Friday, 31 January 2014

Tuesday, 21 January 2014

Syed zadi or Kafan Choor ki Toba



سید زادی کی قبر اور کفن چور کی توبہ


ایک رات ہماری نانی امی کے محلے میں ایک سید زادی فوت ہوئی ان کا نام زارہ 
بی بی تھا۔ تب میرے دو ماموں جو کہ اننہیں تو نانی امی اور محلے کی باقی کچھ عورتیں ان کے گھر جاکر بیٹھ گئیں اور انہیں نہلا کر کفن پہنا دیا اور خود تسبیحات اور ذکر میں مشغول ہوگئیں۔ اتنے میںمیری نانی امی نے دیکھا کہ وقت تھم گیا ہے۔ وہاں بیٹھی ہر عورت جس طرح بیٹھی ہے اس طرح بت بن گئی ۔ نانی ابھی اسی شش و پنج میں تھی کہ ایک اور حیرت انگیز بات سامنے آئی کہ آسمان سے ایک عجیب مخلوق اتری جن کے پر تھے ان کے اترنے پر وہ زارہ بی بی اٹھ کر بیٹھ گئیں ان میں سے ایک کے پاس رجسٹر نما چیز تھی جو کہ انہوں نے زارہ بی بی کے ہاتھ میں دئیے۔ زارہ بی بی نے وہ رجسٹر پر کچھ لکھ کر ان کو واپس کیا اور خود پھر لیٹ گئیں۔ وہ مخلوق واپس آسمان کی طرف اڑ گئیں۔ ان کے اڑنے کی دیر تھی کہ وقت پھر سے جاری ہوگیا۔ 
عورتوں کے قرآن پڑھنے کی آواز شروع ہوگئی اور سب عورتیں حسب معمول اپنی اپنی تسبیحات میں مشغول ہوگئیں اور سوائے میری نانی کے باقی کسی عورت کو نہیں پتا کہ وقت تھم گیا تھا ۔ میری نانی امی نے بھی کسی کو کچھ نہ بتایا۔ اسی رات ڈی آئی خان میں ایک شخص نے خواب دیکھا حضور نبی کریم ﷺ گھوڑے پر اور ساتھ میں اور صحابہ اکرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کہیں جارہے ہیں تو اس آدمی نے آپ ﷺ کے گھوڑے کی باگ پکڑ کر کہا یارسول اللہ ﷺ آپ ﷺ سے ملنے کی بہ زارہ بی بی کے پاس قرآن شریف پڑھنے جاتے تھے۔ یہ سید زادی بالکل تنہا تھی اور شاید انڈیا سے ہجرت کرکے پاکستان اور پھر بنوں خیبرپختونخواہ میں آکر مقیم ہوگئیں۔ نہایت دین دار اور پاپردہ خاتون تھیں۔ بنوں میں انہوں نے ایک نابینا شخص سے شادی کرلی اور اس شخص کی خاطر تواضع میں کوئی کسر نہ رکھی‘ ان کا ذریعہ معاش لوگوں کے کپڑے سی کر گزر بسر کرنا تھا۔ اس کے علاوہ تمام محلے کے بچے قرآن پڑھنے آتے تو ان کے گھر والے جو کچھ خوشی سے بھیجتے یہ قبول کرلیتیں مگر منہ سے کبھی کسی سے کوئی چیز نہ مانگی۔ شادی کے کچھ عرصہ بعد ان کے شوہر کی وفات ہوگئی اس کے بعد انہوں نے اپنی باقی زندگی بیوگی کی حالت میں گزاری۔ اپنے فوت ہونے سے کچھ دن پہلے انہوں نے ایک قرآن پاک پڑھنے والے بچے کے ذریعے ایک نامعلوم شخص کو بلوایا۔ پھر خود دروازے کی اوٹ میں کھڑی ہوکر بولیں میں جانتی ہو تم کفن چور ہو۔ یہ کچھ پیسے ہیں جو کہ میں نے اپنی سلائی کرکے جمع کیے ہیں اور کفن کی قیمت سے زیادہ ہے یہ رکھ لو مگر میرے مرنے کے بعد میرا کفن چوری کرنے کی کوشش مت کرنا۔ وہ شخص بڑا حیران ہوا کہ کوئی میری حقیقت نہیں جانتا تو یہ عورت سب کیسے جانتی ہے؟ بہرحال وہ پیسے لیکر چلا گیا اور کچھ دنوں بعد یہ خاتون فوت ہوگئیں۔ اب ان کا کوئی تھا بھی ت آرزو تھی۔ آپ ﷺ سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ تو حضور نبی کریم ﷺ نے جواب میں ارشاد فرمایا آج میری بیٹی بنوں کے فلاں علاقے اور فلاں محلے میں فوت ہوئی ہے میں اس کا جنازہ پڑھانے جارہا ہوں اس لیے آج میں فارغ نہیں۔ اس شخص کی جیسے ہی آنکھ کھلی تو وہ پسینے میں شرابور تھا۔ اسی وقت گھوڑا لیا اور پوری رات سفر کرکے گھوڑے پر صبح بنوں پہنچا اور لوگوں سے پوچھتے پوچھتے اس محلے میں آکر پوچھا کہ یہاں کوئی عورت فوت ہوگئی ہے تو لوگوں نے بتایا کہ سید زادی تھی‘ نہایت باپردہ خاتون تھیں اور قرآن سے بہت محبت کرتی تھیں‘ ہروقت تلاوت قرآن پاک کرتی رہتی تھیں۔ اس نے لوگوں کو اپنا خواب سنایا تو اس کے بعد اس سید زادی کے جنازے میں لوگوں کا ہجوم سمندر کی طرح تھا۔
کفن چور کو جب علم ہوا کہ وہی عورت فوت ہوچکی ہے تو اگلی رات وہ قبرستان گیا اور قبر کی کھدائی شروع کردی مگر وہ جب لحد میں اترا تو نظارہ ہی الگ تھا اندر قبر میں مردے کے بجائے ایک نہایت حسین باغ‘ اس باغ میں ایک تخت جو دنیا میں سوچ بھی نہ پائے اور اس پر وہ زارہ بی بی بیٹھی قرآن پاک کی تلاوت کررہی ہیں۔ جب اس نے یہ حال دیکھا تو واپس بھاگنے لگا کیونکہ اس کی طرف زارہ بی بی کی کمر تھی مگر زارہ بی بی نے آواز دی کہ میں نے تمہیں منع کیا تھا نا مگر تم باز نہیں آئے۔ اچھا آگئے ہو تو یہ لے جاؤ۔ ان کے پاس ایک ٹوکری میں سیب رکھے تھے۔ وہ اس کفن چور کو دئیے۔اس سیب کی خوشبو سے پورا قبرستان مہک اٹھا اس کے بعد اس کفن چور نےاپنے گناہوں سے توبہ کرلی اور حلال کمانے 
لگا۔

Muhammad Azeem ShahYousufi1443hj  21 jan 2014

DOROOD O SALAM KI BARKAT


درود شریف
لاعلاج مرض سے شفاء
پ ﷺ نے مجھے ایک کاغذ دیا جس پر لکھا تھا ’’یہ دوا کا نسخہ احمد قسطلانی کیلئے ہے‘‘ اتنا سننا تھا کہ میں اچانک بیدار ہوگیا تو لاعلاج مرض سے شفاء پاچکا تھا۔ سبحان اللہ۔ اور جب کبھی اس واقعہ کو یاد کرتا ہوں تو خوشی سے پھولا نہیں سماتا۔ 
شیر کا درود شریف
حضرت ابی حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے روایت ہے کہ جحضرت علامہ احمد قُسطلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اس قدر سخت بیمار ہوگیا کہ طبیب علاج سے عاجز آگئے اور کئی سال مسلسل بیمار رہا۔ ایک مرتبہ مکہ معظمہ میں حضور اکرم ﷺ کے وسیلہ سے دعا کی اور درود شریف پڑھنے لگا۔ درود شریف پڑھتے پڑھتے مجھ پر غنودگی نیند طاری ہوگئی تو میں نے سرکار مدینہ سرور سینہ حضرت محمد ﷺ کی خواب میں زیارت کا شرف حاصل کیا۔ آس جانور پر آپ ﷺ سوار ہوتے تھے اس کا قدم جہاں پڑتا وہاں سبزہ اُگ آتا تھا اور جب ہم کسی کنوئیں سے پانی بھرتے تھے اس کے اوپر سے پانی ابلنے لگتا تھا۔ ایک بار ہم ایک وادی میں داخل ہوئے جس میں وحشی جانور بکثرت تھے۔ اتنے میں دیکھا کہ ایک بڑا بھاری شیر چلا آرہا ہے اور ہم پر اچھل کر حملہ کرنا چاہتا ہے لیکن جونہی اس نے حضور اکرم ﷺ کو دیکھا‘ آگے بڑھا آپ کے سامنے پست ہوگیا اور زمین پر گرپڑا اور خوش بیانی سے کہنے لگا السلام علیک یارسول اللہ۔ (نزہۃ المجالس ص ۲۰۰جلد دوم)
درود شریف پڑھنے سے لاپرواہی اور غفلت کی سز
حضرت شیخ علامہ عبدالرحمن الصفوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک خدا رسیدہ بزرگ نے ایک ایسے شخص کو یمن میں دیکھا جو آنکھوں سے اندھا بھی تھا‘ برص کامریض بھی تھا‘ گونگا اور اپاہج بھی تھا۔ اسکے متعلق اُس بزرگ نے لوگوں سے دریافت فرمایا تو لوگوں نے بتایا کہ حضرت‘ یہ مادرزاد اندھا‘ گونگا اور اپاہج نہیں ہے بلکہ وہ بڑی سریلی اور ہوش ربا آواز کا مالک تھا اور کلام پاک کی جب تلاوت کرتا تھا تو آس پاس کے لوگ جھوم جھوم جاتے تھے۔ ایک دن اس نے اس آیت شریف کی تلاوت کی ان اللہ وملئکتہ یصلون…تلاوت تو کرلی لیکن درودشریف پڑھنے سے لاپرواہی اور غفلت برتی اس کے بعد وہ ان تمام مصیبتوں میں مبتلا ہوگیا۔ (اللہم صل علی محمد ص۷۳)
درخت کا سلام عرض کرنا
ایک مرتبہ ایک اعرابی نے حضور اکرم ﷺ سے کہا اے محمد (ﷺ) اگر آپ اللہ کے رسول ہیں تو کوئی نشانی دکھلائیے۔ حضور ﷺ نے فرمایا‘ اچھا لو دیکھو! وہ جو سامنے درخت کھڑا ہے اسے جاکر اتنا کہہ دو کہ تمہیں اللہ کے رسول ﷺ بلاتے ہیں۔ چنانچہ وہ اعرابی اس درخت کے پاس گیا اور کہا تمہیں اللہ کے رسول ﷺ بلاتے ہیں۔ وہ درخت یہ بات سن کر اپنے آگے پیچھے اور دائیں بائیں گرا اور اپنی جڑیں زمین سے اکھاڑ کر زمین پر چلنے لگا اور چلتے ہوئے حضور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگیا اور عرض کرنے لگا۔ السلام علیک یارسول اللہ۔ وہ اعرابی حضور ﷺ سے کہنے لگا کہ اب اسے حکم دیجئے کہ یہ اپنی جگہ پر چلا جائے۔ چنانچہ حضور ﷺ نے اسے فرمایا کہ جاؤ واپس چلے جاؤ۔ وہ درخت یہ سن کر پیچھے مڑگیا اور اپنی جگہ پر جاکر پھر قائم ہوگیا۔ اعرابی یہ معجزہ دیکھ کرمسلمان ہوگیا اور حضور ﷺ کو سجدہ کرنے کی اجازت چاہی تو حضور ﷺ نے فرمایا سجدہ کرنا جائز نہیں۔ (حجۃ اللہ علی العالمین صفحہ ۴۴۱)
 تالےکھلے ہوئے مگر گھر محفوظ
چند سال پہلے عیدالاضحیٰ کے دو ہفتے بعد ہم اہل خانہ جھیل سیف الملوک پر درود شریف پڑھنے کی نیت سے درودپاک پڑھتے ہوئےچلے اور ہفتے کے بعد درود پاک پڑھتے ہوئے واپس ہوئے۔ رات 9بجے کے بعد ہم گھر پہنچے تو ہمارے گھر کے گیٹ کا تالا کھلا اور کمرے کا ٹوٹا ہوا ملا۔ کمرے کا پنکھا چل رہاتھا لیکن گھر کی سوئی بھی اِدھر سے اُدھر نہیںہوئی تھی۔
درود پاک پڑھنے میں کوتاہی اور سستی
ایک شخص باوجود نیک‘ پرہیز گار پابند نماز ہونے کے درود پاک پڑھنے میں کوتاہی اور سستی کیا کرتا تھا۔ ایک رات خواب میں سید دو عالم ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوا مگر رسول پاک ﷺ نے اس کی طرف کوئی توجہ نہ فرمائی۔ وہ بار بار کوشش کرتا اور رسول کریم ﷺ کے سامنے آتا اور ہر بار رسول پاک ﷺ اس سے اعراض فرماتے رہے‘ آخر اسنے گھبرا کر عرض کی کہ یارسول اللہ ﷺ آپﷺ مجھ سے ناراض ہیں؟ فرمایا نہیں‘ عرض کی اگر نہیں تو یارسول پاک ﷺ تو پھر آپﷺ مجھ پر نظر کرم کیوں نہیں فرمارہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میں تجھ کو جانتا ہی نہیں ہوں‘ اس بندے نے عرض کی یارسول اللہ ﷺ میں آپ کی امت میں سے ہوں اور میں نے بہت سے لوگوں سے سنا ہے کہ آپ ﷺ اپنی امت کو بیٹوں سے بھی زیادہ عزیز رکھتے ہیں۔ 
آپﷺ نے فرمایا تم نے ٹھیک ہی سنا ہے مگر تم مجھ کو درود پاک کا تحفہ نہیں بھیجتے اور فرمایا کہ میری نظر کرم اس شخص پر ہوتی ہے‘ اس امتی پر ہوتی ہے جو مجھ پر درود پاک پڑھتا ہو۔
وہ شخص صبح بیدار ہوا اور اس دن کے بعد درود پاک بڑی محبت سے پڑھتا رہا۔ ایک دن پھر اسے حضور نبی کریم ﷺ کی زیارت ہوئی اور خواب میں دیکھا کہ رسول پاک ﷺ بہت خوش ہیں اور فرماتے ہیں کہ اب میں تمہیں جانتا بھی ہوں اور پہچانتا بھی ہوں اور قیامت کے دن تمہاری شفاعت کا ضامن بھی ہوں مگر درود پاک کو کبھی پڑھنا نہ بھولنا۔ (معارج النبوۃ ص ۳۲۸)
ایک واقعہ اور درود پاک
ایک دفعہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سحری کے وقت کچھ سی رہی تھیں کہ سوئی گرگئی اور اچانک چراغ بھی بجھ گیا‘ اسی دوران رسول پاک ﷺ تشریف لاتے ہیں تو رسول پاک ﷺ کا چہرہ مبارک کے نور کی روشنی سے پورا گھر روشن ہوگیا۔ حتیٰ کہ سوئی مل گئی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے فرمایا: یارسول اللہ ﷺ آپ ﷺ کا چہرہ مبارک کتنا روشن ہے۔ ہمارے پیارے رسول پاک ﷺ نے فرمایا ہلاکت ہے اس بندے کے لیے جو مجھے قیامت کے دن نہ دیکھ پائے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی یارسول اللہ ﷺ وہ کون بدنصیب ہے جو قیامت کے روز آپﷺ کو دیکھ نہ سکے گا؟ تب ہمارے پیارے رسول اکرم ﷺ نے فرمایا وہ بخیل ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پوچھا بخیل کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا جس نے میرا نام سنا مگر مجھ پر درود پاک نہ پڑھا۔ (القول البدیع ص ۱۴۷‘ نزہۃ الناظرین ۳۱)

Muhammad Azeem ShahYousufi 21jan 2014 (1443hj)




Quran O Sunnat


سنت اپنائیں

نظر کی حفاظت: اپنی نظروں کی حفاظت کریں‘ بدنظری سے بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں‘ آپ ﷺ جب چلتے تو اپنی نظر جھکا کر چلتے تھے یہاں تک مخاطب سے بات کرتے تو اس کے چہرے پر نظر نہ ڈالتے تھے جو لوگ نظروں کی حفاظت نہیں کرتے ان کو بہت سے مسائل جن میں نماز میں دل نہ لگنا‘ بُری شیطانی سوچیں اور وسوسے‘ خود لذتی‘ نفسیاتی مسائل‘ نیک کام سے بے رغبتی اور برے کاموں میں دلچسپی‘ تنہائی میں باتیں کرنا‘ نقشہ کشی کرنا‘ تصوراتی شادی ودیگر جنسی بیماریاں ومسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یادداشت کی کمزوری‘ بات بھول جانا‘ سامنے والے آدمی کا نام اکثر بھول جانا‘ آنکھوں میں جلن‘ خارش‘ چبھن‘ آنکھوں میں تھکاوٹ‘ پانی آنا اور بھاری پن ہونا جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
نظر کی حفاظت کرنے سے انسان بے شمار مسائل سے بچ جاتا ہے اور ایمان بھی محفوظ ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمان مرد کو سورۂ نور میں پہلے مخاطب کیا اور نظر جھکانے کا حکم دیا اور بعد میں مومن عورت کو۔ شیطان جو کام انسان کی نظر سے کروا جاتا ہے وہ کام جسم کے باقی اعضاء سے نہیں کراسکتا۔ نظر ایسا تیر ہے جس شکار کو لگے وہ شکار بھی زخمی اور شکاری خود بھی… حضور نبی اکرم ﷺ نے ہم سے دو چیزوں کی حفاظت مانگی اور جنت میں جانے کی ضمانت دی وہ یہ کہ ایک نظر کی حفاظت دوسری شرمگاہ کی حفاظت۔ شرم گاہ کی حفاظت تب ہی ممکن ہے جب نظر کنٹرول میں ہو اور نظر کی حفاظت کی جائے۔
کھانا اور اس کے برتن: کھانا کھانے کے بعد اپنی انگلیاں چاٹیں‘ جس برتن میں کھانا ہے اس کو اچھے طریقے سے صاف کیا جائے پھر دھویا جائے‘ کھانا اتنا ڈالیں جتنا کھاسکیں‘ ہمارے ہاں روغنی سالن و کھانے پکائے جاتے ہیں اور ہماری اکثریت کھانا ضائع زیادہ کرتی اور کھاتی کم ہے۔ لوگ برتنوں میں روغن جمع کرلیتے ہیں مگر اس روغن کو کھاتے نہیں اور نہ ہی کھانے کا برتن صحیح صاف کرتے ہیں جس کی وجہ سے کفران نعمت میں شمار ہوتے ہیں۔ گھر میں خواتین بھی اس طرف توجہ کم دیتی ہیں‘ اکثر گھروں میں کھانے کے برتن جمع کرکے دھوئے جاتے ہیں ظاہر ہے برتن جتنی دیر گندے پڑے رہیں گے اتنی دیر شیطان برتنوں میں ہاتھ مارتا رہے گا اور برتن بددعا دیتا ہے جب اس کو شیطان ہاتھ لگاتا ہے۔ جو شخص برتن کو اچھی طرح صاف کرتا ہے اور پھر فوراً اسے دھو دیتا ہے تو وہ برتن اس شخص کیلئے دعا کرتا ہے اے اللہ! جس طرح اس نے مجھے شیطان سے بچایا تو اسے دوزخ کی آگ سے بچا۔
اگر معاشی لحاظ سے دیکھا جائے تو اس طرح سے کھائے ہوئے برتن کو دھونے میں وقت‘ محنت‘ صابن بھی کم استعمال ہوتا ہے اور انسان خرافات سے بچ جاتا ہے اور پھر جلدی بیماریاں جو کہ عموماً خواتین کو الرجی وغیرہ کی صورت میں برتن دیر تک رکھنے‘ دیر سے دھونے کی وجہ سے ہوتی ہیں اور جو لوگ کھڑے ہوکر کھانا کھاتے ہیں وہ ذہنی تناؤ‘ ڈیپریشن‘ افسردگی اور اسی طرح کے دوسرے ذہنی مسائل اور ہاضمے کے مسائل کا سامنا کرتے ہیں۔
لباس اور رہن سہن:آپﷺ ہمیشہ کھلا لباس پہنتے تھے‘ آج کا ماڈرن ترقی یافتہ دور تنگ لباس کے استعمال کے بعد کھلے لباس پہننے کو ترجیح دیتا ہے جو لوگ تنگ لباس پہنتے ہیں وہ کافی ساری ایسی پیچیدگیوں/مشکلات کا سامنا کرتے ہیں جن کا انہیں علم بھی نہیں ہوتا‘ آج لباس چھوٹے ہوگئے تو دل بھی چھوٹے اور برتن بھی چھوٹے ہوگئے۔ لباس انسان کی شخصیت کی عکاسی کرتا ہے‘ جو لوگ جینز یا ٹائٹ لباس استعمال کرتے ہیں ان کا اس کے استعمال سے حساس نظام یعنی محسوس کرنے کا نظام متاثر ہوتا ہے اور وہ جلدی بیماریاں‘ اعصابی بیماریاں‘ تھکاوٹ‘ ذہنی سکون کی بربادی‘ جنسیاتی‘ جیناتی مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔ جو خواتین و مرد تنگ لباس پہنتے ہیں انہیں جنسی مسائل کا سامنا و دیگر کے مقابلے جو کہ سادہ لباس پہنتے ہیں زیادہ کرنا پڑتا ہے۔ انسان کے چلنے پھرنے میں جو رگڑ ان تنگ لباس کے پہننے سے پیدا ہوتی ہے وہ جنسی جذبات کو بار بار ابھارتی ہے اور یوں انسان مختلف بیماریوں جن میں جریان‘ قطروں کا گرنا‘ خواتین کو لیکوریا و دیگر سیلان الرحم‘ بریسٹ کینسر و دیگر جنسی امراض پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ تنگ لباس پہننے والے شخص کی سوچ بھی محدود ہوکر رہ جاتی ہے۔
Muhammad Azeem  ShahYousufi 1443hj 2014 21jan
2

جنات کی ہم نشینی کے نقصانات

  شیخ اکبر نے فتوحات مکیہ میں جنات کی ہم نشینی کے نقصانات  بیان کیے ہیں۔ 1. روحانی مرتبے میں تنزلی جنات کی صحبت اختیار کرنے والا شخص اُن عار...