افضل اعمال میں ایک حج مبرور ہے قرآن پاک کا ارشاد اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌۚ-فَمَنْ فَرَضَ فِیْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَۙ-وَ لَا جِدَالَ فِی الْحَجِّؕ-وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْهُ اللّٰهُ ﳳ-وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى٘-وَ اتَّقُوْنِ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ(197) البقرہ حج چند معلوم مہینے ہیں تو جو اِن میں حج کی نیت کرے توحج میں نہ عورتوں کے سامنے صحبت کا تذکرہ ہو اورنہ کوئی گناہ ہو اور نہ کسی سے جھگڑاہو اور تم جو بھلائی کرو اللہ اسے جانتا ہے اورزادِ راہ ساتھ لے لو پس سب سے بہتر زادِ راہ یقیناپرہیزگاری ہے اور اے عقل والو!مجھ سے ڈرتے رہو۔ احادیث بخاری شریف حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ، قِيلَ : ثُمَّ مَاذَا ؟ ، قَا...
کیا حور انسانی عورت ہے? میری تحقیق کیا کہتی ہے (ان کو انسانوں اور جنات میں سے کسی نے ہاتھ نہیں لگایا ہوگا یہ سورہ رحمن میں بتایا گیا) بعض لوگ کہتے ہیں یہ دنیاوی جنتی عورتیں ہی ہونگی جنکو حور کہا گیا ہے یہ حضرات غلطی پر ہیں۔ اگر یہ دنیاوی عورتیں ہوتیں تو انکو تو انسانوں نے ہاتھ لگایا ہوا ہوگا اور بہت سو کو جنات نے بھی ہاتھ لگایا ہوگا اور یہ وہ انسان اور جنات ہونگے جو بعض جنتی ہونگے اور بعض ان میں سے اھل دوزخ بھی ہونگے مطلب دنیاوی عورتوں کو تو جنتی جہنمی ہر قسم کے انسانوں اور جنات نے ہاتھ بھی لگایا اور انکو دیکھا بھی ہوا ہوگا مگرسورہ رحمن میں واضح بیان کر دیا گیا لَمْ یَطْمِثْهُنَّ اِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَ لَا جَآنٌّ(74)فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ( 75)آیت نمبر ترجمہ: کنزالایمان ان سے پہلے انہیں ہاتھ نہ لگایا کسی آدمی اور نہ جِنّ نےتو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے کے انکو کسی نے ہاتھ نہیں لگایا ہوگا نہ دنیا میں نہ جنت میں مطلب وہ حور یا جنت کی عورت وہ ہیں جو اللہ نے ایک جدید مخلوق پیدا کی ہیں انکو وہی دیکھے گا اور ہ...