Skip to main content

Posts

اللہ کے ذکر کے فضائل

  اللہ کا ذکر کرنے کے فضائل القرآن الکریم یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِیْرًا(41) ترجمہ: کنزالعرفان  سورہ احزاب 41 آیت اے ایمان والو! اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو۔ الحدیث 1 حضرت  عبداللہ   بن عمر  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ   سے روایت ہے ، نبی کریم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے ارشاد فرمایا: ’’کسی شخص کاکوئی عمل ایسانہیں  جو  اللہ  تعالیٰ کے ذکر سے زیادہ (اس کے حق میں )  اللہ   تعالیٰ کے عذاب سے نجات دِلانے والاہو۔ لوگوں  نے عرض کی: کیا اللہ   عَزَّوَجَلَّ   کی راہ میں  جہاد بھی نہیں ؟ ارشادفرمایا:  اللہ   تعالیٰ کی راہ میں  جہاد بھی ذکر کے مقابلے میں زیادہ نجات کا باعث نہیں  مگر یہ کہ مجاہد اپنی تلوارسے (خدا کے دشمنوں  پر) اس قدر وار کرے کہ تلوار ٹوٹ جائے۔ 2 حضرت ابو درداء  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ   سے روایت ہے، رسول کریم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے ارشاد فرمایا: ’’کیا م...

DUA e KAFI DUA E KUTUB

 

درخت لگاو زندگی بچاو آخرت بناو

  درخت لگاو زندگی بچاو  آخرت بناو   اگر انڈونیشیا کے دو بوڑھے میاں بیوی  باوجود بڑھاپے کے دس لاکھ درخت لگا سکتے ہیں  اور اقوام متحدہ انہیں  امریکہ بلوا کر اُن کی خدمات کا اعتراف کرتے ہیں ؟؟ اگر انڈیا کا غریب سائیکل والا بابا اپنے علاقے کے  1000 کنال کےوسیع رقبے کو ایک گھنے جنگل میں تبدیل کر کے  گینیز بُک آف ولڈ ریکارڈ میں اپنا نام درج کروا سکتا ھے ۔ یہاں تک کہ اس کے علاقے کی خوبصورتی دیکھ کر سنگا پور کے نایاب خوبصورت پرندے  سنگا پور جیسے خوبصورت خطے کو چھوڑ کر اسکے علاقے کو  رونق بخشتے ہیں ؟؟؟ اگر جنوبی افریقہ کے دو دوست  پہلے سے موجود زوما کے جنگل جیسا ایک اور جنگل اُگا سکتے ہیں جو ہمارے چھانگا مانگا سے دوگناہ ھے ؟؟؟ تو تُم پاکستانی  بھائیو میرے بچو اور بیٹیو ایسا کیوں نہیں کر سکتے ؟؟؟ جن کا دین و مذہب بھی ایسی سرگرمی کی حمایت کرتا ہے، ہمارے محبوب آخری نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی کئی احادیث شجر کاری سے متعلق ہیں،ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ اگر تمارے ہاتھ میں پودا ہو اور ساتھ ہی دنیا کا آخری وقت آن پہنچے یعنی قیامت کا ا...

دعا قطب دعا کافی شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ

  دعا قطب دعا کافی  شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ یہ دعا شیخ عبد القادر جیلانی غوث الاعظم رحمتہ اللہ علیہ کو انکی امی جان سیدہ ام الخیر رحمتہ اللہ علیھا نے بچپن میں سکھائی تھی جو اسکو گیارہ بار  یا ایک سو گیارہ بار دین دنیا کہ جس مقصد سے پڑھے گا وہ پورا ہوگا  دنیا و آخرت کے تمام کام  اللہ تعالی خود بخود انجام دے گا اسکو کچھ نہیں کرنا پڑے گا ہر کام میں اللہ کفالت کرنے لگے گا اللہ کافی ہوجائے گا ہر حالات میں کہتے ہیں جسکا رب اسکا سب  شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ اپنے بیٹوں سے فرماتے ہیں کہ میری عمر اب 90 سال ہوگئی بڑھاپے کی وجہ سے میں اب وظائف نہیں پڑھتا مگر یہ وظیفہ گیارہ بار ہر نماز کے بعد ابھی بھی پڑھتا ہوں اور مجھے ولایت میں جلد ترقی بھی اسکی ہی برکت سے ملی ہے جن لوگوں کو میں نے یہ وظیفہ بتایا اور انہوں نے پڑھا انکو غوث پاک رحمتہ اللہ علیہ  کا دیدار بھی نصیب ہوا ہے روحانی فوائد میں اسکے یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ پڑھنے والے کی روح قوی ہوجاتی ہے اور عالم خواب میں روحانی معاملات جاری ہوجاتے ہیں اور خواب میں مختلف حالات و واقعات کا مشاھدہ ک...

رزق روزی مال و دولت کا وظیفہ

رزق روزی مال و دولت کا وظیفہ یہ ورد      لا ملجاء ولامنجاء من اللہ الا الیہ اسکو ایک مٹھی کجھور کے بیج لیکر ایک تھیلی میں ڈال دیں اور ایک ہرے رنگ کے کپڑے کا ٹکڑا لیکر اسکو بچھالو بعد نماز عصر اول آخر 55 بار دورد و سلام کے ساتھ پڑھنا ہے اور جب کجھور کے دانے پورے ہوجائیں اور دل چارہا ہو پھر کرو تو پھر وہ دانے ختم کرئیں پھر دل چاہے پھر ختم کرلیں جب دل کو سکون مل جائے پھر درود پڑھ لیں اور بعد عصر ہی ہوگا اور اگر کئی لوگ یا گھر کے افراد مل کر کرئیں تو سب کی ایک ایک مٹھی کجھور کے دانے لیں لو اور سب کو تھیلی میں رکھ لو ۔ اسکا ترجمعہ ہے اللہ کے سواء کوئی پشت پناہ اور نجات دہندہ نہیں ہے  محمد عظیم شاہ یوسفی قادری چشتی فریدی صابری 1445ھ 2024

ہر بیماری سے شفاء کا عمل خضر علیہ السلام نے بتایا

ہر بیماری سے شفا کا عمل   بِالْوَحَقِّ اَنْزَلْنٰهُ وَ بِالْحَقِّ نَزَلَؕ اور ہم نے قرآن کو حق ہی کے ساتھ اتارا اور حق ہی کے ساتھ اتر    اس   آیتِ شریفہ کا یہ جملہ ’’ وَ بِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰهُ وَ بِالْحَقِّ نَزَلَ ‘‘ ہر ایک بیماری کے لئے عملِ مُجَرَّب ہے ، مرض   کی جگہ پر ہاتھ رکھ کر پڑھ کر دم کردیا جائے تو  بِاِذْنِ اللّٰہ   بیماری دور ہو جاتی ہے۔ مشہور بزرگ حضرت محمد بن سماک  رَحْمَۃُ اللّٰہِ  تَعَالٰی عَلَیْہِ  بیمار ہوئے تواُن کے مُتَوَسِّلین قارُورہ لے کر ایک نصرانی طبیب کے پاس علاج کی خاطر گئے۔ راستے میں   ایک صاحب ملے ،نہایت خوبصورت ا ور خوش لباس، ان کے جسم مبارک سے نہایت پاکیزہ خوشبو آرہی تھی، انہوں  نے فرمایا: کہاں  جاتے ہو؟ ان لوگوں  نے کہا کہ حضرت ابنِ سماک  رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ   کا قارورہ دکھانے کے لئے فلاں  طبیب کے پاس جاتے ہیں ۔ انہوں  نے فرمایا،  سُبْحَانَ اللّٰہ ،  اللّٰہ   کے ولی کے لئے خدا کے دشمن سے مدد چاہتے ہو ۔ قارو...