Friday, 3 January 2014

Rabi ul awal kay mamulat

Rabi ul awal ka mamulat 
1-lighting karna
2-flags lagan
3-langar sharif karna
4-jaloos nikalna
5-durood o salam parna
6-naat kuwani karna
7-sobhe bahara ka salam pesh karna
8-tabrukat ki ziyarat karna. —
9-Gusal karna or khusbo lagana.

















Azeem shahyousufi
qadiry chishty faridi sabiry jahangiry qalandar kambal posh.karachi,pakistan
1 rabi ul awal 1443hj 2014 jan3.

WIRD O WAZAIF ( Rohani Jismani amliyat)


سورۂ قریش
مجھے جب بھی کوئی مشکل پیش آئی میں نے سورۂ قریش پڑھی‘ میری مشکل الحمدللہ فوراً حل ہوئی ہے۔٭ مجھے اکثر کالج جانے کیلئے بس میں سفر کرنا پڑتا تھا‘ گورنمنٹ نے طلباء و طالبات کیلئے آدھے کرائے کی سہولت دے رکھی ہے۔ لیکن آدھا کرایہ لینے میں کنڈیکٹر کو کافی پریشانی ہوتی ہے اور وہ اکثر بدتمیزی بھی کر تے ہیں۔ میں گھر سے نکلتے ہوئے ہمیشہ سورۂ قریش پڑھتی جاتی ہوں‘ اس کی برکت سے کنڈیکٹر بحث نہیں کرتے اور سیٹ بھی اچھی مل جاتی ہے‘ سفر اچھا گزرتا ہے‘ کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔٭ ایک دن گلے میں شدید تکلیف کی وجہ سے ڈاکٹر کے پاس جانا پڑا‘ ڈاکٹر باری سے چیک کرتے ہیں‘ تکلیف کی وجہ سے انتظار کافی مشکل لگتا ہے۔ میں نے لگاتار سورۂ قریش پڑھی جس کی برکت سے ڈاکٹر نے فوراً مجھے چیک کرلیا۔٭ ایک دن بس کا انتظار کرتے کرتے کافی دیر ہوگئی تھی بس تھی کہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی مجھے گھر پہنچنے کی جلدی تھی اس لیے میں نے سورۂ قریش پڑھنی شروع کی اس دن رش بہت ہی زیادہ تھا۔ میں سورۂ قریش مسلسل پڑھ رہی تھی‘ بس آئی لیکن جگہ نہیں تھی‘ سورۂ قریش کی برکت سے اللہ نے کنڈیکٹر کے دل میں رحم ڈالا اور تھوڑی دیربعد کنڈیکٹر نے خود سیٹ کی جگہ بنادی۔
٭ مجھے تعلیمی سلسلے میں اکثر سفر کرنا پڑتا ہے۔ میں اکلوتی ہوں‘ جب مجھے سفر کرناہو تو اکیلے ہی جانا پڑتا ہے کیونکہ والد صاحب کی جاب ہے اور والدہ بہت مصروف ہوتی ہیں۔ ایک دفعہ میں کوچ سے اتری مجھے ہاسٹل جانا تھا لیکن میں ہاسٹل کاراستہ بھول گئی‘ میں کافی پریشان ہوئی‘ غلط سمت چل پڑی‘ پھر خیال آیا تواندازے سے ایک دوسری سمت چل پڑی وہ راستہ بھی غلط تھا‘ میںمسلسل سورۂ قریش پڑھتی رہی۔ سورۂ قریش کی برکت سے اللہ نے میری مدد کی‘ ایک خاتون اچانک میرے قریب آگئیں انہوں نے مجھے راستہ بتایا۔ میں پریشان ہوئی پھر فوراً خیال آیا کہ میں تو اللہ سے مدد مانگ رہی تھی یقیناً اللہ نے ہی مدد بھیجی ہوگی۔ پھر وہ خاتون چند قدم میرے ساتھ رہنمائی کیلئے گئیں اور میں ان کی رہنمائی کی وجہ سے بہت جلد اپنے ہاسٹل پہنچ گئی۔میں نے حکیم صاحب کی کتاب مجالس مجذوبی صفحہ نمبر 53 میں سے سورۂ فاتحہ اور سورۂ اخلاص عمل کا پڑھا تب سے ہی اس پر عمل کرناشروع کردیا جب بھی کسی سے کوئی بات یا کوئی کام کروانا ہو میں جلدی سے پہلے یہ عمل کرتی ہوں پھر بات کرتی ہوں۔ ہمارے پریکٹیکل ہورہے تھے۔ میرے روز آنے جانے کا مسئلہ تھا۔ مجھے چھٹی چاہیے تھی لیکن ٹیچر اس دن کافی غصے میں تھیں۔ میری ہمت ہی نہیں ہورہی تھی ان سے چھٹی لینے کی۔ میں نے پورے یقین سے درج ذیل عمل کیا اور ہمت کرکے ٹیچر سے چھٹی مانگی۔ انہوں نے بغیر کچھ کہے مجھے چھٹی دے دی۔ عمل یہ ہے:۔ اول و آخر تین مرتبہ درود ابراہیمی پھرایک بار سورۂ فاتحہ اور تین مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھنی ہے۔
-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
سورۂ فاتحہ سے سردرد بالکل ختم
مجھے اپنی دوست سے کچھ کام پوچھنا تھا‘ اس سے بات کی تو وہ سردرد سے کراہ رہی تھی میں نے بات مکمل کرکے فون رکھا اور 9 بار سورۂ فاتحہ پڑھ کر تصور میں اس کے سر پر دم کیا۔ تھوڑی دیر بعد دوبارہ فون کرکے پوچھا تو اس کے سر کا درد بالکل ختم ہوچکا تھا۔
---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
لیکوریا کیلئے تین نایاب آزمائے نسخہ جات
نسخہ نمبر 1: آملہ ایک تولہ‘ پھٹکڑی بریاں چھ ماشہ‘ ملٹھی 9 ماشہ‘ دیسی کھانڈ2 تولہ سب کوٹ چھان کر سفوف بنالیں‘ درمیانے سائز کے کیپسول بھرلیں‘ صبح وشام 2،2 کیپسول دودھ سے لیں۔ کیپسول نہ ملیں تو دو دو ماشہ کی پُڑیاں بنالیں۔
نسخہ نمبر 2: دار چینی3 ماشے‘ چھالیا ایک تولہ‘ طباشیر اصلی والی9 ماشے‘ ناگ کیسر ایک تولہ‘ ثعلب مصری ایک تولہ‘ کوزہ مصری تین تولے۔ سفوف کوٹ چھان کر بنالیں صبح و شام آدھا چمچ چائے والا پانی سے لیں۔
نسخہ نمبر 3: سپاری چکنی ایک تولہ‘ ملٹھی چھ ماشہ‘ کمرکس 9 ماشہ‘ کتیرا گوند ایک تولہ‘ دیسی کھانڈ دو تولے۔ سب کوٹ چھان کر سفوف بنالیں۔ خوراک: نصف چھوٹی چمچ ہمراہ عرق گاؤزبان صبح و شام دیں۔ فائدہ: لیکوریا اور کمردرد کیلئے لاجواب نسخہ ہے۔ بے حد مجرب اور آزمایا ہوا ہے۔
----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
مردانہ کمزوری میں مبتلا افراد کیلئے تحفہ خاص
نسخہ
دار چینی‘ کباب چینی‘ حرمل سوختہ خراطین مصفی ہم وزن لیکرسفوف بنالیں اور کیپسول میں بھرلیں۔ صبح و شام
ایک کیپسول ہمراہ دودھ استعمال کریں
----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
کھانسی ‘ زکام‘ بلغم‘دمہ
ترپھلہ یعنی تین پھل کو ترپھلہ کہتے ہیں۔ 1۔ آملہ۔ 2بہیڑہ 3۔سبز ہریڑ۔ تینوں اشیاء پچاس پچاس گرام منگوالیں اور باریک پیس کر آپس میں ملا کر رکھ لیں۔ شہد کا ایک چمچ لیکراس ترپھلہ میں مکس کرلیں‘ اگر شہدمیسر نہ ہو تو برابر کی چینی مکس کرکے سادہ پانی سے ہر روز کھالیں۔ اگرصبح نہار منہ کھالیں تو بہت بہتر ہے اگر طبیعت نہ کرے تو ناشتہ کے بعد اور رات کو سوتے وقت کھالیں۔ اس سے نزلہ‘ زکام‘ کھانسی‘ بلڈپریشر‘ دمہ‘ بلغم کو فائدہ ہوگا۔ یہ ہمارے گھر کا نسخہ ہے۔ سردیوں میں خصوصاً استعمال کرتے ہیں۔ بہت چھوٹے بچوں کیلئے شہد میں مکس کرکے رکھ دیتے ہیں۔ دودھ کے بعد یا پہلے نصف چمچہ دے دیتے ہیں‘ اس سے گلے کی خڑخڑاہٹ‘ زکام وغیرہ کو آرام رہتا ہے۔ہریڑ ویسے بھی جگر کیلئے بہت مفید ہے۔ آملہ دماغ اور نظر کو طاقت دیتا ہے۔ بہیڑہ کاکام بھی جگر کو درست رکھنا ہے۔ جن لوگوں کو دودھ سے بلغم پیدا ہوجاتی ہو تو وہ دن کے ٹائم ایک چمچہ بھر درج بالا ترپھلہ دودھ کے ہمراہ کھالیا کریں۔ دودھ آسانی سے ہضم ہوجائے گا۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
رشتہ طے
رشتہ کیلئے اگر لڑکی خود سورۂ طٰہٰ 21 دن پڑھے تو انشاء اللہ اس کا رشتہ ہوجائے گا۔ میں نے یہی سورت 21 دن پڑھی تھی کہ میرے لیے ڈاکٹر کا رشتہ آیا۔ پھر مجھے کسی نے کہا 16641 مرتبہ یَالَطِیفُ پڑھو وہ لوگ ہاں کردیں گے میں نے پڑھا تو انہوں نے بھی ہاں کردی۔
----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
پیدائش سے پہلے جانیے لڑکا ہے یا لڑکی
اگر معلوم کرنا ہو کہ پیٹ میں لڑکا ہے یا لڑکی تو اُس کیلئے چقندر کے پتے لیں ان کو سائے میں خشک کرلیں اور اُن کو کوٹ چھان کرنسوار سی بنالیں جس پر آزمائش کرنی ہو اس کے ناک میں ڈالیں لیکن اس کو یہ نہ بتائیں کہ کس مقصد کیلئے ہے اگر اُس کو چھینک آجائے تو پیٹ میں لڑکی ہے اور اگر چھینک نہ آئے تو لڑکا ہے۔
---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
ہمیں محمدالرسول اللہ ہی کا سبق ملا ہے(وظیفہ)
میں یہ وظیفہ پڑھ رہا تھا وہاں کے ایک فرد نے مجھے پکڑا اور پکڑ کر جھنجھوڑا۔۔۔۔! کیا پڑھ رہے ہو؟ یہ تو ہمارا وظیفہ ہے‘ میں نے کہا ہمارا بھی تو یہی ہے۔ اس نے کہا تم کون ہو؟ میں نے کہا ہم انسان ہیں‘ ہم زمین پر رہنے والے ہیں۔ کہنےلگے وہ کہاں ہوتے ہیں؟ میں نے پوچھا یہ کون سا عالم ہے؟ تو وہ خاموش ہوگیا اور اس نے خود محمدالرسول اللہ پڑھنا شروع کردیا۔ اس کے پڑھنے کا انداز اتنا والہانہ اور عاشقانہ تھا کہ میری عقل حیران رہ گئی اور میں سوچنے لگا کہ اس کی زبان میں کیسی انوکھی تاثیر ہے۔ کہنے لگا کہ ہمارے عالم میں گناہ‘ بدکاریاں اور سیاہ کاریاں نہیں ہیں اور ہر طرف سچ ہی سچ اور نیکی ہی نیکی ہے‘ اس کی وجہ یہمحمدالرسول اللہ ہے ہم سب محمدالرسول اللہ پڑھتے ہیں اور ہمیں محمدالرسول اللہ ہی کا سبق ملا ہے۔ یہی پڑھتے ہیں غذا ملتی ہے‘ یہی پڑھتے ہیں ہمیں دوا ملتی ہے‘ یہی پڑھتے ہیں ہمیں شفا ملتی ہے اور بھی انوکھی باتیں وہ بتارہے تھے میں آپ کو کیا بتاؤں؟میں ان کی حیرت انگیز گفتگو سن رہا تھا اور وہ محمدالرسول اللہ کے مجھے مسلسل فائدے بتائے جارہے تھے اور میں حیرت سے ان کا منہ تک رہا تھا۔ واقعی کائنات کا یہ راز جو مجھ پر پہلی دفعہ کھلا کلمے کی کائنات‘ کلمے کا وزن اور کلمہ کی ترقی اورساری کائنات میں محیط ہونا اس کی کچھ نہ کچھ خبر تو تھی لیکن صرف محمدالرسول اللہ کے کمالات۔۔۔ اس کے بارے میں بہت کم میرے ذہن میں معلومات تھیں۔
محمد الرسول اللہ کے 178 سالہ تجربات: میں ان تابعی جن سے اجازت لے کر ایک دوسرے حلقے میں پہنچا وہاںجاکر میں نے یہی باتیں ان سے شیئر کیں‘ وہاں بیٹھے ایک بوڑھے جن نے پوچھا کہ آپ کو یہ بات فلاں جن نے بتائی ہے میں نے کہاں ہاں! (سامنے اشارہ کرکے کہ وہ فلاں جگہ بیٹھے تھے اور انہوں نے بتائی ہے۔) میں نے ان سے پوچھا آپ کو ان کے نام کی کیسے خبر ہے؟ کہنے لگے: آج سے 178 سال پہلے میری ان سے ملاقات ہوئی تھی۔ اس وقت انہوں نے مجھے یہ ورد بتایا تھا‘ میں اس دن سے لے کر اب تک اس ورد کو کررہا ہوں اور واقعی جو فائدے انہوں نے آپ کو بتائے یہ بہت تھوڑے بتائے ہیں۔ ان کے پاس وقت بہت تھوڑا تھا اور جلدی میں وہ بتا کر چلے گئے اور جو فائدے میں آپ کو بتاؤں گا وہ اس سے بھی کہیں زیادہ ہیں۔میں نے اپنا پہلو بدلا اور خوشی کے انداز میں ان سے عرض کیا کہ آپ ضرور بتائیں‘ مجھے خوشی ہوگی تو کہنے لگے پہلے میں آپ کو اس وظیفے کا ایک انوکھا واقعہ سناتا ہوں۔انوکھا اور حیران کن واقعہ:میں حج کیلئے مکہ مکرمہ حاضر ہوا‘ جتنی رقم میں لے کر گیا تھا وہ بہت ساری تو ختم ہوگئی جو تھوڑی تھی نامعلوم گم ہوگئی یاکسی نے چرا لی۔ میں بہت پریشان ہوا کہ یاالٰہی! میں کیا کروں؟ اور تو مجھے کچھ نہ سوجھی میں نے یہی پڑھنا شروع کردیا اور مسلسل پڑھتا رہا‘ پڑھتا رہا‘ پڑھتا رہا۔۔۔ میں روزانہ لاکھوں کی تعداد میں پڑھ لیتا تھا بعض اوقات کبھی زیادہ کبھی تھوڑا مگرپڑھتا رہا ۔پڑھتے پڑھتے پڑھتے۔۔۔ آخر کار ہوا یہ کہ میں مکہ مکرمہ میں جبل ہندی کی طرف جارہا تھا وہاں ایک فقیر کھڑا صدا لگا رہا تھا‘ اس کی مشکل کو دیکھ کر میرے دل میں خیال پیدا ہوا اے کاش! میں اس کی مدد کرسکتا!بس اتنا خیال پیدا ہوا کہ فقیرنے سر اوپر اٹھا کر مجھے کہا :اے مجبور جن! میں تیری مجبوری جانتا ہوں‘ ادھر آ۔۔۔ میں تیری مجبوری کا حل بتاتا ہوں۔ میں حیران ہوا کہ میں نے تو یہ ابھی تصور دل ہی میں کہا تھا‘ اس کے کانوں تک میری آواز کیسے پہنچ گئی؟ پھر اس نے اگلا جواب بھی دے دیا: کہنے لگا تو جو مسلسل محمدالرسول اللہ پڑھ رہا ہے‘ یہی میرا بھی ورد ہے اور میں پیشہ ور بھکاری نہیں ہوں‘ میں یہاں رجال الغیب میں سے ہوں اور میرے ذمے مکہ مکرمہ کی خدمت یعنی حکمرانی ہے اور میں دن رات بس یہی خدمت کرتا رہتا ہوں۔
وظیفے کی برکت سے میری مشکل حل ہوگئی: یہ بھیک مانگنا تو اپنے اس منصب کو چھپانے کیلئے ہے تاکہ لوگ مجھے حقارت کی نظر سے دیکھیں‘ تو نے جتنی تعداد میں یہ وظیفہ پڑھا ہے مجھے غیب سے حکم ملا ہے میں تیری مدد کروں اور میں تیرا ساتھ دوں۔ میں تیرے راستے میں اس لیے کھڑا تھا مجھے غیبی اشارہ ملا تھا کہ آج وہ اسی راستے سے گزرے گا اب میرے ساتھ بیٹھ پہلے میں تجھے کھانا کھلاؤں پھر میں تجھے کچھ مال دوں جس سے تیری ضرورت پوری ہوجائے۔ الغرض میں ان کے پاس بیٹھ گیا۔ انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا قریب ہی ایک کمرے میں لے گئے‘ بہت اچھے کھانے میرے سامنے پیش کیے‘ میں کئی دن کا بھوکا تھا‘ جی بھر کر کھانا کھایا۔ کھانے کے بعد انہوں نے مجھے ایک تھیلی دی جس میں بہت زیادہ رقم تھی‘ میں حیران ہوگیا کہ شیخ اتنی رقم تو میری ضرورت سے زیادہ ہے‘ فرمایا نہیں آپ کی ضرورت ہے آپ اس کو بغیر انکار کیے چپکے سے لے جائیں۔ میں نے ان کے حکم میں عافیت سمجھی ان کا نام پوچھا تو انہوں نے اپنا نام بتانے سے گریز کیا۔ بس کہا مجھے اللہ جل شانہٗ کا بندہ یعنی عبداللہ کہیں اور یاد رکھ اس وظیفے کو نہیں چھوڑنا۔اللہ جل شانہٗ کے ہاں
بلند مقام‘ مگر کیسے؟ اس وظیفے کو پڑھتے پڑھتے انسان اس مقام تک پہنچ جاتا ہے کہ اللہ جل شانہٗ کے ہاں اس کا انتخاب بعض اوقات قطب کیلئے‘ بعض اوقات ابدال کیلئے‘ بعض اوقات ولی کیلئے اور اعلیٰ سے اعلیٰ روحانی منصب کیلئے اس کا انتخاب ہوجاتا ہے۔ پھر وہ درویش کہنے لگے دیکھو خیال کرنا اس وظیفے کی بے قدری نہ کرنا اور کبھی بھی اس وظیفے کو بے یقینی سے نہ پڑھنا ‘ہاں جس نے بھی اس وظیفے کو بے یقینی سے پڑھا اس کو فائدہ کبھی نہ ہوا بلکہ خطرہ یہ ہے کہ اس کا نقصان نہ ہوجائے۔ میں خود ایک ادنیٰ سا آدمی ہوں‘ میں نے اس وظیفے کو تین کروڑ پڑھا‘ اللہ جل شانہٗ نے مجھے اس منصب کیلئے منتخب کرلیا اب بھی دن رات میرا یہی وظیفہ ہے‘ نامعلو م میں نے مزید کتنے کروڑوں پڑھ لیے بس اللہ جل شانہٗ نے میرے ساتھ بہت کریمی فرمائی اور مجھے بہت زیادہ عطا فرمایا۔رزق‘ عزت‘ شان و شوکت: فرمانے لگےاس وظیفے میں رزق ہے‘ عزت ہے‘ وقار ہے‘ شان و شوکت ہے‘ سربلندی ہے‘ روحانی بھیدوں سے پردہ ہٹنا ہے‘ کائنات کے نظام میں جھانکنا اور کائنات کے نظام سے استفادہ کرنا ہے‘ اس وظیفے کو پڑھتے رہنا اور اس وظیفے کو بہت زیادہ دل کی گہرائیوں سے اپنے دل میں بساتے رہنا۔
کائنات کب ختم کردی جائے گی؟کیونکہ اسم محمدﷺ کائنات کی روح ہے‘ اسم محمدﷺ کائنات کی جان ہے اور محمدﷺ ہی وہ لفظ ہے جس کے ذریعے کائنات بچی ہوئی ہے جب نام محمدﷺ‘ کام محمدﷺ‘ ترتیب محمدﷺ‘ اتباع محمدﷺ اور نظام محمدﷺ جتنا باقی بچا ہوا ہے‘ یہ ختم ہوجائے گا تو اس وقت ساری کائنات ختم کردی جائیگی۔
لہٰذا اپنی زندگی کو اس وظیفے کے ساتھ رواں دواں رکھنا۔ وہ جن کہنے لگے میں 178 سال سے مسلسل یہ وظیفہ پڑھ رہا ہوں اب تک میں نے بے شمار لوگوں کو یہ وظیفہ بتایا جو مجھ پر اس وظیفے کی کائنات کھلی ہے جو مجھ پر اس وظیفے کے بھید کھلے ہیں وہ میں آپ کو بتانہیں سکتا۔ ہاں! چند فائدے اس کے ضرور بتاؤں گا۔تنگی رزق کا آسان ترین حل: پہلے جب میں یہ وظیفہ نہیں پڑھتا تھا میرے رزق میں تنگی تھی‘ ہم جن ہیں چاہیں تو انسانوں کی چوریاں کرلیں لیکن میں نے ابھی تک کبھی کسی انسان کی چوری نہیں کی‘ میں گھریلو طور پر کاروباری طور پر بہت پریشان رہتا تھا اورروزبروز میری پریشانی بڑھتی چلی جاتی تھی جب سے میں نے یہ وظیفہ شروع کیا میری پریشانی ختم ہوگئی‘ رزق بے بہا ملا‘ ہر وقت روزگار کے اندر برکت اور خوشیاں نصیب ہوئیں‘ روزگار میں اللہ جل شانہٗ نے میرے ساتھ بہت کرم ا ور فضل کے معاملے کیے اور میں رزق میں آخر کار اتنا ترقی کرگیا کہ میں لوگوں کو بانٹنا شروع کرچکا ہوں اور بانٹتے ہوئے بھی میرا رزق ختم نہیں ہورہا۔بیٹوں کے خواہشمند ضرور توجہ کریں!اس وظیفے کا ایک اور فائدہ جو مجھے بھی ملا اور بے شمار لوگوںکو ملا وہ یہ ہے کہ جن کے ہاں بیٹے نہ ہوتے ہوں یا اولاد نہ ہوتی ہو‘ میں نے جب بھی انہیں یہ وظیفہ دیا‘ نہایت حیرت انگیز رزلٹ ملے۔ خود میرا اپنا بیٹا نہیں تھا‘ صرف بیٹیاں تھیں۔ میری چاہت تھی مجھے بیٹا ملے۔ جب سے میں نے یہ وظیفہ پڑھنا شروع کیا اللہ نے مجھے بیٹوں پر بیٹے دئیے۔ میں نے انسان اور جن جس جس کو بھی بتایا اللہ پاک نےانہیں بیٹوں والی نعمت عطا کی اور مجھے حیرت انگیز طور پر اللہ پاک نے اس کی برکات عطا کیں۔ ایسے بے اولاد لوگ جن کی اولاد نہیں تھی انہوں نے جب اس وظیفے کو لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں پڑھا ‘ان کو اولاد ملی اور خاص طورپر بیٹا ملا۔ کہنے لگے کہ مجھے ایک بزرگ نے ایک بات کہی جو میرے دل پرجاکر لگی۔حاملہ خواتین کیلئے لاجواب آسان عمل:فرمانے لگے: جو حاملہ خواتین ہر نماز کے بعد اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر کہے یااللہ مجھے بیٹا دے میں اس کا نام محمد رکھوں گی جس کو یقین ہوتا ہے اللہ جل شانہٗ ضرور بیٹا دیتے ہیں۔ ہر نماز کے بعد درج بالا عمل کرے۔یعنی دن میں پانچ دفعہ کہنے سے انشاء اللہ اس کو ضرور بیٹا ملتا ہے اور جو روزانہ اس کو ہزاروں کی تعداد میں پڑھے گا اس کے ساتھ اللہ کا کیا معاملہ ہوگا اور اس کے ساتھ اللہ کی کیا محبتیں اور کیا رحمتیں متوجہ ہوں گی۔ چالیس سال کے بے اولادوں کو اولاد ملی:بہرحال میں نے اس کے پڑھنے والے کو کبھی بھی بے اولاد نہیں دیکھا‘ چالیس چالیس سال کے بے اولادوں کو اولاد کی دولت سے اللہ جل شانہٗ نے نوازااور ایسی اولاد کی برکتیں اور دولتیں اس کو عطا کیں کہ خود وہ حیران‘ سننے والے حیران‘ دیکھنے والے حیران کہ اس خشک اور سوکھی لکڑی سےا ولادکیسے ہوسکتی ہے؟ محمدالرسول اللہ اسم اعظم ہے: محمد الرسول اللہ ورد ہے‘ وظیفہ ہے‘ اسم ہے‘ اسم اعظم ہے‘ برکت ہے‘ نشان ہے‘ راستہ ہے‘ نشانی ہے‘ عزت ہے‘ الفت ہے‘ رفعت ہے‘ بلندی ہے کمال ہے‘ وجود ہے‘ عروج ہے‘ ساری کائنات پر محیط ہے‘ ساری کائنات کی روح ہے‘ ساری کائنات کی جان ہے اور ساری کائنات کی بقا ہے جو اتنی زیادہ برکتیں اور رحمتیں رکھنے والی چیز ہے تو اس کی عظمتیں اور کمال ہم جتنا بھی بیان کریں اتنا کم ہے۔سدا کامیابی‘ برکتیں‘ کمال اور عروج: اس پرانے جن نے اپنے ایک 178 سالہ تجربات میں سے جو تجربات بتائے وہ یہ بتائے کہ اس وظیفے نے آج تک مجھے کبھی مایوس نہیں کیا‘ میں نے جس مقصد کیلئے پڑھا ہاں دیر اور جلدی ہوسکتی ہے لیکن مجھے وہ مقصد اورمراد ضرور ملی اور کبھی مجھے اس وظیفے نے ناکام نہیں ہونے دیا۔ سدا کامیابی ‘ برکتیں ‘کمال اور عروج ملا۔ اللہ جل شانہٗ نے اس وظیفے کی برکت سے میرے ساتھ وہ محبتیں اور شفقتیں کیں جو میں سوچ نہیں سکتا۔
زیارت رسولﷺ و صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین:کہنے لگے: مجھے بے شمار دفعہ زیارت رسول ﷺ نصیب ہوئی اور اس وظیفے کے پڑھنے والے کو بڑی زیارت کے بعد پھر اور زیارتیں ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ صحابہ کرام‘ اہل بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ‘ اولیاء کرام‘ صالحین رحمۃ اللہ علیہم اجمعین کی ۔حضرت خضر علیہ السلام ہر مشکل کا حل بتاتے ہیں: خاص طور پر اس وظیفہ پڑھنے والے کو حضرت خضر علیہ السلام بہت زیادہ پسند فرماتے ہیں‘ اس سے محبت کرتے ہیں‘ ہر مشکل میں اس کاساتھ دیتے ہیں‘ ہر مشکل میں اس کو تدبیر بتاتے ہیں‘ ہر پریشانی میں اس کو حل بتاتے ہیں اگر وہ کسی مشکل میں الجھ گیا ہوتو اس کی زندگی میں بہتری کا مشورہ بتاتے ہیں اگر کہیں وہ غلط راہوں کو اختیار کرچکا ہو جہاں اس کو نقصان ہوسکتا ہو وہیں جاکر اس کیلئے ترقیاں کامیابیاں اور سیدھی راہوں کی تدبیریں کرتے ہیں۔اے کاش! لوگ اس وظیفے کی قدر دانی کریں:میری زندگی میں اس وظیفے کے بہت کمالات کھلے ہیں وہ جن ایک ٹھنڈا سانس لیکر کہنے لگا: اے کاش! لوگ اس وظیفے کی قدردانی کریں کیونکہ آج تک جس نےبھی اس وظیفے کی قدردانی کی ہے وہ شخص ہمیشہ بامراد ہوا ہے اور ہمیشہ اس نے دل کی مراد پائی ہے۔ہمیشہ کامیابی کا راز:بوڑھے جن نے مزید اپنے تجربات بتاتے ہوئے یہ کہا کہ جب بھی میں نے اس وظیفے کو یقین کے ساتھ توجہ کے ساتھ اور دھیان کے ساتھ پڑھا ہے مجھے اللہ پاک نے اس وظیفے کے بہت کمالات دئیے ہیں اور میں کبھی ناکام نہیں ہوا بلکہ ہمیشہ کامیاب ہوا ہوں‘ بس میں نے ہمیشہ اس کو کامل طاقت سے پڑھا‘ توجہ سے پڑھا اور ہرحال میں پڑھا بلکہ یہ تو وہ وظیفہ ہے جس کیلئے وضو بھی شرط نہیں اور پاکی بھی شرط نہیں‘ ہر حالت میں پڑھ سکتے ہیں ہاں اگر باوضو اور پاکی میں پڑھیں تو اس کے کمالات بہت ہی زیادہ اور بہت ہی زیادہ ہوتے ہیں۔بے اولاد جن کی اولاد کیسے ملی؟کہنے لگے : ہمارا ایک جن تھا وہ دنیا جہان کے انسانوں اور جنوں کے پاس ہر عامل اورمعالج سے تھک ہار کر اولاد کی مراد آخر کار نہ پاسکا۔ مجھے پتا چلا تو ایک شادی کی تقریب میں میری اس سے ملاقات ہوئی ‘میں نے اس سے کہا آپ مایوس اور پریشان نہ ہوں میں آپ کو ایک لفظ بتاتا ہوں وہ یہ لفظ ہے کہ آپ جب صبح اٹھیں تو ایک دفعہ کلمہ پڑھیں اور پھر سارا دن محمدالرسول اللہ مسلسل دہرائیں حتیٰ کہ سوتے وقت تک۔ دوسرے دن اٹھیں پھر یہی عمل شروع کردیں اور سارے دن میں اس کو ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں پڑھنا ہے۔ بس آپ بھی پڑھیں اور آپ کی بیوی بھی پڑھے اور آپ کے گھر کے اورآپ کے مخلص افراد ہیں وہ بھی پڑھیں۔ میری اس تاکید کے بعد بہت عرصہ وہ مجھے نا ملے لیکن جب ملے تو کہنے لگے مجھے اس کلمے سے بہت فائدہ پہنچا‘ اللہ جل شانہٗ نے مجھے دو بیٹےاور ایک بیٹی دی‘ میرے ساتھ ایسی کریمی ہوئی کہ ابھی بھی اولاد کے آثار ہیں اور مزید اولاد اللہ جل شانہٗ دے رہا ہے
----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
Azeem shahyousufi
qadiry chishty faridy sabiry jahangiry qalandar kambal posh.
1 rabi ul awal 1434hj 2014 jan 3






Thursday, 2 January 2014

روحانی جسمانی ورد و وظائف ( Rohani Jismani amliyat)



سورۂ کہف کی آیت نمبر دس کا وظیفہ درج تھا۔ اس آیت کو صرف ایک بار تعوذ اور تسمیہ کے ساتھ دل میں قبض کی بیماری کا تصور کر کے پڑھتے ہوئے کھانے پر دم کرتا ہوں پھر کھانا شروع کرتا ہوں الحمدللہ جب سے یہ عمل کررہا ہوں مجھے قبض کے مسئلے میں 80فیصد سے زیادہ افاقہ ہوا ہے۔(محمد وقاص)
===========================================================
میں وَ لَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی﴿الضحیٰ۵﴾ والی آیت کے فضائل پڑھے تو کھلاپڑھنا شروع کردیا۔ میں نے ایک ضروری سفر پر بھی جانا تھا اور شادی بھی کرنی تھی تو جس دکان میں میں کام کرتا تھا تو انہوں نے مجھے ستر ہزار روپے دئیے کہ یہ آپ کے ہماری طرف آگئے تھے ان کا مجھے وہم و گمان میں بھی نہ تھا اور تھے میرے ہی پیسے تو اس سے میرا شادی کا مسئلہ بھی حل ہوگیا اور سفر پر بھی چلا گیا اور وہ آیت اب بھی پڑھتا ہوں تو اس کا بہت زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔(ک،ا)
================================================================
حضرت خضر علیہ السلام سے ملاقات

ایک دفعہ مجھے مسجد نبویؐ شریف میں حضرت خضر علیہ الصلوٰۃ والسلام ملے اکثر میری ان سے ملاقات ہوتی رہتی ہےتو مجھ سے فرمانے لگے کہ یہ بتاؤ کہ روضہ اطہر کے اردگرد کتنی نہریں بہتی ہیں میں نے پوچھا جی آپ ہی راز بتادیں بجائے اس کے کہ یہ سوال میں آپ سے کروں آپ مجھ سے کررہے ہیں۔
فرمانے لگے آپ سے اس لیے کررہا ہوں کہ آپ یہ سوال مجھ سے کریں اور میں پھر آپ کو بتاؤں۔ میں نے بولا حضرت ضرور بتائیے۔ فرمانے لگے روضہ اطہر کے اردگرد جنت کی نہریں بہتی ہیں اور وہ نہریں ایسی ہیں کہ اس کا قطرہ اگر پوری دنیا میں سمندر ڈال دیا جائے تو سمندر میٹھا ہوجائے اور انسان پی لے تو انسان کو قیامت تک پیاس نہ لگے اور اللہ کے حبیب ﷺ کے روضہ اطہر کے اردگرد وہ جنت کی نہریں بہتی ہیں عام عقل انسانی انہیں نہیں دیکھ سکتیں۔
جب سلطان کے دور میں روضہ اطہر کے اردگرد کھودا گیا اور سیسے کی دیوار بچھائی گئی تو وہاں ہر بندے کو اس کھدائی میں نہیں لگایا گیا تھا‘ بڑے بڑے محدث علماء اور بڑے بڑے فقہا اور اہل اللہ کو اس کھدائی میں لگایا گیا اور سلطان نے خود اس کی نگرانی کی تھی۔ اس وقت وہ نہر سامنے آئی‘ اس وقت وہ نہر اپنے پورے جوبن کے ساتھ اور پوری مٹھاس کے ساتھ اور نہروں کی ساری شاخیں سامنے آئیں لیکن چونکہ علماء میں ‘ بزرگوں میں‘ محدثین میں وہ لوگ اس کو جانتے تھے اس لیے انہوں نے خاموشی کا اختیارکی اور اس کا کوئی اظہار نہیں کیا۔
حضرت خضر علیہ السلا م کا بتایا انمول وظیفہ
حضرت خضرعلیہ السلام فرمانے لگے اس وقت میں موجود تھا اور بھی کئی کمالات اور کرامات سامنے آئے ان میں ایک نہر بھی تھی اور پھر حضرت خضر علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا جو روضہ اطہر کے قریب خاص طور پر جہاں اصحاب صفہ ہے اس کے اردگرد بیٹھ کر جو شخص سورۂ توبہ کی آخری آیت لقد جاء کم… آخر تک ایک تسبیح روزانہ پڑھے گا تین دن‘ پانچ دن‘ سات دن‘ گیارہ دن یا اکتالیس دن دھیان اور توجہ جما کر پڑھے گا اس کی دنیا کی کوئی مشکل ہوگی حل ہوجائے گی‘ پریشانی حل ہوگی‘ غم دور ہوگا‘مقدمات ختم ہوجائیںگے‘ رزق میں برکت ہوگی بارش ہوگی‘ اولاد کی نافرمانی ختم ہوگی‘ شادی کی بندشیں دور ہوجائیں گی‘ دشمن کا خوف ختم ہوگا‘ اگر اس کے قتل کے احکامات جاری ہوگئے ہیں ختم ہوجائیں گے۔دنیا کی جو مراد لے کرآئے گا پوری ہوجائیگی۔ اس سے پہلے دو رکعات نفل پڑھے صلوٰۃ التوبہ کی نیت سے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگ کر اللہ میری قبولیت میں جو گناہ آڑے آتے ہیں ان سب گناہوں سے معافی مانگتا ہوں۔ دو رکعات نماز صلوٰۃ التوبہ پڑھ کراس کے بعد اول و آخر سات مرتبہ درود شریف اور پھر ایک تسبیح سورۂ توبہ کی آخری آیت لقد جاء کم… پڑھے۔ اور حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا یہ چیز میں نے آج تک جس کو بتائی ہے اور جس نے بھی کی ہے اللہ پاک نے اس کا حیرت انگیز کمال دیا ہے۔ میں نے حضرت خضر علیہ الصلوٰۃ والسلام سےسوال کیا کہ اللہ کے نیک بندے جو شخص مدینہ منورہ نہیں آسکتا اور اس کی توفیق بھی نہیں ہے یا پھر ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے ایک دفعہ حاضری دی اور پھر حاضری کی توفیق نہیں ملی وہ تو اس سعادت سے محروم رہ جائیں گے۔
اس کے بارے میں آپ کیا توجہ فرماتے ہیں تو حضرت خضر علیہ السلام فرمانے لگے: لگتا یہ ہے کہ آپ کو امت کے لوگوں کا بڑا درد اور غم ہے۔ میں نے ان سے عرض کیا ایسے ہی سمجھیں۔ فرمایا ٹھیک ہے اس کیلئے پھر آپ کو ایک حل بتاتا ہوں جو مدینہ منورہ میں حاضری دے سکیں ٹھیک ورنہ نہ آسکیں تو مدینہ منورہ میں مسجد نبوی شریف کی حاضری کی نیت اور اصحاب صفہ کی اس جگہ کی نیت کرکے یہ عمل کرلیں گے تو انشاء اللہ وہ بھی یہ تاثیر پالیں گے۔ میں ان کی بات سے خوش ہوا کہ آپ نے واقعتاً بہت اچھا حل نکالا ہے۔ میری حضرت خضر علیہ السلام سے بہت ملاقاتیں ہوئی اور ہوتی رہتی ہیں میری ہر ملاقات میں میری کوشش ہوتی ہے کہ ان سے کچھ کائنات کے راز‘ کچھ عمل‘ کچھ عملیات‘ کچھ وظائف‘ کچھ کیفیات ان سے حاصل کروں اور بہت سخی ہیں اللہ پاک ان کو جزائے خیر دے میرے ساتھ بہت شفقت فرماتے ہیں اور بہت زرہ نوازی اور مہربانی فرماتے ہیں خدا کرے سدا ان کی یہ مہربانیاں مجھ پر سدا بہار رہیں۔ آمین ثم آمین۔
====================================================================
روحوں سے ملاقات کا آسان عمل

یہ بہت بڑا راز ہے اور حقیقت ہے کہ یہ مادی زندگی جس میں ہم موجود ہیں اس میں روح ہروقت ساتھ رہتی ہے۔ روح جہاں جسم مادی کو لمحہ لمحہ کی تحریکات عطا کرتی ہے وہاں روح ’’ضمیر‘‘ کی تشکیل کرتی ہے۔ یہ ضمیر ایک آئینہ ہوتا ہے جو انسان کے شعور اور یادداشت کی شکل میں ہروقت ساتھ رہتا ہے۔ مشہور ہے کہ دلوں کا بھید اللہ تعالیٰ جانتے ہیں بے شک اللہ مالک ہے‘ خالق ہے لیکن ایک انسان اپنے دل کے بھید سے بھی بخوبی واقف ہوتا ہے۔ اس کی ’’یادداشت‘‘ اسے اس کے اعمال کی یاددلاتی رہتی ہے۔ یہ یادداشت قیامت تک اس کا پیچھا نہیں چھوڑسکتی۔انسان کی ریکارڈنگ: انسان اس زندگی میں جو کچھ کرتا ہے روح اس کا باقاعدہ ریکارڈ مرتب کرتی ہے۔ اسے اس طرح سمجھ لیجئے کہ اللہ تعالیٰ نے روح کے ذریعے ہر انسان کے ساتھ کیمرہ نصب کررکھا ہے وہ انسان کے اندر تمام تر خیالات اور خیالات کے نتیجے میں بننے والے اعمال وافعال کو معمولی سے معمولی حرکت کے ساتھ ریکارڈ کرتا ہے جس وقت موت کا فرشتہ ’’حضرت ملک الموت‘‘ روح قبض کرتے ہیںتو موت سے محض چند سیکنڈ پہلے یہ پورا ریکارڈ مرتے انسان کو دکھا دیا جاتا ہے۔ حالت نزع میں بھی یہی ریکارڈ چلتا ہے۔ اس ریکارڈ کو دیکھ کر مرنے والا انسان خود اپنا فیصلہ کرلیتا ہے کہ میں حقیقت میں کس مقام سے تعلق رکھتا ہوں۔ علیین کا ہوں یا سیجین کا… اور یوں مرنے کے بعد انسان کو وہی مقام حاصل ہوتا ہے جہاں وہ قیامت تک رہے گا۔ اس وقت ہمارا موضوع کشف القبور ہے اس لیے روح اور جسم کے بارے میں مختصراً عرض کرنا ضروری تھا۔ کشف کا مطلب ہے کھولنا‘ ظاہر کرنا‘ پردہ اٹھانا‘ انکشاف ہونا اور قبور لفظ قبر کی جمع ہے کشف القبور کا مطلب ہے قبور کے حجاب سے پردہ اٹھانا‘ قبر کے رازوں کو کھولنا ۔
مرنے کے بعد انسان کو قبرستان میں دفن کردیا جاتا ہے یہ قبر دراصل اعراف کا دروازہ ہوتا ہے کشف القبور‘ طالب روحانیت کی منزل ہوتی ہے۔ یہ منزل پاکر وہ اولیاء اکرام اور انبیاء عظام کی روحوں سے رابطہ کرتے ہیں اور روحانی تعلیمات حاصل کرتے ہیں۔ کشف القبور کے بارے میں رسول کریم ﷺ کی حدیث مبارکہ ہے ’’مرجاؤ مرنے سے پہلے‘‘ کشف القبور کیلئے اولیاء کرام نے مختلف اعمال وضع فرمائے ہیں کون سے اعمال صحیح ہیں ہم یہی کہیں گے کہ تمام اعمال صحیح ہیں کشف القبور کیلئے اہم ترین سبق ’’مراقبہ موت‘‘ ہوتا ہے اس کی مخصوص مشقیں اور اوراد ہوتے ہیں‘ مراقبہ موت کیلئے کسی کامل بزرگ کی رہنمائی بہت ضروری ہوتی ہے۔ آج کی نشست میں کشف القبور کا آسان عمل پیش ہے۔ یہ عمل مرد حضرات کے علاوہ خواتین بھی کرسکتی ہیں۔ آپ دعا دیجئے حکیم محمد طارق محمود مجذوبی چغتائی صاحب کو جو بلاغرض و طمع کے بخل کا قلع قمع کرتے ہوئے نادر و نایاب اعمال اور طبی نسخے عبقری میں شائع فرمادیتے ہیں۔ کشف القبور کا یہ عمل میں نے 1980ء میں کیا تھا اور مجھے یہ عمل شورکوٹ کے علامہ شاد گیلانی رحمۃ اللہ علیہ مرحوم نے عطا فرمایا تھا۔ یہ عمل بالکل صحیح اور سوفیصد درست ہے۔ جو خواتین و حضرات یہ عمل کریں ان سے گزارش ہے کہ کسی قسم کی شیخی یا کبر نہ برتیں بلکہ عجز‘ خاموشی اور رازداری کو مقدم رکھیں ایسے راز ظاہر کرنا ہر ایک کا حوصلہ نہیں ہوتا۔
کشف القبور کا عمل اور طریقہ: سب سے پہلے عمل کی زکوٰۃ ادا کریں اور یہ زکوٰۃ دوبارہ ادا کریں‘ یہ عمل کسی بھی ماہ کے نئے چاند سے شروع کریں۔ خیال رہے کہ نئے چاند پر قمر درعقرب نہ ہو۔ پرہیز: عمل شروع کرنے سے تین دن پہلے (یعنی نئے چاند کی پہلی تاریخ سے تین یوم پہلے (72گھنٹے) پہلے ترک حیوانات جلالی جمالی کا پرہیز کریں۔ گوشت‘ انڈا‘ مچھلی‘ پیاز‘ لہسن‘ مولی‘ مکھن‘ گھی‘ گلے ہوئے پھل‘ امرود‘ کشتہ جات‘ ہومیو ادویات‘ انگریزی ادویات اور بازاری خوراک اور ازدواجی تعلقات سے مکمل پرہیز… یہ بھی خیال رکھیں کہ آپ زخمی حالت میں نہ ہوں۔ خوراک میں بادام‘ ناریل‘ جو‘ مکئی کی روٹی‘ گندم‘ ابلی سبزیاں‘ دالیں ابلی ہوئی کھاسکتے ہیں۔ دن میں بدستور کام کاج‘ تعلیم وغیرہ سرانجام دیں۔ پانچ وقت نماز کی پابندی‘ کسی سے غصہ نہ کریں‘ انتقام نہ لیں‘ برا بھلا نہ کہیں‘ غیبت اور الزام تراشی سے پرہیز لازم ہے۔اگر روزہ رکھیں تو بہت اچھا ہے لیکن ہر بدھ کو روزہ ضرور رکھیں۔
عمل: یاصمد اللہ الصمد۔ عمل کیلئے جگہ تنہا‘ اگربتی جلالیں‘ چاند کی پہلی تاریخ کی رات ٹھیک 12بجے (پاکستان سٹینڈرڈ ٹائم) پانچ ہزار بار شمال رخ پڑھیں‘ پھر بغیر بات کہے سوجائیں۔ پھر اگلے دن چار ہزار بار‘ تیسرے دن تین ہزار بار‘ چوتھے دن دو ہزار بار‘ پانچویں دن ایک ہزار بار‘ چھٹے دن 9سو بار‘ ساتویں دن آٹھ سو بار‘ آٹھویں دن سات سو بار‘ نویں دن چھ سو بار‘ دسویں دن پانچ سو بار‘ گیارہویں دن چارسو بار‘ بارہویں دن تین سو بار‘ تیرہویں دن دو سوبار‘ چودھویں دن ایک سو بار۔ اب مکمل ہوا۔ روزانہ عشاء کے بعد سو بار مسلسل پڑھیں ۔ اب اسی طرح اگلے ماہ کی یکم تاریخ کی رات (نئے چاند) سے اس عمل کو دوبارہ کریں۔ 14یوم مکمل کرکے روزانہ صرف 100بار پڑھنا معمول بنالیں۔ پہلے ماہ کے چودہ یوم مکمل ہونے پر ترک حیوانات کاپرہیز ختم کرسکتے ہیں البتہ دوسرے ماہ میں پھر ترک حیوانات ہوگا۔ جس جگہ عمل کریں وہاں اندھیرا ہو اور کمرے میں تصویریں وغیرہ نہ ہوں۔ جس دن آپ نے روح سے ملاقات کرنی ہے تازہ غسل کرکے رات کو بارہ بجے کسی دوست‘ عزیز کی قبر پر چلے جائیں۔ قبر کے پاؤں کی طرف بیٹھ کر ایک ہزار بار یاصمد اللہ الصمد کا ورد کریں۔ کسی قسم کی گھبراہٹ کی ضرورت نہیں۔ یہ عمل نہایت سادہ ہے کوئی نقصان نہیں ہوتا۔
مردے سے گفتگو کریں:جونہی یہ ورد مکمل ہوگا آپ کو قبر میں سے دھویں کی لاٹ اٹھتی نظر آئے گی اورپھر وہ مکمل شکل بن جائے گی۔ آپ بلاخوف السلام علیکم کہیں ادھر سے جواب آئے گا۔ تو مزید گفتگو کریں۔ کوئی ایسی بات ہرگز نہ پوچھیں کہ اس کی دلآزاری ہو۔ جب مزید گفتگو نہ کرنی ہو تو آپ اسے کہہ دیجئے کہ جب آئندہ یہ عمل پڑھوں تو آپ فوراً آجائیے گا۔ ابھی آپ تشریف لے جائیں۔ سال دو سال کی مسلسل پریکٹس کے بعد اس عمل سے روحیں گھر پر تشریف لانا شروع کرتی ہیں۔
احتیاط و انتباہ: یہ عمل نمازی‘ پرہیزگار لوگ اور سادہ مزاج خواتین و حضرات ضرور کریں۔ البتہ جو لوگ سودی کاروبار کرتے ہیں رشوت‘ انشورنس‘ شراب‘ سگریٹ یا نشہ کے عادی یا جن کے مزاج میں ترش روئی اور غصہ ہو اور وہ جو گھروں میں اسلحہ رکھتے ہیں یہ عمل نہ کریں۔
---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------====+++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++
ایک نسخہ تلی کی خرابی کیلئے مخلوق خدا کی خدمت اور رضائے الٰہی کیلئے پیش کررہا ہوں جو کہ سوفیصد مجرب ہے۔ حکیم جالی نوس کا قول ہے کہ تلی جتنی چھوٹی ہوگی اتنا ہی بدن موٹا اور تندرست ہوگا بڑی تلی ہونے سے بدن لاغر اور کمزور ہوتا ہے۔ تلی کا بڑھ جانا یا ورم ہونا دنیا کے لطف سے محروم کردیتا ہے۔ بعض حکماء نے اس کے علاج کیلئے انجیر کا اچار مفید قرار دیا ہے مگر ایوب صاحب نے دارچینی کا سفوف بتایا ہے جو انہوں نے ایک بزرگ حکیم سے حاصل کیا ہے۔ دارچینی کا سفوف کرلیں۔ انڈا فرائی کرکے اس پرا یک یا دو چٹکی دارچینی کا سفوف چھڑک کر ناشتہ میں کھالینے سے تلی کی ہر بیماری ختم ہوجاتی ہے۔کچھ عرصہ پابندی سےکریں۔
==================================================================
گردے اور پتھری کا روحانی آزمودہ علاج
اول و آخر درود پاک 7 مرتبہ آیۃ الکرسی 7بار‘ الحمدشریف 7بار‘ آخری تین قل 3,3بار پڑھ کر دم کیا اور یہ تعویذ بنا کر دیا۔وہ تعویذ یہ ہے:۔
یاغفور یاغفور یاغفور
یاغفور یاغفور یاغفور
یاغفور یاغفور یاغفور
اللہ رب العزت نے اسے شفاء دی اب وہ خود چل کر میرے پاس آیا۔ آپ یقین کریں وہ لوگ تین بکریاں اور کچھ مرغیاں پہلے عاملوں کو دے چکے تھے اور بہت سی رقم بھی…… حالانکہ بہت ہی غریب لوگ ہیں۔ واللہ مجھے ایک روپیہ بھی کرائے کیلئے نہیں دیا مگر الحمدللہ میرے دل سے دعا ضرور نکلتی ہے کہ اللہ رب العزت نے میری لاج رکھ لی اگر میں پیسے لیتا اور اللہ شفاء نہ دیتا تو پھر میری بدنامی ضرور ہونی تھی۔
پیشاب میں رکاوٹ و پتھری کی تکلیف
پیشاب میں رکاوٹ و پتھری کیلئے روحانی عمل:٭پیشاب میں رکاوٹ اور پتھری کی تکلیف پر اصفہان کے رہنے والے شخص نے مندرجہ ذیل آیت طشتری پر لکھ کر پانی سے دھو کر پی لیا تو پیشاب ٹھیک آنے لگا اور پتھری نکل گئی۔بسم اللہ الرحمن الرحیموَّ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا ۙo فَکَانَتْ ہَبَآءً مُّنْبَثًّا (الواقعہ 6,5)۔وَّ حُمِلَتِ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ فَدُکَّتَا دَکَّۃً وّٰحِدَۃً (الحاقۃ 14)
٭اسی طرح اس آیت شریف کو لکھ کر اس کا پانی پینا پیشاب اور پاخانہ کی تکالیف کو بھی دورکرتا ہے۔ کلام اللہ پر یقین رکھنا لازم ہے۔وَ اِذِ اسْتَسْقٰی مُوْسٰی لِقَوْمِہٖ فَقُلْنَا اضْرِبْ سے لیکر فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ۔(البقرۃ 60)
٭اس مرض کیلئے سورۂ کوثر بھی اسی طرح نفع بخش ہے۔
٭سلسل بول بیماری ہے‘ پیشاب بار بار چھوٹے وقفوں سے یا قطروں کی صورت میں آتا ہے اس کے دفعیہ کیلئے ان آیات کو لکھ کر بازو یا گلے میں باندھ لیا جائے تو بحکم ربی یہ مرض زائل ہوجائیگا۔ وَ قِیْلَ یَاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآءَکِ وَ یٰسَمَآءُ اَقْلِعِیْ وَغِیْضَ الْمَآءُ وَقُضِیَ الْاَمْرُ وَاسْتَوَتْ عَلَی الْجُوْدِیِّ وَقِیْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ﴿ھود۴۴﴾
مصیبت کے وقت کیا پڑھیں؟؟؟
(ایم ایم قریشی)
جنگ خندق میں مسلمانوں پر سخت ترین وقت آگیا تھا‘ حضور نبی کریم ﷺ بھی جنگ میں اتنے مصروف تھے کہ ایک مرتبہ آپ ﷺ کی نماز تک قضاء ہوگئی۔ صحابہ اکرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ ہمارے کلیجے منہ کو آگئے ہیں‘ دشمن کی سختی اور ہیبت بے انداز ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اس کلام کو بار بار پڑھو۔ اَللّٰھُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا وَاَمِنْ رَوْعَاتِنَاترجمہ: ’’اے اللہ ! ہماری عزت آبرو کی پردہ پوشی کرنا اور ہمیں سختی سے امن عطا کرنا‘‘اللہ نے اپنے حبیب ﷺ کی برکت سے کرم کیا اور فتح نے مسلمانوں کے قدم چوم لیے۔ آپ بھی سختی کے وقت درود شریف کی شرکت سے اس کلام کو پڑھا کریں۔
٭ ہر صبح کو تین بار اسے پڑھیں گے درودشریف کی معاونت کے ساتھ تو انشاء اللہ ہر مصیبت اور الم سے حفاظت ہوگی۔
بِسْمِ اللہِ الَّذِیْ لَایَضُرُّ مَعَ اسْمِہٖ شَیْ ءٌ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَآءِ وَھَوَا لسَّمِیْعُ الْعَلِیْمِ۔
٭ فرمان نبوی ﷺ ہے کہ صبح و شام قرآن حکیم کی تین آخری سورتیں یعنی تینوں قل شریف پڑھا کریں تو دن رات امن میں گزرے گا تاہم چند شرائط کا لحاظ ضروری ہے۔ فرائض و واجبات باقاعدگی سے ادا کریں۔ ہمیں ہر طرح سے گناہ سے بچنا چاہیے۔ کسی آسمانی یا زمینی مصیبت کے وقت گھروں میں اذانیں دینا پریشانی کو دور کرتی ہے۔
-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
دیدار رسولﷺ کیلئے: اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی رُوْحِ مُحَمَّدٍ فِی الْاَرْوَاحِ وَعَلٰی جَسَدِہِ فِی لْاَجْسَادِ وَعَلٰی قَبْرِہِ فِی الْقُبُوْرِ۔ رات کو دو رکعات نماز صلوٰۃ التوبہ پڑھنے کے بعد ایک سو ایک مرتبہ پڑھنے کا معمول بنالیں انشاء اللہ بہت جلد آپ کو دیدار رسول ﷺ نصیب ہوگا۔
=============================================================================================
یرقان کا کامیاب علاج
مجھے پیلا یرقان تھا اسی دوران میرے ایک دوست نے مجھے بَڑ (برگد) نامی درخت کا نام بتایا اور اس درخت کی جڑیں پانی میں ابال کر اس کا شربت پینے کو کہا‘یہ عمل میں نے خود کچھ عرصہ کیا تو میرا پیلا یرقان ختم ہوگیا۔ میں نے جن کو بتایا اللہ نے ان کو بھی شفاء دی۔ (ملک فرقان‘ مری)
=-=-==-=-=-=-=-=-==-=-=--================================================================
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے حضور اقدس ﷺنے فرمایا اے جبیر! کیا تمہیں یہ بات پسند ہے کہ سفر میں نکلو تو اپنے سب ساتھیوں سے بڑھ کر اچھے حال میں رہو اور سب سے زیادہ تمہارے پاس زادراہ رہے۔ حضرت جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیںکہ میں نے عرض کی کہ میرے ماں باپ آپﷺ پر قربان ہوں میں ضرور یہ چاہتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم یہ پانچ سورتیں سفر میں پڑھا کرو (۱) سورۂ کافرون (۲) سورۂ نصر (۳) سورۂ اخلاص (۴) سورۂ فلق (۵) سورہ ٔناس ہر سورۃ کو بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ سے شروع کیا جائے پھر سورۂ ناس کے بعد بھی بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھی جائے اس طرح پانچ سورتیں اور چھ مرتبہ بسم اللہ شریف پڑھنی ہے۔حضرت جبیر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں غنی اور زیادہ مال والا تھا جب سفر میں نکلتا تھا تو اپنے ساتھیوں میں سے سب سے زیادہ بدحال ہوجاتا تھا اور میرا زاد راہ بھی سب سے کم ہوجاتا تھا جب سے میں نے حضور اقدسﷺ سے سفر میں ان سورتوں کے پڑھنے کا علم حاصل کیا ہے برابر ان کو سفر میں پڑھتا ہوں اور سفر سے واپس آنے تک اپنے ساتھیوں میں سے سب سے زیادہ اچھے حال میں رہتا ہوں اور میرا زاد راہ بھی سب سے زیادہ رہتا ہے( ابو العلیٰ عن جبیر رضی اللہ عنہٗ)
=================================================================
استخارہ
یہ استخارہ بہت مجرب ہے، جو شخص اپنے کام کا انجام معلوم کرنا چاہتا ہے کہ اس کے حق میں یہ کام کرنا بہتر ہے یا نہیں؟ اس کو چاہیے کہ بعد نمازعشاء تازہ وضو کرکے اول تین بار درود شریف پڑھے اس کے بعد دس بار سورۂ فاتحہ پڑھے اس کے بعد گیارہ سو بار سورۂ اخلاص پڑھے‘ آخر میں تین بار درود شریف پڑھے اور پاک بستر پر داہنی کروٹ قبلہ کی طرف منہ کرکے سو جائے۔ انشاء اللہ تعالیٰ اپنے کام کا انجام خواب میں دیکھ لے گا۔ اگر خواب کی تعبیر سمجھ میں نہ آئے تو کسی عالم دین سے اس کی تعبیر پوچھ لے۔
آسیب اور جن کو گھر سے بھگانا
ایک سفید کپڑا لیں اور اس کو ہلدی میں رنگ کر چالیس فیتے بنالیں اور روزانہ ایک فیتاجلائیں۔ بعد نماز عشاء جلائیں، روزانہ چالیس دن تک مسلسل بلاناغہ جلانا ہے اور اس کمرے میں فیتاجلائیں جس میںسوتے ہیں، انشاء اللہ تعالیٰ آسیب اور جن بھاگ جائے گا۔
========================================================================================================
BAY OLADI KA ELAJ

فارمولہ اچار میں ڈالنے والے میتھرے اور چھوٹی الائچی تھی‘ وہ نسخہ دراصل بواسیر کیلئے بہت مفید پایا گیا‘ مسلسل تجربات کے بعد میں نے اسے قارئین کی نظر کیا۔
نسخہ چھپنا تھا کہ اس کے انوکھے نتائج اور لاجواب رزلٹ آنا شروع ہوگئے اور مسلسل لوگوں کے تجربات و مشاہدات میں اضافہ ہوتا گیا۔ کئی لوگوں نے لکھا کہ وہ فارمولہ واقعی بواسیر کیلئے بہت لاجواب ہے اور آخری سے آخری بواسیر جس سے انسان عاجز آگیا ہو اور بواسیر خونی ہو یا بادی اس سب کیلئے بہت لاجواب اور مفید چیز ہے۔ جہاں اس نسخے کے تجربات بواسیر کیلئے سامنے آئے وہاں کچھ اور بیماریوں کیلئے بھی سامنے آئے حالانکہ اس سے پہلے میرے مشاہدات اور تجربات میں ان بیماریوں میں اس کا عمل دخل نہیں تھا بلکہ میرے تجربات میں اس کا عمل صرف اور صرف بواسیر میں تھا لیکن جب ان بیماریوں کیلئے اس کے تجربات سامنے آئے میری نظر اس نسخے کے اجزا پر گئی تو فوراً ایک بات سامنے آئی کہ واقعی ان کے اجزاء ایسے ہیں جو واقعی ان بیماریوں میں مفید ہوسکتے ہیں۔
: بے اولادی: اس دوا کے چھپنے کے بعد جو بے شمار خطوط‘ ملاقاتیں ‘ فون اور نیٹ پر ای میل کےذریعے تجربات سامنے آئے وہ یہ سامنے آئے کہ ہم نے تو اسے بواسیر کیلئے استعمال کیا تھا لیکن انوکھا فائدہ بھی عجیب ہوا کہ بے اولادی کے بے شمار مریض ایسے جو بے اولادی میں مایوس ہوچکے تھے جنہوں نے علاج کرکر اپنے آپ کو تھکا دیا تھا ان کو حیرت انگیز اس کا فائدہ ہوگیا۔
طریقہ وہی ایک پاؤ میتھرے ایک پاؤ چھوٹی الائچی سبز موٹی دونوں باریک پیس لیں ایک چمچ چائے والا صبح اور ایک چمچ شام دودھ یا پانی کے ساتھ استعمال کریں۔
لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے سپرم بالکل نل تھے اور ہم سوفیصد سپرم کے حاصل کرنے کیلئے بہت مایوس اور پریشان تھے بے اولادی سے عاجز آگئے تھے‘ لوگوں کے طعنوں نے اور تنگ کررکھا تھا اور طعنے سہتے سہتے ہمارا دل جل گیا تھا‘ کان پک گئے تھے لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ہمیں کسی دوا کا فائدہ نہ ہوا۔
آخر کار یہ دوائی جب بواسیر کیلئے استعمال کی تو کئی لوگوں کی اولاد کا سلسلہ یعنی حمل ٹھہر گیا۔ وہ خود چونک پڑےا ٓخر یہ وجہ کیا ہے لیکن جب بات سامنےا ٓئی تو پتہ چلا کہ اس کی وجہ دراصل اس نسخے کے اجزا ہیں۔ ایک صاحب نے خط لکھا اس کی چار بیٹیاں ہیں اور وہ بیٹے کے لیے بہت زیادہ مایوس بھی تھا اور پریشان بھی تھا‘ تمام علاج کرکر کے تھک گیا تھا کہیں سے علاج معالجے میں اس کو کامیابی نہ ملی۔ مجھے بواسیر تھی کئی لوگوں کو فائدہ ہوا‘ انہوں نے مجھے اس دوا کے استعمال کرنے کا پرزور مشورہ دیا جب میں نے اس دوا کو استعمال کیا تو اچانک میری بیوی کو حمل ہوگیا حالانکہ میں نے صرف پونے تین ماہ باقاعدگی سے یہ دوائی استعمال کی تھی اور اللہ جل شانہٗ نے بیٹا عطا فرمایا۔ کئی خطوط ایسے ملے جن کی اولاد نہ بیٹی اور نہ بیٹا تھا وہ بہت زیادہ مایوس ہوچکے تھے‘ انہوں نے اسی دوائی کو استعمال کیا کچھ نے تو اچانک یعنی بواسیر کیلئے استعمال کیا اور کچھ ایسے تھے جن کو بعد میں نتائج ملے اور انہوں نے خاص اولاد کیلئے استعمال کیا اور اولاد کے رزلٹ کو حیرت انگیز پایا۔
واقعی یہ دوا ایسے مردوں کیلئے جن کے اندر بانجھ پن کا مرض ہو اور ان کے سپرم اس قابل نہ ہوں جو کہ اولاد پیدا کرنے میںطاقت اور قوت سے محروم ہوں ایسے لوگ چند ماہ اعتماد سے یہ دوا استعمال کریں۔ جہاں انہیں مردانہ طاقت‘ جسمانی قوت اعصابی قوت ملے گی وہاں اولاد پیدا کرنے والے جراثیم بھی بہت زیادہ بہتر ہوں گے۔
دوسرا فائدہ : خواتین کے امراض کے سلسلے میں۔۔۔ ایسی خواتین جو پرانی کمر کے درد کی مریضہ تھیں‘ ٹانگوں اور پنڈلیوں کا درد ایسا تھا جو ہروقت انہیں رنگ برنگی گولیاں کھانے میں مصروف رکھتا تھا اور وہ رنگ برنگی گولیاں ان کے معدے جگر اور دل کو نقصان پہنچا چکی تھیں لیکن وہ مجبوری کے عالم میں رنگ برنگی گولیاں کھا رہی تھیں جب انہوں نے یہ دوائی استعمال کی تو انہیں اس کے بہت حیرت انگیز رزلٹ ملے‘ کمر کا درد‘ مہروں کا درد‘ پٹھوں کا کھچاؤ‘ اعصابی کمزوری‘ جسمانی کمزوری اور دل دماغ کی کمزوری میں انہیں ایک نئی تازگی اور نئی فرحت دی اور ان کا جسم پہلے سے زیادہ صحت مند اور تندرست ہوگیا۔ایک اچانک انوکھا فائدہ جو خواتین کے سلسلے میں سامنے آیا ایسی خواتین جن کی سرینیں اور ہپس مسلسل بڑھ رہی ہیں چلنا پھرنا اٹھنا بیٹھنا ان کیلئے محال ہوگیا ہو‘ پیٹ لٹک رہا ہو‘ ایسی خواتین اکثر حمل کے بعد اس تکلیف میں مبتلا ہوتی ہیں جو بعض ایسی ہیں جو شادی کے بعد بھی لیکن وہ کم۔۔۔
ان تمام کیلئے اس دوا کا استعمال اگر چند ماہ باقاعدگی سے کیا جائے تو اس کے بہت زبردست رزلٹ ملیں گے۔ عمومی موٹاپے کیلئے اور خاص اس موٹاپے کیلئے اس کے بہت زیادہ فوائد ملے ہیں۔خواتین کی اندرونی نسوانی بیماریاں ایام کی خرابی‘ رسولیاں سسٹ‘ اندرونی ورم‘ اندرونی انفیکشن‘ پرانے سے پرانا لیکوریا‘ پاؤں کےبل بیٹھنے سے بوجھ بنتا ہو اس میں بھی مجھے ایسے خطوط ملے ہیں جس میں اس کے فائدے لوگوں نے بہت زیادہ تسلیم کیے ہیں۔
میری ہمیشہ کوشش رہی ہے چھوٹی سے چھوٹی چیز کا فائدہ بھی ہو اسے ضرور آپ تک پہنچاتا رہوں۔
اس مضمون کے بعد اتنے طویل عرصے میں جتنے اس کے مزید فائدے اور آئے ہیں مردوں اور عورتوں کی پرانی گیس اور تبخیر بدہضمی‘ سینے کی جلن‘ پیٹ کی جلن‘ کھانا کھاتے ہی غنودگی اور کھانا کھاتے ہی طبیعت میں اکتاہٹ‘ بے زاری ان تمام تکلیفوں کیلئے یہ الائچی اور میتھرے کا مرکب نہایت مفید اورمؤثر ثابت ہوا ہے۔ بس ایک پاؤ الائچی اور ایک پاؤ میتھرے لے کر دونوں باریک پیس لیں اور ایک چمچ چائے والاصبح و شام استعمال کریں۔ آپ چاہیں تو تین دفعہ بھی لے سکتے ہیں‘ بہت لاجواب چیز ہے اور بہت صحت مند اثرات اس سے ظاہر ہوتے ہیں‘ تندرستی میں‘ صحت میں خواہ اس کا تعلق معدہ ہو‘ گیس ہو‘ تبخیر ہو‘ بھوک کا نہ لگنا ہو یا کھانا کھاتے ہی کھٹی ڈکاریں‘ جلن‘ پیٹ کا بڑھنا ان تمام بیماریوں کیلئے یہ بہت مفید ہے۔ایک اور فائدہ جو کھل کر سامنے آیا وہ مردوں کیلئے ہے ایسے مرد جن کی ازدواجی زندگی ختم ہوچکی تھی۔ میاں بیوی کے معاملات میں سرد مہری بڑھ گئی تھی حتیٰ کہ اب تک انہوں نے اپنا بستر بھی جدا کرلیا۔ کمزوری اور خاص کمزوری بڑھتے بڑھتے مرد مایوسی سے آگے نکل گیا جب یہی دوائی کچھ عرصہ استعمال کرائی گئی تو مردانہ طاقت اور مردانہ قوتیں غالب آئیں جسم میں ایک انوکھا ولولہ پیدا ہوا طبیعت میں رجحان پیدا ہوا اور جسم میں قوت اور طاقت بڑھ گئی اور انوکھی طاقت ملی۔
========================================================================================
جادو کا توڑ‘ جائز خواہش‘ بیماریوں‘ الجھنوں سے چھٹکارا
جادو ، بندشوں، نفسیاتی مسئلوں، سردرد ، جسم درد، بخار سب کیلئے یہ طریقہ علاج ہے کلونجی استعمال کرنے سے پہلے کی دم شدہ کلونجی کا تعویذ بناکر گلے میں ڈالیں پھر کلونجی استعمال کرنا شروع کریں، مگر تعویذ گلے سے کام ہونے کے بعد بھی نہ اتاریں
عمل خاص یہ عمل میں نے اپنے سے بڑی مشکلوں سے حاصل کیا اور اسے کرنے کا طریقہ اور اس عمل کی اجازت لی۔ یہ عمل کیا ہے ؟ بھید قدرت ہے حضور کے بقول انہوںنے جس کو جس مقصد کیلئے دیا وہ پورا ہوا۔ جادو کے توڑ کے لئے‘ ہر قسم کی جائز خواہش‘ ہر قسم کی بیماریوں‘ الجھنوں کیلئے ہر کام کیلئے مجرب اور آزمودہ ہے۔ یہ انتہائی تاثیر والا انتہائی زبردست عمل ہے۔
عمل خاص کا طریقہ: اس عمل کو کرنے کی اجازت مجھے میرے دادا مرحوم سے ملی تھی ، میں ہر عام و خاص کو اس عمل کی اجازت دیتا ہوں ، صرف جائزمقصد کیلئے کریں۔
(۱) پہلا کلمہ تین سو بار،(۲) اَلرَّحْمٰنُ اَلرَّحِیْمُ ایک سو بار (۳) اَلحَکَمُ اَلْعَدْلُ اکیانوے بار(۴) درود ابراہیمی ایک سو پچیس بار،(۵) چار قل دو سو بار(۶) اَلْحَمِیْدُ اَلْبَاطِنُ ساٹھ بار (۷) اَلصَّمَدُ، اَلْقَادِرُچالیس بار (۸) آیۃ الکرسی ایک سو ایک بار ۔ ایک پائو کلونجی لے لیں کلونجی کو کسی ڈھکن بند بوتل میں جس کا منہ کھلا ہو رکھ لیں۔ صبح یا رات میں سے عمل کرنے کے لئے ایک وقت مقرر کرلیں ، یعنی یا صبح کی نماز کے بعد کا وقت مقرر کرلیں یا عشاء کی نماز کے بعد کا وقت مقرر کرلیں عمل میں ناغہ نہیں ہونا چاہیے اور نماز بھی پابندی سے پڑھیں۔ پرہیز: دوران عمل لہسن، پیاز اور ترش اشیاء سے پرہیز کریں۔ عمل کے وقت باوضو رہیں۔
ایک ہفتہ تک یہ عمل جس تعداد میں لکھا ہے اس تعداد کے مطابق پورے یقین اور دھیان سے پڑھیں‘ پڑھتے وقت جس مسئلے جس بیماری کیلئے کررہے ہیں تصور میں رکھ کر پڑھیں، پڑھتے وقت کلونجی پاس رکھیں عمل پوراکرکے کلونجی پر پھونک دیں۔ عمل ایسی جگہ کریں جہاں کوئی اور نہ آئے ۔ کلونجی پر عمل پھونک کر اسے بند کردیں۔ روزانہ عمل کرکے کلونجی پر پھونک دیں جب تک عمل کے ایام پورے نہیں ہوجاتے اس وقت تک بوتل کو ایسی جگہ رکھیں جہاں سے کسی اور کے ہاتھ نہ لگ سکیں دوسروں کی پہنچ سے دور رکھیں جب عمل ایک ہفتے کاپورا ہوجائے تو اب اس کلونجی کو آپ ہر قسم کے جادو، ہر قسم کے جنات کے اثرات، بندشوں کے لئے استعمال کرسکتے ہیں۔
طریقہ استعمال : کسی بھی قسم کے اثرات ہوں، جادو، جسم کے درد، سر درد بخار، ہر قسم کی بندشوں، نفسیاتی الجھنوں کیلئے صبح اٹھ کر ناشتے کے بعد ایک گلاس پانی گرم ٹھنڈا جیسا آپ کی پسند ہو لےکر اپنی بیماری ہر قسم کی الجھن پریشانی ذہن میںاور تصور میں رکھ کر ایسا محسوس کریں آپ کی وہ الجھن یامسئلہ خدا کے حکم سے اس کلونجی کے استعمال سے ختم ہوچکا ہے‘ ختم ہورہا ہے اور ایک چٹکی کلونجی صبح اٹھنے کے بعد‘ ناشتے کے بعد اور ایک چٹکی رات کے کھانے کے بعد اسی طرح لیں ۔ آپ کا وہ مسئلہ وہ الجھن وہ بیماری جب مکمل ختم اور حل ہوجائے اس وقت آپ کلونجی استعمال کرنا چھوڑدیں اگر نہ بھی چھوڑیں تو کوئی حرج نہیں مگر کلونجی کا تعویذ رہنے دیں اس سے آپ ہر قسم کے جادو، بندشوں اور پریشانیوں سے خدا کے حکم سے بچیں رہیں گے تعویذ بنانے کیلئے تین چٹکی کلونجی لیں۔
جادو ، بندشوں، نفسیاتی مسئلوں، سردرد ، جسم درد، بخار سب کیلئے یہ طریقہ علاج ہے کلونجی استعمال کرنے سے پہلے کی دم شدہ کلونجی کا تعویذ بناکر گلے میں ڈالیں پھر کلونجی استعمال کرنا شروع کریں مگر تعویذ گلے سے کام ہونے کے بعد بھی نہ اتاریں جس پر جنات کے اثرات ہوںا سے بھی اس طریقے سے یہ دوا استعمال کروائیں اس کے گلے میں بھی کلونجی کا تعویذ ڈال دیں خدا کے حکم سے ٹھیک ہوگا۔
جس گھر میں گندے اثرات یا لڑائی جھگڑا میاں بیوی کی لڑائی ہو گندے اثرات ہر قسم کیلئے جنات کے اثرات کیلئے کلونجی کے تعویذ بناکر ہر کمرے کے دروازے پر گیٹ پر کمروں کے اندر ہر دیوار کے کونے میں یہ تعویذ ایک ، ایک لٹکادیں گھر کی حفاظت کے لئے بھی ایسا ہی کریں۔

Sunday, 6 October 2013

SABRIA JAHANGIRIA QALANDARIA KAMBAL POSH RAHEMA


 syed Jahangir shah qalandar kambal posh ajmeri.


Hazrat Syed Jahangir shah Qalandar kambal Posh ki Mazar Sharif in Ajmer Sharif
Hazrat Syed Jahangir shah Qalandar kambal Posh ki Mazar Sharif in Ajmer Sharif

 syed Jahangir shah qalandar kambal posh ajmeri. 
syed Jahangir shah qalandar kambal posh ajmeri. 









Sunday, 22 September 2013

Emerald jem stone discription




Description

The lush and intense green color of the emerald is associated with fertility and life.

 It is also associated with wisdom and faith. The emerald instills divine qualities 

through the power and beauty of its ray. It is a symbol of regeneration and life. 

It represents a revitalised body in which the higher soul flowers with creative and 

artistic abilities. While energising and replenishing, it is also restful and calming.Its

rays help in balancing, healing and providing one with a serene state of mind. This 

increases one's intelligence, brainpower and wisdom. The clear shades of emerald are 
good for meditation. Writers might consider adopting emeralds as their personal gem, 

since it is linked with powers of persuasion and verbal eloquence. Emeralds are 

associated with the preservation of chastity. They are effective in countering evil 

spirits. It is a sure cure for stammering, fear, amnesia, epilepsy, fickle-mindedness, 

ulcer, diarrhea, dysentery, gastritis, asthma, heart problems and insomnia. It ensures 

wealth, property and offspring's. It protects one from evil influences and snakebites. 

flawed stone may cause injuries, and deprive them of happiness from parents. 










Friday, 20 September 2013

LIFE OF MAKDOOM PAK MAKDOOM ALA UD DIN ALI AHMED SABIR KALYARI rahema (1443hj 2013)


He was born in the year 592 Hijri in Herat, Afghanistan. His father was Syed Abdul Rahim (R.A) who was the grandson of Hazrat Ghaus-e-Azam Shaikh Abdul Qadir Jilaani (R.A) and mother named Jamila Khatun (R.A), the elder sister of Baba Fareed Ganj-e-Shakar (R.A).
Lineage Of Hazrat Sabir (R.A)
Hazrat Makhdoom Ali Ahmed Sabir (R.A)
Hazrat Shah Abdul Rahim (R.A)
Hazrat Syed Abdul Wahab (R.A)
Hazrat Shaikh Abdul Qadir Jilaani (R.A)
Spiritual Chain
Hazrat Makhdoom Ali Ahmed Sabir (R.A)
Hazrat Fareed-Ud-Din Masud Ganj Shakar (R.A)
Hazrat Qutbuddin Bukhtiyar Kaki (R.A)
Hazrat Khwaja Moin-Ud-Din Chishti (R.A)

 Early Life

His father (R.A) died after a few years of his birth. Then Hazrat Sabir (R.A) Mother carried him to her brother, Baba Fareed (R.A), in Pak Pattan Sharif. There he pledged discipleship on the hands of Baba Fareed (R.A). The mother took special care in his moral and spiritual upbringing. After initial studies at home, he repaired to the care of his maternal uncle “Baba Fareed (R.A)”, at Pak Pattan. His mother left him in the care of his brother and returned to Herat Afghanistan. She however said to her brother on the departure that: “My son is extremely shy, quiet and would never say or demand anything take care of his food”.
Baba Fareed (R.A) promised. Thinking that Hazrat Sabir (R.A) would feel shy or cautious and remain hungry sometimes, Hazrat Baba Fareed (R.A) entrusted him the duty of the distribution of food (Langar) to the people. This was also to train him mentally and practically. He joy-fully accepted the appointment and distributed Langar (food) two times a day but after the evening prayers he would attend to the discourses of Baba Fareed (R.A). He dispensed with his duties well and did not take a single morsel from the Langar. He performed this duty for 12 years.
When his mother came and saw him, she complained to his brother of her son’s weakness and alleged that he had kept him hungry. Baba Fareed (R.A) replied that: “I appointed him the administration of the langar (Food)” Then asked to Sabir (R.A) that: “why did you not eat from it?” Hazrat Makhdoom Sabir (R.A) replied that: “You ordered me to distribute the food and not to take from it, How could have I eaten without your permission.” His reply surprised all. Baba Fareed (R.A) remarked: “He is Sabir (patient)”. Later the word became a part of his name.

Marriage

After a long time his mother came from Herat and requested her brother to marry his daughter to her son. Baba Fareed (R.A) replied that: “He has nothing to do with marriage. He is lost in meditation and awe-some-ness”. The sister said: “This is an excuse since he is an orphan, you decline the request.” Baba Fareed (R.A), upon listening to this married away his daughter, Khadija (R.A) to him. During the night when the bride entered the room, she found him (Sabir R.A) lost in prayers. When finished, he asked who she was. She replied: “Your wife” Hazrat Makhdoom Sabir (R.A) said. “How can I accommodate two in my heart? I have already it to one (Allah).” As he uttered these words, a fire burned the bride to ashes.

Miracles

Hazrat Sabir (R.A) then left, and went to the city of Kalyar Sharif, which was a very congested & large city at that time. On Friday, Hazrat Sabir (R.A) went to perform the Friday Prayer in the Mosque. The people of the Mosque caused Hazrat Sabir (R.A) to sit outside the Mosque. When the Friday Prayer started and people went to the posture of Ruku, Hazrat Sabir (R.A) turned angry and said: “O Mosque, why don’t you do Ruku as well?” The Mosque collapsed, all people inside the Mosque died at that moment. Also a disease struck the city, Fire struck wherever he looked and people started to flee from the city thus the whole city of Kalyar was destroyed. Allah (SWT) cleared the whole city for his beloved.
His awe-some-ness was such as no man could stand to it. He was absorbed beyond description. He stood holding the branch of a Goolar tree for 12 years waiting for the revelation of Godly presence. The area was protected by God and no one was allowed to enter in the area of 24 miles. Here in Pak-Pattan Hazrat Baba Fareed (R.A) was aware of his state and condition. So one day he asked all his disciples: “Who Here can make my Sabir (R.A) sit. “One of his disciples “Khwaja Shamsuddin Turk (R.A)” agreed to go there. Hazrat Baba Fareed (R.A) blessed Hazrat Khwaja Shamsuddin Turk (R.A), made Dua for him and ordered Hazrat Khwaja Shamsuddin Turk (R.A) to stay in the company of Hazrat Sabir (R.A).

Start Of Silsila-e-Sabriya

Hazrat Khwaja Shamsuddin Turk (R.A) left in the name of Allah. Baba Fareed (R.A) directed him not to stand before Hazrat Sabir (R.A) but serve him from behind his back as it would be dangerous to Khwaja Shamsuddin (R.A). Hazrat Khwaja Shamsuddin Turk (R.A) was a great Qari of the Quran, so when he reached Kalyar Sharif, he saw that Hazrat Sabir (R.A) is in strange condition, move less like a statue, and standing by holding the branch of a tree. Hazrat Khwaja Shamsuddin Turk (R.A) stood on his left side, and started to recite the Quran in his charming voice. After few moments, Hazrat Sabir (R.A) came into his senses and said: “Shamsuddin, sit down”. Shamsuddin (R.A) replied: “How could a slave sit when his master is standing”. Hazrat Sabir (R.A) said: “Okay, also let me sit”. Because he stood for so many years and was unable to sit, Khwaja Shamsuddin (R.A) helped him to lie down, and then he massaged Hazrat Sabir (R.A). From here Silsila-e-Sabriya started (Ma Shaa Allah).

Prophecy Of Sabir Sahib’s (R.A) Death

One day Hazrat Sabir (R.A) approached Hazrat Shamsuddin Turk (R.A) and said: “My time is near, not far from here a Muslim ruler is trying to conquer a fortress, it is not being conquered, it will only be conquered through your prayer (Dua) so whenever your wish is granted understand that I have left this world. Then you can come back here and organize everything. Under the orders of Hazrat Sabir (R.A), Hazrat Shamsuddin Turk (R.A) joined the royal army.
Once the Muslim ruler invaded but the fort could not be won. Continuous siege annoyed the Sultan. He therefore approached Hazrat Shamsuddin Turk (R.A) to pray to God for the victory. Hazrat Shamsuddin Turk (R.A) prayed and the Sultan won it. The moment Hazrat Shamsuddin Turk (R.A) prayer was granted, Hazrat Makhdoom Sabir (R.A) left for his heavenly abode. Hazrat Shamsuddin Turk (R.A) knew that his Shaikh Hazrat Sabir (R.A) is no more therefore he rushed to Kalyar Sharif and saw that Hazrat Sabir (R.A) body is lying in the protection of God.

Fana And Baqah

On arrival at Kalyar, Hazrat Shamsuddin Turk (R.A) saw that Jamaluddin Abdaal (R.A) and his 99 Jinn’s were around the body of Hazrat Makhdoom Sabir (R.A) and a red light immersed the area. He then carried out the orders that were given to him by his Pir-o-Murshid (Hazrat Makhdoom Sabir (R.A). As the time for Janazah (funeral service) neared, Suddenly he saw a veiled horseman armed with a lance rapidly advancing and occupied the Mussallah then conducted the prayer himself. When Hazrat Shamsuddin Turk (R.A) turned his face for Salaam (the last action of prayer), he was astounded to see a multitude of Aghyas, Awliya, Rijal-ul-Ghaib and Abdaals present. After the prayer, Hazrat Shamsuddin Turk (R.A) asked the veiled horseman: “O Imam, May I know who you are? As people will ask me that who has conducted the Funeral prayer of such high status Saint then what will I say?
Upon this the man pulled off his veil and it was Hazrat Sabir (R.A) himself. Then Hazrat Sabir (R.A) said, “O Shamsuddin, You used to ask me about Fana and Baqa, The man whose funeral prayer you have just read is Fana and what you see before you is Baqa!.













رزق کی مبارک تسبیح

سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ  الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہٖ اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ رزق کی مبارک تسبیح فجر کی نماز کی سنت اور فر...