Skip to main content

Posts

Showing posts from December, 2023

مرگی کے مرض سے شفاء کا دم

  مرگی کے مرض سے شفاء کا دم یس والقران الحکیم بحق سلم قولا من رب رحیم جسکو بھی مرگی کا مرض ہو کہ اچانک گر کر بے ہوش ہوجاتا ہو یہ دماغ کے دو کرنٹ ہوتے ہیں جو متوازی چلتے ہیں جب یہ ڈسٹرب ہوتے ہیں بار بار یہ مرض ظاھر ہوتا ہے اور کبھی خاندانی اور کبھی آسیب و آثرات بد روحوں کی خلل کی وجہ سے ہوجاتا ہے یہ دم کرئیں مریض پر کم از کم چالیس دن پھر انتظار کرئیں اگر اس دوران آجائے تو دوبارہ چالیس دن کرئیں انشاء اللہ تیسرے چالیس دن سے پہلے ہی اللہ پاک شفاء عطا فرما دیں گے اگر کوئی بہت مصروف روٹین رکھتا ہو تو ایک بار ہی دن میں کرے دم بھی کرے اور اسی وقت ایک گلاس شیشے کا پانی سے بھر کر ساتھ رکھے اور اس پر بھی دم کرکہ پلادیا کرے اول آخر دورد شفاء گیارہ بار پڑھے . اس عمل میں کچھ صدقہ خیرات مریض کے طرف سے ضرور کرئیں اللہ بیماری اور بلاؤں کا ٹالے گا. یس والقران الحکیم بحق سلم قولا من رب رحیم 391بار صبح شام ماتھے پر سیدھے الٹے کان میں پڑھکر دم کرئیں یہ دم سوکھے کمزور بچوں لاغر اور کاکڑی بچوں جنکی ہڈیاں کمزور ہوں خون بدن میں نہ ہو پیلے پڑے ہوں ان سب کو بھی بہت فائدہ کرے گا یہ دم بچوں کے لئے بھی انکی بیم...

کیا حور انسانی عورت ہے? میری تحقیق کیا کہتی ہے

  کیا حور انسانی عورت ہے? میری تحقیق کیا کہتی ہے (ان کو انسانوں اور جنات میں سے کسی نے ہاتھ نہیں لگایا ہوگا یہ سورہ رحمن میں بتایا گیا)  بعض لوگ کہتے ہیں یہ دنیاوی جنتی عورتیں ہی ہونگی جنکو حور کہا گیا ہے یہ حضرات غلطی پر ہیں۔ اگر یہ دنیاوی عورتیں ہوتیں تو انکو تو انسانوں نے ہاتھ لگایا ہوا ہوگا اور بہت سو کو جنات نے بھی ہاتھ لگایا ہوگا  اور یہ وہ انسان اور جنات ہونگے جو بعض جنتی ہونگے اور بعض ان میں سے اھل دوزخ بھی ہونگے مطلب دنیاوی عورتوں کو تو جنتی جہنمی ہر قسم کے انسانوں اور جنات نے ہاتھ بھی لگایا اور انکو دیکھا بھی ہوا ہوگا   مگرسورہ رحمن میں واضح بیان کر دیا گیا  لَمْ یَطْمِثْهُنَّ اِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَ لَا جَآنٌّ(74)فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ( 75)آیت نمبر ترجمہ: کنزالایمان ان سے پہلے انہیں ہاتھ نہ لگایا کسی آدمی اور نہ جِنّ نےتو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے    کے انکو کسی نے ہاتھ نہیں لگایا ہوگا نہ دنیا میں نہ  جنت میں مطلب  وہ حور یا جنت کی عورت وہ ہیں جو اللہ نے ایک جدید مخلوق پیدا کی ہیں انکو وہی دیکھے گا اور ہ...

سورہ الکھف آیت نمبر 46

سورہ الکھف آیت نمبر 46 اَلْمَالُ وَ الْبَنُوْنَ زِیْنَةُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاۚ-وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ اَمَلًا(46) ترجمہ: کنزالعرفان مال اور بیٹے دنیا کی زندگی کی رونق ہیں اور باقی رہنے والی اچھی باتیں تیرے رب کے نزدیک ثواب کے اعتبار سے زیادہ بہتر اور امید کے اعتبار سے زیادہ اچھی ہیں تفسیر القران  دنیا کے مال و اَسباب کے بارے میں  فرمایا کہ مال اور بیٹے دنیا کی زندگی کی رونق ہیں  کہ ان کے ذریعے دنیا میں  آدمی فخر کرتا ہے اور انہیں  دنیا کی سہولیات و لذّات حاصل کرنے کا ذریعہ بناتا ہے حالانکہ انہی چیزوں  کو آخرت کا زاد ِ راہ تیار کرنے کا ذریعہ بھی بنایا جاسکتا ہے۔ حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا کہ مال و اولاد دنیا کی کھیتی ہیں  اور اعمالِ صالحہ آخرت کی اور اللّٰہ تعالیٰ اپنے بہت سے بندوں  کو یہ سب عطا فرماتا ہے۔( خازن، الکھف، تحت الآیۃ: ۴۶، ۳ / ۲۱۲-۲۱۳)دوسری چیز باقیاتِ صالحات ہیں  ، ان سے نیک اعمال مراد ہیں  جن کے ثمرے انسان کے لئے باقی رہتے ہیں ، جی...