Skip to main content

Posts

Showing posts from October, 2025

اللہ الصمد سے ہر دعا قبول ہوگی

اللہ الصمد سے ہر دعا قبول ہوگی جسکو کوئی حاجت ہو کوئی مراد ہو کسی پریشانی میں گرفتار ہو کسی طرح کا مرض ہو جو جان نہ چھوڑتا ہو کسی پر قرض ہو اسکو ادا کرنے کہ اسباب نہ ہو جو لڑکے لڑکیاں ایجوکیشن کررہے ہوں اور پڑھائی میں کامیابی اور امتحانات میں اچھے نمبروں سے پاس ہونا چارہے ہوں میاں بیوی میں لڑئی جھگڑا ہو شوہر یا بیوی تنگ کرتی اور غصہ کرتی ہو  بچے نافرمانی کرتے ہوں کسی کو روزی میں تنگی ہو کسی نے جادو ٹونا کردیا ہو دشمن تنگ کرتے ہو لوگ بد عملیات کرتے ہوں دشمن ہر وقت نقصان پہچانے کی کوشش کرتے ہوں عرض کوئی بھی مسئلہ درپیش ہو روحانیت کا طالب ہو قرب رب عزوجل چاہتا ہو وہ اس طرح عمل کرنے کا معمول بنائے انشاء اللہ سورہ اخلاص کے اس اسماء اللہ الصمد کی طاقت سے کامیاب ہوگا عمل اس طرح کرنا ہے بعد نماز مغرب یا بعد نماز عشاء اور دشمنوں کے لیے بعد نماز ظہر اور روزی رزق مال دولت کہ لئے خصوصا بعد نماز فجر کیا کرے ورنہ کبھی بھی کرسکتا ہے یہ اوقات خصوصی ہیں جو بیان ہوئے ہیں با وضو حالت میں اولا ایک بار درود شریف پڑھے گیارہ بار اللہ الصمد پڑھے پھر ایک بار درود پڑھکر اپنی شہادت کی انگلی پر دم کرے اور جائ...

اللہ کے ذکر کے فضائل

  اللہ کا ذکر کرنے کے فضائل القرآن الکریم یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِیْرًا(41) ترجمہ: کنزالعرفان  سورہ احزاب 41 آیت اے ایمان والو! اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو۔ الحدیث 1 حضرت  عبداللہ   بن عمر  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ   سے روایت ہے ، نبی کریم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے ارشاد فرمایا: ’’کسی شخص کاکوئی عمل ایسانہیں  جو  اللہ  تعالیٰ کے ذکر سے زیادہ (اس کے حق میں )  اللہ   تعالیٰ کے عذاب سے نجات دِلانے والاہو۔ لوگوں  نے عرض کی: کیا اللہ   عَزَّوَجَلَّ   کی راہ میں  جہاد بھی نہیں ؟ ارشادفرمایا:  اللہ   تعالیٰ کی راہ میں  جہاد بھی ذکر کے مقابلے میں زیادہ نجات کا باعث نہیں  مگر یہ کہ مجاہد اپنی تلوارسے (خدا کے دشمنوں  پر) اس قدر وار کرے کہ تلوار ٹوٹ جائے۔ 2 حضرت ابو درداء  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ   سے روایت ہے، رسول کریم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے ارشاد فرمایا: ’’کیا م...