ہر مرض سے شفاء ضرور ملے گی کینسر ٹی بی ھیپاٹائیٹس شوگر بلڈ پریشر ہر وہ مرض جوسہی ہوکر نہ دےرہا ہو علاج بھی کر وا رہے ہوں مگر کوئی فائیدہ نہ ہوتا ہو بزرگان دین نے اس عمل کو اپنے وظائف میں لکھا ہے کہ جو مرض بھی اللہ نے پیدا کیا اسکی دواء بھی پیدا فرمائی ہے جو یہ عملل کرے گا اللہ تعالی کی مرضی ہوئی تو وہ ایک ماہ میں ضرور شفاء پائے گا بزرگان دین فرماتے ہیں کہ یہ عمل انہوں نے ہزاروں لوگوں کو دیا اور تقریبا ہر انسان کو شفاء مل گئی قرآن میں انسانوں کہ لئے شفاء ہے و ننزل من القران ما ھو شفاء و رحمتہ للمؤمنین یہ عمل قران کی ایک آیت سے ہے وہ آیت ہے الا یعلم من خلق وھو اللطیف الخبیر بس ایک ٹائم بنالیں اور با وضو پہلے تین بار درود ابراھیمی اور یہ آیت بلا تعداد اخلاص و محبت سے پڑھتے جائیں پھر تین بار دورد پڑھیں اب بلا تعداد جتنی آپکی ھمت و طاقت ہو اتنی دیر پڑھیں اپنے مرض سے شفاء کو دل میں رکھئیں اور یہ مریض خود پڑھے لیٹ کر بیٹھکر جیسے آسانی ہو اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَؕ-وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۠ (14) سورہ الملک آیت نمبر 14 محمد عظیم شاہ یوسفی قادری چشتی فریدی صابری اش...
Makhdoom-ul-Alam Hazrat Alauddin Ali Ahmed Kaliyari, also known as Sabir Kaliyari("Patient Saint of Kaliyar"), was a prominent South Asian Sufi saint in the 13th century, nephew and khalifa (successor) to Baba Fareed (1188–1280), [1] and the first in the Sabiriya branch of the Chishti Order . [2] Today, his dargah (Sufi mausoleum ) at Kaliyar village, near Haridwar , is one of the most revered shrines for Muslims in India, after Ajmer Sharif at Ajmer , Rajasthan , and is equally revered by Hindus and Muslims in South Asia . [3] Hazrat Syed Alauddin Ali Ahmed Sabir Kaliyari was born in Kohtwaal, a town in the district of Multan on 19 Rabi' al-awwal , 592 Hijri (1196). He was the son of Jamila Khatun, who was the elder sister of Baba Fareed. After the death of his father, Syed Abul Rahim, [4] his mother brought him to Pakpatta...