میں نے عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا کوئی شخص نہیں ہے جو ہر روز صبح و شام کو «بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الأرض ولا في السماء وهو السميع العليم» “ ”میں اس اللہ کے نام کے ذریعہ سے پناہ مانگتا ہوں جس کے نام کی برکت سے زمین و آسمان کی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی، اور وہ سننے والا جاننے والا ہے“، تین بار پڑھے اور اسے کوئی چیز نقصان پہنچا دے۔ ابان کو ایک جانب فالج کا اثر تھا، ( حدیث سن کر ) حدیث سننے والا شخص ان کی طرف دیکھنے لگا، ابان نے ان سے کہا: میاں کیا دیکھ رہے ہو؟ حدیث بالکل ویسی ہی ہے جیسی میں نے تم سے بیان کی ہے۔ لیکن بات یہ ہے کہ جس دن مجھ پر فالج کا اثر ہوا اس دن میں نے یہ دعا نہیں پڑھی تھی، اور نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے مجھ پر اپنی تقدیر کا فیصلہ جاری کر دیا۔
This blog provides Islamic information, provides information about Islamic historical places, Islam gives benefits, explains the methods of health and well-being, and also explains the treatment of physical and spiritual ailments. Explains the secrets of saints' breasts Email for more information and contact azeemshahyousufi@gmail.com whatsapp No calls +923122989983
Saturday, 23 May 2020
ذکراللہ کی فضیلت
ذکراللہ کی فضیلت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہارے
سب سے بہتر اور تمہارے رب کے نزدیک سب سے پاکیزہ اور سب سے بلند درجے والے عمل کی تمہیں خبر نہ دوں؟ وہ عمل تمہارے لیے سونا چاندی خرچ کرنے سے بہتر ہے، وہ عمل تمہارے لیے اس سے بھی بہتر ہے کہ تم ( میدان جنگ میں ) اپنے دشمن سے ٹکراؤ، وہ تمہاری گردنیں کاٹے اور تم ان کی ( یعنی تمہارے جہاد کرنے سے بھی افضل ) “ لوگوں نے کہا: جی ہاں، ( ضرور بتائیے ) آپ نے فرمایا: ”وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے“، معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں: اللہ کے ذکر سے بڑھ کر اللہ کے عذاب سے بچانے والی کوئی اور چیز نہیں ہے
: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو قوم اللہ کو یاد کرتی ہے ( ذکر الٰہی میں رہتی ہے ) اسے فرشتے گھیر لیتے ہیں اور رحمت الٰہی اسے ڈھانپ لیتی ہے، اس پر سکینت ( طمانیت ) نازل ہوتی ہے اور اللہ اس کا ذکر اپنے ہاں فرشتوں میں کرتا ہے“۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے
: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو قوم اللہ کو یاد کرتی ہے ( ذکر الٰہی میں رہتی ہے ) اسے فرشتے گھیر لیتے ہیں اور رحمت الٰہی اسے ڈھانپ لیتی ہے، اس پر سکینت ( طمانیت ) نازل ہوتی ہے اور اللہ اس کا ذکر اپنے ہاں فرشتوں میں کرتا ہے“۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے
ذکر کی فضیلت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: قیامت کے دن اللہ کے نزدیک درجہ کے لحاظ سے کون سے بندے سب سے افضل اور سب سے اونچے مرتبہ والے ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ”کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والی عورتیں“۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ کی راہ میں لڑائی لڑنے والے ( غازی ) سے بھی بڑھ کر؟ آپ نے فرمایا: ” ( ہاں ) اگرچہ اس نے اپنی تلوار سے کفار و مشرکین کو مارا ہو، اور اتنی شدید جنگ لڑی ہو کہ اس کی تلوار ٹوٹ گئی ہو، اور وہ خود خون سے رنگ گیا ہو، تب بھی اللہ کا ذکر کرنے والے اس سے درجے میں بڑھے ہوئے ہوں گے“۔
Wednesday, 8 April 2020
جادو سے حفاظت اور جہنم کی آگ سے نجات
جادو سے حفاظت اور جہنم کی آگ سے نجات
اس شب بیری کے درخت کے سات پتوں کو پانی میں جوش دے کر نہانے سے تمام جادو ٹونے اور برے اثرات سے محفوظ رہے گا۔ امن و امان اور جان و مال کی حفاظت کے لئے سورۃ البقرہ کے آخری رکوع کی آیات (امن الرسول) سے لے کر (علی القوم الکفرین) تک پڑھنا نہایت ہی باعث برکت اور مستحن ہے۔ جو کوئی پندرھویں شعبان کو روزہ رکھے گا دوزخ کی آگ اس کو نہ چھوئے گی۔
اس شب بیری کے درخت کے سات پتوں کو پانی میں جوش دے کر نہانے سے تمام جادو ٹونے اور برے اثرات سے محفوظ رہے گا۔ امن و امان اور جان و مال کی حفاظت کے لئے سورۃ البقرہ کے آخری رکوع کی آیات (امن الرسول) سے لے کر (علی القوم الکفرین) تک پڑھنا نہایت ہی باعث برکت اور مستحن ہے۔ جو کوئی پندرھویں شعبان کو روزہ رکھے گا دوزخ کی آگ اس کو نہ چھوئے گی۔
نوافل شعبان
نوافل شب شعبان المعظم
پیارے نبیؐ کا فرمان ہے جو شخص آج کی شب 12 رکعات نماز نفل (دو، دو یا چار چار کر کے ) پڑھے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو بارہ ہزار شہیدوں کا ثواب عطاء فرمائے گا۔ بارہ سال کی عبادت کا ثواب لکھتا ہے اور گناہوں سے اس طرح پاک ہو جاتا ہے جیسا کہ آج ہی اس نے جنم لیا ہو۔ اور 80 دن تک اس کے گناہ نہیں لکھے جاتے۔ مزید ارشاد گرامی ہے کہ جو شعبان کی پہلی رات اور آخری جمعرات کو روزہ رکھے گا تو اللہ تعالی اپنے فضل و کرم سے اس کو جنت میں جگہ عطاء فرمائے گا۔ خاتون جنت حضرت فاطمہ ؓ فرماتی ہیں کہ جو شخص 8 رکعات نماز نفل (آٹھ رکعات اکٹھے ایک سلام کے ساتھ) ادا کرے اور اس کا ثواب مجھے پہنچائے تو میں اس وقت تک جنت میں قدم نہ رکھوں گی جب تک اس شخص کی بخشش نہ کروالونگی۔ نفل پڑھنے کا طریقہ کچھ اس طرح ہے کہ سورۃ فاتحہ (الحمداللہ) پڑھنے کے بعد گیارہ مرتبہ سورۃ اخلاص (قل ہواللہ) پڑھے ہر دو رکعات کے بعد اتحیات میں بیٹھے اور پوری اتحیات پڑھے اور سلام پھیرے بغیر کھڑا ہو جائے۔ اس ترتیب کے ساتھ آٹھ رکعات نماز نفل مکمل کر کے سلام پھیرے اور اس کا ثواب حضرت فاطمہؓ کو بخش دے۔
حیدر کرار حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ جو شخص 14 رکعات نماز نفل (دو دو یا چار چار کر کے کسی سورۃ کی قید نہیں) پڑھے اور یہ نوافل ادا کرنے کے بعد سورۃ فاتحہ 14 مرتبہ سورۃ اخلاص 14 مرتبہ سورۃ الناس 14 مرتبہ ایک مرتبہ آیت الکرسی اور ایک مرتبہ آیت ( لقد جاء کم رسول من انفسکم) پڑھے تو اللہ تعالی اس نماز کے پڑھنے والے کے نامہ اعمال میں 20 سال کے مقبول روزوں اور 20 سال کے مقبول حج کا ثواب لکھا جاتا ہے۔
خواجہ حسن بصریؒ سے روایت ہے کہ جو شخص 100 رکعات نماز نفل (دو دو یا چار چار کر کے) پڑھے ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورۃ اخلاص 10 مرتبہ پڑھے تو اللہ تعالی اس بندے کی طرف 70 مرتبہ نگاہ کرم فرمائے گا۔ ہر نگاہ کے بدلے اس کی 70 حاجتیں پوری فرمائے گا۔
پیارے نبیؐ کا فرمان ہے جو شخص آج کی شب 12 رکعات نماز نفل (دو، دو یا چار چار کر کے ) پڑھے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو بارہ ہزار شہیدوں کا ثواب عطاء فرمائے گا۔ بارہ سال کی عبادت کا ثواب لکھتا ہے اور گناہوں سے اس طرح پاک ہو جاتا ہے جیسا کہ آج ہی اس نے جنم لیا ہو۔ اور 80 دن تک اس کے گناہ نہیں لکھے جاتے۔ مزید ارشاد گرامی ہے کہ جو شعبان کی پہلی رات اور آخری جمعرات کو روزہ رکھے گا تو اللہ تعالی اپنے فضل و کرم سے اس کو جنت میں جگہ عطاء فرمائے گا۔ خاتون جنت حضرت فاطمہ ؓ فرماتی ہیں کہ جو شخص 8 رکعات نماز نفل (آٹھ رکعات اکٹھے ایک سلام کے ساتھ) ادا کرے اور اس کا ثواب مجھے پہنچائے تو میں اس وقت تک جنت میں قدم نہ رکھوں گی جب تک اس شخص کی بخشش نہ کروالونگی۔ نفل پڑھنے کا طریقہ کچھ اس طرح ہے کہ سورۃ فاتحہ (الحمداللہ) پڑھنے کے بعد گیارہ مرتبہ سورۃ اخلاص (قل ہواللہ) پڑھے ہر دو رکعات کے بعد اتحیات میں بیٹھے اور پوری اتحیات پڑھے اور سلام پھیرے بغیر کھڑا ہو جائے۔ اس ترتیب کے ساتھ آٹھ رکعات نماز نفل مکمل کر کے سلام پھیرے اور اس کا ثواب حضرت فاطمہؓ کو بخش دے۔
حیدر کرار حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ جو شخص 14 رکعات نماز نفل (دو دو یا چار چار کر کے کسی سورۃ کی قید نہیں) پڑھے اور یہ نوافل ادا کرنے کے بعد سورۃ فاتحہ 14 مرتبہ سورۃ اخلاص 14 مرتبہ سورۃ الناس 14 مرتبہ ایک مرتبہ آیت الکرسی اور ایک مرتبہ آیت ( لقد جاء کم رسول من انفسکم) پڑھے تو اللہ تعالی اس نماز کے پڑھنے والے کے نامہ اعمال میں 20 سال کے مقبول روزوں اور 20 سال کے مقبول حج کا ثواب لکھا جاتا ہے۔
خواجہ حسن بصریؒ سے روایت ہے کہ جو شخص 100 رکعات نماز نفل (دو دو یا چار چار کر کے) پڑھے ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورۃ اخلاص 10 مرتبہ پڑھے تو اللہ تعالی اس بندے کی طرف 70 مرتبہ نگاہ کرم فرمائے گا۔ ہر نگاہ کے بدلے اس کی 70 حاجتیں پوری فرمائے گا۔
Tuesday, 31 March 2020
Subscribe to:
Posts (Atom)
جنات کی ہم نشینی کے نقصانات
شیخ اکبر نے فتوحات مکیہ میں جنات کی ہم نشینی کے نقصانات بیان کیے ہیں۔ 1. روحانی مرتبے میں تنزلی جنات کی صحبت اختیار کرنے والا شخص اُن عار...


