Skip to main content

Posts

Showing posts from December, 2023

سورہ فاتحہ کو بسم اللہ کہ ساتھ پڑھنے کی فضیلت

  سورہ فاتحہ کو بسم اللہ کہ ساتھ پڑھنے کی فضیلت قرآن پاک میں ایک سورت ہے جسکو ام القرآن بھی کہتے ہیں سورت شفاء کہتے ہیں جو کچھ پورے قرآن میں ہے آسکا پورا خلاصہ اور فیض اس ایک سورہ میں موجود ہے اور پوری سورہ فاتحہ کا فیض بسم اللہ میں اور اسکے با کے نقطے میں ہے نبی پاک علیہ السلام نے فرمایا اللہ تعالی نے اس آیات کو مطب سبع مثانی یعنی سات آیات والی سورت سورہ فاتحہ کو ہر بیماری سے شفاء مفلسی کے لئے دولت اور دوزخ سے پردہ زمین میں دھسنے سورتیں بگڑنے سنگ باری کے عذاب سے بچنے کا ذریعہ بنایا ہے جب تک لوگ اسکی تلاوت پر کاربند رہیں گے . ہر طرح کی مشکل پریشانی آزمائش امتحان تکلیف سے نجات مل جاتی ہے زمینی آسمانی بلاوں سے حادثات سے حفاظت ہوتی رہتی ہے  یہ سب فیض جب حاصل ہوتا ہے کہ بندے کو اس پر پورا یقین اور اعتقاد ہو  حدیث قدسی میں ہے کہ نبی پاک علیہ السلام نے فرمایا کہ سیدنا جبریل علیہ السلام نے قسم کھاکر کہا کہا کہ حضرت میکائیل نے قسم کھاکر یہ بیان کیا کہ حضرت اسرافیل نے قسم کھاکر کہا کہ اللہ نے فرمایا ایک اسرافیل علیہ السلام میں اپنی عزت و جلال و کرم کی قسم اٹھا تا ہوں کہ جو شخص بھی...

کیا حور انسانی عورت ہے? میری تحقیق کیا کہتی ہے

  کیا حور انسانی عورت ہے? میری تحقیق کیا کہتی ہے (ان کو انسانوں اور جنات میں سے کسی نے ہاتھ نہیں لگایا ہوگا یہ سورہ رحمن میں بتایا گیا)  بعض لوگ کہتے ہیں یہ دنیاوی جنتی عورتیں ہی ہونگی جنکو حور کہا گیا ہے یہ حضرات غلطی پر ہیں۔ اگر یہ دنیاوی عورتیں ہوتیں تو انکو تو انسانوں نے ہاتھ لگایا ہوا ہوگا اور بہت سو کو جنات نے بھی ہاتھ لگایا ہوگا  اور یہ وہ انسان اور جنات ہونگے جو بعض جنتی ہونگے اور بعض ان میں سے اھل دوزخ بھی ہونگے مطلب دنیاوی عورتوں کو تو جنتی جہنمی ہر قسم کے انسانوں اور جنات نے ہاتھ بھی لگایا اور انکو دیکھا بھی ہوا ہوگا   مگرسورہ رحمن میں واضح بیان کر دیا گیا  لَمْ یَطْمِثْهُنَّ اِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَ لَا جَآنٌّ(74)فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ( 75)آیت نمبر ترجمہ: کنزالایمان ان سے پہلے انہیں ہاتھ نہ لگایا کسی آدمی اور نہ جِنّ نےتو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے    کے انکو کسی نے ہاتھ نہیں لگایا ہوگا نہ دنیا میں نہ  جنت میں مطلب  وہ حور یا جنت کی عورت وہ ہیں جو اللہ نے ایک جدید مخلوق پیدا کی ہیں انکو وہی دیکھے گا اور ہ...

سورہ الکھف آیت نمبر 46

سورہ الکھف آیت نمبر 46 اَلْمَالُ وَ الْبَنُوْنَ زِیْنَةُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاۚ-وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ اَمَلًا(46) ترجمہ: کنزالعرفان مال اور بیٹے دنیا کی زندگی کی رونق ہیں اور باقی رہنے والی اچھی باتیں تیرے رب کے نزدیک ثواب کے اعتبار سے زیادہ بہتر اور امید کے اعتبار سے زیادہ اچھی ہیں تفسیر القران  دنیا کے مال و اَسباب کے بارے میں  فرمایا کہ مال اور بیٹے دنیا کی زندگی کی رونق ہیں  کہ ان کے ذریعے دنیا میں  آدمی فخر کرتا ہے اور انہیں  دنیا کی سہولیات و لذّات حاصل کرنے کا ذریعہ بناتا ہے حالانکہ انہی چیزوں  کو آخرت کا زاد ِ راہ تیار کرنے کا ذریعہ بھی بنایا جاسکتا ہے۔ حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا کہ مال و اولاد دنیا کی کھیتی ہیں  اور اعمالِ صالحہ آخرت کی اور اللّٰہ تعالیٰ اپنے بہت سے بندوں  کو یہ سب عطا فرماتا ہے۔( خازن، الکھف، تحت الآیۃ: ۴۶، ۳ / ۲۱۲-۲۱۳)دوسری چیز باقیاتِ صالحات ہیں  ، ان سے نیک اعمال مراد ہیں  جن کے ثمرے انسان کے لئے باقی رہتے ہیں ، جی...