حضرت سید نعیم اشرف اشرفی الجیلانیؒ (المعروف بہ نعیم المشائخ اور غازیِ زماں) خانوادہِ اشرفیہ کی ایک عظیم علمی و روحانی شخصیت تھے۔ آپ کی سوانح حیات کے نمایاں نکات درج ذیل ہیں: * ولادت با سعادت: آپ کی ولادت 19 اپریل 1925ء (مطابق 1343ھ) کو قصبہ جائس، ضلع رائے بریلی (یو پی، انڈیا) میں اپنے نانا علامہ سید محمد نقی اشرف کے ہاں ہوئی۔ * تعلیم و تربیت: آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے گھر اور جائس میں حاصل کی۔ 6 سال کی عمر میں قرآن پاک ناظرہ مکمل کر لیا تھا۔ بعد ازاں، مولانا عبدالمصطفیٰ جائسی اور دیگر جید اساتذہ سے دینی علوم کی تکمیل کی۔ * بیعت و خلافت: آپ نے اپنے نانا حضرت سید شاہ علی نقی اشرف الجیلانی سے بیعت کی اور انہی سے خلافت و اجازت حاصل کی۔ * دینی و ملی خدمات: آپ نے اپنی پوری زندگی تبلیغِ اسلام اور سنتِ نبوی کی اشاعت کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ آپ نے حرمین شریفین کے کئی مبارک سفر کیے۔ آپ کو "غازیِ زماں" کا لقب آپ کی حق گوئی اور باطل کے خلاف ڈٹ جانے کی وجہ سے دیا گیا۔ * تصنیفی خدمات: آپ نے مخدوم اشرف جہانگیر سمنانیؒ کی مشہور کتاب "لطائف اشرفی" پر اہم کام کیا اور دیگر کئی علمی و اص...
طریق اول: ذکر
ذکر کے دو قسم ہیں۔ اول ذکر اسم ذات۔ دوم ذکر نفی و اثبات۔ ذکر اسم ذات کے اسباق یہ ہیں:
سبق اول: ذکر لطیفۂ قلب
وضاحت: دل انسان کے جسم میں بائیں پستان کے نیچے دو انگشت کے فاصلہ پر قدرے پہلو کی جانب واقع ہے، () ذکر کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ سالک اپنے دل کو دنیوی خیالات و فکرات سے خالی کرکے ہر وقت یہ خیال کرے کہ دل اسم مبارک اللہ، اللہ کہہ رہا ہے۔ زبان سے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں بلکہ زبان تالو سے چسپاں رہے اور سانس حسب معمول آتا جاتا رہے، بس اس طرح اپنے خالق و مالک کی طرف دل کا توجہ ہونا چاہئے، جس طرح ایک پیاسا آدمی زبان سے تو پانی پانی نہیں کہتا لیکن اسکا دل پانی کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔
بیشک دنیا کے کام کاج کرتے رہیں اس سے کوئی منع نہیں، لیکن دست بکار و دل بیار کے مصداق دل کا توجہ اور خیال ہر وقت اپنے خالق و مالک کی طرف رہے۔ یوں سمجھے کہ فیضان الٰہی کا نور حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلم کے سینہ اطہر سے ہوتا ہوا پیرومرشدکے سینہ سے میرے دل میں آرہا ہے اورگناہوں کے زنگ و کدورات ذکر کی برکت سے دور ہورہے ہیں۔ اگرادھر اُدھر کے خیالات دل میں آئیں تو ان کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ انشاء اللہ تھوڑا ہی عرصہ اس طریقہ پر محنت و توجہ کرنے سے دل ذاکر ہوجائیگا اور جب دل ذاکر ہوگیا تو سوتے جاگتے، کھاتے پیتے ہر وقت دل ذکر اللہ، اللہ، اللہ، کرتا رہے گا۔
بیشک دنیا کے کام کاج کرتے رہیں اس سے کوئی منع نہیں، لیکن دست بکار و دل بیار کے مصداق دل کا توجہ اور خیال ہر وقت اپنے خالق و مالک کی طرف رہے۔ یوں سمجھے کہ فیضان الٰہی کا نور حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلم کے سینہ اطہر سے ہوتا ہوا پیرومرشدکے سینہ سے میرے دل میں آرہا ہے اورگناہوں کے زنگ و کدورات ذکر کی برکت سے دور ہورہے ہیں۔ اگرادھر اُدھر کے خیالات دل میں آئیں تو ان کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ انشاء اللہ تھوڑا ہی عرصہ اس طریقہ پر محنت و توجہ کرنے سے دل ذاکر ہوجائیگا اور جب دل ذاکر ہوگیا تو سوتے جاگتے، کھاتے پیتے ہر وقت دل ذکر اللہ، اللہ، اللہ، کرتا رہے گا۔
فائدہ: لطیفۂ قلب جاری ہونے کی ظاہری علامت یہ ہے کہ سالک کا دل نفسانی خواہشات کی بجائے محبوب حقیقی کی طرف متوجہ ہوجائے، غفلت دور ہو اور شریعت مطہرہ کے مطابق عمل کرنیکا شوق پیدا ہو۔ ذکر جاری ہونے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ اسکا دل حرکت کرنے لگے یا اسے کشف ہونے لگے، بلکہ ان چیزوں کے درپے ہونا سالک کے لئے مفید نہیں۔ سالک کا اول و آخر مقصد رضائے الٰہی ہونا چاہئے نہ کہ کشف و کیفیات کا حصول۔
جب سالک کا لطیفہ قلب جاری ہوجاتا ہے تو پیرومرشد مذکورہ طریقہ پر لطیفۂ روح کی تلقین فرماتے ہیں۔
Comments