Skip to main content

Posts

Showing posts from January, 2021

حضرت سیدنا خضر علیہ ازلسلام سے ملاقات کا طریقہ❤️

حضرت سیدنا خضر علیہ   السلام سے❤️  ملاقات کا طریقہ ❤️ جسکو یہ خواہش ہو کہ وہ سیدنا ابو العباس بلیا بن ملکان خضر علیہ السلام سے ملاقات کا شرف حاصل کرے بلکہ ان سے استفادہ ہو وہ یہ چند معمولات کی پابندی کرے تو بار بار ملاقات کا شرف اور دینی دنیاوی استفادہ ملے گا  ایک تو وہ درود و سلام کی مشہور کتاب دلائل الخیرات کی پابندی کرے ہر روز ایک باب کی تلاوت کرے اور سیدنا خضر  علیہ السلام کی بارگاہ میں ھدیہ کرے دوسرے وہ درود خضری کی پابندی کرے صلی اللہ علی حبیبہ محمد و الہ وسلم یہ درود کثرت سے پڑھے اور خواجہ خضر علیہ السلام ک بارگاہ میں ھدیہ کرے اور تیسرے ہر روز بعد ظہر کی نماز کے عصر کی نماز کا وقت شروع ہونے سے پہلے پہلے دو رکعت نماز نفل ادا کرے اور پہلی رکعت میں بعد فاتحہ کہ قران مجید کی آخری دس آیات سے پہلی پانچ تلاوت کرے اور دوسری رکعت میں اسکے بعد والی پانچ مطلب پہلی رکعت میں سورہ الم ترکیف سورہ فیل سے   1. سورۃ الفیل، 2. سورۃ قریش، 3. سورۃ الماعون، 4. سورۃ الکوثر، 5. سورۃ الکافرون،❤️اور دوسری رکعت میں بعد فاتحہ 6۔سورہ نصر 7۔سورہ لھب تبت یدا 8۔سورہ اخلاص 9۔سو...

اسگندھ ناگوری جڑی اللہ کی نعمت ہندوستانی جنسنگ

  اسگندھ ، جنسنگ کا بہترین اور ارزاں متبادل ----- دیسی جنسنگا اسگندھ صدیوں سے برصغیر میں روایتی طبوں (ویدک اور طب یونانی) میں استعمال ہو رہی ہے۔ یہ بچوں سے لیکر بوڑھوں تک ، عورتوں اور مردوں دونوں کے لئے یکساں مفید ہے۔یہ مضر اثرات سے پاک ایسی بوٹی جس کے افعال و اثرات صدیوں سے ثابت ہیں۔ جدید تحقیقات سے اس کے نئے خواص بھی دریافت ہوئے ہیں ۔یہ بوٹی اپنے افعال و اثرات میں جنسنگ کے ہم پلہ ہے۔ اسگندھ ناگوری (Withania somnifera) (جنسنگ کا بہترین اور سستا متبادل ----- دیسی جنسنگ) تعارف : اسگندھ کو اردو میں "اسگند" ، ہندی میں" اسگندھ" اور سنسکرت میں" اشوگندھا" ، عربی میں" عبعب منوم" ، فارسی میں "کاکنج ہندی" ، پنجابی میں "آکسن" اور انگریزی میں"وتھانیا" (Withania) کہا جاتا ہے ۔ اسے" انڈین جن سینگ" بھی کہا جاتا ہے۔اسگندھ کا نباتی نام (Withania somnifera (L) Dunal) ہے ۔ " وتھانیا " (Withania) اس کی نوع (Genus) ہے ۔اس نوع کا تعلق پودوں کے ایک مشہور خاندان "سولین ایسی" (Solanaceae) سے ہے ۔ اس خاندان میں...

انسان جب دنیا میں آیا

                                                        انسان جب دنیا میں آیا انسان نے انسان پر ظلم کیا ہے دنیا میں آکر انسان نے ایک دوسرے کی عزت نہیں کی آکر اس دنیا  میں اور اپنے ازلی دشمن جس سے دشمنی کرنی تھی نہیں کی اور ایک دوسرے کا دشمن بن گیا کہیں مذھب کی بنیاد پر کہی زبان کہی زر زمین زن پر کہی ملک اور قوم اور نسل زبان رنگ کی بنیاد پر انسانوں نے بے جا فالتوں قانون بناکر ایک دوسرے کو تکلیف دی ہے اور اللہ سے جنت اور رحم مانگتا ہے اور اپنے شہر اور علاقہ اور ملک پر لکیر لگا کر اسکو بارڈر کا نام دے کر اپنا اپنا ملک بناکر اس میں  کسی انسان کی آمد برداشت نہیں کرتا اسکو بوجھ سمجھتا ہے جبکہ رازق اور رزق اور سکون اور سکنہ تو رب کریم سب کو اپنی رحمت سے دیتا ہے  اور جب مطلب ہو کسی انسان  سے تو تمام قانون بلاٸے طاق رکھ کر وہ سب کام کرتا ہے جن پر وہ  کبھی سزاٸیں دیا کرتا تھا۔انسان نے جو کچھ بنایا اپنے خسارے کے سامان مہیا کرتا گیا ہے ...