This blog provides Islamic information, provides information about Islamic historical places, Islam gives benefits, explains the methods of health and well-being, and also explains the treatment of physical and spiritual ailments. Explains the secrets of saints' breasts Email for more information and contact azeemshahyousufi@gmail.com whatsapp No calls +923122989983
Wednesday, 25 September 2019
Friday, 13 September 2019
آیت شفاء
قرآن مجید شفا ہے:
اللہ تعالی نے قرآن مجید کو درج ذیل تین مقامات پر شفا ارشاد فرمایا ہے:
یٰأَیُّھَاالنَّاسُ قَدْ جَائَ تْکُمْ مَّوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَشِفَائ’‘ لِّمَا فِیْ الصُّدُورِ (یونس57)
’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک نصیحت اور دلوں کی بیماریوں کی لئے شفا آگئی ہے۔‘‘
وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا ھُوَ شِفَائ’‘ وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ وَلاَ یَزِیْدُ الظَّالِمِیْنَ إِلاَّ خَسَارًاO (بنی اسرائیل82)
’’اور ہم قرآن میں جو کچھ نازل کرتے ہیں وہ مومنوں کے لئے شفاء ہے مگر ظالموں کے لئے یہ قرآن خسارے کے علاوہ کسی چیز میں اضافہ نہیں کرتا۔ ‘‘
قُلْ ھُوَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ھُدًی وَّشِفَاء
’’(اے محمدe) کہہ دیجئے، یہ قرآن ایمان لانے والوں کے لئے ہدایت اور شفا ہے۔‘‘ (حم السجدہ 44)
قرآن مجید انسان کی تمام روحانی بیماریوں مثلا شرک، کفر، نفاق، ریا، حسد، بغض، کینہ، عداوت وغیرہ کے لئے تو بدرجہ اولی شفا ہے۔ جیسا کہ سورہ یونس کی آیت میں وضاحت کے ساتھ موجود ہے لیکن سورہ بنی اسرائیل اور سورہ حم السجدہ کی آیت میں قرآن مجید کو مطلق شفا ارشاد فرمایا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید جسمانی بیماریوں کے لئے بھی شفا ہے۔ بہت سی احادیث بھی اس کی تصدیق کرتی ہیں۔ روحانی بیماریوں کے لئے شفا کا ذکر تو گزشتہ صفحات میں ہو چکا ہے۔ اب ان سطور میں ہم جسمانی بیماریوں کے لئے شفا کا ذکر کریں گے۔
ہم یہاں صرف ایسے امراض کا ذکر کریں گے جن کا علاج احادیث صحیح سے ثابت ہے۔
اللہ تعالی نے قرآن مجید کو درج ذیل تین مقامات پر شفا ارشاد فرمایا ہے:
یٰأَیُّھَاالنَّاسُ قَدْ جَائَ تْکُمْ مَّوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَشِفَائ’‘ لِّمَا فِیْ الصُّدُورِ (یونس57)
’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک نصیحت اور دلوں کی بیماریوں کی لئے شفا آگئی ہے۔‘‘
وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا ھُوَ شِفَائ’‘ وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ وَلاَ یَزِیْدُ الظَّالِمِیْنَ إِلاَّ خَسَارًاO (بنی اسرائیل82)
’’اور ہم قرآن میں جو کچھ نازل کرتے ہیں وہ مومنوں کے لئے شفاء ہے مگر ظالموں کے لئے یہ قرآن خسارے کے علاوہ کسی چیز میں اضافہ نہیں کرتا۔ ‘‘
قُلْ ھُوَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ھُدًی وَّشِفَاء
’’(اے محمدe) کہہ دیجئے، یہ قرآن ایمان لانے والوں کے لئے ہدایت اور شفا ہے۔‘‘ (حم السجدہ 44)
قرآن مجید انسان کی تمام روحانی بیماریوں مثلا شرک، کفر، نفاق، ریا، حسد، بغض، کینہ، عداوت وغیرہ کے لئے تو بدرجہ اولی شفا ہے۔ جیسا کہ سورہ یونس کی آیت میں وضاحت کے ساتھ موجود ہے لیکن سورہ بنی اسرائیل اور سورہ حم السجدہ کی آیت میں قرآن مجید کو مطلق شفا ارشاد فرمایا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید جسمانی بیماریوں کے لئے بھی شفا ہے۔ بہت سی احادیث بھی اس کی تصدیق کرتی ہیں۔ روحانی بیماریوں کے لئے شفا کا ذکر تو گزشتہ صفحات میں ہو چکا ہے۔ اب ان سطور میں ہم جسمانی بیماریوں کے لئے شفا کا ذکر کریں گے۔
ہم یہاں صرف ایسے امراض کا ذکر کریں گے جن کا علاج احادیث صحیح سے ثابت ہے۔
Tuesday, 12 February 2019
لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ سب سے افضل ذکر (70000 کا نصاب)
سب سے افضل ذکر
فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ ہے:”اَفْضَلُ الذِّكْرِ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللَّهُ وَاَفْضَلُ الدُّعَاءِ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ سب سے افضل ذکر لَا اِلٰهَ اِلَّا اللَّهُاور سب سے بہترین دعا اَلْحَمْدُ لِلَّهِ ہے۔“ (ابن ماجہ،ج 4،ص247،حدیث:3800)
لَا اِلٰهَ اِلَّا اللَّهُ سے مراد پورا کلمہ شریف ہے یعنی مع مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اﷲ کے، ورنہ صرف لَا اِلٰهَ اِلَّا اللَّهُ تو بہت سے مُوَحِّد کفار بلکہ ابلیس بھی پڑھتا ہے، وہ مشرک نہیں مُوَحِّد ہے۔ جس چیز سے مؤمن بنتے ہیں وہ ہے مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اﷲ ،چونکہ کلمہ شریف سے کفر کی گندگی دور ہوتی ہے،اسے پڑھ کر کافر مؤمن ہوتا ہے، اس سے دل کی زنگ دور ہوتی ہے،اس سے غفلت جاتی ہے،دل میں بیداری آتی ہے، یہ حمدِ الٰہی و نعتِ مُصْطفوی کا مجموعہ ہے، اس لیے یہ اَفْضَلُ الذِّکْر ہوا۔ صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ صفائی دل کے لیے کلمۂ طیبہ اِکْسِیر ہے۔(مراٰۃ المناجیح،ج3 ،ص342)
ستّر ہزار (70000)بار کلمۂ طیبہ پڑھنے کی فضیلت
حضرت سیدنا شیخ مُحْیُ الدِّین ابنِ عربی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:مجھے یہ حدیثِ پاک پہنچی تھی:”مَنۡ قَالَ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ سَبۡعِيۡنَ اَلۡفًا غُفِرَ لَهٗ وَمَنۡ قِيۡلَ لَهٗ غُفِرَ لَهٗ اَيۡضًا یعنی جو شخص ستر ہزار بار لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ پڑھے اس کی مغفرت کردی جائے گی اور جس کے لئے پڑھا جائے اس کی بھی مغفرت ہوجائے گی۔“ میں نے اتنی مقدار میں کلمۂ طیبہ پڑھا ہوا تھا، لیکن اس میں کسی کے لئے خاص نیت نہ کی تھی۔ایک مرتبہ میں اپنے دوستوں کے ساتھ ایک دعوت میں شریک ہوا۔اس دعوت کے شرکاء میں سے ایک نوجوان کے کشف کا بڑا شُہرہ تھا۔کھانا کھاتے کھاتے وہ نوجوان رونے لگا۔میں نے سبب پوچھا تو اس نے کہا:میں اپنی والدہ کو عذاب میں مبتلا دیکھتا ہوں۔میں نے دل ہی دل میں کلمے کا ثواب اس کی ماں کو بخش دیا۔وہ نوجوان فوراً ہی مسکرانے لگا اور کہا:اب میں اپنی ماں کو بہترین جگہ دیکھتا ہوں۔
حضرت سیدنا شیخ مُحْیُ الدِّین ابن عربی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرمایا کرتےتھے:”میں نےحدیث کی صحت کو اس نوجوان کے کشف کے ذریعے اور اس نوجوان کے کشف کی صحت کو حدیث کے ذریعے پہچانا۔“(مرقاۃالمفاتیح،ج3،ص222)
ڈر تھا کہ عصیاں کی سزا، اب ہوگی یا روزِ جزا
دی ان کی رحمت نے صدا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
(حدائقِ بخشش،ص110)
Monday, 7 January 2019
مراقبہ سے اصلاح لطائف
لطائف عالم امر کی اصلاح کا دوسرا طریقہ مراقبہ ہے۔ جس کامطلب یہ ہے کہ ذکر اور رابطہ شیخ کے سوا تمام خیالات و خطرات سے دل کو خالی کرکے رحمت الٰہی کا انتظار کیا جائے۔ اسی انتظار کا نام مراقبہ ہے۔ چونکہ فیض و رحمت الٰہی کا نزول لطائف پر ہوتا ہے اس لئے لطائف کی مناسبت سے ان مراقبات کے نام بھی جدا جدا اور انکی نیات بھی مختلف ہیں۔
سبق دہم: مراقبہ احدیت
مراقبہ احدیت کی نیت کرتے وقت سالک دل میں یہ پختہ خیال رکھے کہ میرے لطیفہ قلب پر اس ذات والاصفات سے فیض آرہا ہے جو اسم مبارک اللہ کا مسمیٰ (مصداق) ہے۔ وہی جامع جمیع صفات کمال ہے اور ہر عیب و نقص سے پاک ہے۔ یہ خیال کرکے فیض الٰہی کے انتظار میں بیٹھ جائے۔ اس مراقبہ سے سالک کو حق تعالیٰ کا حضور اور اسکے ماسوا سے غفلت حاصل ہوتی ہے۔
فائدہ: مراقبہ احدیت کے بعد ولایت صغریٰ کے مراقبات مشارب کا مقام آتا ہے جسے دائرہ ممکنات بھی کہا جاتا ہے۔ اس قسم کے مراقبات مشارب پانچ ہیں۔ ان میں سے ہر ایک لطیفہ کا مراقبہ کرتے وقت سالک کو چاہئے کہ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم تک اپنے سلسلہ کے تمام مشائخ کے ان لطائف کو اپنے لطیفہ کے سامنے تصور کرکے یہ خیال کرے کہ اس لطیفہ کا خاص فیض جو بارگاہِ الٰہی سے حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کے اس لطیفہ مبارک میں آرہا ہے، بترتیب مشائخ سلسلہ عالیہ کے، اسی لطیفہ سے ہوتا ہوا میرے اس لطیفہ میں پہنچ رہا ہے۔ نیز جاننا چاہئے کہ ان میں سے ہر ایک لطیفہ کا اثر و فائدہ دوسرے سے مختلف ہے۔ اسلئے جب تک پہلے والے لطیفہ کا اثر سالک کے لطیفہ میں محسوس نہ ہو، دوسرا مراقبہ شروع نہ کیا جائے۔ ورنہ سلوک کا اصل مقصد یعنی مقام فنا تک رسائی نصیب نہ ہوگی۔
مراقبات مشارب
سبق یازدہم: مراقبہ لطیفہ قلب
اس مراقبہ میں سالک اپنے لطیفہ قلب کو حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کے لطیفہ قلب کے بالکل سامنے تصور کرکے زبانِ خیال سے بارگاہِ الٰہی میں یہ التجاکرے ”یا الٰہی تجلیات افعالیہ کا وہ فیض جو آپ نے ہمارے آقا و مولیٰ صلّی اللہ علیہ وسلم کے لطیفہ قلب سے حضرت آدم علیہ السلام کے لطیفہ قلب میں القا فرمایا ہے وہ حضرات پیران کبار کے طفیل میرے لطیفہ قلب میں القا فرما۔“
فائدہ: سالک کو جب لطیفہ قلب کی فنا حاصل ہوجاتی ہے تو اپنے افعال بلکہ تمام مخلوق کے افعال کو حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ کے افعال کا اثر و پرتو سمجھنے لگتا ہے اور کائنات کی تمام ذات و صفات کو حق تعالی کی ذات و صفات کا مظہر سمجھتا ہے اور اسکا قلب دنیا کی خوشی خواہ غم سے متاثر نہیں ہوتا۔ یہ اسلئے ہے کہ اسوقت اسے فاعل حقیقی یعنی اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے سوا کسی اور کا فعل نظر ہی نہیں آتا۔
سبق دوازدہم: مراقبہ لطیفۂ روح
اس مراقبہ کے وقت سالک اپنے لطیفۂ روح کو آنحضرت سرور عالم صلّی اللہ علیہ وسلم کے لطیفہ روح کے سامنے تصور کرکے بزبان خیال بارگاہ الٰہی میں یہ عرض کرے ”یا الٰہی ان صفات ثبوتیہ یعنی علم قدرت، سمع، بصر و ارادہ وغیرہ کی تجلیات کا فیض جو تونے آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کے لطیفۂ روح سے حضرت نوح علیہ السلام کے لطیفہ روح اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لطیفہ روح میں مرحمت فرمایا تھا، حضرات پیران کبار کے طفیل میرے لطیفہ روح میں القا فرما۔“
فائدہ: سالک کو جب لطیفہ روح میں فنا حاصل ہوجاتی ہے تو اسکی نظر سے اپنی اور تمام مخلوقات کی صفات اوجھل ہوجاتی ہیں اور وہ تمام صفات حق تعالیٰ ہی کے لئے سمجھنے لگتا ہے۔
سبق سیزدہم: مراقبہ لطیفہ سر
اس مراقبہ میں سالک اپنے لطیفہ سر کو حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کے لطیفہ سر مبارک کے سامنے تصور کرکے زبانِ خیال سے بارگاہِ الٰہی میں یہ التجا کرے ”یا الٰہی ان تجلیاتِ ذاتیہ کا فیض جو تونے سید المرسلین صلّی اللہ علیہ وسلم کے لطیفہ سر سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لطیفہ سر میں القا فرمایا ہے، حضرات پیران کبار کے صدقے میں میرے لطیفہ سر میں القا فرما۔“
فائدہ: سالک کو جب لطیفہ سر میں فنا حاصل ہوجاتی ہے تو وہ اپنی ذات کو ذاتِ حق تعالیٰ میں اس قدر مٹا ہوا پاتا ہے کہ اسے ذات حق سبحانہ و تعالی کے سوا کوئی اور ذات نظر ہی نہیں آتی۔ اس مقام پر سالک کو نہ تو کسی کی تعریف و توصیف کرنے سے خوشی حاصل ہوتی ہے، نہ کسی کے طعن و ملامت کی پرواہ ہوتی ہے۔ بس ہر وقت ذات حق سبحانہ وتعالیٰ میں مستغرق رہتا ہے۔
سبق چہاردہم: مراقبہ لطیفہ خفی
اس سبق میں سالک اپنے لطیفہ خفی کو سرور عالم صلّی اللہ علیہ وسلم کے لطیفہ خفی کے سامنے تصور کرکے زبانِ خیال سے بارگاہ الٰہی میں یہ التجا کرے ”یا الٰہی تجلیات صفات سلبیہ کا فیض جو تونے آنحضرت سرور عالم صلّی اللہ علیہ وسلم کے لطیفہ خفی مبارک سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لطیفہ خفی میں القا فرمایا ہے، حضرات پیران کبار کے طفیل میرے لطیفہ خفی میں القا فرما۔“
فائدہ: صفات سلبیہ سے وہ تمام صفات مراد ہیں جو نقص و عیب میں شمار ہوتی ہیں اور ذات باری تعالیٰ ان سے پاک و منزہ ہے۔ مثلاً اولاد، بیوی، جسم، جوہر، عرض، زمان و مکان وغیرہ۔
سبق پانزدہم: مراقبہ لطیفہ اخفیٰ
اس سبق میں سالک اپنے لطیفہ اخفیٰ کو آنحضرت سرور عالم صلّی اللہ علیہ وسلم کے لطیفہ اخفیٰ کے سامنے تصور کرکے زبان خیال سے یہ عرض کرے ”یا الٰہی تجلیات شان جامع کا وہ فیض جو آپ نے آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کے لطیفہ اخفیٰ مبارک میں القا فرمایا ہے، حضرات پیران کبار کے طفیل میرے لطیفہ اخفیٰ میں القا فرما۔“
فائدہ: سالک کو جب لطیفہ اخفی میں فنائیت حاصل ہوجاتی ہے تو اسے حضرت حق سبحانہ وتعالیٰ کا خصوصی قرب حاصل ہوجاتا ہے۔ اسلئے اس کے لئے اخلاق الٰہی اور اخلاق نبوی علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام سے متصف ہونا آسان ہوجاتا ہے۔ بالخصوص نماز میں بہت لذت حاصل ہوتی ہے۔
فائدہ: عالم امر کے ان پانچوں لطائف کی فنائیت کے بعد دائرہ امکان کی سیر ختم ہوجاتی ہے۔ بعض مشائخ نے انوار و تجلیات دیکھنے کو اس دائرہ کے طے کرنے کی علامت فرمایا ہے۔ واضح رہے کہ دائرہ امکان کا نصف زمین سے عرش تک ہے اور دوسرا نصف عرش سے اوپر ہے۔ جبکہ عالم خلق عرش سے نیچے ہے۔ اسکی شکل یہ ہے:
اس کے بعد مراقبہ معیت کیا جاتا ہے۔
سبق شانزدہم: مراقبہ معیت
اس مراقبہ میں آیت کریمہ ”وَ ھُوَ مَعَکُمْ اَیْنَمَا کُنْتُمْ“ یعنی وہ ہر جگہ تمھارے ساتھ ہے، کی معنیٰ کا خیال کرکے خلوص دل کے ساتھ یہ خیال و تصور کرے کہ اس ذات پاک سے میرے لطیفہ قلب پر فیض آرہا ہے، جو میرے ساتھ اور تمام موجودات کے ہر ذرہ کے ساتھ ہے، اس شان کے مطابق جو وہ چاہتا ہے۔ اس سبق میں منشاء فیض ولایت صغریٰ کا دائرہ ہے جو اولیاء عظام کی ولایت اور اسماء حسنہ اور صفات مقدسہ کا سایہ ہے۔ اس مقام میں تہلیل لسانی یعنی ”لا الٰہ الا اللہ“ کا زبانی ذکر معنی کا لحاظ کرتے ہوئے، اس طرح کہ سالک کی توجہ قلب کی طرف ہو اور قلب کی توجہ اللہ تعالی کی طرف ہو، بہت فائدہ دیتا ہے۔
فائدہ: اس مقام پر سالک کو فنائے قلبی اور بقائے قلبی و دوام حضور حاصل ہوتا ہے۔ یعنی یاد الٰہی میں اس قدر مستغرق ہوجاتا ہے کہ اس کے ماسوا کو بالکل بھول جاتا ہے اور کسی بھی لمحہ اس کی یاد سے غافل نہیں ہوتا۔ اس مقام پر سالک کو لوگوں سے وحشت اور بیگانگی ہوتی ہے اور وہ ہمیشہ ذکر اور مقام حیرت میں محو رہتا ہے۔
نوٹ: واضح رہے کہ دائمی حضور و بقا پر دائرہ ولایت صغریٰ کی تکمیل ہوتی ہے۔
ذکر لاالہ الا اللہ جہری
ذکر تہلیل لسانی کا طریقہ بعینہ وہی ہے جو ذکر نفی و اثبات میں بیان ہوا۔ فرق یہ ہے کہ اس میں سانس نہیں روکا جاتا اور کلمہ طیبہ ”لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ“ کا ذکر زبان سے کیا جاتا ہے۔
فائدہ: رات اور دن میں کم ازکم گیارہ سو مرتبہ کلمہ طیبہ کا یہ ذکر کیا جائے۔ اسکی اعلیٰ تعداد پانچ ہزار ہے۔ اس سے زیادہ جتنا چاہے کلمہ شریف کا یہ ورد کرے۔ اس سے زیادہ فائدہ حاصل ہوگا۔ ایک ہی وقت میں یہ تعداد مکمل کرنا بھی ضروری نہیں اورنہ ہی باوضو ہونا شرط ہے۔ البتہ باوضو ہونا بہتر ہے۔ رات اور دن میں جب چاہے حضور قلب کے ساتھ معنی کا خیال کرکے ذکر کیا جائے۔
ذکر تہلیل لسانی سے حضور قلب حاصل ہوتا ہے اور لطائف کو اپنے موجودہ مقامات سے اوپر کی طرف ترقی حاصل ہوتی ہے اور غیر کے خطرات و خیالات کی نفی ہوتی ہے۔ بعض اوقات واردات کا نزول بھی ہوتا ہے۔
Subscribe to:
Posts (Atom)
جنات کی ہم نشینی کے نقصانات
شیخ اکبر نے فتوحات مکیہ میں جنات کی ہم نشینی کے نقصانات بیان کیے ہیں۔ 1. روحانی مرتبے میں تنزلی جنات کی صحبت اختیار کرنے والا شخص اُن عار...
-
Israel and the Lost Tribes: In order to find out who these Muslims Bani-Israel from Khurasan are, it would be important to critically e...
-
شب برات کے نماز مغرب کے چھ نوافل اولیا ء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام سے ہے کہ مغرب کے فرض وسنَّت وغیرہ کے بعد چھ رَکعت نفل (نَف...
-
The Chishty Sabiry Order 1_HAZRAT MUHAMMAD MUSTAFA (Peace be Upon Him) صلی اللہ علیہ والہ وسلم 2_Hazrat Ali Abne Abu Talib (Razi Alla...


