This blog provides Islamic information, provides information about Islamic historical places, Islam gives benefits, explains the methods of health and well-being, and also explains the treatment of physical and spiritual ailments. Explains the secrets of saints' breasts Email for more information and contact azeemshahyousufi@gmail.com whatsapp No calls +923122989983
Saturday, 29 February 2020
Friday, 28 February 2020
Wednesday, 26 February 2020
Wednesday, 25 September 2019
Friday, 13 September 2019
آیت شفاء
قرآن مجید شفا ہے:
اللہ تعالی نے قرآن مجید کو درج ذیل تین مقامات پر شفا ارشاد فرمایا ہے:
یٰأَیُّھَاالنَّاسُ قَدْ جَائَ تْکُمْ مَّوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَشِفَائ’‘ لِّمَا فِیْ الصُّدُورِ (یونس57)
’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک نصیحت اور دلوں کی بیماریوں کی لئے شفا آگئی ہے۔‘‘
وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا ھُوَ شِفَائ’‘ وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ وَلاَ یَزِیْدُ الظَّالِمِیْنَ إِلاَّ خَسَارًاO (بنی اسرائیل82)
’’اور ہم قرآن میں جو کچھ نازل کرتے ہیں وہ مومنوں کے لئے شفاء ہے مگر ظالموں کے لئے یہ قرآن خسارے کے علاوہ کسی چیز میں اضافہ نہیں کرتا۔ ‘‘
قُلْ ھُوَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ھُدًی وَّشِفَاء
’’(اے محمدe) کہہ دیجئے، یہ قرآن ایمان لانے والوں کے لئے ہدایت اور شفا ہے۔‘‘ (حم السجدہ 44)
قرآن مجید انسان کی تمام روحانی بیماریوں مثلا شرک، کفر، نفاق، ریا، حسد، بغض، کینہ، عداوت وغیرہ کے لئے تو بدرجہ اولی شفا ہے۔ جیسا کہ سورہ یونس کی آیت میں وضاحت کے ساتھ موجود ہے لیکن سورہ بنی اسرائیل اور سورہ حم السجدہ کی آیت میں قرآن مجید کو مطلق شفا ارشاد فرمایا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید جسمانی بیماریوں کے لئے بھی شفا ہے۔ بہت سی احادیث بھی اس کی تصدیق کرتی ہیں۔ روحانی بیماریوں کے لئے شفا کا ذکر تو گزشتہ صفحات میں ہو چکا ہے۔ اب ان سطور میں ہم جسمانی بیماریوں کے لئے شفا کا ذکر کریں گے۔
ہم یہاں صرف ایسے امراض کا ذکر کریں گے جن کا علاج احادیث صحیح سے ثابت ہے۔
اللہ تعالی نے قرآن مجید کو درج ذیل تین مقامات پر شفا ارشاد فرمایا ہے:
یٰأَیُّھَاالنَّاسُ قَدْ جَائَ تْکُمْ مَّوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَشِفَائ’‘ لِّمَا فِیْ الصُّدُورِ (یونس57)
’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک نصیحت اور دلوں کی بیماریوں کی لئے شفا آگئی ہے۔‘‘
وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا ھُوَ شِفَائ’‘ وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ وَلاَ یَزِیْدُ الظَّالِمِیْنَ إِلاَّ خَسَارًاO (بنی اسرائیل82)
’’اور ہم قرآن میں جو کچھ نازل کرتے ہیں وہ مومنوں کے لئے شفاء ہے مگر ظالموں کے لئے یہ قرآن خسارے کے علاوہ کسی چیز میں اضافہ نہیں کرتا۔ ‘‘
قُلْ ھُوَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ھُدًی وَّشِفَاء
’’(اے محمدe) کہہ دیجئے، یہ قرآن ایمان لانے والوں کے لئے ہدایت اور شفا ہے۔‘‘ (حم السجدہ 44)
قرآن مجید انسان کی تمام روحانی بیماریوں مثلا شرک، کفر، نفاق، ریا، حسد، بغض، کینہ، عداوت وغیرہ کے لئے تو بدرجہ اولی شفا ہے۔ جیسا کہ سورہ یونس کی آیت میں وضاحت کے ساتھ موجود ہے لیکن سورہ بنی اسرائیل اور سورہ حم السجدہ کی آیت میں قرآن مجید کو مطلق شفا ارشاد فرمایا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید جسمانی بیماریوں کے لئے بھی شفا ہے۔ بہت سی احادیث بھی اس کی تصدیق کرتی ہیں۔ روحانی بیماریوں کے لئے شفا کا ذکر تو گزشتہ صفحات میں ہو چکا ہے۔ اب ان سطور میں ہم جسمانی بیماریوں کے لئے شفا کا ذکر کریں گے۔
ہم یہاں صرف ایسے امراض کا ذکر کریں گے جن کا علاج احادیث صحیح سے ثابت ہے۔
Tuesday, 12 February 2019
لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ سب سے افضل ذکر (70000 کا نصاب)
سب سے افضل ذکر
فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ ہے:”اَفْضَلُ الذِّكْرِ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللَّهُ وَاَفْضَلُ الدُّعَاءِ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ سب سے افضل ذکر لَا اِلٰهَ اِلَّا اللَّهُاور سب سے بہترین دعا اَلْحَمْدُ لِلَّهِ ہے۔“ (ابن ماجہ،ج 4،ص247،حدیث:3800)
لَا اِلٰهَ اِلَّا اللَّهُ سے مراد پورا کلمہ شریف ہے یعنی مع مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اﷲ کے، ورنہ صرف لَا اِلٰهَ اِلَّا اللَّهُ تو بہت سے مُوَحِّد کفار بلکہ ابلیس بھی پڑھتا ہے، وہ مشرک نہیں مُوَحِّد ہے۔ جس چیز سے مؤمن بنتے ہیں وہ ہے مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اﷲ ،چونکہ کلمہ شریف سے کفر کی گندگی دور ہوتی ہے،اسے پڑھ کر کافر مؤمن ہوتا ہے، اس سے دل کی زنگ دور ہوتی ہے،اس سے غفلت جاتی ہے،دل میں بیداری آتی ہے، یہ حمدِ الٰہی و نعتِ مُصْطفوی کا مجموعہ ہے، اس لیے یہ اَفْضَلُ الذِّکْر ہوا۔ صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ صفائی دل کے لیے کلمۂ طیبہ اِکْسِیر ہے۔(مراٰۃ المناجیح،ج3 ،ص342)
ستّر ہزار (70000)بار کلمۂ طیبہ پڑھنے کی فضیلت
حضرت سیدنا شیخ مُحْیُ الدِّین ابنِ عربی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:مجھے یہ حدیثِ پاک پہنچی تھی:”مَنۡ قَالَ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ سَبۡعِيۡنَ اَلۡفًا غُفِرَ لَهٗ وَمَنۡ قِيۡلَ لَهٗ غُفِرَ لَهٗ اَيۡضًا یعنی جو شخص ستر ہزار بار لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ پڑھے اس کی مغفرت کردی جائے گی اور جس کے لئے پڑھا جائے اس کی بھی مغفرت ہوجائے گی۔“ میں نے اتنی مقدار میں کلمۂ طیبہ پڑھا ہوا تھا، لیکن اس میں کسی کے لئے خاص نیت نہ کی تھی۔ایک مرتبہ میں اپنے دوستوں کے ساتھ ایک دعوت میں شریک ہوا۔اس دعوت کے شرکاء میں سے ایک نوجوان کے کشف کا بڑا شُہرہ تھا۔کھانا کھاتے کھاتے وہ نوجوان رونے لگا۔میں نے سبب پوچھا تو اس نے کہا:میں اپنی والدہ کو عذاب میں مبتلا دیکھتا ہوں۔میں نے دل ہی دل میں کلمے کا ثواب اس کی ماں کو بخش دیا۔وہ نوجوان فوراً ہی مسکرانے لگا اور کہا:اب میں اپنی ماں کو بہترین جگہ دیکھتا ہوں۔
حضرت سیدنا شیخ مُحْیُ الدِّین ابن عربی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرمایا کرتےتھے:”میں نےحدیث کی صحت کو اس نوجوان کے کشف کے ذریعے اور اس نوجوان کے کشف کی صحت کو حدیث کے ذریعے پہچانا۔“(مرقاۃالمفاتیح،ج3،ص222)
ڈر تھا کہ عصیاں کی سزا، اب ہوگی یا روزِ جزا
دی ان کی رحمت نے صدا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
(حدائقِ بخشش،ص110)
Subscribe to:
Posts (Atom)
جنات کی ہم نشینی کے نقصانات
شیخ اکبر نے فتوحات مکیہ میں جنات کی ہم نشینی کے نقصانات بیان کیے ہیں۔ 1. روحانی مرتبے میں تنزلی جنات کی صحبت اختیار کرنے والا شخص اُن عار...




