Monday, 7 January 2019

ذکر لطائف روح ۔سر۔خفی۔اخفی۔قالب


سبق دوم: ذکر لطیفۂ روح
لطیفۂ روح کا مقام داہنے پستان کے نیچے دو انگشت کے فاصلہ پر قدرے پہلو کی جانب واقع ہے۔ سالک کو چاہئے کہ اس مقام پر بھی اسمِ ذات اللہ، اللہ کا توجہ و خیال کرے۔ لطیفۂ روح جاری ہونے سے باطن کی مزید صفائی ہوتی ہے۔
فائدہ: لطیفہ روح جاری ہونے کی علامت یہ ہے کہ طبیعت میں صبر کی وصف پیدا ہوتی ہے اور غصہ پر قابو کرنا آسان ہوجاتا ہے۔
سبق سوم: ذکر لطیفۂ سرّ
لطیفۂ سر کی جگہ بائیں پستان کے برابر دو انگشت سینہ کی جانب مائل ہے۔ اس لطیفہ میں بھی اسم ذات اللہ کا خیال رکھنے سے ذکر جاری ہوجاتا ہے اور مزید باطنی ترقی حاصل ہوتی ہے۔
فائدہ: لطیفہ سر جاری ہونے کی علامت یہ ہے کہ ذکر کے وقت عجیب و غریب کیفیات کا ظہور ہوتا ہے، حرص و ہوس میں کمی اور نیکی کے کاموں میں خرچ کرنے کا شوق پیدا ہوتا ہے۔
سبق چہارم: ذکر لطیفۂ خفی
لطیفۂ خفی کا مقام وسط پیشانی ہے۔ دونوں ابروں کے بیچ  اس لطیفہ کے ذکر کے وقت ”یا لَطِیْفُ اَدْرِکْنِیْ بِلُطْفِکَ الْخَفِیِّ“ پڑھنا مفید ہے۔
فائدہ: اس لطیفہ کے جاری ہونے کی علامت یہ ہے کہ صفات رذیلہ حسد و بخل سے بیزاری حاصل ہوجاتی ہے۔
سبق پنجم: ذکر لطیفہ اخفی
اس لطیفہ کا مقام سر کی چوٹی ہے۔جہاں سے بال اگنے شروع ہوتے ہیں  سابقہ لطائف کی طرح اس لطیفہ میں بھی ذکر کا تصور و خیال کرنا چاہئے۔
فائدہ: ذکر لطیفہ اخفیٰ کرنے سے فخر و تکبر وغیرہ زائل ہوجاتے ہیں اور یہی لطیفۂ اخفیٰ جاری ہونے کی علامت ہے۔ نیز سالک کو چاہئے کہ لطائف میں ترقی کے ساتھ ساتھ پہلے والے لطائف پر بھی علاحدہ علاحدہ ذکر کرتا رہے یہاں تک کہ تمام لطائف جاری ہوجائیں۔
سبق ششم: ذکر لطیفہ نفس
لطیفہ نفس کی جگہ مقام ناف ہے۔ اس لطیفہ میں بھی سابقہ لطائف کی طرح ذکر کا خیال ہی کرنا ہے۔
فائدہ: لطیفہ نفس کی اصلاح کی علامت یہ ہے کہ سالک ذکر کی لذت میں اس قدر محو ہوجاتا ہے کہ نفس کی رعونت و سرکشی بالکل ختم ہوجاتی ہے۔
سبق ہفتم: ذکر لطیفہ قالبیہ
اس لطیفہ کا دوسرا نام سلطان الاذکار ہے۔ اسکا مقام وسط سر ہے، اس لئے اسکی تعلیم دیتے وقت مشائخ وسط سر یعنی دماغ پر انگلی رکھ کر اللہ، اللہ کہتے ہوئے توجہ دیتے ہیں، جس سے بفضلہ تعالی تمام بدن ذاکر ہوجاتا ہے اور جسم کے روئیں روئیں سے ذکر جاری ہوجاتا ہے۔
فائدہ: لطیفہ قالبیہ جاری ہونے کی ظاہری علامت یہ ہے کہ جسم کا گوشت پھڑکنے لگتا ہے، کبھی بازو کبھی ٹانگ اور کبھی کسی اور حصہ جسم میں حرکت محسوس ہوتی ہے۔ بعض اوقات تو پورا جسم حرکت کرتا محسوس ہوتا ہے۔

ذکر کی اقسام اور ذکر لطیفہ قلبی خفی

طریق اول: ذکر
ذکر کے دو قسم ہیں۔ اول ذکر اسم ذات۔ دوم ذکر نفی و اثبات۔ ذکر اسم ذات کے اسباق یہ ہیں:
سبق اول: ذکر لطیفۂ قلب
وضاحت: دل انسان کے جسم میں بائیں پستان کے نیچے دو انگشت کے فاصلہ پر قدرے پہلو کی جانب واقع ہے، () ذکر کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ سالک اپنے دل کو دنیوی خیالات و فکرات سے خالی کرکے ہر وقت یہ خیال کرے کہ دل اسم مبارک اللہ، اللہ کہہ رہا ہے۔ زبان سے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں بلکہ زبان تالو سے چسپاں رہے اور سانس حسب معمول آتا جاتا رہے، بس اس طرح اپنے خالق و مالک کی طرف دل کا توجہ ہونا چاہئے، جس طرح ایک پیاسا آدمی زبان سے تو پانی پانی نہیں کہتا لیکن اسکا دل پانی کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔
بیشک دنیا کے کام کاج کرتے رہیں اس سے کوئی منع نہیں، لیکن دست بکار و دل بیار کے مصداق دل کا توجہ اور خیال ہر وقت اپنے خالق و مالک کی طرف رہے۔ یوں سمجھے کہ فیضان الٰہی کا نور حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلم کے سینہ اطہر سے ہوتا ہوا پیرومرشدکے سینہ سے میرے دل میں آرہا ہے اورگناہوں کے زنگ و کدورات ذکر کی برکت سے دور ہورہے ہیں۔ اگرادھر اُدھر کے خیالات دل میں آئیں تو ان کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ انشاء اللہ تھوڑا ہی عرصہ اس طریقہ پر محنت و توجہ کرنے سے دل ذاکر ہوجائیگا اور جب دل ذاکر ہوگیا تو سوتے جاگتے، کھاتے پیتے ہر وقت دل ذکر اللہ، اللہ، اللہ، کرتا رہے گا۔
فائدہ: لطیفۂ قلب جاری ہونے کی ظاہری علامت یہ ہے کہ سالک کا دل نفسانی خواہشات کی بجائے محبوب حقیقی کی طرف متوجہ ہوجائے، غفلت دور ہو اور شریعت مطہرہ کے مطابق عمل کرنیکا شوق پیدا ہو۔ ذکر جاری ہونے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ اسکا دل حرکت کرنے لگے یا اسے کشف ہونے لگے، بلکہ ان چیزوں کے درپے ہونا سالک کے لئے مفید نہیں۔ سالک کا اول و آخر مقصد رضائے الٰہی ہونا چاہئے نہ کہ کشف و کیفیات کا حصول۔
جب سالک کا لطیفہ قلب جاری ہوجاتا ہے تو پیرومرشد مذکورہ طریقہ پر لطیفۂ روح کی تلقین فرماتے ہیں۔

اصلاح لطائف

مشائخ سلسلہ  قدس اللہ اسرارہم کے یہاں باطن کی صفائی کے لئے سب سے پہلے لطائف عالمِ امر کی اصلاح کا معمول ہے اور اس کے لئے ان حضرات نے تین طریقے مقرر فرمائے ہیں:
  • طریق اول: ذکر
  • طریقِ دوم: مراقبہ
  • طریقِ سوم: رابطہ شیخ
سالکِ طریقت جس قدر ان امور کا زیادہ اہتمام کریگا اسی قدر سلوکِ طریقت میں اسے ترقی حاصل ہوگی اور جس قدر ان امور میں کوتاہی کریگا اسی قدر   باطنی راستہ طے کرنے میں اسے تاخیر ہوگی ل

روحانی لطائف


لطائف عشرہ

انسان دس لطائف سے مرکب ہے جن میں سے پانچ کا تعلق عالم امر سے ہے اور پانچ کا تعلق عالمِ خلق سے ہے۔
لطائف عالم امر یہ ہیں۔ ۱۔ قلب۲۔ روح ۳۔ سر ۴۔ خفی ۵۔ اخفیٰ
لطائف عالمِ خلق یہ ہیں ۱۔ لطیفۂ نفس اور لطائف عناصر اربعہ یعنی ۲۔ آگ ۳۔ پانی ۴۔ مٹی ۵۔ ہوا۔
لطائف عالم امر کے اصول (مرکز) عرش عظیم پر ہیں اور لامکانیت سے تعلق رکھتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرتِ کاملہ سے ان جواہر مجردہ کو انسانی جسم کی چند جگہوں پر امانت رکھا ہے۔
دنیوی تعلقات اور نفسانی خواہشات کی وجہ سے یہ لطائف اپنے اصول کو بھول جاتے ہیں، یہاں تک کہ شیخ کامل و مکمل کی توجہ سے یہ اپنے اصول سے آگاہ و خبردار ہوجاتے ہیں اور انکی طرف میلان کرتے ہیں۔ اس وقت کشش الٰہی اور قرب ظاہر ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنی اصل تک پہنچ جاتے ہیں۔ پھر اصل کی اصل تک، یہاں تک کہ اس خالص ذات یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ تک پہنچ جاتے ہیں جو صفات و حالات سے پاک و مبرّا ہے۔ اس وقت ان سالکین کو کامل فنائیت اور اکمل بقا حاصل ہوجاتی ہے۔

جنات کی ہم نشینی کے نقصانات

  شیخ اکبر نے فتوحات مکیہ میں جنات کی ہم نشینی کے نقصانات  بیان کیے ہیں۔ 1. روحانی مرتبے میں تنزلی جنات کی صحبت اختیار کرنے والا شخص اُن عار...