Sunday, 3 January 2021

انسان جب دنیا میں آیا

 


                                                      انسان جب دنیا میں آیا

انسان نے انسان پر ظلم کیا ہے دنیا میں آکر

انسان نے ایک دوسرے کی عزت نہیں کی آکر اس دنیا  میں اور اپنے ازلی دشمن جس سے دشمنی کرنی تھی نہیں کی اور ایک دوسرے کا دشمن بن گیا کہیں مذھب کی بنیاد پر کہی زبان کہی زر زمین زن پر کہی ملک اور قوم اور نسل زبان رنگ کی بنیاد پر انسانوں نے بے جا فالتوں قانون بناکر ایک دوسرے کو تکلیف دی ہے اور اللہ سے جنت اور رحم مانگتا ہے اور اپنے شہر اور علاقہ اور ملک پر لکیر لگا کر اسکو بارڈر کا نام دے کر اپنا اپنا ملک بناکر اس میں  کسی انسان کی آمد برداشت نہیں کرتا اسکو بوجھ سمجھتا ہے جبکہ رازق اور رزق اور سکون اور سکنہ تو رب کریم سب کو اپنی رحمت سے دیتا ہے  اور جب مطلب ہو کسی انسان  سے تو تمام قانون بلاٸے طاق رکھ کر وہ سب کام کرتا ہے جن پر وہ  کبھی سزاٸیں دیا کرتا تھا۔انسان نے جو کچھ بنایا اپنے خسارے کے سامان مہیا کرتا گیا ہے سواۓ بھت کم کم نیک لوگوں کے جن اللہ نے انعام کیا وہ ہر زمانے میں انسان کو انسانیت کا پیغام دیتے رہے انبیاء کرام اولیاء کرام رضی اللہ عنھم بس اگر اج بھی انسان پورے عالم میں سکون اور سلامتی چاھتا ہے تو اسکو اپنے بے کار قانون ختم کر کر کے انسانیت کا لباس پہن کر حیوانیت کا لباس اتار کر انسانی کی اصل حقیقت اور معراج کو پانا ہوگا جب یہ جہاں باغ بہشت کا سماں پیدا کرے گی شیطانیت کا جادو ماحول کی خشبو سے اور عالم کا ماحول تبدیل ہونے سے باطل ہوجاٸے گا 

محمد عظیم شاہ یوسفی


syedi Peer Abdul Wahab shah sabiry jahangiry karachi,Pakistan.

Contact +923112660110

Wednesday, 30 December 2020

چودہ سو سال پرانی مسجد

ہندوستان کی تقریبا 1400 سال پرانی مسجد گجرات کے بھاو نگر کے گاؤں گھوگھا میں اب بھی موجود ہے ، جس کا قبلہ بیت المقدس کی طرف ہے…

ابھی اس مسجد کی تعمیر انتہائی خستہ حال حالت میں ہے ، مسجد کے اندر تقریبا 25 افراد ایک ساتھ مل کر نماز پڑھ سکتے ہیں۔ اس مسجد میں 12 ستون ہیں جن پر مسجد کی چھت بنائی گئی ہے ، چھت کے اوپر گنبد اور مسجد کی دیواریں بھی کھدی ہوئی ہیں اور مسجد۔ محراب پر عربی میں 'بسم اللہ` کی نقش نگاری اسی دور کی ہے۔

یہ زمین کے چہرے پر ایک ہی مسجد ہوسکتی ہے ، بیت المقدس کا سامنا کرتے ہوئے ، ساتویں صدی کے اوائل میں ، پہلے عرب تاجر سمندر کے راستے یہاں اترے اور پھر انہوں نے یہ مسجد یہاں بنائی۔ مکہ کا مقام قبلہ رخ یروشلم تھا۔ یہ قدیم مسجد مقامی طور پر جونی مسجد کے نام سے مشہور ہے۔


یہ مسجد ہندوستان کی دیگر تمام مساجد سے ملتی جلتی ہے ، جن کے محرابوں کا رخ مکہ مکرمہ ہے۔ اس قدیم مسجد میں ابھی بھی عربی کا قدیم ترین نوشتہ ہے اور آج یہ مسجد بارواڈا تنجم کی نگرانی میں ہے۔

اسلامی تاریخ کے مطابق ، 610 سے 623 تک ، بیت المقدس کو نماز پڑھائی گئی اور پھر 624 ء سے کعبہ کی طرف ، نماز پڑھنا شروع ہوئی ، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مسجد 1400 سال کے قریب تعمیر ہوئی تھی۔


حیرت کی بات یہ ہے کہ جب کسی نے 'کعبہ' کی طرف رجوع کرنے سے پہلے نماز نہیں پڑھی ، تب یہ مسجد ہندوستان میں بنی تھی ، تب مسلمان شمال کے سامنے نماز پڑھتے تھے ، یہ 1397 سال پہلے کی بات ہے۔

یہ بات واضح ہے کہ یہ مسجد 622 میں بنائی گئی تھی جب اللہ کے  رسول زندہ تھے اور مسلمان ان کا پہلا کعبہ بیت المقدس کی طرف تھا قبول کرتے تھے ،


بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ 610 سے 623 تک رہا ، یعنی 13 سال ، مسلمانوں نے شمال کا رخ کیا اور نماز پڑھی۔

اس مسجد کی تاریخ واضح کرتی ہے کہ ہندوستان کو ہندوستان کے شہریوں نے اسلام قبول کیا تھا کیونکہ اسلام محبت اور بھائی چارے کی مدد سے ہندوستان میں داخل ہوا تھا۔

 

ابلیس کی تاریخ


 ابلیس کی تاریخ

ابلیس کی نسل کی ابتدا جس جن سے ہوئی اس کا نام "طارانوس" کہا جاتا ہے اور یہ ابلیس سے 1 لاکھ چوالیس ہزار سال قبل دنیا پر تھا. طارانوس می نسل تیزی سے بڑھی کیونکہ ان کو موت طاری نہیں ہوتی تھی اور نا بیماری تھی البتہ یہ چونکہ آتشیں مخلوق تھی تو سر کشی بدرجہ اتم موجود تھی.

اس مخلوق کو پہلی موت پیدائش کے 36000 سال بعد آئی اور اسکی وجہ سرکشی تھی. 

بعد میں "چلپانیس" نامی ایک نیک جن کو جنات کی ہدایت کا ذمہ سونپاگیا اور وہ ہی شاہ جنات قرار پائے مگر ان کے بعد "ہاموس" کو یہ زمہ دیا گیا.

ہاموس کے دور میں ہی چلیپا اور نبلیث کی پیدائش ہوئی یہ دونوں اپنے وقت کے بے حد بہادر جنات تھے اور ان کی قوم نے چلیپا کو شاشین کا لقب دیا جس کے معنی ہیں شیر کے سر والا

ان دونوں جنات کیوجہ سے ساری قوم کہنے لگ گئی کہ ہمیں اس وقت تک کوئی نہیں ہرا سکتا جب تک شاشین اور نبلیث ہمارے درمیان موجود ہیں اور ان ہی دونوں کیوجہ سے یہ جنات آسمان تک رسائی کرنے لگے اور تیسرے آسمان پر جا کر شرارت کر آتے تھے ایسے میں حکم ربی سے فرشتوں نے ان پر حملہ کیا اور عبرتناک شکست دی مگر اس سب میں عزارئیل موجودہ ابلیس یا شیطان نے دیکھا تو سجدے میں گر گیا. شیطان شروع سے ہی ایک نڈر اور ذہین بچہ تھا اس میں باپ کی بہادری اور ماں کی مکاری کوٹ کوٹ کے بھری ہوئی تھی. اس نے ملائکہ کے ساتھ جا کر توبہ کا اعلان کیا اور فرشتوں سے علم سیکھنے لگا 

پہلے آسمان پر عابد پھر دوسرے پر زاہد تیسرے پر بلال چوتھے پر والی پانچویں پر تقی اور چھٹے پر کبازان کے نام سے مشہور ہوا اور یہ وہ وقت تھا کہ یہ فرشتوں کو سکھاتا تھا.ساتوں آسمان پہ ابلیس بقع نور میں رہا، ہفت افلاک کے سب ملائکہ کا معلم قرار دے دیا گیا۔ یہاں پہنچ کے اس نے اپنی عاجزی،ریاضت کی انتہا کر دی۔ کم و بیش چودہ ہزار{14000} اس نے عرش کا طواف کیا۔یہاں اس نے فرشتوں ےا استاد/سردار ”عزازیل” کے نام سے شہرت پائی۔ کم و بیش تیس ہزار {30000} سال یہ مقربین کا استاد رہا ہے۔ ابلیس کے درس و وعظ کی معیاد کم و بیش بیس ہزار{20000} سال ہے۔ فرشتوں کے ساتھ قیام کی مدت کم و بیش اسی ہزار{80000} سال ہے۔


ابلیس جنت میں : حکم ہوا کہ داروغئہِ جنت "رضوان” کی معاونت کرو اور اہلِ جنت کو اپنے علم و فضل سے بہرہ ور کرو، یوں ابلیس کو جنت میں داخلے کا پروانہ مل گیا، جنت میں بھی اس نے اپنے علم و فضل کے دریا بہائے، دراغئہِ جنت”رضوان” کو بھی اپنے علم سے سیراب کیا۔ بعض روایات کے مطابق ابلیس چالیس ہزار سال40000} تک یہ فرض{خزانچی} انجام دیتا رہا اور اس مقام پر ابلیس نے بادشاہت کے خواب دیکھنے شروع کیے

کئی اہل علم مانتے ہیں کہ اس نے 5 مصاحبین اپنی قوم میں بھیجے کہ میری اطاعت میں آ جاو مگر اس قوم نے انکو قتل کر دیا اور یہ سب اس نے اللہ کو بتا کر اجازت لیکر کیا قوم کی سرکشی کو مسلنے کے بعد ابلیس کے پاس ہفت اقلیم ہفت افلاک جنت و دوذخ سب کا اختیار تھا اور اس نے چپے چپے پر سجدہ کیا مگر اس نے اب خود کو بادشاہ بنانے اور رب بن جانے کے خواب دیکھنا شروع کیے اور کئی ملائکہ سے بات بھی کی مگر ان کے انکار کیوجہ سے چپ ہوگیا اور نظام چلتا گیا. مگر اس سب سے اللہ بے خبر نا تھا اور آدم کی تخلیق ہوئی. آدم کی تخلیق پہ جز بہ جز ہوتے ابلیس کو جب یہ معلوم ہوا کہ یہ اللہ کا نائب ہے تو اس نے واویلا کیا اور عبادت اور اطاعت کا طنز کیا کہ مجھ جتنی عبادت کس نے کی اور سجدے سے انکار کر دیا.یہ جذبہ حسد تھا کہ میری جگہ آدم خاک کو کیوں ملی یہ جذبہ غرور تھا کہ میں اعلی ہوں 

اور اس ایک سجدے کے انکار کی بات نہیں تھی بات سرکشی کی تھی شرک کی تھی ابلیس نے اپنے دل میں خود کو رب مان لیا تھا 

اور ایسے وہ تا قیامت آدم کو بھٹکانے کیلیے آزاد ہوا کیونکہ اسنے یہ مانگا اور سچے دل سے مانگا. اور ایسے ابلیس رسوا ہوا. 

ایک سجدہ جے تو گراں سمجھتا ہے 

ہزار سجدوں سے دیتا ہے بندے کو نجات.

حوالہ: شیطان کی سوانح عمری از ظفراللہ نیازی 

منقول

Friday, 25 December 2020

محفل سماع


Syed Khawaja Peer Gulam Hussain Shah Sabiry Jahangiry Qalandar kambal pardada peer ki mehfil ki purani video posh 





 

Thursday, 24 December 2020

جنات کی ہم نشینی کے نقصانات

  شیخ اکبر نے فتوحات مکیہ میں جنات کی ہم نشینی کے نقصانات  بیان کیے ہیں۔ 1. روحانی مرتبے میں تنزلی جنات کی صحبت اختیار کرنے والا شخص اُن عار...