Sunday, 27 August 2023

صدقے کے فضاٸل Benefits of Sadqa


صدقے کے فضاٸل

صدقہ دینا ایک نیک عمل ہے جو دینی اصولوں کے تحت کیا جاتا ہے۔ اسلامی عقائد کے مطابق، صدقہ دینے کا فضیلت اور اثر بڑا ہوتا ہے۔ آپ کو دس اہم فضائل کی فہرست دینے جا رہا ہوں:


سوال کرنے والے کو جواب دینا:** صدقہ کیلئے دس دلائل میں پہلا وجہ یہ ہے کہ کوئی آپ سے سوال پوچھتا ہے اور آپ اسکا جواب دیتے ہیں۔ یہ صدقہ ہے۔


2. **شہرت میں :** صدقہ دینے سے دنیاوی شہرت میں اور آخروی شہرت میں زیادتی آتی ہے اور غرور کم ہوتا ہے۔


خفا نہ کرنا:** صدقہ کرنے سے صدقہ کرنے والے پر خفا نہیں کی جاتی لوگ اس سے ناراض نہیں ہوتے۔

ذاتی خوشی:** صدقہ دینے سے انسان کی ذاتی خوشی بڑھتی ہے۔

بیماری کی شفا:** صدقہ کرنے سے بیماری کی شفا حاصل ہو سکتی ہے۔

رزق میں برکت:** صدقہ کرنے سے رزق میں برکت آتی ہے۔

آخرت میں نجات:** صدقہ کرنے سے آخرت میں نجات ملتی ہے۔

نیکو کاری کی ترجیح:** صدقہ کرنے سے انسان کی نیکو کاری کی ترجیح بڑھتی ہے۔

دعاؤں کا قبول ہونا:** صدقہ کرنے سے انسان کی دعاؤں کا قبول ہونے کا امکان بڑھتا ہے۔

نفس کے نگرانی:** صدقہ کرنے سے اپنے نفس کی نگرانی کرنے کا موقع ملتا ہے۔

یہ تعلیمات اسلامی عقائد پر مبنی ہیں جو صدقہ دینے کے فضائل کو نمایاں کرتے ہیں۔


رومی کی کہانیوں میں ایک دلچسپ حکایت ہے جو صدقہ دینے کی اہمیت پر مبنی ہے۔ یہ کہانی آپ کو مشہور شاعر و فلسفی مولانا جلال الدین رومی کی مثنوی معنوی سے ملتی ہے:

ایک دن ایک روزگاری میں رہنے والا شخص اپنے دوست کے پاس گیا اور اپنی مشکلات بیان کرنے لگا۔ وہ کہنے لگا کہ زندگی مشکلات سے بھرپور ہے اور وہ اپنے حالات کو نہیں سنبھال سکتا۔ اس دوست نے اُس سے کہا کہ تو مولانا رومی کے پاس جا کر اپنی مشکلات بیان کرے، شاید وہ تجھے راہ دکھا سکیں۔

شخص نے دوست کی رائے پر عمل کیا اور مولانا رومی کے پاس پہنچا۔ وہ اپنی پریشانیاں رومی کے سامنے رکھ دی، جب وہ پریشانیاں سن رہے تھے تو رومی نے ایک چھتری لے لی اور اسے اوپر اٹھایا۔

رومی نے کہا: "جب تو چھتری کے تحت ہوتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟"

شخص نے جواب دیا: "میں خشک نہیں ہوتا، بارش سے محفوظ رہتا ہوں۔"

رومی نے مسکرا کر کہا: "وہی حال ہے جب تو صدقہ دیتا ہے، تو اپنی روزی کے امور کو اللہ کی حفاظت میں کر دیتا ہے۔"


Sunday, 30 July 2023

جنت کے باغ دنیا میں Garden of Paradise in the World

 


جنت کے باغ دنیا میں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جنت کے باغوں سے گزرو تو تم  ( کچھ )  چر، چگ لیا کرو - لوگوں نے پوچھا رياض الجنة کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ذکر کے حلقے اور ذکر کی مجلسیں - الحدیث ترمذی 3510نمبر

یہاں میرے دل پر ایک راز ظاھر ہوا جب عام مسلمان ذکر کی محفل سجاتے ہیں ذکر اللہ کی حلقے لگاتے ہیں تو اس جگہ اور مقام کو حدیث میں جنت کے باغ قرار دیا گیا اور وہاں رک کر کچھ حصہ چگ لینے کی ترغیب دلاٸی گٸی ہے اور یہ عام مسلمانوں کی مجلس ذکر اللہ کچھ وقت جاری رہ کر اختتام پزیر ہوتی ہے گویا جنت کا باغ واپس جنت کی طرف چلاجاتا ہے اور جب کبھی دوبارہ محفل ذکر اللہ شروع ہوتی ہے دوبارہ وہی جگہ جنت کا باغ بن جاتی ہے اسیطرح اللہ کے نیک بندے جنکو ولی اللہ سے جانتے ہیں وہ حضرات مسلسل ذکر اللہ میں مشغول ہوتے ہیں ہر سانس اور قلب سے انکا ذکر اللہ جاری ہوتا ہے گویا انکے پاس جنت کا باغ ہر وقت ہوتا ہے اور جب دنیا سے چلے جاٸیں تو انکا قلب زندہ اور مسلسل ذکر میں انکی روح فکر  میں ہوتی اور مزرات اولیإ اللہ پر حاضر ہونا حدیث پاک کی روح سے گویا جنت کے باغ میں داخل ہونا ہے اس وجہ سے مزارات اولیأ اللہ حاضری جاٸز اور انکے ذکر سے اپنا بھی حصہ حاصل کرنے کا سبب اور ذریعہ ہے

محمد عظیم شاہ یوسفی
قادری چشتی فریدی صابری
١١ محر الحرام ١٤٤٥ ھجری٢٠٢٣ عیسوی

Sunday, 30 April 2023

بابا سیدی عبد الوھاب شاہ قادری چشتی فریدی صابری جہانگیری دامت برکاتہم عالیہ

 بابا سیدی عبد الوھاب شاہ قادری چشتی فریدی صابری جہانگیری دامت برکاتہم عالیہ

دونوں عالم کے خزانوں سے خدایا بخش دے

از پٸے عبد الوھاب بابا فقیر خدا  کے واسطے


Contect Whatsapp only No calls

+923122989983

Surah Muzammil Tilawat سورة مزمل تلاوت


 

جنات کی ہم نشینی کے نقصانات

  شیخ اکبر نے فتوحات مکیہ میں جنات کی ہم نشینی کے نقصانات  بیان کیے ہیں۔ 1. روحانی مرتبے میں تنزلی جنات کی صحبت اختیار کرنے والا شخص اُن عار...