Friday, 25 October 2024

نیکیوں کا خزانہ جنت کا حصول



             ثواب کے خزانے جنت کا داخلہ
 

قیامت تک فرشتے نیکیاں لکھتے رہیں گے قیامت میں اللہ کے ولیوں کی جماعت کے ساتھ شامل کر دیا جائے گا اور بے غم بے خوف جنت میں داخل ہوگا 

حضرت علامہ عبد الرحمن صفوری رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو اپنی مایہ ناز تصنیف نزھتہ المجالس میں نقل کیا ہے اور اسکے علاوہ صلحاء امت اسکو بیان کرتے چلے آئیں ہیں 

عمل کچھ اس طرح ہے کہ جو مسلمان نماز فجر کے بعد جب ایک گنٹھہ گزر جائے اسکو نماز چاشت کا وقت کہتے ہیں فجر کی نماز کا وقت ختم ہونے کے 20 منٹ بعد نماز اشراق پڑھی جاتی ہے اور کم و بیش ایک ڈیڑھ گنٹھے بعد چاشت پڑھی جاتی ہے بہرحال جب چاشت کا وقت ہوجائے مثلا اگر صبح سورج 7 بجے نکل گیا اور فجر کا ٹائم ختم ہوگیا اسکے ایک گنٹھہ بعد 8 بجے چاشت کی نماز کا وقت شروع ہوگا 

وضو کرے اور بارہ رکعت نماز چاشت کی نیت کرے اور دو دو رکعت کے ساتھ بارہ رکعات پڑھے اور ہر رکعت میں سورة الفاتحہ  کے  بعد ایک بار آیتہ  الکرسی اور تین بار سورة الاخلاص پڑھے اور بعد نماز دعا کرے ۔

اسکی فضیلت یہ بیان کی گئی کہ اس عمل کرنے والے کے پاس ساتوں آسمانوں سے فرشتے اترتے ہیں ہر آسمان سے ستر ہزار فرشتے نازل ہوتے ہیں اور ہر ایک فرشتہ کے پاس سفید کاغذ اور نورانی قلم ہوتے ہیں اور وہ سب اسکی نیکیاں اور ثواب لکھنا شروع کر دیتے ہیں اور یہ فرشتے قیامت تک اس مسلمان کی نیکیاں اور ثواب لکھتے رہیں گے اور جب قیامت کا دن قائم ہوگا یہ سب فرشتے اسکی قبر پر حاضر ہونگے اور ان فرشتوں کے ہاتھوں میں لباس ہونگے اور تحائف ہونگے اس بندہ مومن کو آواز دیکر قبر اٹھائیں گے اور وہ لباس و تحائف اسکو پیش کرئیں گے اور کہیں گے چل اور بے خوف اور بے غم لوگوں میں داخل ہوجا اور جنت میں داخل ہوجا۔ الا ان اولیاء اللہ لا خوف علیھم ولاھم یحزنون اللہ کے ولیوں کو نہ کوئی خوف ہے اور نہ ہی وہ غمگین ہونگے ۔ مطلب اس بندے کو بزرگوں میں ساتھ کرکہ جنت میں داخل کیا جائے گا۔

سبحان اللہ اس قدر فضیلت والی نماز ہے اسکو زندگی میں بار تو ضرور ادا کرنا چاہئے اور اگر  اللہ توفیق دے تو ہر ہفتے یا ہر ماہ ایک بار ضرور پڑھنا چاہئے انشاء اللہ قبر و آخرت میں نیکوں کا خزانہ جمع ہوجائے گا اور جنت الفردوس میں داخلہ آسان ہوجائے گا فبای الاء ربکما تکذبان

اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کوجھٹلاو گے واقعی یہ نماز اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے اتنی کم محنت پر اتنی زیادہ نیکیاں اور رحمت اللہ عزوجل عطا فرما رہا ہے اللہ تعالی ھم سب کو مرنے سے پہلے قبر و آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ النبی الامین الکریم والہ واصحابہ اجمعین ۔


محمد عظیم شاہ یوسفی

قادری چشتی فریدی صابری

1446ھجری 2024 عیسوی شب جمعہ


Thursday, 24 October 2024

الخلق عیال اللہ ( مخلوق اللہ کی عیال(_زیر کفالت) ہیں)



الخلق عیال اللہ


 مخلوق اللہ کی عیال(_زیر کفالت) ہیں 

وعنه وعن عبد الله قالا: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الخلق عيال الله فاحب الخلق إلى الله من احسن إلى عياله» . روى البيهقي الاحاديث الثلاثة في «شعب الإيمان»

ترجمہ

انس اور عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”مخلوق اللہ کی عیال (زیر کفالت) ہے، اور مخلوق میں سے وہ شخص اللہ کو زیادہ پسند ہے جو اس کی عیال سے اچھا سلوک کرتا ہے۔ “

 امام بیہقی نے تینوں احادیث شعب الایمان میں بیان کی ہیں۔ اسنادہ ضعیف جذا، رواہ البیھقی فی شعب الایمان۔

جس کو خلق خدا سے جس قدر محبت اور الفت ہوگی وہ خالق کے بھی اتنا ہی قریب ہوگا جسکو یہ معلوم کرنا ہو کہ وہ خالق کائنات کے کتنا قریب ہے وہ یہ دیکھ لے کہ اسکو خلق خدا سے کتنی محبت ہے۔

دین کے بھی تین حصے ہیں ایک حکم یعنی شریعت دوسرا عقیدہ صحی کا ہونا اور اسکے بعد سب سے اھم اخلاق 

آپکا اخلاق خلق اللہ کے ساتھ جیسا ہے آپ کا مقام اسی انداز میں رب کی بارگاہ میں ہے 

داتا صاحب کشف المحجوب میں فرماتے ہیں کہ سارے کا سارا تصوف و طریقت روحانیت دو چیزوں میں ہے ایک سفر میں travelling اور دوسرے اخلاق میں ہے

اخلاقیات میں سے یہ بھی ہے کہ جب اپنے پیر بھائی سے ملو اسکا دیدار کرو تو اس طرح کرو گویا آپ اپنے مرشد کا دیدار کر رہے ہو کیونکہ انسان کا اس دنیا میں ایک مقصد ہوتا ہے مطلب نہیں ہوتا مطلب تو جانوں کا ہوتا ہے کہ کھانا کھانا چھینا اور نسل بڑھا نا اور انسانوں کا اس دنیا میں مقصد ہوتا ہے اور وہ مقصد اعلی ہوتا ہے کہ اس دنیا میں رضا الہی ایمان کی سلامتی کا حصول جو مقصد کو لیکر چلتا ہے اسکا اخلاق خود بخود مخلوق کے ساتھ اچھا ہوجاتا ہے 

اخلاقیات یہ ہیں کہ لوگوں سے اختلاف رائے رکھو مگر ذاتی دشمنی حسد کینہ بغض نہ رکھو اگر یہ ساری چیزئیں مخلوق کے لئے بلا وجہ رکھے گا تو وہ سمجھ لے کہ اس نے روحانیت اور طریقت میں قدم ہی نہیں رکھا  جو یہ برائی دور نہ کرے وہ اس راہ سے الگ ہوجائے اور اگر رہنا ہے تو اس برائیوں کو دور کردے تیاک دے دے 

قد افلح من تذکیٰ  جس نے اپنا تذکیہ کیا اس نے فلاح پائی

فلاح کیا ہے فلاح و سلامتی قبر میں نبی پاک کی محبت اور عشق کا غلاف ہے جس میں جو بھی چھپ جائے وہ قبر و آخرت میں سلامتی پاجاتا ہے 

کسی یہودی نے مولا علی سے سوال کیا کے انسان کی حسن کی اتنی تعریف قران میں آئی مگر مرتا ہے تو کیڑے کھاجاتے ہیں یہ کیا بڑائی ہوئی آپ نے یہودی کو فرمایا یوسف علیہ السلام نے گندم کے دانوں کو انکی شاخوں کے ساتھ سات سال تک گوداموں میں رکھا وہ خراب نہیں ہوۓ کیونکہ جب گندم کو اسکی شاخوں سمیت رکھو تو وہ خراب نہیں ہوتے یہودی بولا میں انسان کا پوچھ رہا ہوں اور آپ گندم کے خوشوں کا بتارہے ہیں کہ انکو یوسف علیہ السلام نے غلاف گندم میں سات سال رکھا اور وہ خراب نہیں ہوۓ عجیب بات ہے مولا علی علیہ السلام نے فرمایا یہی تو تیرا جواب ہے ہر انسان کو کیڑے مکوڑے نہیں کھاتے نہ قبر کی مٹی کھاتی ہے اور وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو نبی پاک علیہ السلام کی محبت کے غلاف میں لپیٹ لیتے ہیں اس غلاف محبت میں داخل ہوجاتے ہیں وہ بھی کیڑے مکوڑوں اور قبر کی مٹی کی خوراک نہیں بنتے 

اور اللہ کے نبی علیہ السلام کو جس پانی سے غسل دیا گیا وہ اللہ نے آسمانوں کی طرف اٹھا لیا اور وہ بادل بنکر جہاں جہاں روۓ زمین پر برسا وہاں وہاں قیامت تک مسجدئیں بن گئیں بس بندہ مومن جو فلاح پانے والا صاحب اخلاق ہوتا ہے وہ اللہ رسول عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں نیک جگہوں پر حاضری دیتا رہتا ہے جس میں مساجد سر فہرست ہیں وہ کوشش کرتا ہے دنیا کی ساری مساجد میں ایک بار ضرور حاضری دے الحمد للہ نبی پاک علیہ السلام کے آخری غسل کے بارش کے قطرے پوری دنیا پر جاکر برسے ہیں اور جہاں جہاں انکے نور کے قطرے گرے اور برسے ہیں وہاں وہاں انکی امت کا ایک ولی اپنی مزار میں آرام فرمارہا ہے اور اس نور اور ذکر کی برکت سے وہ جگہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنی ہوئی ہے اب مومن مسلمان پر ہے کے وہ نبی علیہ السلام کے غسل مبارک کے پانی سے بنی مساجد اور انکے نور سے بنے مزارات اولیاء سے کس قدر فیض حاصل کرتا ہے خلق خدا سے کس قدر پیار کرتا ہے اور اپنے اخلاق کو کس قدر بلندی پر لیجاکر قرب خدا میں بلند مرتبہ پاجاتا ہے۔

محمد عظیم شاہ یوسفی

قادری چشتی فریدی صابری

1446ھجری 2024 عیسوی


Monday, 7 October 2024

اللہ سے مغفرت و بخشش حاصل کرلو


اللہ سے مغفرت و بخشش ملے جہنم کی آگ سے آزادی پانے کےلئے تین عمل اور اپنے پیاروں کواللہ سے بخشوالو 

جو مسلمان اپنی زندگی میں کوشش کرے اور وقت نکالے اور اللہ کی محبت اور رضا حاصل کرنے کے لئے اور مغفرت و بخشش پانے کے لئے جہنم کی آگ سے آزادی حاصل کرنے کے لئے اور اللہ کا آزاد کردہ بندہ جہنم کی آگ سے بننے کے لئے اگر یہ تین عمل کرلے تو اس کو یہ فضائل اللہ کی رحمت سے حاصل ہوجائیں گے نمبر ایک وہ اپنی زندگی میں گن گن کر ستر ہزار بار کلمہ شریف لا الہ الا اللہ کو لازمی پڑھ لے اس کہ علاوہ وہ قرآن پاک کی ایک سو باہویں سورہ یعنی سورہ اخلاص قل ھو اللہ احد اللہ الصمد لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفوا احد کو ایک لاکھ بار ضرور پڑھ لیں اور اسکے بعد تیسری چیز ہے درود شریف درود شریف کوئی بھی ہوجو آپکو پسند ہو یا آپکے مرشد نے دیا ہو سلسلہ کا درود ہو بس جو بھی آپکو اچھا لگے اس درود شریف کو سوالاکھ مرتبہ ضرور پڑھ لیں اپنی زندگی لازمی کرلیں ساری زندگی میں یہ تینوں اعمال کرنے کی نیت کرلیں اور اللہ سے دعا بھی مانگ لیں کہ یا اللہ مجھے اسوقت تک موت نہ دینا جب تک میں یہ تینوں اعمال اپنی زندگی میں پورے نہ کرلوں اللہ سچے دل سے کی ہوئی دعا کو ضرور قبول فرمائے اور ان تینوں اعمال کرنے کی توفیق ضرور عطا فرمائے گا۔ اسکے علاوہ اگر کوئی مسلمان یہ چاہے کہ میرے والد والدہ میرے نانا نانی دادا دادی یا میرے کسی قریبی خونی رشتہ دار کو یا کسی دل کے یار کو اللہ اسکی موت کے بعد بخش دے معاف فرمادے اور جہنم سے اسکو آزادی دے تو اس کی نیت کرلے اور ان اعمال کو پورا کرلے اور اسکو ھدیہ کردے اللہ اس پر کرم فرمادے گا اور اگر کسی مسلمان کا اللہ نہ کرے یہ علم ہوجائے کہ اس پر عذاب ہورہا ہے تو اسکا کوئی خونی رشتہ دار اسکے لئے یہ اعمال کرے انشاء اللہ اسکو معاف فرمادے گا۔ اسی طرح ان اعمال کو چند لوگ مل کر بھی کرسکتے ہیں اور اسکا ھدیہ کسی خاص مرحوم کو پیش کرسکتے ہیں یا سب مسلمانوں اور مومنین و مومنات کو ھدیہ پیش کرسکتے ہیں اسی طرح مشکلات اور پریشانی کو ختم کرنے کے لئے بھی اجتماعی طور پر اسکا ختم کیا جاسکتا ہے جس طرح آیت کریمہ کا سوالاکھ کا ختم کروایا جاتا ہے۔ اجتمائی ختم جو کروائے گا اسکو آجازت لینا اپنے پیر سے یا کسی ولی کامل سے جنکا سلسلہ نبی پاک تک متصل ہو ضروری ہے ۔

محمد عظیم شاہ یوسفی 

قادری چشتی فریدی صابری

1446ھجری 2024 عیسوی کراچی پاکستان باحیات

  

Thursday, 25 July 2024

درخت لگاو زندگی بچاو آخرت بناو

 

درخت لگاو زندگی بچاو  آخرت بناو 

اگر انڈونیشیا کے دو بوڑھے میاں بیوی  باوجود بڑھاپے کے دس لاکھ درخت لگا سکتے ہیں  اور اقوام متحدہ انہیں  امریکہ بلوا کر اُن کی خدمات کا اعتراف کرتے ہیں ؟؟

اگر انڈیا کا غریب سائیکل والا بابا اپنے علاقے کے  1000 کنال کےوسیع رقبے کو ایک گھنے جنگل میں تبدیل کر کے  گینیز بُک آف ولڈ ریکارڈ میں اپنا نام درج کروا سکتا ھے ۔ یہاں تک کہ اس کے علاقے کی خوبصورتی دیکھ کر سنگا پور کے نایاب خوبصورت پرندے  سنگا پور جیسے خوبصورت خطے کو چھوڑ کر اسکے علاقے کو  رونق بخشتے ہیں ؟؟؟

اگر جنوبی افریقہ کے دو دوست  پہلے سے موجود زوما کے جنگل جیسا ایک اور جنگل اُگا سکتے ہیں جو ہمارے چھانگا مانگا سے دوگناہ ھے ؟؟؟

تو تُم پاکستانی  بھائیو میرے بچو اور بیٹیو ایسا کیوں نہیں کر سکتے ؟؟؟ جن کا دین و مذہب بھی ایسی سرگرمی کی حمایت کرتا ہے، ہمارے محبوب آخری نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی کئی احادیث شجر کاری سے متعلق ہیں،ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ اگر تمارے ہاتھ میں پودا ہو اور ساتھ ہی دنیا کا آخری وقت آن پہنچے یعنی قیامت کا اعلان ہو جائے پھر بھی جو پودا تمارے ہاتھ میں ھے اسے لگا دو۔

درخت لگانا ان نیک اعمال میں سے ہے جسکا ثواب مرنے کہ بعد بھی قبر میں ملتا رہتا ہے یہ صدقہ جاریہ ہے 

ہر پاکستانی اگر صرف ایک درخت بھی لگائے اسکی دیکھ بھال کرلے کب تک جب تک وہ چھوٹا ہے تو ملک میں 30 یا 40/کروڑ درختوں کا اضافہ ہوجائے گا۔  اور ہر سال اگر ایک درخت لگائے تو کس قدر گنہ اور سر سبز ہوجائے گا ملک درخت اپنے لگانے والے کے لئے دعائیں کرتا ہے کیونکہ یہ زندہ ہوتے ہیں اور جو مخلوق ان درختوں پر گھر بناتی ہے وہ بھی لگانے والے کہ لئے دعائیں کرتی ہے اور بے زبان بے گناہ مخلوق کی دعائیں اللہ آپکے حق میں قبول فرماتا ہے ان درختوں کہ پھل پھول چھال پتوں سے جو انسان جانور فائدہ لیتے ہیں وہ اپکے دفتر اعمال نیک میں درج ہوتا رہتا ہے اور جو لوگ اسکے سائے سے سکون پاتے ہیں اللہ تعالی لوگوں کو سکون کا ذریعہ بننے کی وجہ سے آپکو قبر اور آخرت میں سکون بخش دیتا ہے اس درختوں کی وجہ سے انسانوں کی زندگی محفوظ ہوتی اللہ تعالی آپکو بھی بلاوں سے محفوظ رکھتا ہے  اور عمل سے آپکے رزق و مال میں بہت اضافہ ہوتا ہے ایک راز کی بات بھی بتا دیتا ہوں اگر پاک صاف با وضو درخت کو لگاو گے اس پر نیک جنات آکر عبادت اور تلاوت کرئیں گے اور ان سب کا ثواب آپکو خود بخوملے گا اگر آپکے والدین فوت ہوگئے ہیں انکے ایصال ثواب کی نیت سے شجر کاری کرئیں اللہ تعالی انکو ثواب عطا فرتا رہے گا آپ درختوں کو بچوں کی طرح سمجھ کر پالو گے اللہ آپکی نسلوں کو پالنے کے انتظام کرے گا غور کرو تم جو پانی پیتے ہو دنیا والوں وہ بھی سدرة المنتہی کی جڑوں سے نکل کر نیل و فرات دریا کی صورت میں جاری ہے اور درخت کو سدرة المنتہی کے بیری کہ درخت سے نسبت ہے وہ بھی درخت ہے اور جو آپ لگارہے ہو وہ بھی درخت سوچیں درخت کا مسلمان سے کیسا خاص رشتہ ہے نسبت ہے جنت میں بھی ہریالی ہی ہریالی ہے درخت ہی درخت ہیں اور سدرة المنتہی بھی درخت ہے دنیا میں بھی مسلمانوں کوجنت کا سماء بناکر خوب درخت لگا کر جنت نما بنانا چائیے باقی درخت فیزیکلی انسانوں کو کس طرح پروٹیک کرتے وہ ایک لمبی لسٹ ہے ھمارے زندہ رہنے کی بڑی سورسس میں پودے اور درخت ہی آتے ہیں آدم علیہ السلام نے بھی آکر گندم کا درخت لگایا  آئیں ھم سب ملک کر دعا کرتے ہیں کہ ھم آپنی زندگی میں زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں گے پھل دار بھی اور بغیر پھل والے بھی لگائیں گے انشاء اللہ اللہ تعالی ھم سب کو عمل کی توفیق دے

محمد عظیم شاہ یوسفی

Thursday, 11 July 2024

دعا قطب دعا کافی شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ

 


دعا قطب دعا کافی

 شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ

یہ دعا شیخ عبد القادر جیلانی غوث الاعظم رحمتہ اللہ علیہ کو انکی امی جان سیدہ ام الخیر رحمتہ اللہ علیھا نے بچپن میں سکھائی تھی جو اسکو گیارہ بار  یا ایک سو گیارہ بار دین دنیا کہ جس مقصد سے پڑھے گا وہ پورا ہوگا  دنیا و آخرت کے تمام کام  اللہ تعالی خود بخود انجام دے گا اسکو کچھ نہیں کرنا پڑے گا ہر کام میں اللہ کفالت کرنے لگے گا اللہ کافی ہوجائے گا ہر حالات میں کہتے ہیں جسکا رب اسکا سب  شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ اپنے بیٹوں سے فرماتے ہیں کہ میری عمر اب 90 سال ہوگئی بڑھاپے کی وجہ سے میں اب وظائف نہیں پڑھتا مگر یہ وظیفہ گیارہ بار ہر نماز کے بعد ابھی بھی پڑھتا ہوں اور مجھے ولایت میں جلد ترقی بھی اسکی ہی برکت سے ملی ہے جن لوگوں کو میں نے یہ وظیفہ بتایا اور انہوں نے پڑھا انکو غوث پاک رحمتہ اللہ علیہ  کا دیدار بھی نصیب ہوا ہے روحانی فوائد میں اسکے یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ پڑھنے والے کی روح قوی ہوجاتی ہے اور عالم خواب میں روحانی معاملات جاری ہوجاتے ہیں اور خواب میں مختلف حالات و واقعات کا مشاھدہ کرنے لگتا ہے بحر کیف اسکی برکت سے دنیا آخرت کے ہر ہر معاملات میں بندے کے لئے اللہ کافی ہوجاتا ہے اولیا ء کرام مشائخ کرام پیران عظام اسی دعا کی برکت سے اپنے مریدوں کو سنبھالتے اور انکی دستگیری کرتے ہیں 

اجازت لینی ہو تو اس نمبر پر میسج کرکہ لیں

                                                    +923122989983

محمد عظیم شاہ یوسفی

قادری چشتی فریدی صابری

1445ھجری 2024

Monday, 24 June 2024

رزق روزی مال و دولت کا وظیفہ



رزق روزی مال و دولت کا وظیفہ

یہ ورد      لا ملجاء ولامنجاء من اللہ الا الیہ

اسکو ایک مٹھی کجھور کے بیج لیکر ایک تھیلی میں ڈال دیں اور ایک ہرے رنگ کے کپڑے کا ٹکڑا لیکر اسکو بچھالو بعد نماز عصر اول آخر 55 بار دورد و سلام کے ساتھ پڑھنا ہے اور جب کجھور کے دانے پورے ہوجائیں اور دل چارہا ہو پھر کرو تو پھر وہ دانے ختم کرئیں پھر دل چاہے پھر ختم کرلیں جب دل کو سکون مل جائے پھر درود پڑھ لیں اور بعد عصر ہی ہوگا اور اگر کئی لوگ یا گھر کے افراد مل کر کرئیں تو سب کی ایک ایک مٹھی کجھور کے دانے لیں لو اور سب کو تھیلی میں رکھ لو ۔ اسکا ترجمعہ ہے اللہ کے سواء کوئی پشت پناہ اور نجات دہندہ نہیں ہے 

محمد عظیم شاہ یوسفی

قادری چشتی فریدی صابری

1445ھ 2024


جنات کی ہم نشینی کے نقصانات

  شیخ اکبر نے فتوحات مکیہ میں جنات کی ہم نشینی کے نقصانات  بیان کیے ہیں۔ 1. روحانی مرتبے میں تنزلی جنات کی صحبت اختیار کرنے والا شخص اُن عار...