Skip to main content

Posts

حضرت سیدنا خضر علیہ ازلسلام سے ملاقات کا طریقہ❤️

حضرت سیدنا خضر علیہ   السلام سے❤️  ملاقات کا طریقہ ❤️ جسکو یہ خواہش ہو کہ وہ سیدنا ابو العباس بلیا بن ملکان خضر علیہ السلام سے ملاقات کا شرف حاصل کرے بلکہ ان سے استفادہ ہو وہ یہ چند معمولات کی پابندی کرے تو بار بار ملاقات کا شرف اور دینی دنیاوی استفادہ ملے گا  ایک تو وہ درود و سلام کی مشہور کتاب دلائل الخیرات کی پابندی کرے ہر روز ایک باب کی تلاوت کرے اور سیدنا خضر  علیہ السلام کی بارگاہ میں ھدیہ کرے دوسرے وہ درود خضری کی پابندی کرے صلی اللہ علی حبیبہ محمد و الہ وسلم یہ درود کثرت سے پڑھے اور خواجہ خضر علیہ السلام ک بارگاہ میں ھدیہ کرے اور تیسرے ہر روز بعد ظہر کی نماز کے عصر کی نماز کا وقت شروع ہونے سے پہلے پہلے دو رکعت نماز نفل ادا کرے اور پہلی رکعت میں بعد فاتحہ کہ قران مجید کی آخری دس آیات سے پہلی پانچ تلاوت کرے اور دوسری رکعت میں اسکے بعد والی پانچ مطلب پہلی رکعت میں سورہ الم ترکیف سورہ فیل سے   1. سورۃ الفیل، 2. سورۃ قریش، 3. سورۃ الماعون، 4. سورۃ الکوثر، 5. سورۃ الکافرون،❤️اور دوسری رکعت میں بعد فاتحہ 6۔سورہ نصر 7۔سورہ لھب تبت یدا 8۔سورہ اخلاص 9۔سو...

انسان جب دنیا میں آیا

                                                        انسان جب دنیا میں آیا انسان نے انسان پر ظلم کیا ہے دنیا میں آکر انسان نے ایک دوسرے کی عزت نہیں کی آکر اس دنیا  میں اور اپنے ازلی دشمن جس سے دشمنی کرنی تھی نہیں کی اور ایک دوسرے کا دشمن بن گیا کہیں مذھب کی بنیاد پر کہی زبان کہی زر زمین زن پر کہی ملک اور قوم اور نسل زبان رنگ کی بنیاد پر انسانوں نے بے جا فالتوں قانون بناکر ایک دوسرے کو تکلیف دی ہے اور اللہ سے جنت اور رحم مانگتا ہے اور اپنے شہر اور علاقہ اور ملک پر لکیر لگا کر اسکو بارڈر کا نام دے کر اپنا اپنا ملک بناکر اس میں  کسی انسان کی آمد برداشت نہیں کرتا اسکو بوجھ سمجھتا ہے جبکہ رازق اور رزق اور سکون اور سکنہ تو رب کریم سب کو اپنی رحمت سے دیتا ہے  اور جب مطلب ہو کسی انسان  سے تو تمام قانون بلاٸے طاق رکھ کر وہ سب کام کرتا ہے جن پر وہ  کبھی سزاٸیں دیا کرتا تھا۔انسان نے جو کچھ بنایا اپنے خسارے کے سامان مہیا کرتا گیا ہے ...

چودہ سو سال پرانی مسجد

ہندوستان کی تقریبا 1400 سال پرانی مسجد گجرات کے بھاو نگر کے گاؤں گھوگھا میں اب بھی موجود ہے ، جس کا قبلہ بیت المقدس کی طرف ہے… ابھی اس مسجد کی تعمیر انتہائی خستہ حال حالت میں ہے ، مسجد کے اندر تقریبا 25 افراد ایک ساتھ مل کر نماز پڑھ سکتے ہیں۔ اس مسجد میں 12 ستون ہیں جن پر مسجد کی چھت بنائی گئی ہے ، چھت کے اوپر گنبد اور مسجد کی دیواریں بھی کھدی ہوئی ہیں اور مسجد۔ محراب پر عربی میں 'بسم اللہ` کی نقش نگاری اسی دور کی ہے۔ یہ زمین کے چہرے پر ایک ہی مسجد ہوسکتی ہے ، بیت المقدس کا سامنا کرتے ہوئے ، ساتویں صدی کے اوائل میں ، پہلے عرب تاجر سمندر کے راستے یہاں اترے اور پھر انہوں نے یہ مسجد یہاں بنائی۔ مکہ کا مقام قبلہ رخ یروشلم تھا۔ یہ قدیم مسجد مقامی طور پر جونی مسجد کے نام سے مشہور ہے۔ یہ مسجد ہندوستان کی دیگر تمام مساجد سے ملتی جلتی ہے ، جن کے محرابوں کا رخ مکہ مکرمہ ہے۔ اس قدیم مسجد میں ابھی بھی عربی کا قدیم ترین نوشتہ ہے اور آج یہ مسجد بارواڈا تنجم کی نگرانی میں ہے۔ اسلامی تاریخ کے مطابق ، 610 سے 623 تک ، بیت المقدس کو نماز پڑھائی گئی اور پھر 624 ء سے کعبہ کی طرف ، نماز پڑھنا شروع ہوئی ...

ابلیس کی تاریخ

 ابلیس کی تاریخ ابلیس کی نسل کی ابتدا جس جن سے ہوئی اس کا نام "طارانوس" کہا جاتا ہے اور یہ ابلیس سے 1 لاکھ چوالیس ہزار سال قبل دنیا پر تھا. طارانوس می نسل تیزی سے بڑھی کیونکہ ان کو موت طاری نہیں ہوتی تھی اور نا بیماری تھی البتہ یہ چونکہ آتشیں مخلوق تھی تو سر کشی بدرجہ اتم موجود تھی. اس مخلوق کو پہلی موت پیدائش کے 36000 سال بعد آئی اور اسکی وجہ سرکشی تھی.  بعد میں "چلپانیس" نامی ایک نیک جن کو جنات کی ہدایت کا ذمہ سونپاگیا اور وہ ہی شاہ جنات قرار پائے مگر ان کے بعد "ہاموس" کو یہ زمہ دیا گیا. ہاموس کے دور میں ہی چلیپا اور نبلیث کی پیدائش ہوئی یہ دونوں اپنے وقت کے بے حد بہادر جنات تھے اور ان کی قوم نے چلیپا کو شاشین کا لقب دیا جس کے معنی ہیں شیر کے سر والا ان دونوں جنات کیوجہ سے ساری قوم کہنے لگ گئی کہ ہمیں اس وقت تک کوئی نہیں ہرا سکتا جب تک شاشین اور نبلیث ہمارے درمیان موجود ہیں اور ان ہی دونوں کیوجہ سے یہ جنات آسمان تک رسائی کرنے لگے اور تیسرے آسمان پر جا کر شرارت کر آتے تھے ایسے میں حکم ربی سے فرشتوں نے ان پر حملہ کیا اور عبرتناک شکست دی مگر اس سب میں عزارئ...

Peer Syedi Abdul Wahab Sabiry Jahangiry Contact +923112660110

  Contact +923313926828                +923122989983 whatsapp only  Syedi peer Abdul Wahab Shah Sabiry  faqeer e khuda  Karachi,Pakistan.