اللہ الصمد سے ہر دعا قبول ہوگی جسکو کوئی حاجت ہو کوئی مراد ہو کسی پریشانی میں گرفتار ہو کسی طرح کا مرض ہو جو جان نہ چھوڑتا ہو کسی پر قرض ہو اسکو ادا کرنے کہ اسباب نہ ہو جو لڑکے لڑکیاں ایجوکیشن کررہے ہوں اور پڑھائی میں کامیابی اور امتحانات میں اچھے نمبروں سے پاس ہونا چارہے ہوں میاں بیوی میں لڑئی جھگڑا ہو شوہر یا بیوی تنگ کرتی اور غصہ کرتی ہو بچے نافرمانی کرتے ہوں کسی کو روزی میں تنگی ہو کسی نے جادو ٹونا کردیا ہو دشمن تنگ کرتے ہو لوگ بد عملیات کرتے ہوں دشمن ہر وقت نقصان پہچانے کی کوشش کرتے ہوں عرض کوئی بھی مسئلہ درپیش ہو روحانیت کا طالب ہو قرب رب عزوجل چاہتا ہو وہ اس طرح عمل کرنے کا معمول بنائے انشاء اللہ سورہ اخلاص کے اس اسماء اللہ الصمد کی طاقت سے کامیاب ہوگا عمل اس طرح کرنا ہے بعد نماز مغرب یا بعد نماز عشاء اور دشمنوں کے لیے بعد نماز ظہر اور روزی رزق مال دولت کہ لئے خصوصا بعد نماز فجر کیا کرے ورنہ کبھی بھی کرسکتا ہے یہ اوقات خصوصی ہیں جو بیان ہوئے ہیں با وضو حالت میں اولا ایک بار درود شریف پڑھے گیارہ بار اللہ الصمد پڑھے پھر ایک بار درود پڑھکر اپنی شہادت کی انگلی پر دم کرے اور جائ...
طریق اول: ذکر
ذکر کے دو قسم ہیں۔ اول ذکر اسم ذات۔ دوم ذکر نفی و اثبات۔ ذکر اسم ذات کے اسباق یہ ہیں:
سبق اول: ذکر لطیفۂ قلب
وضاحت: دل انسان کے جسم میں بائیں پستان کے نیچے دو انگشت کے فاصلہ پر قدرے پہلو کی جانب واقع ہے، () ذکر کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ سالک اپنے دل کو دنیوی خیالات و فکرات سے خالی کرکے ہر وقت یہ خیال کرے کہ دل اسم مبارک اللہ، اللہ کہہ رہا ہے۔ زبان سے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں بلکہ زبان تالو سے چسپاں رہے اور سانس حسب معمول آتا جاتا رہے، بس اس طرح اپنے خالق و مالک کی طرف دل کا توجہ ہونا چاہئے، جس طرح ایک پیاسا آدمی زبان سے تو پانی پانی نہیں کہتا لیکن اسکا دل پانی کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔
بیشک دنیا کے کام کاج کرتے رہیں اس سے کوئی منع نہیں، لیکن دست بکار و دل بیار کے مصداق دل کا توجہ اور خیال ہر وقت اپنے خالق و مالک کی طرف رہے۔ یوں سمجھے کہ فیضان الٰہی کا نور حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلم کے سینہ اطہر سے ہوتا ہوا پیرومرشدکے سینہ سے میرے دل میں آرہا ہے اورگناہوں کے زنگ و کدورات ذکر کی برکت سے دور ہورہے ہیں۔ اگرادھر اُدھر کے خیالات دل میں آئیں تو ان کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ انشاء اللہ تھوڑا ہی عرصہ اس طریقہ پر محنت و توجہ کرنے سے دل ذاکر ہوجائیگا اور جب دل ذاکر ہوگیا تو سوتے جاگتے، کھاتے پیتے ہر وقت دل ذکر اللہ، اللہ، اللہ، کرتا رہے گا۔
بیشک دنیا کے کام کاج کرتے رہیں اس سے کوئی منع نہیں، لیکن دست بکار و دل بیار کے مصداق دل کا توجہ اور خیال ہر وقت اپنے خالق و مالک کی طرف رہے۔ یوں سمجھے کہ فیضان الٰہی کا نور حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلم کے سینہ اطہر سے ہوتا ہوا پیرومرشدکے سینہ سے میرے دل میں آرہا ہے اورگناہوں کے زنگ و کدورات ذکر کی برکت سے دور ہورہے ہیں۔ اگرادھر اُدھر کے خیالات دل میں آئیں تو ان کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ انشاء اللہ تھوڑا ہی عرصہ اس طریقہ پر محنت و توجہ کرنے سے دل ذاکر ہوجائیگا اور جب دل ذاکر ہوگیا تو سوتے جاگتے، کھاتے پیتے ہر وقت دل ذکر اللہ، اللہ، اللہ، کرتا رہے گا۔
فائدہ: لطیفۂ قلب جاری ہونے کی ظاہری علامت یہ ہے کہ سالک کا دل نفسانی خواہشات کی بجائے محبوب حقیقی کی طرف متوجہ ہوجائے، غفلت دور ہو اور شریعت مطہرہ کے مطابق عمل کرنیکا شوق پیدا ہو۔ ذکر جاری ہونے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ اسکا دل حرکت کرنے لگے یا اسے کشف ہونے لگے، بلکہ ان چیزوں کے درپے ہونا سالک کے لئے مفید نہیں۔ سالک کا اول و آخر مقصد رضائے الٰہی ہونا چاہئے نہ کہ کشف و کیفیات کا حصول۔
جب سالک کا لطیفہ قلب جاری ہوجاتا ہے تو پیرومرشد مذکورہ طریقہ پر لطیفۂ روح کی تلقین فرماتے ہیں۔
Comments