد دنیا کی کھیتی ہیں  اور اعمالِ صالحہ آخرت کی اور اللّٰہ تعالیٰ اپنے بہت سے بندوں  کو یہ سب عطا فرماتا ہے۔( خازن، الکھف، تحت الآیۃ: ۴۶، ۳ / ۲۱۲-۲۱۳)دوسری چیز باقیاتِ صالحات ہیں  ، ان سے نیک اعمال مراد ہیں  جن کے ثمرے انسان کے لئے باقی رہتے ہیں ، جیسا کہ پنج گانہ نمازیں  اور تسبیح و تحمید اور جملہ عبادات ۔حدیث شریف میں  ہے، سرکارِ دوعالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے باقیاتِ صالحات کی کثرت کا حکم فرمایا۔ عرض کی گئی:وہ کیا ہیں ؟ فرمایا : اَللّٰہُ اَکْبَرُ لَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہ پڑھنا۔(مسند امام احمد، مسند ابی سعید الخدری رضی اللّٰہ عنہ، ۴ / ۱۵۰،  الحدیث: ۱۱۷۱۳) البتہ یہ یاد رہے کہ مال اور اولاد فی نَفْسِہٖ تو اگرچہ دنیا ہیں  لیکن یہی دو چیزیں  آخرت کیلئے عظیم زاد ِ راہ بھی بن سکتی ہیں  کیونکہ اگر مال کو راہِ خدا میں  خرچ کیا اور خصوصاً کوئی صدقہ جاریہ کا کام کیا تو یہی مال نجات کا ذریعہ بنے گا اور یونہی اگر اولاد کی اچھی تربیت کی اور نیکی کے راستے پر لگایاتو ان کی نیکیوں  کا ثواب بھی ملے گا اور اس کے ساتھ اولاد کی دعائیں  بھی ملتی رہیں  گی۔

محمد عظیم شاہ یوسفی 

قادری چشتی فریدی صابری

١٤٤٥ھجری ٢٠٢٣ عیسوی

Sunday, 19 November 2023

پہاڑ بھی اپنی جگہ چھوڑ دے فرمان غوث گوالیاری Let the mountain also leave its place

 


پہاڑ بھی اپنی جگہ چھوڑ دے 


حضرت غوث محمد گوالیاری صاحب جواھر خمسہ ارشاد فرماتے ہیں اوراسی طرح دیگر بزرگان دین ارشاد فرماتے ہیں کہ اگر تین چیزٸیں تین دل ایک جگہ جمع ہوجاٸیں تو پہاڑ بھی اپنی جگہ چھوڑ دے

ایک ہے انسان کا دل دوسری ہے قران کادل تیسری ہے رات کا دل انسان کا دل تو اسکا اخلاص اور عقیدہ اور توجہ و ایمان ہے قرآن کا دل سورہ یس ہے اور رات کا دل وقت تہجد ہے یہ تین دل ہیں تین قلوب ہیں اس سے یہ بات بھی پتہ چلی کے ہر چیز


کا ایک قلب ہوتا ہے چاہے وہ جاندارشمار کی جاتی ہو یا بے جان شمار کی جاتی ہو اور ساری کی ساری طاقت اورقوت اور جان اور معلومات اسی جگہ پر اسی وقت اور اسی مقام پر ہوتی ہے جس طرح یہ عملیات اور قبولیت دعا کی بات ہورہی ہے


تو عملیات کے بھی ورد وظاٸف کے بھی تین دل ہوتے ہیں ایک وقت دو جگہ تین تعداد اسی طرح عملیات و ورد و وظاٸف میں کامیابی کے بھی تین دل ہوتے ہیں ہیں ایک جسم کا پاک ہونا دوسرے دل کا پاک صاف خالی ہونا غیر سے تیسرے نیت کا اچھا اور پاکیزہ اخلاص ہونا بری نیت کا نہ ہونا اگر تین اقسام کے دل ایک وقت میں کسی کے اندر جمع ہوجاٸیں تو وہ اپنے وقت کا بادشاہ ہے اس کو پورا ایک عمل بنالتےہیں کسی کو روحانی یا دنیاوی کوٸی دعا کرنی ہے یا قرب خدا کا طلب گار ہے وہ

پہلے آخری تین دل سہی کرے جسم پاک رکھے جسم سے کوٸی گندی بری غیر شرعی حرکات نہ کرے اور پاکیزہ اور سادی غذا دے اسکو صاف ستھرا خشبودار رکھے دوسرا دل سے سارے خیالات اور ارادے نکال کرخالی کرے اللہ کو دل میں رکھے اور تمام بری نیت کو دور کرے اچھی اچھی نیت کرے یہ آخری تین دل ہوگٸے اب ایک جگہ بنالے خاص مقام بنالے کمرہ ہو غار ہو تہہ خانہ ہو اور ایک وقت بنالے اور یہاں وقت رات کا دل ہے تہجد  ہےاور تعداد جو مرشد یا استاد حکم دیں اور قران کا دل سورہ یسین لے


بس یہ وہ ہے جس سے چالیس پہاڑ بھی پردوں کے ہوں حجاب ہوں تیرے اور رب کے درمیان وہ دور ہوں تو سوچو دنیاوی حاجات اور مشکلات کیوں نہ ختم ہونگی۔


محمد عظیم شاہ یوسفی

قادری چشتی صابری 

11 ربیع الاول جمعرات ١٤٤٥ ھجر

 28 -september 2023


Friday, 15 September 2023

عمل ورد قادریہ Amal wird e Qadria



عمل ورد قادریہ

قرب خدا و غوث الاعظم جیلانی کی نظر

ھدیہ قادریوں کو قرب غوث الاعظم کے لٸے قرب خدا کے لٸے شیخ سے اپنا رابطہ مصبوط کرنے کے لٸے

جناب سید عبد العزیز الجیلانی القادری شامی  صاحب کی طرف سے کے جو بندہ قرب خدا چاہے نظر غوث الاعظم کا طلب گار ہو تو جان لے کے خدا کے وصول قرب کا آسان ذریعہ تسبیح کرنا ہے جوکے اسکے قرب میں لے جاٸے گی وردقادریہ ہے روز70 بار استغفر اللہ پڑھے 313 بار درودپڑھے 166 بار لا الہ الا اللہ پڑھے ھدیہ غوث پاک کی بارگاہ میں کرے ھمیشہ نظر غوث الاعظم میں رہے گا اور جب کبھی کوٸی مشکل۔ہو جاٸے قادری کو تو یا شیخ عبدالقادر جیلانی شیإ للہ المددکہے انکے پیر روشن ضمیر فورا مدد کو آٸیں گے۔ 


70 باراستغفر اللہ

313 درود شریف

166 بار لا الہ الا اللہ


اول ایک بار درود اور بسم اللہ الرحمن الرحیم اور آخر پھر ایک بار درود شریف۔

محمد عظیم شاہ یوسفی قادری چشتی فریدی صابری ١٤٤٥ھجری ٢٠٢٣عیسوی جمعہ کراچی پاکستان


Sunday, 27 August 2023

صدقے کے فضاٸل Benefits of Sadqa


صدقے کے فضاٸل

صدقہ دینا ایک نیک عمل ہے جو دینی اصولوں کے تحت کیا جاتا ہے۔ اسلامی عقائد کے مطابق، صدقہ دینے کا فضیلت اور اثر بڑا ہوتا ہے۔ آپ کو دس اہم فضائل کی فہرست دینے جا رہا ہوں:


سوال کرنے والے کو جواب دینا:** صدقہ کیلئے دس دلائل میں پہلا وجہ یہ ہے کہ کوئی آپ سے سوال پوچھتا ہے اور آپ اسکا جواب دیتے ہیں۔ یہ صدقہ ہے۔


2. **شہرت میں :** صدقہ دینے سے دنیاوی شہرت میں اور آخروی شہرت میں زیادتی آتی ہے اور غرور کم ہوتا ہے۔


خفا نہ کرنا:** صدقہ کرنے سے صدقہ کرنے والے پر خفا نہیں کی جاتی لوگ اس سے ناراض نہیں ہوتے۔

ذاتی خوشی:** صدقہ دینے سے انسان کی ذاتی خوشی بڑھتی ہے۔

بیماری کی شفا:** صدقہ کرنے سے بیماری کی شفا حاصل ہو سکتی ہے۔

رزق میں برکت:** صدقہ کرنے سے رزق میں برکت آتی ہے۔

آخرت میں نجات:** صدقہ کرنے سے آخرت میں نجات ملتی ہے۔

نیکو کاری کی ترجیح:** صدقہ کرنے سے انسان کی نیکو کاری کی ترجیح بڑھتی ہے۔

دعاؤں کا قبول ہونا:** صدقہ کرنے سے انسان کی دعاؤں کا قبول ہونے کا امکان بڑھتا ہے۔

نفس کے نگرانی:** صدقہ کرنے سے اپنے نفس کی نگرانی کرنے کا موقع ملتا ہے۔

یہ تعلیمات اسلامی عقائد پر مبنی ہیں جو صدقہ دینے کے فضائل کو نمایاں کرتے ہیں۔


رومی کی کہانیوں میں ایک دلچسپ حکایت ہے جو صدقہ دینے کی اہمیت پر مبنی ہے۔ یہ کہانی آپ کو مشہور شاعر و فلسفی مولانا جلال الدین رومی کی مثنوی معنوی سے ملتی ہے:

ایک دن ایک روزگاری میں رہنے والا شخص اپنے دوست کے پاس گیا اور اپنی مشکلات بیان کرنے لگا۔ وہ کہنے لگا کہ زندگی مشکلات سے بھرپور ہے اور وہ اپنے حالات کو نہیں سنبھال سکتا۔ اس دوست نے اُس سے کہا کہ تو مولانا رومی کے پاس جا کر اپنی مشکلات بیان کرے، شاید وہ تجھے راہ دکھا سکیں۔

شخص نے دوست کی رائے پر عمل کیا اور مولانا رومی کے پاس پہنچا۔ وہ اپنی پریشانیاں رومی کے سامنے رکھ دی، جب وہ پریشانیاں سن رہے تھے تو رومی نے ایک چھتری لے لی اور اسے اوپر اٹھایا۔

رومی نے کہا: "جب تو چھتری کے تحت ہوتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟"

شخص نے جواب دیا: "میں خشک نہیں ہوتا، بارش سے محفوظ رہتا ہوں۔"

رومی نے مسکرا کر کہا: "وہی حال ہے جب تو صدقہ دیتا ہے، تو اپنی روزی کے امور کو اللہ کی حفاظت میں کر دیتا ہے۔"


Sunday, 30 July 2023

جنت کے باغ دنیا میں Garden of Paradise in the World

 


جنت کے باغ دنیا میں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جنت کے باغوں سے گزرو تو تم  ( کچھ )  چر، چگ لیا کرو - لوگوں نے پوچھا رياض الجنة کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ذکر کے حلقے اور ذکر کی مجلسیں - الحدیث ترمذی 3510نمبر

یہاں میرے دل پر ایک راز ظاھر ہوا جب عام مسلمان ذکر کی محفل سجاتے ہیں ذکر اللہ کی حلقے لگاتے ہیں تو اس جگہ اور مقام کو حدیث میں جنت کے باغ قرار دیا گیا اور وہاں رک کر کچھ حصہ چگ لینے کی ترغیب دلاٸی گٸی ہے اور یہ عام مسلمانوں کی مجلس ذکر اللہ کچھ وقت جاری رہ کر اختتام پزیر ہوتی ہے گویا جنت کا باغ واپس جنت کی طرف چلاجاتا ہے اور جب کبھی دوبارہ محفل ذکر اللہ شروع ہوتی ہے دوبارہ وہی جگہ جنت کا باغ بن جاتی ہے اسیطرح اللہ کے نیک بندے جنکو ولی اللہ سے جانتے ہیں وہ حضرات مسلسل ذکر اللہ میں مشغول ہوتے ہیں ہر سانس اور قلب سے انکا ذکر اللہ جاری ہوتا ہے گویا انکے پاس جنت کا باغ ہر وقت ہوتا ہے اور جب دنیا سے چلے جاٸیں تو انکا قلب زندہ اور مسلسل ذکر میں انکی روح فکر  میں ہوتی اور مزرات اولیإ اللہ پر حاضر ہونا حدیث پاک کی روح سے گویا جنت کے باغ میں داخل ہونا ہے اس وجہ سے مزارات اولیأ اللہ حاضری جاٸز اور انکے ذکر سے اپنا بھی حصہ حاصل کرنے کا سبب اور ذریعہ ہے

محمد عظیم شاہ یوسفی
قادری چشتی فریدی صابری
١١ محر الحرام ١٤٤٥ ھجری٢٠٢٣ عیسوی

جنات کی ہم نشینی کے نقصانات

  شیخ اکبر نے فتوحات مکیہ میں جنات کی ہم نشینی کے نقصانات  بیان کیے ہیں۔ 1. روحانی مرتبے میں تنزلی جنات کی صحبت اختیار کرنے والا شخص اُن عار...