اللہ الصمد سے ہر دعا قبول ہوگی جسکو کوئی حاجت ہو کوئی مراد ہو کسی پریشانی میں گرفتار ہو کسی طرح کا مرض ہو جو جان نہ چھوڑتا ہو کسی پر قرض ہو اسکو ادا کرنے کہ اسباب نہ ہو جو لڑکے لڑکیاں ایجوکیشن کررہے ہوں اور پڑھائی میں کامیابی اور امتحانات میں اچھے نمبروں سے پاس ہونا چارہے ہوں میاں بیوی میں لڑئی جھگڑا ہو شوہر یا بیوی تنگ کرتی اور غصہ کرتی ہو بچے نافرمانی کرتے ہوں کسی کو روزی میں تنگی ہو کسی نے جادو ٹونا کردیا ہو دشمن تنگ کرتے ہو لوگ بد عملیات کرتے ہوں دشمن ہر وقت نقصان پہچانے کی کوشش کرتے ہوں عرض کوئی بھی مسئلہ درپیش ہو روحانیت کا طالب ہو قرب رب عزوجل چاہتا ہو وہ اس طرح عمل کرنے کا معمول بنائے انشاء اللہ سورہ اخلاص کے اس اسماء اللہ الصمد کی طاقت سے کامیاب ہوگا عمل اس طرح کرنا ہے بعد نماز مغرب یا بعد نماز عشاء اور دشمنوں کے لیے بعد نماز ظہر اور روزی رزق مال دولت کہ لئے خصوصا بعد نماز فجر کیا کرے ورنہ کبھی بھی کرسکتا ہے یہ اوقات خصوصی ہیں جو بیان ہوئے ہیں با وضو حالت میں اولا ایک بار درود شریف پڑھے گیارہ بار اللہ الصمد پڑھے پھر ایک بار درود پڑھکر اپنی شہادت کی انگلی پر دم کرے اور جائ...
قرآن مجید شفا ہے:
اللہ تعالی نے قرآن مجید کو درج ذیل تین مقامات پر شفا ارشاد فرمایا ہے:
یٰأَیُّھَاالنَّاسُ قَدْ جَائَ تْکُمْ مَّوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَشِفَائ’‘ لِّمَا فِیْ الصُّدُورِ (یونس57)
’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک نصیحت اور دلوں کی بیماریوں کی لئے شفا آگئی ہے۔‘‘
وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا ھُوَ شِفَائ’‘ وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ وَلاَ یَزِیْدُ الظَّالِمِیْنَ إِلاَّ خَسَارًاO (بنی اسرائیل82)
’’اور ہم قرآن میں جو کچھ نازل کرتے ہیں وہ مومنوں کے لئے شفاء ہے مگر ظالموں کے لئے یہ قرآن خسارے کے علاوہ کسی چیز میں اضافہ نہیں کرتا۔ ‘‘
قُلْ ھُوَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ھُدًی وَّشِفَاء
’’(اے محمدe) کہہ دیجئے، یہ قرآن ایمان لانے والوں کے لئے ہدایت اور شفا ہے۔‘‘ (حم السجدہ 44)
قرآن مجید انسان کی تمام روحانی بیماریوں مثلا شرک، کفر، نفاق، ریا، حسد، بغض، کینہ، عداوت وغیرہ کے لئے تو بدرجہ اولی شفا ہے۔ جیسا کہ سورہ یونس کی آیت میں وضاحت کے ساتھ موجود ہے لیکن سورہ بنی اسرائیل اور سورہ حم السجدہ کی آیت میں قرآن مجید کو مطلق شفا ارشاد فرمایا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید جسمانی بیماریوں کے لئے بھی شفا ہے۔ بہت سی احادیث بھی اس کی تصدیق کرتی ہیں۔ روحانی بیماریوں کے لئے شفا کا ذکر تو گزشتہ صفحات میں ہو چکا ہے۔ اب ان سطور میں ہم جسمانی بیماریوں کے لئے شفا کا ذکر کریں گے۔
ہم یہاں صرف ایسے امراض کا ذکر کریں گے جن کا علاج احادیث صحیح سے ثابت ہے۔
اللہ تعالی نے قرآن مجید کو درج ذیل تین مقامات پر شفا ارشاد فرمایا ہے:
یٰأَیُّھَاالنَّاسُ قَدْ جَائَ تْکُمْ مَّوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَشِفَائ’‘ لِّمَا فِیْ الصُّدُورِ (یونس57)
’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک نصیحت اور دلوں کی بیماریوں کی لئے شفا آگئی ہے۔‘‘
وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا ھُوَ شِفَائ’‘ وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ وَلاَ یَزِیْدُ الظَّالِمِیْنَ إِلاَّ خَسَارًاO (بنی اسرائیل82)
’’اور ہم قرآن میں جو کچھ نازل کرتے ہیں وہ مومنوں کے لئے شفاء ہے مگر ظالموں کے لئے یہ قرآن خسارے کے علاوہ کسی چیز میں اضافہ نہیں کرتا۔ ‘‘
قُلْ ھُوَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ھُدًی وَّشِفَاء
’’(اے محمدe) کہہ دیجئے، یہ قرآن ایمان لانے والوں کے لئے ہدایت اور شفا ہے۔‘‘ (حم السجدہ 44)
قرآن مجید انسان کی تمام روحانی بیماریوں مثلا شرک، کفر، نفاق، ریا، حسد، بغض، کینہ، عداوت وغیرہ کے لئے تو بدرجہ اولی شفا ہے۔ جیسا کہ سورہ یونس کی آیت میں وضاحت کے ساتھ موجود ہے لیکن سورہ بنی اسرائیل اور سورہ حم السجدہ کی آیت میں قرآن مجید کو مطلق شفا ارشاد فرمایا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید جسمانی بیماریوں کے لئے بھی شفا ہے۔ بہت سی احادیث بھی اس کی تصدیق کرتی ہیں۔ روحانی بیماریوں کے لئے شفا کا ذکر تو گزشتہ صفحات میں ہو چکا ہے۔ اب ان سطور میں ہم جسمانی بیماریوں کے لئے شفا کا ذکر کریں گے۔
ہم یہاں صرف ایسے امراض کا ذکر کریں گے جن کا علاج احادیث صحیح سے ثابت ہے۔
Comments