Monday, 29 March 2021

دعاٸے نصف شعبان


 

شب برات کے بعد مغرب کے چھ نوافل

 شب برات کے نماز مغرب کے چھ نوافل  اولیا ء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام سے ہے کہ مغرب کے  فرض وسنَّت وغیرہ کے  بعد چھ رَکعت نفل(نَفْ۔لْ)  دو دو رَکعت کر کے  ادا کئے جا ئیں ۔ پہلی دو رَکعتوں سے پہلے یہ نیت کیجئے:   ’’ یااللہ عَزَّوَجَلَّ!ان دو رَکعتوں کی بر کت سے مجھے درازیِ عمر بالخیر عطا فرما۔ ‘‘ دوسری دو رَکعتوں میں  یہ نیت فرمایئے:   ’’  یا اللہ عَزَّوَجَلَّ!ان دو رَکعتوں کی برکت سے بلاؤں سے میری حفاظت فرما۔ ‘‘  تیسری دو رَکعتوں کیلئے یہ نیت کیجئے:   ’’  یااللہ عَزَّوَجَلَّ!ان دو رَکعتوں کی بر کت سے مجھے اپنے سوا کسی کا محتاج نہ کر۔ ‘‘  ان 6رَکعتوں میں  سُوْرَۃُ الْفَاتِحَہکے  بعد جو چاہیں وہ سورَتیں پڑھ سکتے ہیں ،  چاہیں توہر رَکعت (رَکْ ۔عَت)  میں  سُوْرَۃُ الْفَاتِحَہکے  بعد تین تین بار سُوْرَۃُ الْاِخْلَاص پڑھ لیجئے۔ ہر دو رَکعت کے  بعداِکیس بار قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ (پوری سورت)  یا ایک بار سورۂ یٰسٓشریف پڑھئے بلکہ ہو سکے  تو دونوں ہی پڑھ لیجئے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی ایک اسلامی بھائی بلند آواز سے یٰسٓشریف پڑھیں اور دوسرے خاموشی سے خوب کان لگا کر سنیں ۔ اس میں  یہ خیال رہے کہ سننے والا اِس دَوران زَبان سے یٰسٓشریف بلکہ کچھ بھی نہ پڑھے اور یہ مسئلہ خوب یاد رکھئے کہ جب قراٰنِ کریم بلند آواز سے پڑھا جا ئے تو جو لوگ سننے کیلئے حاضر ہیں اُن پر فرضِ عین ہے کہ چپ چاپ خوب کان لگا کر سنیں ۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ رات شروع ہوتے ہی ثواب کا اَنبار(اَمْ۔بار) لگ جا ئے گا۔ ہر بار یٰسٓشریف کے  بعد ’’  دُعائے نصف شعبان  ‘‘ بھی پڑھئے۔

دُعائے نصفِ شَعبانُ الْمُعظَّم

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

اَلّٰلھُمَّ یَا ذَا الْمَنِّ وّلَایُمَنُّ عَلَیْہِ یَا ذَا الْجَلَالِ وَالْاِكْرَامِ ؕ  یَا ذَا الطَّوْلِ وَالاَنْعَامِ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ ظَھْرُاللَّاجِیْنَ ؕ وَجا رُ الْمُسْتَجِیْرِیْنَ وَاَمَانُ الْخَائِفِیْنَ ؕ اَللّٰھُمَّ اِنْ كُنْتَ كَتَبْتَنِیْ عِنْدَكَ فِیْ اُمِّ الْكِتٰبِ شَقِیًّا اَوْ مَحْرُوْمًااَوْمَطْرُوْدًااَوْ مُقْتَرًّاعَلَیَّ فِی الّرِزْقِ فَامْحُ  اَللّٰھُمَّ بِفَضْلِكَ شَقَاوَتِیْ وَحِرْمَانِی وَطَرْدِیْ وَقْتِتَارِ رِزْقِیْ ؕ وَاَثْبِتْنِیْ عِنْدَكَ فِی اُمِّ الْكِتٰبِ سَعِیْدًا مَّرْزُوْقًا مُوَفَّقًالِلْخَیْرَاتِ ؕ فَاِنَّكَ قُلْتَ وَقَوْلُكَ الْحَقُّ فِیْ كِتَابِكَ الْمُنَزَّلِ ؕ عَلٰی لِسَانِ نَبِیِّكَ الْمُرْسَلِ(یَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ ۚۖ-وَ عِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِ ([1] اِلٰھِی بِالتَّجَلِّی الْاَعْظَمِ فِی لَیْلَۃِالنِّصْفِ مِنْ شَھْرِ شَعْبَانَ الْمُكَرَّمِ الَّتِیْ یُفْرَقُ فِیْھَا كُلُّ اَمْرٍحَكِیْمٍ وَیُبْرَمُطاَنْ تُكْشَفُ عَنَّامِنَ الْبَلَآءِ وَالْبَلَوَ آءِ مَا نَعْلَمْ طوَاَنْتَ بِہ اَعْلَمُ اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعَزُّ الْاَكْرَامُ ؕ وَصَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِہ وَ اَصْحَابِہ وَسَلَّمْ ؕوَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ           o

 اےاللہ عَزَّوَجَلَّ اے احسان کر نے والے کہ جس پر اِحسان نہیں کیا جا تا ! اے بڑی شان و شوکت والے! اے فضل واِنعام والے ! تیرے سوا کوئی معبود نہیں ۔ تو پریشان حالوں کا مدد گار، پناہ مانگنے والوں کوپناہ اور خوفزدوں کو امان دینے والا ہے ۔ اےاللہ عَزَّوَجَلَّ! اگرتو اپنے یہاں اُمُّ الْکِتاب (یعنی لوحِ محفوظ )  میں  مجھے شقی (یعنی بد بخت)  ،  محروم ،  دُھتکارا ہوا اور رِزق میں  تنگی دیاہوا لکھ چکا ہوتو اےاللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے فضل سے میری بدبختی ،  محرومی ،  ذلَّت اور رِزق کی تنگی کو مٹادے اور اپنے پاس اُمُّ الْکِتابمیں  مجھے خوش بخت ، (کشادہ)  رِزق دیاہوا اور بھلا ئیوں کی توفیق دیاہوا ثبت (تحریر)  فرمادے ،  کہ تو نے ہی تیری نازِل کی ہوئی کتاب میں  تیرے ہی بھیجے ہوئے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی زَبانِ فیض ترجمان پر فرمایا اور تیرا (یہ) فرمانا حق ہے:   ’’  ترجَمۂ کنزالایمان:  اللہ جو چاہے مٹاتا ہے اور ثابِت کرتا ہے اور اصل لکھا ہوا اُسی کے  پاس ہے ۔ ‘‘  (پ۱۳، الرعد ۳۹)  خدایا عَزَّوَجَلَّ!  تَجلّیِ اعظم کے  وسیلے سے جو نصفِ شَعبانُ الْمُکرم کی رات (یعنی شبِ براء َت)  میں  ہے کہ جس میں  بانٹ دیا جا تا ہے ہر حکمت والا کام اور اٹل کر دیا جا تا ہے ۔( ’’ یااللّٰہ!)  آفتوں  کو ہم سے دور فرما کہ جنہیں

Thursday, 25 February 2021

AURA OF HUMENBEING



Aura

 برسوں  مادہ پرست سائنسدان انسان کے  باطنی تشخص کا یہ کہہ کر انکار کرتے  رہے  کہ انسان محض مادی جسم ہے  جس میں  کہیں  روح کی ضرورت نہیں اور آج سائنسدان خود انسانی باطن کو دریافت کر بیٹھے  ہیں اور انسان کے  اندر موجود اس پیچیدہ نظام کو دیکھ کر حیران ہیں۔ لہذا

۱۹۳۰ء  کی دہائی میں  روس میں  کر لین (Karlain)نامی الیکٹریشن نے  اتفاقی طور پر ایک ایسا کیمرہ ایجاد کیا جس نے  پہلی دفعہ انسان کے  باطنی وجود  "AURA"  کی تصویر کشی کر لی۔ اس (Karlain Photography) سے  اس لطیف وجود "AURA" کو باقاعدہ طور پر دیکھ لیا گیا۔ یہ مختلف رنگوں  پر مشتمل لہروں  کا ہالہ ایک ہیولے  کی طرح لطیف جسم تھا۔ یہ لطیف جسم بالکل انسان کے  مادی جسم سے  مشابہت رکھتا ہے۔ یہ جسمانی و ذہنی کیفیات کے  مطابق مختلف رنگ و ارتعاش منعکس کرتا ہے۔ یہ  لطیف جسم AURAانسانی جسم سے  چند انچ اوپر مادی جسم سے  متصل ہوتا ہے۔
انسانی جسم کے  تمام تر تقاضے  اسی روشنی کے  جسم میں  پیدا ہوتے  ہیں۔ خون کی طرح ہر انسان کا AURA   بھی مختلف ہوتا ہے۔
 سبٹل باڈیز SUBTLE BODIESAURA
"AURA"کے  اندر مزید سات اجسامSUBTLE BODIES   کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔ ہر سات اجسام کے  مختلف لیول اور سب لیول ہوتے  ہیں۔
چکراز  CHAKRAS         
چکراز  CHAKRAS  وہ پوائنٹس ہیں  جن سے  توانائی ہمارے  جسم میں  داخل اور خارج ہوتی ہے  یہ خلائی سطح  (ETHERIC LEVEL)  پر موجود ہوتے  ہیں۔ جسے  ہم دوہرا جسم بھی کہتے  ہیں  کیونکہ یہ بالکل ہمارے  مادی جسم کی شکل اختیا ر کر لیتے  ہیں۔ چکراز جب صحیح کام کر رہے  ہوں  تو پہیے  کی طرح گھومتے  رہتے  ہیں۔ سات  " 7 "  بنیادی چکراز ہیں  جو کہ جسم کے  اگلے اور پچھلے  حصے  میں  موجود ہوتے  ہیں اور اندر کی طرف مڑ رہے  ہوتے  ہیں۔ اس کے  علاوہ AURA  میں  مزید چکراز ہوتے  ہیں  جو کہ جسم سے  زیادہ فاصلے  پر ہوتے  ہیں۔
AURA  کی دریافت تو آج  ۱۹۳۰ء  میں  ہوئی ہے  لیکن تمام ادوار میں  انسان کے  اس باطنی تشخص کا تذکرہ ہوتا آیا ہے  بلکہ AURA   سے  متعلق ماضی کی معلومات  آج کی جدید تحقیقات کے  مقابلے  میں  زیادہ مستند معلومات ہیں مثلاً
قدیم ادوار میں   یونانی، رومی، ہندو اور عیسائی اقوام میں  ان کی مذہبی شخصیات کی تصاویر اور مجسموں  میں  ان کا ہیولا دکھایا جاتا تھا جسے  انگریزی میں  ہالو HALO اور قدیم یونانی اور لاطینی زبان میں  اوراAURA  اور ایرولا AUREOLA  کہا جاتا تھا۔ اور آج اسی ماضی کی مناسبت سے  ہی نئے  دریافت شدہ لطیف جسم کا نام AURA   رکھا گیا ہے۔  افلاطون کی تحریروں  میں  بھی موت کے  واقعات میں   AURA کا تذکرہ موجود ہے  ارسطو نے  اسے  روح حیوانی کہا جب کہ ہزاروں  سال پہلے  کے  فراعنہ مصر  AURA کو  بع کہتے  تھے۔  تبتی  لاما  ہوا میں  اڑنے اور اپنے   AURA کو جسم سے  الگ کرنے  کی صلاحیت بھی رکھتے  تھے۔ جب کہ مسلمان، یہودیوں، عیسائیوں، ہندوؤں  میں  ایسے  روحانی ماہرین پائے  جاتے  تھے  جو نہ صرف اپنے   AURA کو جسم سے  الگ کر لیتے  تھے  بلکہ اس سے  کام بھی لیتے  تھے  ہوا میں  اڑتے  پلک جھپکتے  میں  ہزاروں  میل کے  فاصلے  طے  کر لیتے اور بہت سے  روحانی کرتب دکھاتے  تھے۔
مسلمانوں  کی تحریروں میں  بھی جا بجا  AURA  کا تذکرہ اور اس کی خصوصیات کا ذکر ملتا ہے۔ یہ تذکرے  آج کی تحقیقات سے  سو فیصد مماثلت رکھتے  ہیں۔ مسلمانوں  نے   AURA  کو دیگر ناموں  سے  پکارا ہے۔ مثلاً  نسمہ، جسم مثالی، روح حیوانی، روح ہوائی، روح یقظہ وغیرہ وغیرہ۔
قدیم چینیوں  میں  بھی  AURA کا تصور پایا جاتا تھا وہ اسے   P.O کہتے  تھے۔ جب کہ یہودیوں  کے  کام میں  اسے Nefesh   کہا گیا ہے۔
اگرچہ  AURA  کا تذکرہ ہزاروں  برس سے  ہو رہا تھا لیکن عرصہ دراز تک مادی سائنسدان انسان کے  باطن کو غیر مرئی اور غیر اہم کہہ کر جھٹلاتے  آ رہے  تھے  پھر کچھ روحانی کرتبوں  سے  متاثر ہو کر کچھ سائنسدان اسے  الیکٹرومیگنیٹک فیلڈ (E.M.F) ہیومن انرجی فیلڈ اور بائیو انرجی کے  نام سے  شناخت کرنے  لگے اور بلآخر سائنسدانوں  نے   ۱۹۳۰ء  میں  اس کی تصویر کشی بھی کر لی۔
آج  AURA  پر تحقیق و تحریر کے  در  وا  ہیں  مغربی ممالک میں  اس پر لیبارٹریز میں  کام ہو رہا ہے  کتابیں  لکھی جا رہی ہیں۔ بلکہ وہ لوگ تو اس  AURA  کو کام میں  لے  کر جاسوسی کا کام بھی لے  رہے  ہیں اور اس کے  ذریعے  مریخ تک جا پہنچے۔  مثلاً
امریکہ کا  CIA کا خفیہ جاسوسی کا ادارہ (Sun Strcak/Stragate)  روحانی صلاحیتوں  کے  مالک جاسوسوں  کو جدید سائنسی طریقوں  سے  روحانی تربیت دے  کر روحانی سراغ رسانی کا کام لیتا ہے۔ اور یہ روحانی تربیت یافتہ افراد روحانی وجود  AURA  کو استعمال میں  لا کر دشمن کے  خفیہ منصوبوں  کا گھر بیٹھے  سراغ لگاتے  ہیں۔ درحقیقت یہ دشمن کے  ہتھیاروں  کو گھر بیٹھے  ناکارہ بناسکتے  ہیں۔ یہ حکمرانوں  کے  دماغوں  کو گھر بیٹھے  کنٹرول کر سکتے  ہیں۔ یہ گھر بیٹھے  اپنے  دشمن کو شکست دے  سکتے  ہیں۔

آج دنیا بھر میں  انسان کے  باطنی رخ پر نہ صرف روحانی بلکہ سائنسی تجربات ہو رہے  ہیں اور سائنسدان ایٹم کی طرح انسان کے  اندر جھانک کر اس وسیع و عریض دنیا کو حیرت سے  دیکھ رہے  ہیں۔ لیکن ابھی سمجھ نہیں  پا رہے۔ اسی وجہ سے  چکراز اور  آواگون   (Reincarnation)میں  مماثلت تلاش کر رہے  ہیں۔ حالانکہ ان دونوں  میں  کوئی مماثلت نہیں۔ جب کہ کچھ لوگ AURA یا لطیف اجسام کو روح یا روح کا حصہ بھی کہتے  ہیں
یہ  AURA  کیا ہے ؟  مادی جسم سے  اس کا کیا اور کیسا ربط ہے ؟  یہ سوالات جوں  کے  توں  حل طلب ہیں۔ جب کہ اس کتاب میں  نئے  نظریات کے  ذریعے  ہم نے  ان تمام سوالوں  کے  تفصیلاً جواب دے  دیئے  ہیں۔ لہذا یہاں  اس
۱۔ AURAکی اصل شناخت قائم کی ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے
۲۔ AURAنفس ہے۔ AURA کا اصل نام نفس ہے۔
جب کہ آج جدید محقق AURA اور نفس پر الگ الگ  حیثیتوں  میں  کام کر رہے  ہیں۔ نفس پر اس کی مفروضہ حیثیت میں  کام ہو رہا ہے  جب کہ AURA پر شناخت کے  بغیر انفرادی تحقیقی کام ہو رہا ہے۔ اور علمی میدان میں  اتنی بڑی بڑی اور واشگاف غلطیاں  کی جا رہی ہیں  جس کی وجہ لا علمی ہے  پختہ تحقیق کی ضرورت ہے  ہر علمی موضوع کو۔ اور اس بات کو سمجھنے  کی کوشش کیجیے  کہ ہر وجود کا اپنا منفرد نام اور منفرد شناخت ہے۔ اور یہ روح یا نفس جیسے  نام مذہبی نام ہیں۔ ماضی میں  ہر قوم نے  ان ناموں  کو اپنی زبان میں  ادا کیا جس کے  نتیجے  میں  روح و نفس و جسم کی ایسی الجھن پیدا ہوئی جو آج تک نہیں  سلجھی اور انسان ایک معمہ بن کر رہ گیا تھا۔
اس کتاب میں  برسوں  کی مسلسل تحقیق و غور و فکر کے  بعد میں  نے  یہ صدیوں  کے  مسائل حل کئے  ہیں   روح و نفس کی انفرادی شناخت قائم کی ہے۔ لہذا اب ان  صدیوں  کی غلطیوں  کو درست فرما لیں اور نوٹ کر لیں کہ
۲۔ AURAنفس ہے۔ AURA کا اصل نام نفس ہے۔
۳۔ لہذا نفس کی دیگر مفروضہ تعریفیں  درست نہیں، نفس کوئی مفروضہ خواہش نہیں  بلکہ ایک لطیف جسم ہے  جسے  آج AURAکا نام دے  دیا گیا ہے۔
۴۔ لہذا یہاں  یہ بھی ثابت ہو گیا کہ AURAروح نہیں  ہے  بلکہ جسم ہے ، نفس کا جسم
۵۔ AURAروشنی کا جسم ہے۔
۶۔ AURAجسمانی حرکت و عمل کا سبب ہے  یہ جسم کا فیول ہے۔
۷۔ AURAاگرچہ جسمانی حر کت و عمل کا سبب ہے اور اس کی غیر موجودگی سے  جسم حر کت و عمل سے  محروم ہو جاتا ہے  لیکن اس کے  با وجود
AURAجسم کی زندگی نہیں  ہے  جیسا کہ عموماً تصور کیا جاتا ہے۔ AURAکی غیر موجودگی سے  جسم موت کا شکار نہیں  ہوتا۔
جسم کی زندگی و موت کا سبب روح ہے۔ جو نفس سے  منفرد شے  ہے
۸۔ AURAانسان کے  وسیع و عریض باطن کا ایک جز ایک جسم ہے۔ لیکن یہ مادی جسم کی طرح باطن کا بنیادی جسم ہے  اگرچہ باطن کے  دیگر اجسام بھی نفس ہیں  AURA نفس کا ایک جسم ہے  لیکن یہی بنیادی نفس بھی ہے۔ یعنی نفس کے  اس جسم کا نام بھی نفس ہی ہے۔ قصہ مختصر
AURA دراصل نفس ہے۔



سورہ قریش کی فضیلت

 


تمہیں سورۂ قریش کا ایک ایسا کمال بتاؤں جوزندگی میں

 تمہیں کہیں نہیں ملا تھا وہ یہ ہےکہ اگر چاہتے ہو کہ ساری کائنات کے خزانے جو زمین کے نیچے دفن ہیں اوروہ اللہ کے علم میں ہیں اور اللہ ہی جانتا ہے تو پھر سورۂ قریش کو اپنی زندگی کا ایسا ساتھی بنائیں جو کبھی جدا نہ ہو۔۔۔ سفر ہو‘ زندگی ہو‘ موت کا آخری وقت ہو‘ کھانا ہو ‘پینا ہو‘ اولاد ہو‘ گھر ہو‘ جھونپڑی ہو‘ محل ہو۔۔۔ 


خاص وقت کا خاص عمل اور نسلیں کامیاب: اگر کوئی شخص سورۂ قریش کو اس وقت پڑھے جس وقت میاں بیوی کے ملنے کا وقت ہوتا ہے یعنی اس سے پہلے جب انسان اپنے لباس سے جدا نہ ہو اور صرف تین بار‘سات بار یا گیارہ بار پڑھ لے اس سے جو بھی اولاد پیدا ہوگی‘ وہ اولاد کبھی ننگی نہیں ہوگی اللہ ان کو 

اچھا لباس دے گا‘کبھی بھوک نہیں ہوگی یعنی ان کو اللہ پاک بہترین کھانے دے گا کبھی خوفزدہ نہ ہوگی نہ غم سے نہ دشمن سے نہ کسی درندے سےنہ کسی جادو سے اور نہ ہی کسی مشکل سے اور ان کو بھوک کا خوف‘ غم کاخوف‘ چھننے کا خوف‘ لٹنے کا خوف‘ مشکلات کا خوف‘ پریشانیوں کا خوف اور مسائل کا خوف ان کو نہیں ہوگا اور زندگی ان کی آسودہ گزرے گی۔رزق ‘برکت لائی اور تنگدستی گئی۔۔


  میرے رزق میں برکت’ میرے مسائل حل مجھے زندگی میں ترقیاں ملیں‘ حالات سنورے‘ زندگی سنوری میں نے غربت تنگدستی سے اپنے آپ کو نکلتے ہوئے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا۔۔۔ میں نہیں نکل سکتا تھا‘ بہت کوشش کی لیکن نہیں نکل سکا اور اب ایسا نکلا کہ آج لوگ مجھے مالدار کہتےہیں۔۔۔ کوئی مجھے تنگدست نہیں کہتا‘ کوئی فقیر نہیں کہتا اور میں اپنی زندگی میں اسی تنگدستی اورفقیری سے نکلا ہوں اور ایسا نکلا ہوں کہ میں آگے سے آگے بڑھا۔۔۔ حالات نے مجھے بہتر سےبہتر بنا دیا۔  کہ سورۂ قریش کو جب چودھویں رات کاچاند ہو اور موسم گرما کا ہواور صحن میں سورہےہوں تو چاند کو دیکھتے ہوئے یہ سورۂ پڑھتے رہیں۔۔۔ پڑھتے رہیں۔۔۔ پڑھتے رہیں۔۔۔ اور اپنی چار مرادوں کو دل میں لے کر پڑھتے رہیں۔۔۔ مراد نمبر ایک: فاقہ ،تنگدستی ،غربت، معاشی مسائل،کاروباری مسائل، روزگار کے مسائل، تنگدستی کے مسائل۔ مراد نمبر دو: خوف کسی انسان سے‘ کسی جانور سے اور کسی جن سے یا لٹنے کا خوف‘ گمراہ ہونے کا خوف‘ فتنوں کا خوف‘ مشکلات کا خوف‘ پریشانیوں کا خوف‘ زندگی کی ناکامیوں کا خوف۔۔۔ تیسری مراد : آپ کو کہیں سے امن چاہیے اور اپنے آپ کو ہر حال میں تنگدست اور بے حال محسوس کرتے ہیں اور آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ زندگی کے اس گوشے میں پہنچے جہاں کوئی آپ کا ساتھی اور مدد گار نہیں اور آپ کو کوئی حاصل کرنے والا اور ساتھ دینا والا نہیں اورآپ سمجھتے ہیں کہ آپ تنہا ہوگئے ہیں۔۔۔ چوتھی مراد: آپ گناہوں کی گمراہی میں اور زندگی کی ذلتوں میںیا پھر بد سے بدتر زندگی میں آپ چلے گئے ہیں اور ولایت چاہتے ہیں‘ فقیری چاہتےہیں‘تعلق چاہتے ہیں‘ نسبت احسان چاہتے ہیں آپ رات کی تنہائیوں میں آنسو چاہتے ہیں۔۔۔ دعا کا لفظ چاہتے ہیں۔۔۔ دعا کا اہتمام چاہتےہیں۔۔۔ دعا کی طاقت چاہتے ہیں اور دعا کی تاثیر چاہتے ہیں بس۔۔۔ میرا گھر‘ میرا تن‘ میرا من بے روشن:سورۂ قریش بلاتعداد چاند کو دیکھتے ہوئے پڑھیں اور بس ایک تصور ضرور کریں کہ مولا چاند کچھ نہیں‘ مخلوق ہے ۔۔۔تو خالق ہے اور تو نے اس چاند میں روشنی ڈالی۔۔۔ مولا !میرا گھربے روشن۔۔۔ میرا تن بےروشن۔۔۔ میرا من بے روشن۔۔۔ میری زندگی میں اندھیرا‘ میری راہوں میں اندھیرا‘ میری آنکھوں میں اندھیرا۔۔۔ میری نسلوں میں اندھیرا۔۔۔ مجھےغربت کا اندھیرا۔۔۔ مجھے تنگدستی کا اندھیرا۔۔۔ مجھے گناہوں کا اندھیرا۔۔۔ مشکلات کا اندھیرا۔۔۔ خوف کا اندھیرا۔۔۔ ذلتوں کا اندھیرا۔۔۔ ظلمتوں کا اندھیرا۔۔۔ ناکامیوں کا اندھیرا۔ میرے اوپر چھا گیا ہے تو جس طرح اپنی تجلی سے چاند کو روشن کرتا ہے اس سورۃ کی برکت سے اپنی تجلی بھیج اور میرا سب کچھ روشن کردے اور مجھے روشنی دے دے ۔ عمل کا طریقہ:ہر چاند کی بارہ، تیرہ اور چودہ کو اگر یہ عمل کرتے رہیں تین دن کریں یا ہر چاند جب بھی روشن ہو دس دن کریں یا کم از کم چودھویں کی چاند کی رات کو کریں اور یہ باتیں کرتے کرتے سوجائیں اور اگر آپ چاند کو نہیں دیکھ پاتے آپ کے پاس وہ ماحول نہیں کہ جس میں چھت یا صحن میسر ہو لیکن چودھویں کا چاند ہے اور تاریخ چودھویں کی ہے تو پھر تصور تصور میں یہ عمل کرتے کرتے لیٹ جائیں چاہےچاند نظر نہ بھی آئے لیکن یہی تصور ہو اور یہی عمل آپ کرتے چلے جائیں۔ اپنی نسلوں میں یہ عمل ضرور سکھانا: اپنی نسلوں میں یہ عمل ضرور سکھانا  کیونکہ آپ تو پاگئے اگر نسلیں نہ پائیں تو پھر آپ بھی پاکر آخر کتنا پائیں گے۔۔۔ نسلیں آپ کی شادو آباد ہوجائیں گی اور اس کو اگر زندگی بھر کا معمول بنالیں تو آپ پر وہ خیروبرکت کی ر اہیں کھلیںگی اور آپ پروہ رحمت کی اور برکت کے راستے کھلیں گے جنہیں آپ نے کبھی سوچا اور پایا نہ ہوگا۔ 


دل کی سیاہی مٹانے کا لاجواب عمل


: اس کاپی میں لکھا تھا دل کے اوپر ایک نقطہ ہوتا ہے جو گناہ سے آتا ہے اور گناہ بڑھتے بڑھتے نقطے بڑھتے چلے جاتےہیں ان نقطوں کو مٹانے کیلئے سورۂ قریش کے اوپر جتنے نقطے ہیں یعنی اس کےلفظوں پر جتنے نقطے ہیں اتنی بار دل کے نقطوں کو مٹانے کیلئے روزانہ کسی بھی وقت سورۂ قریش پڑھیں لیں کہ جتنے نقطےاتنی بار سورۂ قریش‘ آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے دل پر کتنے کالے نقطے ہیں بس سورۂ قریش کے نقطوں کے بقدر جتنے اس پر نقطے ہیں اتنی تعداد میں سورۂ قریش پڑھیں اور پڑھتے چلے جائیں آپ سوچ نہیں سکتے کہ آپ کا دل کتنا زیادہ مالا مال ہوگا‘ صحت مند ہوگا اور برباد دل کیسے آباد ہوگااور آپ کے دل کو کیسے صحت‘ تندرستی‘ راحت‘ رحمت‘ برکت‘ شفاء‘ دل کی بیماریاں دور اور دل کی روحانی بیماریاں خطرناک بالکل ختم ہوجائیں گی

Monday, 25 January 2021

اسگندھ ناگوری جڑی اللہ کی نعمت ہندوستانی جنسنگ

 

اسگندھ ، جنسنگ کا بہترین اور ارزاں متبادل ----- دیسی جنسنگا

اسگندھ صدیوں سے برصغیر میں روایتی طبوں (ویدک اور طب یونانی) میں استعمال ہو رہی ہے۔ یہ بچوں سے لیکر بوڑھوں تک ، عورتوں اور مردوں دونوں کے لئے یکساں مفید ہے۔یہ مضر اثرات سے پاک ایسی بوٹی جس کے افعال و اثرات صدیوں سے ثابت ہیں۔ جدید تحقیقات سے اس کے نئے خواص بھی دریافت ہوئے ہیں ۔یہ بوٹی اپنے افعال و اثرات میں جنسنگ کے ہم پلہ ہے۔
اسگندھ ناگوری (Withania somnifera)
(جنسنگ کا بہترین اور سستا متبادل ----- دیسی جنسنگ)
تعارف : اسگندھ کو اردو میں "اسگند" ، ہندی میں" اسگندھ" اور سنسکرت میں" اشوگندھا" ، عربی میں" عبعب منوم" ، فارسی میں "کاکنج ہندی" ، پنجابی میں "آکسن" اور انگریزی میں"وتھانیا" (Withania) کہا جاتا ہے ۔ اسے" انڈین جن سینگ" بھی کہا جاتا ہے۔اسگندھ کا نباتی نام (Withania somnifera (L) Dunal) ہے ۔ " وتھانیا " (Withania) اس کی نوع (Genus) ہے ۔اس نوع کا تعلق پودوں کے ایک مشہور خاندان "سولین ایسی" (Solanaceae) سے ہے ۔ اس خاندان میں 84 انواع اور تقریبا 3000 اصناف(Species) پائی جاتی ہیں۔ اس کی دو انواع "وتھانیا" (Withania) اور"فائسالس" (Physalis) اہم ہیں جو طبی افادیت رکھتی ہیں۔نوع "وتھانیا" کی 23 اصناف (Species) دنیا کے گرم خشک علاقوں جزائرکناری ، بحرروم کے کنارے کے ممالک،شمالی افریقہ اور جنوب مغربی ایشیامیں پائی جاتی ہیں ۔ ان میں صرف دو اصناف "وتھانیا سومنیفرا " (Withania somnifera (L) Dunal) اور "وتھانیا کواگولینز"  (Withania coagulans) اہم ہیں جو طبی افادیت کی حامل ہیں اور طبی طور استعمال اور کاشت کی جاتی ہیں ۔ برصغیر میں "وتھانیاسومنیفرا" (Withania somnifera) اسگندھ کے نام سے معروف ہے۔سومنیفرا(somnifera) لاطینی لفظ ہے جس کے معنی نیند کے ہیں یہ اس پودے کی ایک اہم خصوصیت "منوم" یعنی نیند لانے والی دوا کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ Physalis somnifera L، Withania kansuensis Kuang & A. M. Lu ، Withania microphysalis Suess. اس کے متبادل سائنسی یا نباتی نام ہیں ۔ برصغیر کے حوالےسے یونانی طبی لٹریچر میں اس کی دو اقسام کا ذکر ملتا ہے ۔ایک اسگندھ ناگوری ، دوسرے اسگندھ دکنی ۔اسگندھ ناگوری کو بہتر اور میعاری مانا جاتاہے ۔یہ بھارت کی ریاست راجھستان کے شہر "ناگور" میں پیدا ہوتی ہے۔ اسی لئے اس کے ساتھ ناگوری کا لاحقہ عموما لگایا جاتا ہے۔اسگندھ ناگوری (Withania somnifera) اور "فائسالس الکی کنجی" (Physalis alkekengi) دونوں کو انگریزی میں "ونڑ چیری" (winter cherry) کہا جاتا ہے۔یہ دونوں مختلف پودے ہیں اس لئےمشترکہ نام سے کنفیوژ نہ ہوں۔اس کا سنسکرت نام اشوگندھا (گھوڑے کی بو والی) اس وجہ سے دیا گیا ہے کہ اس کی تازہ جڑ سے یا خشک جڑ کو پانی میں بھگونے سے گھوڑے جیسی بو آتی ہے ۔ اس کی جڑوں ، پتوں اور پھل میں طبی اوصاف پائے جاتے ہیں لیکن اس کی جڑوں کا استعمال روایتی طبوں (آیرویدک اور یونانی طب) بہت زیادہ ہے ۔ یہ جڑیں خشک حالت میں پنساری کے ہاں با آسانی دستیاب ہوتی ہیں ۔ اس کے پتے اور پھل نسبتا کم استعمال ہوتے ہیں ۔اس کے طبی اوصاف جڑوں کے حوالے ہی سے مشہور ہیں ۔ جنسنگ کے ساتھ اس کے طبی اوصاف کا موازنہ بھی اس کی جڑوں کے حوالے سے ہی کیا جاتا ہے۔انہی اوصاف کی وجہ سے اسے "انڈین جنسنگ" کہا جاتا ہے ۔یہ جنسنگ کا سستا اور بہترین متبادل ہے ۔یاد رہے کہ جنسنگ کی جڑیں ہی بطور دوا استعمال ہوتی ہیں۔



اسگندھ ناگوری بنیادی طور پر یہ خودرو پودا ہے جو باغوں ، کھیتوں اور جنگلوں، سڑکوں کے کنارے اور خالی جگہوں میں خودرو پیدا ہوتا ہے۔یہ برصغیر کے خشک اور معتدل علاقوں میں عام پایا جاتا ہے۔پاکستان اور مغربی ہند کے تمام علاقوں عام ملتا ہے لیکن آسام اور بنگال میں نہیں پایا جاتا۔ بہت سے علاقوں مثلا پنجاب ، سندھ ، راجھستان ، کیرالہ اور، گجرات میں اسے کاشت بھی کیا جاتا ہے۔ سب سے زیادہ اورعمدہ اسگندھ ناگور میں پیدا ہوتی ہے۔ ناگور کی اسگندھ طبی طور پرمعیاری بھی سمجھی جاتی ہے اور اسگندھ ناگوری کے نام سے معروف ہے۔اسگندھ کا پودا بحر روم کے کنارے کے ممالک میں بھی عام پایا جاتا ہے۔اس کے علاوہ اس کا پودا نیپال ، چین ، افریقہ، ترکی ، عراق ، شام اور جنوبی ایران ، فلسطین اور یمن میں بھی ملتا ہے۔یمن میں اسے "عبعب" کہا جاتا ہے۔اب اسے یورپ میں بھی کاشت کیا جارہا ہے۔ اس کا پودا 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے لے کر 10 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت میں اپنا وجود برقرار رکھ سکتا ہے ۔ یہ سطح سمندر سے 1500 میٹر بلندی تک پھلتا پھولتا ہے۔ اس کا پودا تقریبا ڈیڑھ میٹر تک بلند ہوتا ہے ۔شاخیں باریک ہوتی ہیں اورپتے ، بیضوی ، موٹے اور ان کی رگیں شفاف ہوتی ہیں یہ سرے پر آکر یک لخت نرکدار ہو جاتے ہیں۔ 5 سے 10 سنٹی میٹر لمبے، 2.5 سے 5 سینٹی میٹر چوڑے اور پھول سبزی مائل یا ہلکے زرد رنگ کے اورگھنٹی کی شکل کے ہوتے ہیں ۔اس کے پتوں اور شاخوں پر رواں ہوتاہے اس کی وجہ سے ایسامحسوس ہوتا ہے جیسے ان پر گرد جمی ہوئی ہے۔اس کا پھل چھوٹا اور نارنجی سرخ رنگ کا ہوتا ہے۔اسے پنیر کی تیاری میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ طب میں عام طور پراس کی جڑیں بطور دوا استعمال ہوتی ہیں اور یہی جڑیں اسگندھ کے نام سے بازار میں دستیاب ہوتی ہیں ۔ان کی ظاہری سطح ہلکے بادامی رنگ اور اندر سے سفیدی مائل ہوتی ہے۔یہ جڑیں نازک ہوتی ہیں اور توڑنے پر جلد ٹوٹ جاتی ہیں۔ان کی بو تیز اور مزہ تلخ (کڑوا) ہوتا ہے۔ان جڑوں کو جنوری سے مارچ کے درمیان اکٹھاکرکے سایہ میں خشک کیا جاتا ہے ۔ ان جڑوں کی قوت اور تاثیر دو سال تک قائم رہتی ہے۔ اس کے بعدا ن کی افادیت ختم ہوجاتی ہے اس لئے ضروری ہے کہ اس کے بھرپور فوائد حاصل کرنے کے لئے تازہ جڑوں یا ایسی جڑیں جنہیں خشک کئے ہوئے زیادہ عرصہ نہ گزرا ہو ، کا استعمال کیا جائے ۔یہ جلد خراب ہونے کا رجحان رکھتی ہے اس لئے اس بات کااطمینان کرلیا جائے کہ یہ کرم خورہ (کیڑا لگی) اور بوسیدہ نہ ہو کیونکہ کرم خورہ جڑیں زہریلا اثر رکھتی ہیں۔ اسگندھ صدیوں سے ہر عمر کے لوگوں ، عورتوں اور مردوں حتی کہ حاملہ عورتوں میں بغیر کسی ضمنی اثرات کے استعمال کی جارہی ہے۔
برصغیر میں پاک وہند میں خودرو پیدا ہونے والا انتہائی اہمیت کا حامل یہ پودا، اپنی گوناگوں خصوصیات کی وجہ سے ویدک طب میں اس کا استعمال ہزاروں سال سے کیا جارہا ہے ۔ یونانی اطباء طبی لٹریچر میں بھی اس کا تذکرہ صدیوں پرانا ہے ۔ آج کل یہ ایلوپیتھی طریقہ علاج کا مرکز نگاہ بنا ہوا ہے۔مسکن (اعصاب سکون دینےوالی) ، منوم ( نیند لانے والی ) بالخصوص دردوں کو رفع کرنے والی نقصان دہ اثرات کی حامل جدید کیمیائی ادویات کے مقابلے میں اسگندھ ایک محفوظ دوا کے طور پر متعارف ہورہی ہے۔اسی لئے اسےیورپ میں بڑی محنت سے کا شت کیا جارہا ہے اور اس کا جوہر نکال کر مختلف مسکن اعصاب اور دافع درد جدید دواؤں میں استعمال کیا جارہا ہے۔دردوں کے علاج میں اس کی اہمیت اس لئے بڑھ گئی ہے کہ جدید کیمیائی ادویات دردوں کو رفع کرنے کے ساتھ انتہائی مضر اثرات بھی مرتب کرتی ہیں نیز وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بدن اس کا عادی ہوتا چلا جاتا ہے ۔ جس کی وجہ سے ان کی مقدار خوراک میں اضافہ کرنا پڑتا ہے بڑھتی ہوئی خوراک سےمزید پیچیدگیاں جنم لیتی ہیں علاوہ ازیں انہیں ترک کرنے سے تکا لیف دوبارہ لوٹ آتی ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں اسگندھ ازالہ درد ، اعصاب کو سکون دینے کے ساتھ بدن پر منفی کی بجائے مثبت اثر ڈالتی ہے ۔ اسگندھ دافع درد ہونے کے ساتھ پیشاب آور بھی ہے اس لئے درد پیدا کرنے والے مادوں کو بدن سے خارج کردیتی ہے اس لئے جدید ادویات کے مقابلے میں اس کا اثر وقتی نہیں ہوتا بلکہ اس کے متواتر استعمال سے یہ تکالیف بفضل ربی مستقل طور پر رفع ہوجاتی ہیں۔
مسکن اعصاب اور کسی حد تک منشی ہونے کی وجہ سے اعصابی دردوں ، اعصاب کے کچھاؤ ، بے خوابی میں اس کا استعمال ان علامات میں کمی واقع ہوتی ہے بلکہ متواتر استعمال سے ان سے مستقل نجات مل جاتی ہے، اعصابی کچھاؤ ، عصبی دروں کا مریض نہ صرف سکون محسوس کرتا ہے بلکہ اس تقویت بھی حاصل ہوتی ہے ۔ اس لئے عصبی بے چینی اور حافظہ کو تیز کرنے کے لئے اعتماد کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔
مسکن درد ہونے کے ساتھ ساتھ یہ دافع سوزش بھی ہے نیز اس کے استعمال سے ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں اس لئے یہ وجع المفاصل(جوڑوں کے درد— polyarthritis)، گنٹھیا ، درد کمر-- lumbago) (مہروں کا ہل جانا اور ان وجہ سے ہونے والے درد) میں وقتی فائدہ کے ساتھ مستقل فائدہ کا باعث بھی ہے۔ ویدک اورطب یونانی میں اسے مقوی اعصاب ، مقوی باہ ، مولد کرم منی ، دافع جریان و سیلان ، مقوی رحم و محافظ حمل ، مولد خون (خون پیدا کرنے والی) ، صحت بخش یعنی بطور مقوی عام (جنرل ٹانک) ،اور تسہیل ولادت کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔
اسگندھ ، اولاد کے خواہشمند لوگوں کے لئے خوشی کی نویدہے۔اس کے استعمال عورتوں اور مردوں میں اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔قدرت نے اس میں مرد و زن دونوں کے تناسلی اعضاء کے نقائص دور کرنے کی صلاحیت رکھی ہے ۔ اس کے استعمال سے مردوں میں کرم منی صحت مند ہوجاتے ہیں اور ان کی پیدائش میں اضافہ بھی ہوجاتا ہے علاوہ ازیں قوت باہ پر بھی اس کے اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔چونکہ مقوی رحم و محافظ حمل ہے اس لئے یہ رحم کے عضلات کو طاقت دے کر اسقاط حمل روکنے میں معاون ہے۔ اس کے مسلسل استعمال سے اسقاط کا اندیشہ نہیں رہتا ۔دافع جریان اور سیلان ہونے کی وجہ سے اس کا استعمال پیشاب کے ساتھ لیسدار رطوبات کے اخراج روک دیتا ہے۔مادہ منویہ گاڑھا اور نقائص پاک ہو جاتا ہے ۔ اسی طرح عورتوں میں اس کے استعمال سے سیلان الرحم (لیکوریا) کا ازالہ ہو جاتا ہے۔ اس کا سفوف چار ماشہ روزانہ صبح شکر اور دودھ کے ہمراہ کھلانا معین حمل ہے۔ بعد وضع حمل کے عورتوں کو بالخصوص دینا چاہیے
اسگندھ آئرن (لوہا) سے بھرپور مقوی عام (جنرل ٹانک) اور خون پیداکرنے والی ایسی دوا ہے جو نظام ہضم کی اصلاح کر کے غذا کر جزو بدن میں انتہائی معاون ہے۔اس کے استعمال سے نہ صرف عام صحت بہتر ہوجاتی ہے بلکہ خون کی کمی کا ازالہ ہوکر چہرے پر سرخی آجاتی ہے چہرہ بارونق اور جاذب نظر ہوجاتا ہے ، کمر مضبوط ہوتی ہے، بدن فربہ ہوتا ہے ، دبلے پتلے اور لاغر ونحیف جسم کو ایک نئی زندگی ملتی ہے ۔اسی لئے بیماری کے بعدکمزوری کے ازالہ کے لئے ، ضعیف حضرات ، سوکڑہ ( مراسمس) میں مبتلا لاغر اورسوکھے ہوئے بچے یا ایسے بچے جن کی جن کی نشوونما نہ ہورہی ہو کے لئے بہت فائدہ مند ہے۔پست ہمت اور جلد تھک جانے والے کمزور صحت والےحضرات بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔ یہ بچوں اور عمررسیدہ افراد کے لئے زبردست ٹانک ، جوانوں کے لئے مقوی باہ دوا ہے۔
خون میں بڑھی ہوئی شکر کو کم کرنے والے اجزاء بھی اس میں موجود ہيں ۔ تپ دق (ٹی بی) میں مبتلا لوگوں کے لئے بھی انتہائی مفید ہے۔ یہ بدہضمی ، بھوک کی کمی جیسے امراض کے لئے بھی بہت مفید ہے ۔اس کی جڑ کے جوشاندہ سے پیٹ اور آنتیں صاف ہوجاتی ہیں۔قروح معدہ (معدہ کا السر) میں، تبخیر معدہ ، بواسیر کے علاج میں بھی اسے استعمال کیا جاتا ہے ۔
اس کی جڑ کا جوشاندہ پیٹ اور آنتوں کو صاف کرتا ہے۔ اس کے پتے سخت تلخ اور مصفی خون ہوتے میں اور جوشاندے کی شکل میں بخاروں کے علاج میں استعمال ہوتے ہیں۔اسگندھ کا سفوف س کی تازہ جڑ یا تازہ پتوں کالیپ ایسے پھوڑوں کو نرم کرنے اور مواد خارج کرنے کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں جو سخت ہو گئے ہوں ۔
خلاصہ :
ویدک میں اسے رسائن(ایسی دوا جو بڑھتی عمر کے اثرات کو زائل کرکے جوانی کی طرف لوٹائے) کہا جاتا ہے اس لئے اعادہ شباب کے لئے استعمال ہونے والی ادویات میں اسے ممتاز حیثیت اور خاص اہمیت حاصل ہے ۔اس کو باقاعدہ استعمال کرنے والوں میں بڑھاپے کی علامات دیر سے شروع ہوتی ہیں ۔ اس کے استعمال سے جسمانی کمزوری دور ہوتی ہے ، تھکاوٹ کا خاتمہ ہوتا ہے ۔خون اور دوسرے اہم سیالات بد ن کی پیدائش بڑھ جاتی ہے۔ قوت مدافعت بڑھتی ہے ، قوت باہ میں اضافہ ہوتاہے ،مادہ منویہ کی پیدائش اور کرم منی کی تعداد اور صحت میں اضافہ ہوتاہے ، عورتوں اور مردوں میں اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت میں بہتری آتی ہے ۔ حاملہ خواتین کی صحت بہترہوتی ہے ۔اداسی ، خوف ، تشویش ، ڈیپریشن ، ٹینشن، جو بڑھاپا آنے کا اہم سبب ہیں ، کا خاتمہ ہوتا ہے۔ نظام ہضم کی اصلاح ہوتی ہے، جگر کا فعل درست ہوتا ہے، کھایا پیا جزو بدن بنتا ہے ۔بالوں کی سیاہی واپس آنا شروع ہوجاتی ہے ، ہڈیاں اور عضلات قوت پکڑتے ہیں، ہلتے دانت مضبوط ہوتے ہيں، لاغری (دبلاپن) دور ہوکر وزن بڑھتا ہے ، جھریو ں کا خاتمہ ہوتا ہے ، اعصاب کو تقویت ملتی ہے، یاداشت بہتر ہو جاتی ہے ، دماغی کام کرنے کی صلاحیت بڑھتی ہے۔ غرض کہ ڈھلتا شباب واپس لوٹ آتا ہے ۔اس حوالے اس کے خواص کوریائی / چینی جنسنگ( پینکس جنسنگ) سے مشابہ ہیں اسی وجہ سے اسے انڈین جنسنگ بھی کہاجاتا ہے ۔ جنسنگ ایک مہنگی بوٹی ہے اور عام دستیاب بھی نہیں ۔ اسگندھ اس کا بہترین بدل ہے جو عام دستیاب ہونے کے ساتھ ساتھ ارزاں (سستی) بھی ہے۔
جدید تحقیقات ان تما م خواص کی تائید کرتی ہیں۔جدیدتحقیقات کے نتیجے میں اس کے نئے خواص بھی سامنے آئے ہیں ۔ یہ دافع سرطان خصوصیات کی بھی حامل ہے۔یہ دافع سوزش ہے اور مدافعتی نظام کو تقویت دیتی ہے۔ اس کی تفصیل درج ذیل ہے۔
کیمیائی اجزاء :
اسگندھ (Withania somnifera) میں 80 سے زائد کیمیائی مرکبات پائے جاتے ہیں جو کہ الکلائیڈز) (alkaloids ،سٹوآئینوسائیڈز اور سٹرائیڈز (steroids) جنہیں وتھانولائیڈز (withanolides) اور وتھافیرنز (withaferins) کہا جاتا ہے ۔یہ زیادہ تر اس کے پتوں اور جڑوں سے حاصل ہوتے ہیں۔ اس کی جڑوں میں 35 سے زائد کیمیائی اجزاء پائے جاتے ہیں۔ یہ کیمیائی اجزاء الکلائیڈز ،(آئسوپیلرٹائرائن ، اینفرائن) سٹیرائیڈل لیکٹونز(وتھانولائیڈز ، وتھافیرنز) سیپوننزوغیرہ ہیں ۔ اسگندھ ناگوری میں لوہا(آئرن) بھی وافرمقدار میں پایا جاتا ہے۔
وتھانولائیڈز کے متعلق یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہی مرکب اسگندھ کی بیشتر طبی خصوصیات کا باعث ہے۔یہ مرکب ایشیائی (کوریائی) جنسینک میں موجود جینسنوسائیڈز کے ساتھ شکل وشبہاب اور افعال بہت مماثلت رکھتاہے۔ یہ سٹریس کو ختم کرتا ہیں ، طاقتور دافع تکسید (اینٹی آکسیڈینٹ) ہے اور بدن کو سرطان جیسی بیماریوں سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ مطالعات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اس میں موجود سٹرائیڈز دافع سرطان اور دافع سوزش خصوصیات کے حامل ہیں اور یہ سفید ذرات خون لمفوسائیڈز، فیگوسائیڈ اور نیوٹروفل کی پیدائش کو بڑھا کر مدافعتی نظام کو تقویت فراہم کرتے ہیں ۔ سٹوآئینوسائیڈز بھی مدافعتی نظام کی تقویت کا باعث ہے ۔
الکلائیڈز مسکن اور دافع تشنج ہیں یہ فشارخون کو کم کرتے ہیں ۔ اختلاج قلب کو کم کرتے ہیں۔خون کے سرخ ، سفید ذرات اور پلیٹیلیٹ کی پیدائش بڑھاتے خون میں کولیسٹرول کو کم کرتے ہیں۔ان مرکبات کے علاوہ اس میں غذائی اجزاء بھی پائے جاتے ہیں جن کی وجہ سے اس کی جڑیں بچوں اور بڑوں میں جسمانی کمزوری اور غذائیت کی کمی دور کرنے کے لئے مشہور ہیں۔
وتھافیرن ایک طاقتور دافع نقرس دافع سوزش خصوصیات کا حامل ہے۔ دافع سوزش خصوصیت اسگندھ میں موجود سٹرائیڈز کی طرف منسوب ہے جو کہ وتھافیرن کا بڑا جزو ہے۔ یہ ہائیڈروکارٹیسون سوڈیم سسینیٹ کی طرح کام کرتا ہے۔یہ وجع المفاصل (جوڑوں کا درد) میں کسی قسم کے سمی (زہریلے) اثر کے بغیر کافی مؤثر ہے ۔یہ ہائیڈرو کارٹیسون کی نسبت زیادہ طاقتور اور مؤثر نظرآتا ہے۔ وجع المفاصل میں ہائیڈرو کارٹی سون کے استعمال سے وزن میں کمی ہوتی ہے جبکہ وتھافیرن کے استعمال سے مریض وزن میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ یہ ایک جنرل ٹانک بھی ہے۔
اسگندھ بدن پرعمررسیدگی (اینٹی ایجنگ) کے اثرات کو زائل کرنے کے لئے بھی بہترین ہے ۔50 سے 59 سال کے 101 عمررسیدہ افراد کو 3 گرام اسگندھ کا سفوف روزانہ ایک سال تک بطور دوادیاگیا۔ اس کے استعمال سے ان کے ہیموگلوبن میں واضع طور پر بہتری آئی ، خون کے سرخ ذرات میں اضافہ ہوا، بالوں کی رنگت سیاہی مائل ہوئی ۔جسمانی ڈیل ڈول اچھا ہوا۔ سیرم کولیسٹرول میں کمی واقع ہوئی اور ناخنوں کا کیلشیم محفوظ ہوا۔70 فیصد افرادکی جنسی کارکردگی میں بہتری آئی ۔
تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ اسگندھ واضع طور پر اینٹی سٹریس اور دافع تشویش اثرات رکھتی ہے۔ یہ جسمانی اور ذہنی صحت دونوں کوبہتر کرتی ہے۔ یا داشت پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ ہیجان ، بے چینی اور ذہنی دباؤ ، اداسی‘ دل برداشتہ ہونا‘ تفریح میں کمی‘ فیصلے کرنے میں مشکلات‘جسمانی تھکن‘بے چینی ‘چڑچڑاپن‘بھوک میں کمی ‘وزن کا گھٹنا ‘نیند میں کمی‘ جنسی دلچسپی میں کمی‘خود اعتمادی کی قلت‘ خود کشی کے خیالات وغیرہ ڈیپریشن کی علامات ہیں ۔اسگندھ ناگوری ڈیپریشن میں خصوصیت سے مفید ہے ، طبیعت میں سکون پیدا کرتی ہے۔ ڈپریشن کی علامات میں سے متاثرہ افراد کو یادداشت ختم کر دینے والی بیماری الزائمر لاحق ہونے کے خطرات زیادہ ہوتے ہیں۔ الزائمر ایک دماغی بیماری ہے جس سے بہت آہستگی کے ساتھ متاثرہ فرد اپنی یادداشت کھودیتا ہے۔اس طرح اسگندھ ایلزائمرعلاج بھی ہے اور تحفظ کا ایک ذریعہ بھی۔اسگندھ برصغیر میں ایک محفوظ نیند آور دوا کے طور پرجانی جاتی ہے۔ یہ ایسی منوم (نیند آور) دوا ہے جس میں دواؤں کے مضر اثرات زائل کرنے والی خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں یہ خصوصیت سے نظام عصبی اور تناسلی اعضاء پر اثرانداز ہوتی ہے۔ محافظ ومقوی اعصاب خصوصیات کی وجہ سے اعصاب کے انحطاط کوبھی کم کرتی ہے اس لئے عصبی انحطاط سے پیدا ہونے والی بیماریوں مثلا پارکنسن ، مرگی ، ایلزائمر، ‎پراگندہ ذہنی (شیزوفیرنیا) ، ڈیمنیشیا، یاداشت کا ضیاع ، سٹریس ،تشویش خوف وغیرہ میں انتہائی مفید ہے ۔ اس کا لمبے عرصے تک استعمال فالج سے تحفظ ذریعہ بھی ہے ۔
اسگندھ کے استعمال سے خون کے سرخ اور سفید ذرات کی پیدائش بڑھ جاتی ہے اس لئے اسگندھ خون کی کمی (انیمیا) کے لئے بہت فائدہ مند ہے۔جسمانی کمزوری اس کے استعمال سے دور ہو جاتی ہے اور عام صحت بہتر ہو جاتی ہے اور وزن میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کی یہ حیثیت اور اہمیت بالکل ایسے ہی ہے جیسے چین میں جنسنگ کی ہے۔ سرخ ذرات کے ساتھ اس کے استعمال سے خون کے سفید ذرات ،لمفوسائیڈز، فیگوسائیڈ ، نیوٹروفل اور پلیٹیلس کی تعداد بھی پیدائش بڑھتی ہے اس لئے قوت مدافعت (ایمیونٹی) مضبوط ہوتی ہے۔
اسگندھکے استعمال سے خون میں موجود چرپیلے اجزاء ( ٹوٹل لیپڈز----کولیسٹرول اور ٹرائی گلیسرائیڈ) کی سطح کم ہوتی ہے اورکثیف کولیسٹرول (ہائی ڈینسٹی کولیسٹرول) کی سطح بلند ہوتی ہے۔اس کےساتھ ساتھ دافع سٹریس ،دافع سوزش ، دافع تکسید ، خصوصیات کی وجہ سے یہ قلبی امراض سے حفاظت کا ذریعہ بھی ہے۔
اسگندھ بہت اچھی دافع تکسید ہے جو استحالہ کے دوران پیدا ہونے والے فری ریڈیکل کو معتدل بناتی ہے اور بدن سے نکالتی ہے۔یہی فری ریڈیکل سرطان کا باعث بنتے ہیں اس طرح یہ سرطان سے تحفظ فراہم کرتی ہے ۔ اسگندھ سرطان کے علاج میں کیموتھراپی اور ریڈی ایشین کے ہمراہ ایک متبادل کے طور پر متعارف ہو رہی ہے۔ یہ کیموتھراپی اور ریڈی ایشن کے مضر اثرات کو بھی کم کرتی ہے۔ اسے پراسٹیٹ کینسر اور پھیپھڑوں کے کینسرکی آخری سٹیج میں بھی فائدہ مند پایا گیا ہے۔
دافع درد اور دافع سوزش ہونے کی وجہ سے وجع المفاصل ، نقرس اور عام دردوں کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ یہ عضلاتی استخوانی مسائل مثلا وجع المفاصل اور نقرس میں بہت فائدہ مند ہے۔ اسگندھ سائیکلوآکجسنیٹ انہیبیٹر کی طرح کام کرتے ہوئے سوزش اور درد کم کرتی ہے۔ تحقیق کے مطابق اس کی یہ خصوصیات اس میں موجود الکلائیڈز ، سیپوننز اور سٹرائیڈل لیکٹونز کی وجہ سے ہے۔ اسے ہڈیوں بھربھرے پن (آسٹیوپوروسس) میں معاون دوا کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے ۔یاد رہے کہ اگر کیلشیم کی ضرورت ہوتو میڈیکیٹڈ کیلشیم کی بجائے قدرتی کیلشیم استعمال کریں یعنی کشتہ بیضہ مرغ ، کشتہ صدف مروارید، کشتہ مرجان وغیرہ استعمال کریں۔
اسگندھ میں جراثیم کش خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں اسی وجہ سے یہ معدہ و امعاء، بولی تناسلی اعضاء اور پھیپھڑوں کی سوزش کو ختم کرنے میں اسے استعمال کرتے ہیں ۔ اس لئے یہ تپ دق وغیرہ میں بھی مفید ہے۔اسگندھ ذیابیطس میں بھی مفید ہے ۔ اس کے استعمال سے خون میں شوگر لیول کھانے سے پہلے اور بعد میں نمایاں طور پر کم ہوجاتا ہے۔ایک تحقیق کے مطابق اسگندھ غدہ درقیہ کو تحریک دیتی ہے اس کی وجہ سے تھائیرائیڈ ہارمون کا افراز بڑھ جاتا ہے ۔ ہائیپوتھائریڈازم میں اسے استعمال کیا جاسکتا ہے۔اس کے استعمال سے بدن کے نچلے حصے عضلات مضبوط ہوتے ہیں اس کے علاوہ اس کی وجہ سے عصبی عضلاتی ہم آہنگی پرمثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
مقدار خوراک : ایک گرام سفوف دودھ کے ساتھ
مزاج : گرم تر (غدی اعصابی)
نفع خاص : مقوی عام اور رسائن ہے اعادہ شباب کے لئے اس کی خاص اہمیت ہے۔
توجہ : اسگندھ سے حاصل ہونے والےمؤثر کیمیائی اجزاء کو جب استعمال کیا جاتا ہے تو اس کے فوائد کے ساتھ ساتھ اس کے ضمنی اثرات بھی ظاہر ہوتے ہیں ا
ور یہ کہا جاتا ہے کہ انہیں لمبے عرصہ تک استعمال نہ کی جائے یا یہ کہ حاملہ خواتین یا دودھ پلانے والی عورتیں انہیں استعمال نہ کریں کیونکہ حمل کے دوران انہیں استعمال کرنے سے اسقاط خطرہ ہوتاہے ۔ اس کے برعکس ہم یہ دیکھتے ہیں کہ روایتی طریقہ علاج (طب یونانی اور ایورویدک) میں اسگندھ کو لمبے عرصے تک استعمال کیا جاتا ہے۔ حاملہ خواتین کے لئے دوران حمل اس کا استعمال محافظ حمل کے طور پراور حاملہ کی صحت کو برقرار رکھنے کے لئے کیاجاتا ہےاسی طرح وضع حمل کے بعد دودھ پلانے کے عرصہ میں اسگندھ کا استعمال کسی برے ضمنی اثر کے بغیرعام ہےاورفائدہ مند ہے ۔اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ کسی بھی جڑی بوٹی کے اجزائے مؤثرہ کی بجائے اسے قدرتی حالت میں استعمال کرنا بہتر اورمحفوظ طریقہ ہے کیونکہ قدرت اس میں فائدہ مند اجزاءکے ساتھ ساتھ ایسے اجزاء بھی رکھے ہوتے ہیں جوان کے مضر اثرات کو زائل کرتے ہیں ۔
انتباہ : اسگندھ کے ساتھ ایلوپیتھی ادویات استعمال نہ کریں یا اگر ایلوپیتھی ادویات استعمال کررہے ہوں تو اسگندھ استعمال نہ کریں کیونکہ ان ادویات کے ساتھ تعامل نقصان کا باعث ہوسکتا ہے ------ ایک ہی وقت میں زیادہ مقدار میں اس کے استعمال سے اسہال ، معدہ کی خرابی یا متلی وغیرہ ہوسکتی ہے

نسخہ جات :
(1) اسگندھ کا ایک بہترین نسخہ درج ذیل ہے۔

ہوالشافی : اسگندھھ ناگوری‘ بیخ بدھارا اور ستاور تینوں ہم وزن لے کر الگ الگ سفوف کرکے باہم ملالیں‘ سب کے برابر وزن مصری ملا کر خوب اچھی طرح ملالیں اور شیشی میں محفوظ کرلیں۔ شوگر کے مریض مصری نہ ڈالیں ۔
مقدار خوراک: چھ ماشہ ، بچوں کو ایک سے تین ماشہ صبح وشام ہمراہ دودھ گائے (اگر گائے کا نہ ملے تو بھینس کا دودھ) نیم گرم کھاتے رہنے سےمادہ تولید سے متعلقہ تمام عوارض مثلا جریان‘ احتلام‘سرعت انزال ‘ وغیرہ رفع ہوجاتے ہیں۔ مادہ منویہ کی پیدائش اضافہ ہو کر خزانہ منی پر ہو جاتا ہے ۔ کرم منی کی تعداد اور صحت میں اضافہ ہوتاہے اور ان کے نقائص دور ہو جاتے ہیں۔ عورتوں اور مردوں میں اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت میں بہتری آتی ہے۔ مادہ تولید کی رقت (پتلاپن) دور ہو جاتی ہے ،پانی کی طرح بہتا ہوا مادہ تولید مکھن کی طرح گاڑھا ہوجائےگا۔ اس کے مسلسل استعمال سے بے پناہ قوت شہوانی پیدا ہوتی ہےاگر جماع سے پرہیز کیا جائے تو چہرے کی جھریاں اور بیاض شعری (بال سفید ہونا) دور ہو جاتے ہیں۔ جوانوں کو قبل ازوقت بوڑھا ہونے سے بچاتی ہے۔ کمی حرارت دور کرنے اور حرارت اصلیہ اور رطوبت اصلیہ کی پیدائش میں معاون ہے ۔اس کےمسلسل استعمال سے بڑھاپے کی کمزوریاں غائب ہو جاتی ہیں ۔ اس کااستعمال کمزوری ہاضمہ کوبھی درست کرتا ہے ۔ اگر پرسوت (بچے کی پیدائش )کے بعد عورت میں دودھ کی کمی ہوجائےتو اس سے دور ہوتی ہے۔ لاغر‘ نحیف زندگیوں کیلئے یہ عجیب الاثر ٹانک ہے۔ دبلے پتلے اور لاغر بچوں کو فربہ کرنے کے لئے اس کا استعمال بہترین ہے ۔(یہ نسخہ ستاور کے بغیر بھی تیار کی جا سکتا ہے یعنی اسگندھ ناگوری اور بیخ بدھارا دونوں ہم وزن لے کر سفوف بنا لیں)
(2) اسگندھ کا مفرد استعمال قوت باہ کیلئے
ھوالشافی: اسگندھ ناگوری 8 ماشہ لیں‘ آدھ کلو دودھ میں خوب ابالیں جب دودھ ڈیڑھ پاؤ رہ جائے مصری ملا کر پی لیں۔ شوگر کے مریض مصری کے بغیر پئیں ۔دنوں میں چہرہ سرخ کردیتا ہے، عام صحت بہتر ہوجاتی ہے اور قوت باہ اس قدر کہ طبیعت پر قابو پانا مشکل ہوجاتا ہے۔ صبح کے وقت پئیں اور ڈیڑھ ماہ تک استعمال کریں۔
(3) "اسگندھ پاک " ایک ویدک نسخہ ہے اور بڑے فوائد کا حامل ہے ۔نسخہ کےاجزاء درج ذیل ہیں۔
ہوالشافی : اسگندھھ ناگوری۔ 40 تولہ ۔سونٹھ۔ 20 تولہ ۔مگھاں (فلفل دراز) 10تولہ مرچ سیاہ۔ 10 تولہ یہ سب ادویہ الگ الگ کوٹ کر سفوف بنائیں پھر ملالیں۔ بعد ازاں پپلامول۔ زیرہ سفید۔ گلو۔ تگر۔ جائفل۔ خس۔ نیتربالا۔ صندل سفید۔ گری ناریل۔ ناگرموتھا۔ خشک دھنیا۔ گل دھاوا۔ طباشیر۔ آملہ۔ کافور بھیم سینی۔ جڑسانٹھ۔ کتھ سفید۔ چترک۔ ستارہ۔ بیخ نیشکر ۔ اجمود ہرایک۔ چھ چھ ماشے ۔ یہ سب چیزیں کوٹ کر سفوف بنالیں اور درج
بالا آمیزے میں شامل کریں۔ "اسگندھھ پاک " تیار ہے۔ اسے چینی کے مرتبان میں رکھیں۔
ترکیب استعمال: روزانہ علی الصباح مریض کو یہ دوا دوتولہ گائے یا بھینس کے آدھ کلو دودھ کے ساتھ بطور ناشتہ کھلائیں۔
فوائد: یہ دوابدن کے کئی امراض کے لیے اکسیر ہے۔ جن بچوں‘ عورتوں یا مردوں کا جسم سوکھا سڑا ہو اور وہ کمزوری اور لاغری محسوس کرتے ہوں‘ اس کے استعمال سے ان کا جسم فربہ ہو جاتا ہے۔ چہرے کی بے رونقی وپژ مردگی دور کر کے اسے بارونق اور جاذب نظر بناتی اور چہرے کی رنگت نکھارتی ہے۔ کھانسی اور دمے کی لاجواب دوا ہے۔ معدے اور جگر کے امراض کے لیے اکسیر سے بڑھ کر ہے۔ خاص طور پر دونوں اعضا کی کمزوری رفع کرتا ہے۔ خون کی شدید کمی اور یرقان کا قلع قمع کرتا ہے۔ تاپ تلی اور تلی کے ورم کے لیے مفید ہے۔ پیٹ کے درد کے لیے لاجواب ہے۔ دوماہ کے استعمال سے خونی یا بادی بواسیر‘ سنگرہنی اور باؤ گولہ رفع ہو جاتے ہیں۔ خواتین کی تقریباً تمام بیماریوں کے لیے مفید ہے۔ امراض رحم کے لیے بے حد مؤثر اور مفید ہے۔ کثرت حیض‘ ایام خاص کے علاوہ دیگر دنوں میں خون آنا اور لیکوریا وغیرہ کو اس کے استعمال سے فائدہ ہوتا ہے۔ یوں کمزور اور نحیف بچہ بھی تندرست ہو جاتا ہے۔ مردوں کے لیے بھی بے حد مفید ہے۔ اس دوا کے مسلسل استعمال سے بڑھاپے کی کمزوریاں غائب ہو جاتی ہیں۔ جریان‘ احتلام وغیرہ دور کرنے کے لیے عجیب الاثر دوا ہے۔ جوانوں کو قبل ازوقت بوڑھا ہونے سے بچاتی ہے۔ قبض کشائی کے لیے دنیا میں اس سے بڑھ کر کوئی دوا نہیں۔ یہ دوا اعضائے رئیسہ وشریفہ کو توانائی بخشتی اور مجلوق کے افعال بدن کو باقاعدہ بناتی ہے۔ایک بزرگ کی بینائی جاتی رہی ۔تشخیص پر معلوم ہوا آنکھ کی طرف جانے والے اعصاب سوکھ گئے ہیں اور اس کا کوئی علاج نہیں ۔انہوں نے اسگندھ پاک چار ماہ تک باقاعدگی سے استعمال کی۔ اللہ تعالی کے فضل وکرم سے ان کی بینائی بحال ہوگئی۔
(4) جوڑوں ، گھٹنوں ، مہروں اور درد کمر کے لئے :
درج ذیل نسخہ استعمال کریں ۔ یہ بوڑھے حضرات کے لئے بہت بہترین چیز ہے عمر بڑھنے کی وجہ سے درد ہو یاجوڑوں میں خشکی ہوتو یہ نسخہ بہترین ہے اسے مستقل تین ماہ تک استعمال کریں انشاء اللہ بالکل تندرست ہو جائیں گے ۔
ہوالشافی : اسگندھ ناگوری 100 گرام ،گوند کیکر 100 گرام ،گوند کتیرا 100 گرام تینوں کا سفوف بنا لیں ۔روزانہ ایک چمچ صبح و شام دودھ کے ساتھ لیں ۔ دودھ نہ ملے تو پانی کے ساتھ لیں ۔ کسی دافع درد روغن مثلا روغن مالکنگنی یا روغن اوجاع کی دن میں ایک مرتبہ مالش بھی کریں ۔ ضمنی اثرات سے مبرا بہترین اور مجرب نسخہ ہے ۔
(5) مہروں کے ہلنے اوران کی وجہ سے ہونے والے دردوں کے لئے یہ نسخہ جات بھی بہترین ہے ۔
(ا) ہوالشافی : گوکھرو (بکھڑا) ، اسگندھ ناگوری ، سونٹھ تینوں ہم وزن کوٹ پیس کر سفوف تیار کریں۔ اگر مرض زیادہ ہو تو دن میں تین بارایک چمچ استعمال کریں کم ازکم ایک ماہ اور اس سے زیادہ عرصہ بھی استعمال کرسکتے ہیں۔علاوہ ازیں یہ نسخہ بھی مہروں کے ہلنے میں مفید ہے۔
(ب) ہوالشافی : اسگندھناگوری 80 گرام ، مغز بنولہ 20 گرام سفوف بنالیں دن میں دو سےتین مرتبہ ایک چمچ دودھ کے ساتھ استعمال کریں۔یہ نسخہ ذیابیطس کے مریض شوگر کنٹرول کرنے کے لئے بھی استعمال کرسکتے ہیں۔
(6) ڈیپریش کے لئے :
ہوالشافی : اسگندھ ناگوری اور جنسنگ دونوں جڑی بوٹیاں ہم وزن لیکر سفوف بنائیں اور 500ملی گرام کے کیپسول بھر لیں دو کیپسول صبح و شام استعمال کریں۔یہ ڈپریشن کا بہترین علاج ہے۔
(7) کمزور او ربوسیدہ ہڈیوں(آسٹیوپورسس) کے لئے درج ذیل نسخہ استعمال کریں ۔
ہوالشافی : اسگندھ ناگوری کا سفوف روزانہ دو چمچ صبح دو شام پانی سے لیں انشاء اللہ ایک ماہ میں ٹھیک ہو جائیں گے مگر تین ماہ جاری رکھیں تاکہ بیماری واپس حملہ نہ کرے۔بالکل بے ضرر ہے۔ اس مقصد کے لئے عام طور پر میڈیکیٹڈ کیلشیم استعمال کرتے ہیں اس کا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ اس کا زیادہ تر حصہ بذریعہ
پیشاب خارج ہوجاتا ہے اور اس کا بیشتر حصہ گردوں میں جاکر 
پتھری کا باعث بنتا 

جنات کی ہم نشینی کے نقصانات

  شیخ اکبر نے فتوحات مکیہ میں جنات کی ہم نشینی کے نقصانات  بیان کیے ہیں۔ 1. روحانی مرتبے میں تنزلی جنات کی صحبت اختیار کرنے والا شخص اُن عار...